اذیت کی انتہا۔۔فیصل عظیم/نظم

اُفق کی آنکھ سے ٹپکا لہو اذیّت کا 

فشارِ وقت سے لہروں کی تھم گئیں سانسیں

ہوا کے ہاتھ سے چُھوٹی لگام پانی کی

زمیں کی سمت نظر گاڑ دی تلاطم نے

اُٹھایا سر جو کسی ریت کے گھروندے نے

بڑھا کے ہاتھ ، لپیٹا غلاف ساحل کا

کنارے موڑ کے کھینچا سِروں سے پانی کو

نمک سمیٹ لیا سارا آبِ وحشت کا

پلٹ کے چادرِ صد موج، تہ کریں لہریں

گرہیں باندھ کے لب بستہ کر دیے ساحل

اک اضطراب میں کاندھے پہ لاد کر گٹھری

پٹخ دیا اُسے لے جا کے اپنے صحرا میں

گرہیں کھول دیں اُس دم بخود سمندر کی

دکھایا شور کو ان تھک سکوت کا چہرہ

پلائی تشنۂ ساحل کو پیاس کی وسعت

نظر نے گھول دیا سب نمک سرابوں میں

ہوائیں ہو گئیں چپ، دیکھ کر یہ ویرانی

سکوت دیکھ کے مٹّٰی میں مِل گیا پانی

بنا کے ریت کے ذرّوں کو آئنہ اپنا

کنارے بیٹھا ہے کب سے طویل صحرا کے !!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *