چڑے، بٹیرے اور نور فاطمہ۔۔۔مریم مجید ڈار

دسمبر 2014 کی ایک سرد اور دھند آلود شام تھی جب مجھے اپنی کچھ روم میٹس کے ساتھ چند ضروری اشیا کی خریداری کے لیے جانا پڑا ۔
ایگریکلچر یونیورسٹی فیصل آباد کی لمبی سڑک پر جو یونیورسٹی سے سیدھا گوبند پورہ عرف جی پی کو نکلتی ہے ، یونیورسٹی کی بے پرواہ لڑکیاں جیسے بے فکر چل سکتی ہیں، ویسے ہی میں بھی چل رہی تھی لیکن خبر نہ تھی کہ واپسی پر بے فکری کا ایک حصہ میں مارکیٹ میں ہی چھوڑ کر  آنے والی ہوں۔
بازار پہنچے، سامان خریدا اور اس سب میں شاید ایک دو گھنٹے گزر گئے۔ سردی کی شدت میں اس قدر اضافہ ہو چکا تھا کہ دانت باقاعدہ بجتے محسوس ہوتے تھے۔
طے پایا کہ ہاسٹل واپسی سے قبل چائے وغیرہ پی لی جائے ۔ قریب ہی ایک چھوٹا سا ریسٹورینٹ تھا جہاں چائے دستیاب تھی اور جلی حروف میں “تازہ بھنے چڑے اور بٹیرے بھی دستیاب ہیں” کا سفید بینر بھی ریسٹورنٹ کے داخلی دروازے کے قریب آویزاں تھا
ہم اندر داخل ہوئے، ایک میز چنی اور چائے کے ارادے سے بیٹھ گئے۔
میری سہیلیاں تو خوش گپیوں میں مصروف ہو گئیں لیکن میں اپنی مشاہدے کی بری لت کے باعث گردو پیش کا جائزہ لینے لگی۔میزوں پر خاصا رش تھا اور لوگ کھانے پینے میں مشغول تھے۔ تبھی میری نظر دائیں جانب کچھ فاصلے پر رکھے پنجروں پر پڑی ۔ان میں ننھے بھورے چڑے اور بٹیر بند تھے ۔ دوسری جانب ایک شخص ایک بڑی کڑاہی میں بیسن لگے چڑے اور بٹیر تل رہا تھا ۔ ویٹر چڑوں اور بٹیروں سے بھری پلیٹیں لئے تیزی سے لوگوں کے آرڈر پہنچا رہے تھے اور میں نے دیکھا کہ ماچس کی تیلیوں جتنی باریک ، چھوٹی چھوٹی ٹانگوں والے پرندوں کو انسان ایک لقمے میں چٹ کرتے جاتے تھے ۔ایک لقمہ گوشت!! اور زندہ چڑے اور بٹیر شاید اپنے ہم نفسوں کے بھننے کی خوشبو پا کر بے قراری اور بے چینی سے پنجرے میں پھڑپھڑاتے تھے۔
شاید میں ان محسوسات کو اس ایمانداری سے بیان نہ کر سکوں جو اس ریستوران میں بیٹھے مجھ پر گزرے کہ میرا دل اس قدر متلاتا تھا گویا حلق سے اچھل کر باہر آنا چاہتا ہو۔

میں نے اپنی دوستوں سے باقاعدہ منت کرتے ہوئے واپس چلنے کو کہا اور ہم سب بغیر کچھ کھائے پیے  واپس آ گئے۔ ۔
واپسی پر اور اگلے کئی دن میں یہ سوچتی رہی کہ آخر ان ننھے پرندوں کو لوگ بطور خوراک اس قدر شوق اور لذت سے چٹخارے بھرتے ہوئے کیوں کھا رہے تھے جبکہ بھوک مٹانے کے لیے دیگر کئی خوراکیں موجود ہیں؟۔۔۔
یہی سوال جب اپنی روم میٹس سے پوچھا تو انہوں نے بڑی لاپروائی سے جواب دیا” چسکے کے لیے’!! ” گویا بھوک سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا ۔

ایک طویل عرصہ گزرا۔ یونیورسٹی، گوبند پورہ اور چڑوں بٹیروں والا ریستوران ماضی کا حصہ بنے مگر سوال اکثر ذہن کی دیواروں سے سر ٹکراتا رہا کہ “آخر کیوں؟؟ کیا لذت کی طلب واقعی انسان کو ننھے پرندوں کو چبانے پر مجبور کر سکتی ہے؟

چار روز قبل مجھے اس سوال کا جواب مل گیا۔جب سوشل میڈیا کی بدولت ایک چھوٹی سی خبر دیکھی کہ چیچہ وطنی کی آٹھ سالہ نور فاطمہ کو جنسی زیادتی کے بعد زندہ جلا دیا گیا ۔ بچی نوے فیصد جلے جسم کے ساتھ ہسپتال میں دو روز زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہ کر مر گئی۔ ۔

میں نے بمشکل قے کرنے سے خود کو روکا تھا۔۔عہد کیا تھا اس بارے میں کچھ نہ لکھوں گی۔ آخر یہ میرا کام تو نہیں کہ نور فاطمہ کو انصاف دلاؤں ؟۔ مجھے کیا مصیبت ہے کہ اپنے ذہن کو تپکتی ہوئی راکھ اور پیپ آلود زخموں میں تبدیل کروں؟؟ مجھے خود پر رحم کرتے ہوئے اس سب سے بالکل اسی طرح لاتعلق رہنا چاہیے جیسے  ذمہ دار ادارے پُرسکون ہیں۔
میں اپنے عہد پر قائم بھی رہتی اگر مجھے وہ بھنتے چڑے بٹیرے یاد نہ آ جاتے اور اس سوال کا جواب نہ مل جاتا کہ “کیا لذت کی طلب انسانوں کو ننھے پرندے چبانے پر مجبور کر سکتی ہے”؟؟
جی ہاں!! کر سکتی ہے۔!! اس طلب کا تعلق ضرورت سے نہیں “لذت” سے ہے۔۔۔وہی لذت جو ایک آٹھ سالہ بچی کو ریپ کرنے سے ملتی ہے، وہی لذت جو چڑوں کی پتلی پتلی ٹانگیں تیلیوں کی طرح توڑنے سے ملتی ہے اور وہی لذت جو بٹیر کا ننھا سینہ چبانے سے ملتی ہے ۔

معصوم بچی ، جو گھر سے ٹافیاں لینے نکلی اور کچھ گھنٹوں بعد ایک جلے ڈھیر کی صورت دریافت ہوئی، بالکل ان پرندوں کی طرح جو صبح تو گھونسلے سے نکلے تھے مگر شام کو وہ ایک نوچے، چچوڑے ہوئے پنجر میں بدلے  پائے جاتے تھے۔

اس سانحے کا ذمہ دارکون ہے، پولیس نے کس کارکردگی کا مظاہرہ کیا، مجھے نہیں معلوم ۔میں نہیں جانتی کہ نور فاطمہ کو انصاف ملے گا یا ہزاروں معصوموں کی طرح اس کی فائل بھی گرد آلود ڈھیر کا حصہ بن جائے گی مگر ایک سوال ذہن کی دیوار سے سر پٹختا ہے ” کیا جب نور فاطمہ کو زندہ جلایا جا رہا تھا تو اس کی کھال اور چربی کے جلنے سے بھنتے چڑے بٹیروں کی مہک اٹھتی ہو گی؟؟ کیا وہ مہک شہر کے مشہور باربی کیوز کی دکانوں سے آنے والی مہک جیسی ہو گی؟؟
اور اس سوال کے پیچھے ایک اور تاریک، بھوت جیسا سوال جھانکتا ہے ۔ ”

جب اعلی افسران، حکومتی ترجمان اور انسانی حقوق کے تحفظ کی تنظیمیں اس سانحے پر تعزیعتی کانفرنسوں اورریفرینسوں کے بعد “ریفریشمنٹ” میں تازہ بھنے کباب ، تکے کھا کر غم غلط کریں گے تو کیا انہیں یہ محسوس ہو گا کہ وہ نور فاطمہ کا بھنا ہوا، جلا ہوا ننھا جسم چٹخارے لیتے ہوئے ٹومیٹو سوس کے ساتھ کھا رہے ہیں۔؟؟

معاشرہ چڑوں، بٹیروں اور بچوں کے رہنے کی جگہ نہیں رہا!!!

مریم مجید
مریم مجید
احساس کے موتیوں میں تحریر کا دھاگہ پرو کر مالا بناتی ہوئی ایک معصوم لڑکی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *