سرائیکی افسانے کی روایت۔ آغاز و ارتقا۔۔سعدیہ کمال

سرائیکی ادب میں کہانی سے افسانے تک کا سفر بہت طویل ہے۔ اگر افسانے کی آج کی شکل کی طرف نظر دوڑائی جائے، تو غلام حسن حیدراٹی اور تحسین سبائے والوی کے نام آتے ہیں۔ ’’غلام حسن حیدرانی دے افسانے‘‘ جہاں عام قاری کے لیے اہمیت رکھتے ہیں، وہاں سرائیکی طالب علموں کی بہت بڑی ضرورت بھی پوری ہوگئی۔ اس مجموعے میں پائے جانے والے دس افسانے وسیب کے ساتھ مضبوط رشتے کا ثبوت ہیں۔

سرائیکی کے کچھ افسانہ نگاروں نے اردو زبان کے جدید ادب سے متاثر ہو کر بہت جلد سرائیکی میں علاقائی افسانہ شروع کیا، ان میں عامر فہیم، بتول رحمانی، مسرت کلانچوی جیسے افسانہ نگار نمایاں ہیں۔ انہوں نے تہذیبی اور ثقافتی زندگی پر اپنے افسانے کی بنیاد رکھنے کی بجائے ایک متحرک جدید زندگی کو اپنا موضوع بنایا۔ عامر فہیم کی کتاب ’’جاگدی اکھ دا خواب‘‘ اور احسن واگھا کے افسانوی مجموعے ’’تھل کرن دریا‘‘ اور ’’آدی واس‘‘ جیسی کتابیں لکھی گئیں۔ 1948ء میں اوچ شریف کے آصف اچوی نے ’جھاڑو دا تیلا‘‘ کے عنوان سے سرائیکی افسانہ لکھا مگر 1969ء کا سال سرائیکی افسانے کے حوالے سے یادگار سال ثابت ہوا۔ اس سال سے باقاعدہ سرائیکی افسانے کا آغاز ہوا۔ اس سال پہلا ترجمہ شدہ افسانہ اکرم فریدی کا شائع ہوا اگرچہ قاسم جلال کی متفرق نثری صنفوں کا مجموعہ ’’ہنجوں تے ہیرے‘‘ اگست 1976ء میں شائع ہوا جس میں ایک افسانہ بھی تھا، تاہم سرائیکی افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’اچی دھرتی جھکا آسمان‘‘ خاتون افسانہ نگار مسرت کلانچوی کی کاوش تھا۔ ڈاکٹر طاہر تونسوی ’’سرائیکی ادب ریت تے روایت‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’سرائیکی زبان و ادب کا نثری سرمایہ بہوں کم ہے۔ دس بارہ سالوں میں نثر کی طرف توجہ دی گئی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ تعلیم یافتہ لوگوں نے سرائیکی لکھنی شروع کر دی اور اس طرح دوسری زبانوں کے ساتھ ساتھ سرائیکی کے نثری ادب میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔‘‘(30)

اس سلسلے میں دلشاد کلانچوی ’’سرائیکی اور اس کی نثر‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’اردو ہی کی طرح سرائیکی افسانے کے وجود میں آنے سے پہلے لوک داستانیں اور لوک کہانیاں وجود میں تھیں۔ ایسی داستانوں میں عوامی تفریح، انسانی تجربوں کا نچوڑ اور زبان کی چاشنی وافر پائی جاتی تھی۔ ان میں تھلّوں اور صحراؤں کی بیکرانی، پہاڑوں کی عظمت، دریاؤں کی روانی، دیہاتی معاشرہ کی سادگی اور فصلوں کی خوشبوئیں رچی ہوتی تھیں۔ ان کے کردار عوامی زندگی کے سچے ترجمان ہوتے تھے، گویا اردو داستانوں اور کہانیوں کی خوشبو بھی ان میں موجود تھی۔ ان لوک کہانیوں میں رومان بھی تھا۔ پیروں فقیروں اور بزرگوں کے قصے بھی تھے۔ بہادری و دانشمندی، عدل و انصاف، خانگی تعلقات اور جھگڑے تنازعے وغیرہ جیسے موضوعات کو بھی جگہ دی جاتی تھی اور فکرِ روز گار بھی تھا۔‘‘

وہ مزید لکھتے ہیں: ’’قومی زبان اردو کی طرح سرائیکی میں بھی پرانے قصے کہانیوں اور داستانوں میں دوسرے موضوعات کے علاوہ جنوں، پریوں کی باتیں ہیں۔ جادوگروں کے کارنامے اور کرشمے بھی ہیں لیکن جب سے انسانی شعور نے پلٹا کھایا ہے، تو ان قصوں کہانیوں اور داستانوں کا جنوں بھی کم ہو گیا ہے بلکہ ان کی بجائے نثری ادب کی ایک نئی اور مختصر صنف وجود میں آ گئی ہے جسے عام طور پر افسانہ کہا جاتا ہے۔ اگرچہ اردو افسانے کا آغاز پہلے ہو چکا تھا لیکن سرائیکی افسانے کا آغاز قیامِ پاکستان کے بعد سے ہوا ہے، اگر اس سے قبل کوئی افسانے لکھے گئے ہیں، تو وہ شائع نہ ہو سکنے کی وجہ سے ضائع ہو چکے ہیں، یا گمنامی کی قبروں میں دفن ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں نشر و اشاعت کی سہولتیں بھی نہ ہونے کے برابر رہی ہیں۔ اس پر تقسیمِ ملک کی اتھل پتھل رہی ہے۔ حالات مخدوش سے رہے ہیں۔ ایسے حالات میں یہ بھی وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ سب سے پہلا سرائیکی افسانہ کس نے لکھا اور کب لکھا، لیکن قراین و قیاس یہی ہے کہ افسانہ نگاری کی روش قائم رہی اور افسانے لکھے جاتے رہے۔‘‘

بہاولپور سے دو چار رسالے بھی چھپے، لیکن ان میں سرائیکی زبان و ادب کا گزر نہ ہوچکا، اگر کچھ ہوا بھی تو اتنا کہ زیادہ تر نثر اردو میں سرائیکی زبان و ادب کے کچھ چرچے ہوتے رہے، وہ بھی صرف رسالہ ’’الفرید‘‘ میں۔ سرائیکی زبان و ادب کی تاریخ میں ’’پنجند‘‘ کے نام سے 1950ء میں سرائیکی زبان کا پہلا رسالہ کراچی سے شائع ہوا۔بدقسمتی سے اس وقت کا کوئی شمارہ دستیاب نہ ہو سکنے کی وجہ سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس میں کون سے اور کس کس کے افسانے شائع ہوئے ہوں گے۔ اس رسالہ کے 24 صفحے ہوتے تھے۔ بہرحال سرائیکی کا یہ رسالہ بھی چھے مہینے کے بعد بند ہو گیا تھا۔ پندرہ سولہ سالوں کے بعد بہاولپور سے ایک اور رسالہ جاری ہوا۔ اس کا نام ’’سرائیکی‘‘ رکھا گیا۔ یہ رسالہ بالخصوص سرائیکی زبان و ادب کی ترقی و ترویج کے سلسلے میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس رسالہ میں بالاہتمام نظم و نثر میں سرائیکی مضامین چھپنے لگے اور سرائیکی افسانے بھی جگہ پانے لگے۔ یہ رسالہ جون؍ اکتوبر 1965ء سے شائع ہونا شروع ہوا تھا۔ سب سے پہلا باقاعدہ افسانہ جولائی 1976ء میں شائع ہوا۔ اس افسانے کا عنوان ’’شہید‘‘ تھا۔ یہ پہلا مطبوعہ افسانہ تحسین سبائے والوی نے لکھا تھا۔

پھر مارچ 1968ء کو دلشاد کلانچوی کا افسانہ ’’روہی داہک خواب‘‘ اسی رسالے میں شائع ہوا۔ انہی دنوں جگو والا (ملتان) سے ہفتہ وار ’’اختر‘‘ نے بھی سرائیکی ’’ماہانہ ایڈیشن‘‘ نکالنا شروع کردیا تھا۔ یہ ہفتہ وار 1964ء سے شائع ہو رہا تھا۔ اس میں بھی سب سے پہلے 24 اگست 1968ء کے شمارے میں افسانہ ’’سہارا‘‘ چھپا۔ جسے تحسین سبائے والوی نے ہی لکھا تھا۔ اس طرح سرائیکی افسانے نے سرپیر نکالنے شروع کردئیے۔ اس ہفتہ وار اخبار ’’اختر‘‘ نے ستمبر؍ اکتوبر 1969ء کا مشترکہ شمارہ ’’افسانہ نمبر‘‘ کی شکل میں شائع کیا۔ اس میں نو افسانے شامل تھے جو اسماعیل احمدانی، غلام حسین حیدرانی، اختر علی بلوچ، محمد رمضان طالب، سجاد بریلوی، نجمہ کوکب وغیرہ کے لکھے ہوئے تھے۔ سرائیکی افسانہ نگاری کی تاریخ میں یہ شمارہ ایک سنگِ میل کے طور پر یاد کیا جائے گا۔ اس افسانہ نمبر میں زیادہ تر نئے افسانہ نگار تھے، پھر بھی دوچار نام ایسے بھی شامل ہیں جو مشہور و معروف ادیب ہیں اور جنہوں نے بعد میں بھی افسانہ نگاری سے لو لگائے رکھی۔ یہ حضرات سرائیکی افسانہ نگاروں کے سرخیل بنے۔ انھوں نے افسانہ کے میدان میں سرائیکی زبان و ادب کی بے مثال خدمت کی، اگرچہ یہ حضرات پرانی طرز کے افسانے لکھنے والے تھے، مگر بعض نے نئے تجربے بھی کیے۔ اختر علی بلوچ نے زیادہ تر تاریخی واقعات کو افسانے کا چولا پہنایا۔

اسماعیل احمدانی کچھ ڈھیلے پڑگئے، غلام حسن حیدرانی اپنی مثنوی ’’ممی‘‘ اور ’’گلو‘‘ میں مصروف ہو گئے۔ لیکن تحسین سبائے والوی نے افسانہ نگاری کو جاری رکھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انھوں نے باقی حضرات کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں افسانے لکھے۔ ادھر رسالہ سرائیکی بہاولپور کے توسط سے بھی کئی افسانہ نگار متعارف ہوئے۔ ان میں سب سے پہلے ظفر لشاری سامنے آتے ہیں۔ رسالہ ’’سرائیکی‘‘ بہاولپور نے ایک سرائیکی افسانہ نگارہ کو بھی متعارف کرایا۔ یہ مسرت کلانچوی ہیں۔ یہ پہلی افسانہ نگار خاتون ہیں جنھوں نے اپنے سرائیکی افسانوں کا ایک باقاعدہ مجموعہ ’’اچی دھرتی جھکا اَسمان‘‘ کے نام سے شائع کرایا جو بہت مقبول ہوا۔ ان کے دیکھا دیکھی کئی افسانہ نگار خواتین میدان میں آئیں۔ چنانچہ مل جل کر آج ہمارے سرائیکی خواتین افسانہ نگاروں کی ایک اچھی بھلی کھیپ پیدا ہو چکی ہے۔

دس لوک کہانیوں پر مشتمل ایک خوبصورت مجموعہ ’’ہک ہا بادشاہ‘‘ کے نام سے طاہر غنی نے اکیڈمی کبیروالا ملتان ڈویژن سے شائع کیا ہے۔ اس میں سرائیکی زبان و ادب اور سرائیکی ثقافت کا بھرپور اظہار ملتا ہے۔ یہ طاہر غنی کی تصنیف و تالیف ہے۔ غرضیکہ سرائیکی افسانہ نگاری سے تھوڑے عرصے میں بڑی ترقی اور پیش رفت کی۔

نواز کاوش’’ترکہ‘‘ میں سرائیکی افسانہ کے آغاز و ارتقا کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’سرائیکی افسانہ نثری ادب وچ بہوں دیر نال آئے۔ ایندی وجہ سرائیکی علاقے دے جغرافیائی حالات ہن تے اتھاں پریس دیاں سہولتاں نہ ہوون ہے۔ اے گالھ سچی جو اتھاں افسانہ لکھیا گیا۔ لوک کہانی تے رومانی کہانی بہوں مدت توں لکھی ویندی ہئی ہے۔ وَل افسانہ وی اتھاں تحریر تھیا ہر تخلیق کار دور دراز علاقیاں وچ بیٹھے ہن، انہاں دا مرکز نال تعلق نہ ہا۔ لہٰذا افسانہ ساڈے کول دیر نال پجیا۔ 1866ء وچ بہاولپور توں سرکاری گزٹ ’’صادق الاخبار‘‘ چھپنا شروع تھیا۔ ایں گزٹ وچ کتھائیں کتھائیں ادب کوں وی جاملی کوئی باقاعدہ سرائیکی افسانہ ایں اخبار وچ شائع تاں ناں تھی سگیا البتہ سرائیکی افسانے کوں اپڑیں جانب آون دا موقع ضرور مل گیا۔ نجی محفلاں وچ افسانہ نگار ابڑیں افسانے پڑھدے تے داد لیندے ہن۔ قیام پاکستان دے بعد رسالہ ’’العزیز‘‘ بہاولپور نے کجھ سرائیکی افسانے شائع کیتے لیکن ہن او شمارے نہیں ملدے۔ ول 1950ء وچ کراچی توں ’’رسالہ پنجند‘‘ شروع تھیا، ایں رسالے وچ سرائیکی افسانے شائع تھے مگر ایں رسالے دی وی کوئی کاپی محفوظ کاینی۔‘‘

وہ آگے لکھتے ہیں: ’’1964ء وچ بہاولپور توں سرائیکی رسالہ جاری تھیا۔ جیکوں سرائیکی ادبی مجلس بہاولپور نے چھاپیا۔ بریگیڈیئر سید نذیر علی شاہ ایں رسالے دے ایڈیٹر ہن۔ ایں رسالے وچ پہلا سرائیکی افسانہ جولائی 1961ء وچ چھپیا۔جیندا عنوان ہا ’’شہید‘‘۔ ایں افسانے کوں تحسین سبائے والوی نے لکھا ہا۔ مارچ 1968ء وچ دلشاد کلانچوی دا افسانہ چھپیا۔ ایں اثنا وچ جگو والا ملتان توں ہفتہ وار ’’اختر‘‘ نے افسانہ نمبر شائع کیتا۔ ایں نمبر وچ نوں افسانے شامل ہن۔ اے افسانہ نمبر سرائیکی افسانے دی تاریخ دا سنگ میل ہے۔ ایں طرح ’’اختر‘‘ دے چھپن والے بہوں سارے لکھاریاں نے مستقبل وچ افسانے دی بہوں خدمت کیتی تے ابڑیں سنجان بنائی۔ نہ صرف سنجان بنائی بلکہ انج انج اسلوب اختیار کرتے افسانے کوں اگوں ودھایا۔ اخترعلی بلوچ نے تاریخی واقعات تے کرداراں کوں افسانے وچ پیش کیتا۔‘‘

غفور شاہ قاسم ’’پاکستانی ادب‘‘ میں سرائیکی افسانے کی ابتدا کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’سرائیکی افسانے کو کتابی شکل میں لانے والی پہلی کتاب اور سرائیکی افسانوں کا پہلا باقاعدہ مجموعہ دونوں ہی 1976ء میں شائع ہوئے۔ سرائیکی افسانے کو کتابی شکل میں سامنے لانے والی پہلی کتاب ’’ہنجوں تے ہیرے‘‘ ہے۔ قاسم جلال کی انہی صفحات پر مشتمل اس کتاب کو فنکار اکیڈمی بہاولپور نے شائع کیا اور بہاولپور ہی کی سرائیکی لائبریری نے مسرت کلانچوی کے افسانوی مجموعے ’’اچی دھرتی جھکا اسمان‘‘ کو جسے سرائیکی افسانوں کے پہلے مجموعے کا اعزاز حاصل ہے شائع کیا آٹھ افسانوں کے اس مجموعے کا ابتدائیہ ڈاکٹر نصراللہ خان ناصر نے ’’شناخت‘‘ کے نام سے لکھا۔‘‘

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *