جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں ۔۔۔مرزا شہباز حسنین

جون ایلیا نے برسوں پہلے فرمایا تھا۔۔۔
جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں
میں اس شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں !!

آج بیٹھے بیٹھے خیال آیا کیوں نہ میں بھی فسادی بن جاؤں۔ہمارے معاشرے کی اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہوگی؟ یہاں جو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اسے من وعن بیان کرے وہ تو فسادی مگر جو دیکھ کر اور اپنے کان سے سن کر بھی سچ میں جھوٹ کی آمیزش کرے اسے مسیحا سمجھا جاتا ہے۔سچ بیانی کو فساد اور آدھے ادھورے سچ کو مسیحائی سمجھنے والوں کی ہمارے ہاں ہمیشہ اکثریت رہی۔یہی وجہ ہے کہ ہم ترقی یافتہ سماج سے سینکڑوں سال کی دوری پر ہیں ۔کتنی حیرت کی بات ہے اس ملک میں سب ہی سچ کے دعویدار ہیں ۔مگر کون سا سچ؟ یہاں سچائی کے مبلغ بھی جھوٹ کی آمیزش سے نیا سچ تعمیر کرتے ہیں ۔خالص سچے یہاں ناپید ہیں ۔اور سچ کے نام نہاد ٹھیکدار ان کو فسادی کہتے ہیں ۔

چند سال پہلے کی بات ہے ۔مولانا طارق جمیل صاحب تبلیغی جماعت سے وابستہ ہوئے۔اصلاحی بیانات کا سلسلہ انہوں نے شروع کیا۔عوام میں ان کی تقاریر کو بے حد پذیرائی ملی ۔پہلی بار تبلیغی جماعت کے پلیٹ فارم سے ذرا ہٹ کے سننے کو ملا۔مولانا طارق جمیل صاحب کی شیریں زبان لہجہ نرم شائستگی کے ساتھ الفاظ کی ادائیگی۔کانوں میں رس گھولتی ۔پہلی بار اتنے دھیمے لہجے میں بات کر نے والا مبلغ ہمارے معاشرے میں اصلاح کے لیے منظرعام پر نمودار ہوا۔لوگ جوق در جوق ان کا خطاب سنتے۔۔طارق جمیل صاحب کے سامعین میں نیا طبقہ بھی کثیر تعداد میں شامل ہوا جن کی پہلے تبلیغی جماعت کے ساتھ کوئی خاص وابستگی نہیں تھی۔اب مجھ جیسے بے شمار عامیوں کے من میں خواہش مچلنے لگی کہ مولانا طارق جمیل صاحب کے چہرہ مبارک کا دیدار ہو جائے۔مگر جس کسی تبلیغی جماعت کے کر تا دھرتا سے بات کرتے تو جواب ملتا مولانا صاحب تصویر اور ویڈیو نہیں بنواتے۔وہ سخت خلاف ہیں۔

چنانچہ کچھ عرصہ ان کے آڈیو خطابات ہی چلتے رہے۔تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد کو یہاں تک کہتے سنا گیا کہ جناب مولانا صاحب کی تصویر اور ویڈیو بن ہی نہیں سکتی ۔کیونکہ کچھ لوگوں نے مولانا کی تصویر کشی کرنے کی کوشش کی مگر ان کے کیمرے ناکارہ ہو گئے۔یہ جھوٹ متواتر بولا گیا ۔اور اس طبقے کی جانب سے بولا گیا جو کہ خود کو اسلام کے داعی کہتے ہیں ۔جن کا کہنا کہ ہم دعوت و تبلیغ کا کام کر رہے ہیں ۔ یہاں پر ہر طبقہ ہی جھوٹ بولنے میں مبتلا نظر آتا ہے ۔مگر زیادہ افسوس مذہب کا نام لے کر جھوٹ بولنے والوں پر ہوتا ہے۔کیونکہ مذہب ہمیشہ سچ اور سچائی کی تلقین کرتاہے ۔

مگر المیہ دیکھیے  ہمارے ہاں مذہب کے مبلغین کی کثیر تعداد اپنے عقائد کی ترویج اور لوگوں کو نصیحت کرنے کے لیے بھی جھوٹ پر مبنی واقعات حکایات اور قصے کہانیوں کا سہارا لیتی ہے۔ایسے ایسے جھوٹ سچ بنا کر عوام کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔کہ بتاتے ہوئے بھی شرم محسوس ہوتی ہے ۔دعوت اسلامی کے ایک سرکردہ مبلغ کا ایک ویڈیو خطاب دیکھنے کا اتفاق ہوا ۔موصوف پورے اعتماد کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں موجود مجمع کو بتا رہے ہیں  کہ شیخ عبدالقادر جیلانی رح کو ایک رات میں چالیس مرتبہ احتلام ہوا اور ہر دفعہ انہوں نے غسل فرمایا اور مجمع سے سبحان اللہ کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں ۔حالانکہ سوچنے کی بات ہے کہ فرض کریں ایک بار غسل کرنے میں 10 منٹ بھی صرف ہوں تب بھی 400 منٹ لگ جائیں گے۔قریبا 7 گھنٹے اور درمیان میں نیند بھی  اور ویسے بھی انسانی عقل سے بعید ہے کہ کوئی انسان 40 مرتبہ احتلام کے مرحلے  سے گزر سکتاہے ۔مگر کوئی بروقت اس لطیفے پر چونکتا نہیں ۔سب من و عن اس پر ایمان لے آتے ہیں ۔جب کوئی سوال اٹھائے تو وہ فسادی۔گستاخ ملعون۔

اس ملک میں ہر طبقہ اپنے موقف کو سچ کی بنیاد پر ثابت کرنے سے نجانے کیوں گبھراتاہے اور تو اور یہاں کا مظلوم بھی تب مظلوم سمجھا جاتا ہے جب اس پر ہونے والے ظلم میں جھوٹ کی آمیزش بھی شامل ہو۔ایک خوب صورت سا بچہ اس کی تصویر پچھلے سال سے فیس بک پر کئی مرتبہ دیکھ چکا ہوں ۔پہلی بار اس بچے کی  تصویر کے ساتھ تحریر تھا یہ بچہ عمرہ کے دوران گم ہوگیا ہے ۔شئیر کریں تاکہ بچہ والدین کو مل جائے۔بعد میں وہی بچہ کبھی لاہور میں گم ہوا کبھی بھکر میں پچھلے دوسال سے پچاس مختلف جگہوں پر ہم اس بچے کو گمشدہ کر چکے ہیں ۔

ممتاز قادری اس ملک میں پھانسی کے بعد زندہ ہوکر ایک شخص کو گلے مل کے دوبارہ دار فانی سے کوچ کر جاتاہے۔تبلیغ دین کے لیے کیا سچ پر مبنی دلائل ختم ہو چکے ؟ ۔۔۔ہر گز نہیں پھر کیوں جھوٹ کی آمیزش سے تاویلیں تراشی جاتی ہیں ۔میڈیا پر خبر ،خبر تب بنتی ہے جب اس خبر میں جھوٹ کا تڑکا لگا ہو۔مذہب کے نام نہاد ٹھیکدار مولوی بلا جھجک جھوٹ بولتے ہیں  اور عوام من و عن اسے تسلیم کر لیتے ہیں ۔کوئی سوال نہیں اٹھاتا۔ابھی کچھ دنوں پہلے ذہنی و جسمانی معذور سرکار خادم رضوی اپنی گاڑی کے سامنے  کھڑے مجمعے کے  ساتھ اپنی ہونے والی گفت و شنید کی تفصیل بیان کر چکے ہیں ۔ ظلم کہیں پر بھی ہو ظلم کو آشکار کرنے کے لیے کسی جھوٹ کی ضرورت نہیں ہوتی ۔کیونکہ مظلوم کی مظلومیت خود پکار پکار کر ظالم کو بے نقاب کرتی ہے۔نجانے کیوں جعلی تصاویر کٹی پھٹی لاشیں دنیا بھر کے مختلف مقامات پر پیش آنے والے حادثات کی تصاویر جمع کرکے اپنے موقف میں جان ڈالنے کے لیے سوشل میڈیا پر شئیر کر دیتے ہیں ۔

اور  مسلمانوں پر ہونے والے  ظلم  پر چند گھنٹوں بعد لبرلز حضرات ان تصاویر کا تمسخر اڑا رہے ہوتے ہیں  کہ جناب یہ تصاویر تو جعلی ہیں ان کا موجودہ ہونے والے واقعہ  سے کوئی تعلق نہیں ۔جیسا کہ قندوز میں ہونے والے حملے کے بعد سوشل میڈیا پر گردش کرنے  والی اکثر تصاویر کے ساتھ ہوا ۔حالانکہ قندوز پر ہونے والا حملہ اور بچوں کی اموات بدترین ظلم ہے ۔مگر جعلی تصاویر جگ ہنسائی کا باعث بنتی رہیں ۔سچ کو جیت کے لیے آدھے ادھورے سچ اور مبالغہ آمیز سچ کی ہر گز ضرورت نہیں ہوتی ۔اس ملک میں زید حامد جیسے نام ور نابغے موجود ہیں ۔زید حامد جیسوں نے طے کر رکھا ہے کہ ماں کی گود سے گور تک ہم نے جھوٹ بولنا ہے ۔دن رات پوری لگن کے ساتھ جھوٹ کی آمیزش سے تاویلیں تراش کر اپنی دوکان چلانی ہے۔مگر افسوس زید حامد جیسے نام ور مسخرے اور امت مسلمہ کے خود ساختہ ترجمان کے بھی لاکھوں فالور موجود ہیں۔ڈاکٹر قیامت مسعود جیسا مجسم جھوٹ بھی یہاں پوری آب و تاب کے ساتھ لاکھوں لوگوں کے دلوں میں دھڑکن بن کے دھڑک رہاہے۔آج کے لیے اتنا فساد کافی ہے ۔

مرزا شہبازحسنین
مرزا شہبازحسنین
علم کا متلاشی عام سا لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *