عمران خان بمقابلہ پانامہ شریف

گزشتہ ہفتے بھر سے طبیعت میں کچھ گڑ بڑ سی رہی اور پھر بات ملیریا پر آکر ختم ہوئی اس دوران بستر سے لگ کر صرف ٹی وی دیکھنے کا ہی موقع ملتا رہا. گزشتہ چند روز سے پنجاب سمیت وفاقی دارالحکومت میں بادشاہ سلامت کے حکم پر ان کے مخصوص ،نو رتن جو کچھ کرتے رہے وہ دیکھ کر انتہائی افسوس ہوا.
دکھ اس لیے ہوا کہ پرویز خٹک کے قافلے سمیت بنی گالا آنے والے عوام خصوصاً خواتین کارکنان پر پنجاب پولیس کابہیمانہ تشدد کسی آمرانہ حکومت میں نہیں بلکہ ایک جمہوری حکومت کی کارستانی تھی. جمہوریت پسند حکمرانوں کی اس عجیب حاکمانہ سوچ نے ملک کے اندر ہی صوبوں کے درمیان نفرت اور قوم پرستی کی جو آگ بھڑکائی اسکے نتیجے سے شاید حکمرانوں کے سوا ملکِ خداداد کے بچے بچے کو علم تھا کہ اسکا نتیجہ کیا نکلے گا۔دو صوبوں کے درمیان کنٹینرز کی کھینچی گئی اس دیوار کا مقصد آخر کیا تھا؟ کیونکہ کارکنان تو دو نومبر کے روز بھی اسلام آباد آئے اور بہت ہی پرسکون طریقے سے آئے۔مسلم لیگ نواز کے سیاستدانوں کے ذہن میں چھوٹے صوبوں خاص طور پر ایسے صوبے جہاں انکی حکومت نا بن سکی ہو انکے خلاف سازشیں کرتے رہنا کوئی نئی بات نہیں۔
پنجاب کے چند ایسے سیاستدان جو چھوٹے صوبوں کے سیاستدانوں کو حقیر اور کمتر سمجھتے ہیں جو اپنے صوبے میں تو دبے لفظوں میں آپریشن کی مخالفت کرتے رہتے ہیں مگر جہاں دوسرے کسی صوبے میں آپریشن کی بات آئے تو وہاں کھل کر حمایت کر ڈالتے ہیں یہ ایسے ہی سیاستدان ہوتے ہیں جو کسی بھی آمر سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔
ایک صوبے کے وزیر اعلٰی کو دوسرے صوبے یا وفاقی دارالحکومت میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے اس پر شیلنگ کروانا یہاں تک کے پُر امن قافلے پر ربڑ کی گولیوں سمیت لاٹھی چارج کرنا یہ سب پنجاب کے جمہوریت پسند حکمرانوں نے کروایا۔یہ کس طرح کی جمہوری حکومت ہے جس میں ایک صوبے کے بااختیار وزیراعلٰی کو اپنے چئیرمین سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی جس نے صرف اپنے قائد کی رہائش گاہ تک جانا چاہا تو اس پر ربڑ کی گولیاں چلا دی گئیں، آنسو گیس کے گولے پھینکے جاتے رہے اس کے راستے میں مٹی کے پہاڑکھڑے کر دیئے گئے اور اسے واپس لوٹنے پر مجبور کر دیا گیا۔پنجاب کے حکمرانوں کی اس خطرناک روش سے آخر کو نتیجہ یہ ہی نکلے گا کہ بڑے صوبے کے لیے نفرت کی آگ بھڑکے گی ۔
پنجاب سے بننے والی اکثر وفاقی حکومتیں پاکستان کی تاریخ میں چھوٹے صوبوں کے حقوق پامال کرتے ہی گزری ہیں اور یہ شکایت نہیں بلکہ حقیقت ہے.جبکہ ماضی میں یہ روایت رہی ہے کہ پنجاب کے وزیراعلٰی نے چھوٹے صوبے سے منتخب وزیراعظم کا استقبال کرنے سے بھی کئی بار باقاعدہ انکار کیا.یہ ایک ایسا کھیل ہے جس میں پنجاب کے حکمرانوں نے وفاق کی سیاست میں ہمیشہ دوسرے صوبوں کو اپنی سیاسی چالوں میں الجھا کے رکھا جس کے باعث عوام کے درمیان آپس میں نفرت کا بازار گرم رہا ۔خیبر پختونخوا کے منتخب وزیراعلٰی پرویز خٹک کیساتھ پنجاب کی حدود میں جو کچھ ہوا اس نے عوام کے دل و دماغ میں سلگنے والی چنگاری پر جلتی پر تیل کا کام کیا .مگر اس خطرناک آگ کی شدت کو سمجھتے ہوئے عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے فوراً معاملہ فہمی کا مظاہرہ کیا اور اس سارے معاملے کو پنجاب حکومت کا رویہ قرار دیتے ہوئے چوہدری شجاعت والی مٹی پا دی اور بڑے پیمانے پر لگنے والی اس آگ کو چند ہی لمحوں میں بجھا ڈالا یہ تو انکی سیاسی بصیرت تھی جس نے ملک کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا..شاید کچھ احباب میری مندرجہ بالا سطور سے یہ اندازے لگانے بیٹھ گئے ہوں گے کہ اچھا خاصا بندہ کیسے پی ٹی آئی کی طرفداری میں بول رہا ہے تو صاحبو….!
میں پی ٹی آئی کی حمایت میں نہیں بلکہ ملکی تناظر میں اس بات کو سمجھنے پر آج مجبور ہوگیا کہ عمران خان کو جو لوگ سیاستدان نہیں سمجھتے وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ کیوں کہ عمران خان نے سپریم کورٹ کے ایکشن میں آتے ہی دھرنے کو مؤخر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے آگے کے لائحہ عمل کو راز میں رکھ دیا ۔یاد رہے کے دھرنا صرف مؤخر کیا گیا ہے نا کہ اسے سرے سے ختم کر دیا گیا.کئی میڈیا اینکرز سمیت ریٹائرڈ قسم کے سیاستدانوں کا کہنا تھا کے عمران خان کا دھرنے کے اعلان کو واپس لینے سے عوام میں غلط تاثر گیا ہے مگر دو نومبر والے جلسے میں ان ہی سیاستدانوں سمیت اینکرز حضرات کو عوام کی ایک بڑی تعداد دیکھ کر یقیناً ہوش تو آیا ہی ہوگا.میرے خیال میں عمران خان کا کارکن اسکے ساتھ جڑا ہوا ہے بالکل اسی طرح جسطرح بھٹو کا کارکن آج تک اسکے ساتھ روحانی تعلق قائم کیئے ہوئے ہے.
یہاں ہمیں عمران خان کی ہزار باتوں سے اختلاف ہوسکتا ہے مگر اسکی حب الوطنی پر شک کرنا انتہائی نامناسب عمل ہوگا ۔عمران خان نے دھرنے کو مؤخر کرکے اپنے آپکو جمہوریت پسند ناصرف ثابت کیا بلکہ جمہوریت کو مکمل طور پر محفوظ کرلیا.یہ بات بھی ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ عمران خان کا مقصد حکومت گرانا نہیں تھا اگر ایسا کوئی مقصد ہوتا تو وہ بالکل بھی دھرنے کو مؤخر نہ کرتا اور دوسری اہم بات جو اب سب کے سامنے عیاں ہوگئی وہ یہ کہ عمران خان کے پیچھے کوئی تیسری مخفی قوت بھی نہیں.جبکہ پانامہ پیپرز کا یہ کیس عدالت میں جانے سے جہاں عمران خان کے مؤقف کی تائید ہوئی وہیں نوازشریف کے لیے آنے والے دنوں میں معاملات انتہائی مشکل سے مشکل ترہوتے جائیں گے.
پانامہ پیپرز کا معاملہ چونکہ کورٹ میں ہے سو ایک وکیل ہونے کے ناطے میں کیس کی فی الحال گہرائی میں جانے کے حق میں نہیں ،خیر سے جو فیصلہ ہوگا اسے دیکھ کر ہی مزید لکھا اور بولا جا سکتا ہے. عمران خان کے کریڈٹ میں یہ بات تو جاتی ہی ہے کہ اس نے ایک ایسے شخص کو کورٹ آنے پر مجبور کر دیا جس پر اس ہی عدالت کے اوپر حملے کا الزام بھی ہے.
یوں تو عمران خان کے کریڈٹ پر کئی چیزیں ہیں پر یہ وہ بات ہے جسے عمران کے ناقدین بھی ماننے پر مجبور ہو جائیں گے کہ حکومت وقت کے وزیراعظم کو کورٹ میں لے آنا کوئی معمولی کامیابی نہیں ،اب اسکا فیصلہ چاہے کچھ بھی ہو مگر عمران نے اپنی ذمہ داری نبھائی اور خوب نبھائی یہ ہی بات آئندہ الیکشن میں نواز شریف کے مخالفین کے لیے دلی اطمینان اور سکون کا باعث بنے گی کہ عمران خان نے میاں صاحب و اہلِ خانہ کو کورٹ کا راستہ اس وقت یاد کروایا جب نواز شریف خود ایک وزیر اعظم تھے….دوسری جانب میاں صاحب کے لیے بھی یہ ایک نادر موقع ہے اور ویسے بھی میاں صاحب یہ کہہ چکے ہیں کہ سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دیئے جانے والے انکوائری کمیشن کے ہر فیصلے کو وہ دل و جان سے قبول کریں گے اور نا صرف قبول کریں گے بلکہ الزام ثابت ہوا تو ہر طرح کی سزا کے لیے بھی تیار ہیں.
میرے نزدیک بڑے مزے کی بات تو یہ ہے کہ میاں صاحب کو سپریم کورٹ عمران خان سے زیادہ انکے رفقاء ہی لائے ہیں ۔جس روز پرویز خٹک اسلام آباد کے لیے نکلنے لگے تو فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے میاں صاحب کے ایک خاص وزیر موصوف ایک چینل پر انگلی اٹھا اٹھا کر چیختے ہوئے کہہ رہے تھے کہپرویز خٹک اپنے ساتھ مدارس کے لوگوں کو لا رہا ہے ہم اسے وارن کرتے ہیں حکومت انہیں پوری طاقت سے روکے گی۔پرویز خٹک نے جب صوابی انٹر چینج سے رکاوٹیں ہٹا دیں اور اسلام آباد کی جانب سفر شروع کیا تو وہ ہی وزیر صاحب ایک دوسرے چینل پر فرما رہے تھے کہ دیکھیں جی وزیر اعلٰی کے پی کے ایک منتخب اور آئینی وزیر اعلٰی ہیں پر یہ سب جو وہ کر رہے ہیں انکی طبیعت سے میل نہیں کھاتا انہیں بڑے پن کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ویسے بھی حکومت نے ہارون آباد پر انکے لیے خاطر خواہ انتظامات کر رکھے ہیں.پرویز خٹک جیسے ہی ہارون آباد پہنچے تو یہ ہی ،صاحب ایسے پلٹا کھا گئے کہ خدا کی پناہ…!فرمانے لگے کہ پرویز خٹک اور میری دوستی بہت پرانی ہے وہ اسلام آباد ضرور آئیں بلکہ میرے گھر پر قیام فرمائیں وہ ایک منتخب اور آئینی وزیر اعلٰی ہیں اور انکا حق بنتا ہے کہ وہ اپنی پارٹی کے چئیرمین سے ملاقات کریں مگر جو طریقہ انہوں نے اختیار کیا ہے وہ کچھ درست نہیں میری ان سے گزارش ہے کہ خٹک صاحب پٹھان ہمارے بھائی ہیں اور ہم بھی آپ کے بھائی ہیں آپ آجائیں آپ کا راستہ کوئی نہیں روکے گا مگر اس لشکر کو واپس بھیج دیں اور آپ اپنے وزراء کیساتھ بنی گالا تشریف لے جائیے.

سو یہ تو تھی ایک مثال ،خیر حکمرانوں کی کرپشن کے حوالے سے کہیں ایک حکایت پڑھی تھی وہ یہ کہ کسی ملک کا ایک بادشاہ تھا اس نے اعلان کروایا کہ…میری سلطنت میں جو سب سے بڑا بےوقوف ہو اسے پیش کیا جائے. اب بادشاہ تو بادشاہ ہی ہوتے ہیں، خیر حکم تھا عمل کر دیا گیا.اور کئی بے وقوف پیش کر دیئے گئے. بادشاہ نے سب کا باری باری امتحان لیا اور آخر کار ایک بےوقوف کو سلیکٹ کر لیا..بادشاہ نے خوش ہوکر اپنے گلے سے ایک قیمتی ہار اتارا اور اس بےوقوف کو بطور انعام دے دیا..عرصہ دراز بعد وہ بےوقوف شخص بادشاہ سے ملنے اسکے دربار پہنچا..بادشاہ ان دنوں مرض الموت میں مبتلا تھا.بادشاہ کو بتایا گیا کے بےوقوف صاحب تشریف لائے ہیں خیر سے ملنے کا موقع فراہم کیا گیا..بےوقوف نے پوچھا..بادشاہ سلامت آپ لیٹے ہوئے کیوں ہیں.؟بادشاہ مسکرایا اور کہا اے نادان میں اب اٹھ نہیں سکتا میں ایک ایسے سفر پر جا رہا ہوں جہاں سے اب میری واپسی ممکن نہیں…بےوقوف بولا بادشاہ سلامت کیا واقعی اب آپکی واپسی ممکن نہیں کیا اب ہمیشہ کے لیے آپ وہیں رہیں گے..؟بادشاہ نے بےبسی سے کہا ہاں بےوقوف اب مجھے ہمیشہ کے لیے وہیں رہنا ہے…تو آپ نے وہاں اپنے لیے بہت بڑا محل بنایا ہوگا نا..؟ ساتھ میں بڑے باغیچے، بہت سے غلام، آپ کی وہاں کئی خوبصورت بیگمات بھی ہوں گی، اور آپ نے اپنی عیش و عشرت کی خاطر کافی سامان بھی وہاں بھیج دیا ہوگا…؟یہ سنتے ہی بادشاہ چیخ مار کر رو پڑا..بےوقوف کی سمجھ میں نہیں آیا کے یہ اچانک بادشاہ کو کیا ہوگیا وہ کیوں رونے لگا..بادشاہ نے کہا… نہیں بےوقوف نہیں میں نے وہاں کے لیے ایک جھونپڑی بھی نہیں بنائی..اور بادشاہ بچوں کی طرح رونے لگ گیا..
بےوقوف:ایسے کیسے ہوسکتا ہے؟ آپ تو سب سے زیادہ سمجھدار ہیں جب آپکو معلوم بھی تھا کہ ہمیشہ کے لیے وہاں ہی رہنا ہے تو اس جگہ کے لیے کچھ تو انتظام کیا ہوتا نا….
افسوس صد افسوس میں دنیا کے مال و زر میں پڑا رہا اور دولت اکھٹی کرتا رہا مجھے پتہ ہی نا چلا اور دیکھتے ہی دیکھتے میرا وقت آگیا..بادشاہ کے لہجے میں درد تھا…بےوقوف اٹھا
اپنے گلے سے وہ ہار اتارا..اور بادشاہ کے گلے میں ڈال دیا اور کہا.. حضور اس ہار کے مجھ سے زیادہ طلب گار تو آپ ہیں… یہ سبق تو ہمارے ہاں کے حکمرانوں کے لیے ہے جو سمجھتے ہیں کہ شاید کفن میں کوئی جیب ہوتی ہے یا انھیں کسی اہرام نما مقبرے میں مصالحہ لگا کر دفن کیا جائے گا….
خیر بات ہو رہی تھی میاں صاحب کی تو بتاتا چلوں کے سب سے زیادہ مزیدار لمحات تو اس وقت ہوں گے جب میاں صاحب پانامہ کے چُنگل سے ہنستے مسکراتے ہوئے کورٹ سے باہر آرہے ہوں گے.مگر پیچھے سے آنے والی دبی دبی روہانسی سی جانی پہچانی نسوانی آواز انکے بڑھتے قدم روک لے گی..
ڈیڈی جی……!!آپ تو نکل گئے پر ہمارا کیا ہوگا یہ سارے پیسے تو آپکے ہی ہیں پلیز اس پیسے کو آپ ہی رکھیں.

Avatar
رضاشاہ جیلانی
پیشہ وکالت، سماجی کارکن، مصنف، بلاگر، افسانہ و کالم نگار، 13 دسمبر...!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *