خانوادہ قاسمی کا اک چراغ اور گل ہوا۔۔۔ محمد فیاض خان سواتی

 

دار العلوم دیوبند وقف کے مہتمم اور مسلم پرسنل لاء انڈیا کے نائب صدر حضرت مولانا قاری محمد سالم قاسمی آج بروز ہفتہ 27 رجب المرجب 1439 ھ / 14 اپریل 2018 ع کو طویل علالت کے بعد دیوبند میں انتقال فرما گئے ہیں ، انا للہ و انا الیہ راجعون ۔

ان کی وفات حسرت آیات سے خانوادہ قاسمی کا اک اہم چراغ گل ہو گیا ہے ، وہ سن 1926 ء میں پیدا ہوئے اور مرکز دار العلوم دیوبند میں تعلیم حاصل کی اور پھر ایک طویل عرصہ تک وہاں ہی تدریس کے فرائض بھی انجام دیتے رہے ، بعد ازاں انہوں نے اپنے والد ماجد رح کی حیات میں دیوبند میں ہی دار العلوم وقف کے نام سے ایک علیحدہ مدرسہ بنا لیا تھا اور پھر تا دم واپسی  اسی میں دینی خدمات انجام دیتے رہے ۔

ہمارے شیخین کریمین رح جب سن 1940ع میں دار العلوم دیوبند میں دورہ حدیث کی تعلیم حاصل کر رہے تھے ، تو وہ اس وقت کے بارے  میں بتایا کرتے تھے کہ قاری سالم صاحب اس وقت تقریباً پندرہ سال کے نو عمر لڑکے تھے اور ابتدائی تعلیمی مراحل سے گزر رہے تھے ، البتہ ان کے ایک کلاس فیلو ہمارے انکل حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الدیان کلیم رح فاضل دار العلوم دیوبند جو میرے پیر بھائی بھی تھے ، انہوں نے قاری سالم صاحب کے ساتھ تقریباً آٹھ سال تک تعلیم حاصل کی تھی ، وہ ہمیں ان کے بارے  میں ان کی طالبعلمی کے زمانہ کی بہت سی دلچسپ باتیں سناتے رہتے تھے ، ڈاکٹر صاحب بتاتے تھے کہ میں نے حفظ قرآن کریم بھی دار العلوم دیوبند میں ہی کیا تھا ، اس زمانہ میں ، میں بچہ تھا ، میرے بڑے بھائی حضرت مولانا محمد مجاہد رح فاضل دار العلوم دیوبند بھی وہیں تعلیم حاصل کر رہے تھے ، مہتمم صاحب اور حضرت مدنی رح کے گھروں میں میرا کثرت سے آنا جانا رہتا تھا ، بلکہ گھریلو خواتین کا کوئی کام کاج ہوتا تو میں ہی بازار سے انہیں سودا سلف لا کر دیتا تھا ، قاری سالم صاحب چونکہ ہمارے ہم عصر اور بے تکلف ساتھی تھے ، اس لئے بچپن میں جب کبھی ہماری وہاں آپس میں تو تکار ہو جاتی تو میں پٹھان ہونے کے باوجود انہیں مار تو نہ سکتا تھا کیونکہ وہ ہمارے استاد زادے بھی تھے ، لیکن وہاں کی بولی میں یہ کہہ کر میں اپنے دل کی بھڑاس نکال لیا کرتا تھا کہ ۔

” چل بھاگ ابے مہتمم کے ”

قاری سالم صاحب کے والد حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی رح ہیں ، جو نصف صدی سے زیادہ عرصہ دار العلوم دیوبند کے مہتمم رہے ہیں ، ان کے والد نمونہ اسلاف حضرت مولانا حافظ محمد احمد رح تھے ، جو حجۃ الاسلام والمسلمین حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رح کے صاحبزادہ تھے ، اس لحاظ سے قاری سالم صاحب حضرت نانوتوی رح کے پڑپوتے ہیں ، ان کی وفات صرف خانوادہ قاسمی کا تنہا سانحہ نہیں بلکہ دار العلوم دیوبند اور خانوادہ قاسمی کا مشترکہ سانحہ ہے اور ان کی وفات پر پورا عالم اسلام سراپا غم ہے ، ان کی وفات سے تمام امت مسلمہ ایک کہنہ مشق استاد ، فصیح اللسان خطیب اور بے نظیر مصنف سے محروم ہو گیا ہے ۔

حضرت مولانا قاری محمد سالم قاسمی رح ویسے تو متعدد بار ہمارے ہاں گوجرانولہ میں تشریف لائے ، البتہ ایک بار جامعہ نصرت العلوم میں بھی ان کا ایک نجی معاملے  کے سلسلہ میں آنا ہوا ، احقر کو ان سے شرف ملاقات اور ان کا بیان سننے کی سعادت بھی حاصل ہوئی ، وہ ایک جادو بیان خطیب تھے ، اپنے والد ماجد رح کی طرح کئی کئی گھنٹے روانی سے بے تکلف لیکن اپنے موضوع پر ایک مربوط اور مؤثر تقریر فرمایا کرتے تھے ، افسوس کہ اب عالم اسلام اس انداز خطابت سے محروم ہو گیا ہے ۔

قاری سالم صاحب نے جہاں بچپن میں حکیم الامۃ حضرت مولانا شاہ محمد اشرف علی تھانوی رح سے ” میزان ” وغیرہ کتب پڑھ کے شرف تلمذ حاصل کیا تھا وہیں انہیں شیخ العرب و العجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رح سے نوجوانی میں بخاری شریف اور ترمذی شریف پڑھنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی ، اس لحاظ سے بھی ان کی وفات تھانوی اور مدنی دنوں افکار کے حاملین کا مشترکہ صدمہ ہے ۔

سننے میں یہ آیا ہے کہ وہ حضرت تھانوی رح کے آخری شاگرد تھے ۔

اللہ کریم ان کی جملہ خدمات کو اپنی بارگاہ اقدس میں شرف قبولیت سے نوازتے ہوئے ان کی لغزشوں کو درگزر فرمائے اور فردوس بریں میں ان کو جگہ عطا فرمائے ، ان کی خوش بختی ہے کہ انہیں عالم برزخ میں اپنے پردادا اور اپنے والد کے درمیان قبر کی جگہ میسر آئی ہے ، مولٰی کریم ہمارا حشر بھی ان کے ساتھ کرے ۔

احقر اپنی طرف سے اور جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ کے جملہ متعلقین کی طرف سے قاری سالم صاحب کے جملہ اعزہ و اقارب ، ادارہ ، متعلقین ، متوسلین اور مرکز دار العلوم اور وقف دار العلوم دیوبند سے دلی تعزیت کرتے ہوئے نہ صرف ان کے ساتھ اظہار غم کرتا ہے بلکہ ان کے صدمہ میں برابر کا شریک ہے ، اور دعا گو ہے کہ مولٰی کریم ان کی حسنات کا سلسلہ ان کی اولاد اور متعلقین میں تا قیامت جاری و ساری رکھے ۔

Avatar
محمّد فیاض خان
ایک آزادتعصب سے بالاتر لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *