ہمارا قیمتی اثاثہ

‎سوال تو اُٹھتا ہے جب آپ کے ملک کا اثاثہ ملاوٹ کا شکار ہونے لگے اور ملاوٹ بھی ایسی جو آپ کو ایسی سمت پرگامزن کر دے جس کی انتہا صرف بربادی اور تباہی کے سوا کچھ نہ ہو! کیا آپ جانتے ہیں آپ کے ملک کا اثاثہ کون ہے؟ نوجوان کسی بھی ملک یا معاشرے کا اثاثہ ہی نہیں روشن مستقبل بھی ہوتے ہیں ، مگر کیا ہو جب اس اثاثے کی سوچ میں شدت پسندی کی ملاوٹ چھلکنے لگے, کیا کِیا جائے گر ان کے افکار اور ازہان میں شدت پسندی اور عدم برداشت کی ملاوٹ کا بیج بو دیا جائے؟ ۔۔ کیا آپ چاہتے ہیں آپ کا بیٹا ایسی ملاوٹ زدہ سوچ کے ساتھ تعلیم حاصل کرے؟ کیا اس میں تعلیمی اداروں کا دوش ہے یا پھر وہاں پڑھانے والوں کا۔۔ یا پھر یہ قصہ ہی کچھ اور ہے؟ وطن عزیز میں کئی بڑے اور معتبر تعلیمی ادارے موجود ہیں جو ملک کے مستقبل کو روشن کرنے کے لیے کوشاں ہیں مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت سامنے آ رہی ہے کہ دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث نوجوانوں کا تعلق نہ صرف ان ‎اعلیٰ تعلیمی اداروں سے ثابت ہو رہا ہے بلکہ اس میں گھمبیر صورت حال یہ ہے کہ ملک کی اعلیٰ اور پڑھی لکھی سوسائٹی کے بچے بچیاں اس حیوانی دلدل میں بُری طرح پھنس کردشمن کے آلہ کار بن رہے ہیں ، پہلے آئی بی اے کے طالب علم سعد اور اب حیدرآباد کی ایم بی بی ایس کی طالبہ نورین لغاری کا نام دہشت گردوں کے ساتھ شامل ہونا ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔
موصوفہ نے خود اس بات کااعتراف کیا ہے کہ ایسٹر کے روز کسی چرچ میں حملےکی غرض سے وہ اپنی مرضی سے لاہور گئی تھی ۔اگر یہ حملہ ہو جاتا تو نہ جانے کتنےپیارے ہم وطنوں کی زندگیوں کا چراغ گُل ہوتا، کتنے بچے یتیم ہوتے، کتنی بہنوں کے سہاگ اُجڑتے اور کتنی مائیں اپنے جگر پاروں پر دہائیاں دیتیں، غرض کہ ایک قیامت تھی جو برپا ہوتے ہوتے تھم گئی۔ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ ہمارے ملک کے نوجوان ایسی سمت پر رواں دواں ہیں جو اپنی انتہا پسندانہ سوچ کی بنا پر صرف اور صرف دشمن کا ہدف آسان بنا رہے ہیں۔سانحہ صفورا اور سبین محمود کے قتل میں ملوث لڑکا سعد عزیز آئی بی اے سے بی بی اے تھا جبکہ اگست 2015 میں مارا جانے والا القاعدہ کا کارندہ کیڈٹ کالج پٹارو اور مہران یونیورسٹی سے انجینئرنگ مکمل کرنے والا نوجوان تھا اور اس کے بعد نورالہدی اسلامک سینٹر لاہور کی پرنسپل بشری بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں جنہوں نے شام میں اپنے چار بچوں سمیت داعش میں شمولیت اختیار کر لی تھی ، اس کے بعد پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر اور طلبہ کےہاسٹل سے داعش کا لٹریچر ملنا۔۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے پڑھے لکھے لوگوں کے واقعات پر ہمارے آج کےناموراداروں کے پڑھے لکھے طالبعلم ان کے دہشت گردانہ لٹریچر پڑھنے پر مجبور ہیں ۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ آخر اس لٹریچر میں ایسا کیا پنہاں ہے جو ہمارے پڑھے لکھے جوانوں کو خطرناک سحر میں مبتلا کر رہا ہے۔۔۔
کیا ان جوانوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگادی جائے؟؟؟ یا انہیں جدید تعلیمی اداروں سے دور کرکے تعلیم کے زیور سے محروم کر دیا جائے، اور یا پھر ان کے سوشل میڈیا کی نگرانی کی جائے کہ کس طرح کے عناصر ان کی سرکوبی میں سر گرم عمل ہیں تاکہ نوجوانوں کو تنہا ہونے سے پہلے بچا لیاجائے۔بالکل اسی طرح جیسے لیاقت میڈیکل کالج کی طالبہ کو بروقت محفوظ کر لیا گیا تھا جو کہ ایک ڈاکٹر اور پروفیسر کی صاحبزادی تھیں اور باقاعدہ خود کش بمبار بننے جارہی تھیں۔ ان کو اس مقام پر پہنچانے والا ان کا سوشل میڈیا کا دوست علی طارق تھا۔بڑے اور اعلی تعلیمی اداروں میں انتہا پسندی اتنے عروج پر پہنچ چکی ہے کہ وہاں اظہار خیال اورآزادی اظہار پر بھی پابندی ہے، جس کا ثبوت مردان کا حالیہ واقعہ ہے، مردان میں ولی خان یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے طالب علم مشال خان کو یونیورسٹی کے طلباءکی جانب سے توہین رسالت کا مرتکب قرار دے کر بے رحمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر سرعام قتل کردیا گیا۔یہاں ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اس قسم کی انتہا پسند اورپُرتشدد سوچ کو پنپنے سے روکنے کے انتظامات نہ کئے گئے تو ہم اپنی آنے والی نسلوں کو خطرناک انجام سے نہیں بچا پائیں گے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اگر حکومت وقت آسیہ بی بی ، رمشا مسیح جیسے لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچا کر اپنا فرض ادا کردیتی تو اس قسم کے واقعات کی نوبت نہ آتی ۔اگر ہمارے تعلیمی اداروں میں مذہب کے نام پر تشدد کی لہر آگئی تو پھر ان نوجوانوں کو سنبھالنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہوگا۔ یہ تربیت ہی ہمارے اثاثے ہمارے روشن مستقبل کو بچا سکتی ہے۔ آج بھی نوجوانوں کو دشمن کا ایندھن بننے سے بچانے کے مناسب اقدامات نہ کئے گئے تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرےگی اوراگر ہم نے نازک وقت کا بر وقت ادراک کر لیا اور نوجوانوں کو مثبت طرز فکر پر پروان چڑھانے اورامن کے ساتھ اختلاف رائے پر مثبت انداز میں مکالمہ کرنے کی راہ فراہم کردی تو یقین جانیے ہم نے اپنا قیمتی اثاثہ محفوظ کرنے کے ابتدائی انتظامات کی بنیاد ڈال دی ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم انہیں مثبت لٹریچر اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کریں اور یہ حکومت وقت کی ذمہ داری ہے ۔ علمائے کرام اپنے خطبات میں مذہب کے مثبت پہلو کو اجاگر کریں اور ان خرافات کے خلاف برملا اظہار کریں ، تنظیم المدارس اور وفاق المدارس باقاعدہ اس سوچ اور مائنڈ سیٹ کے خلاف حکمت عملی واضح کریں تاکہ نوجوانوں کو یہ پیغام جائے کہ شدت پسندی اسلام کے منافی ہے جبکہ ریاست کو چاہئے کہ وہ اپنے خفیہ اداروں کو مزید فعال کریں اور خاص طور پر تعلیمی اداروں میں اپنا نیٹ ورک وسیع کریں اور اساتذہ و طلبہ کی حرکات وسکنات پر نظر رکھیں تاکہ نورین لغاری ،سعد عزیز اور ان جیسے نوجوانوں کے ذہن میں زہر انڈیلنے والے شرپسند اور شدت پسند عناصر کی سرکوبی کی جاسکے اور ان کومذہب سے متنفر ہونے سے بچایا جاسکے۔ جس قوم میں شدت پسندی اور انتہا پسندی کی سوچ اتنی تیزی سے پروان چڑھ رہی ہواس قوم کا اللہ ہی حافظ ہے۔

مزمل فیروزی
مزمل فیروزی
صحافی،بلاگر و کالم نگار پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ کے رکن مجلس عاملہ ہیں انگریزی میں ماسٹر کرنے کے بعد بطور صحافی وطن عزیز کے نامور انگریزی جریدے سے منسلک ہونے کے ساتھ ساتھ کراچی سے روزنامہ آزاد ریاست میں بطور نیوز ایڈیٹر بھی فرائض انجام دے رہے ہیں جبکہ صبح میں شعبہ تدریس سے بھی وابستہ ہیں اردو میں کالم نگاری کرتے ہیں گھومنے پھرنے کے شوق کے علاوہ کتابیں پڑھنا اور انٹرنیٹ کا استعمال مشاغل میں شامل ہیں آپ مصنف سے ان کے ٹوءٹر اکائونٹ @maferozi پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *