بائیسویں صدی کا سفر کر نے والا شخص

ڈیوس نامی ایک شخص نے بائیسویں صدی میں ٹائم ٹریولنگ کے ذریعے سفر کرنیکا دعویٰ کر دیا ۔ اس شخص نے بائیسویں صدی میں حکومتوں کی جانب اپنے عوام کو خوراک کے طور پر مفت مہیا کیا جانیوالا کیپسول بھی دکھایا اور کہا کہ اس کیپسول کی بدولت انسان دو سو سال سے طویل عمر پائیں گے۔ ڈیوس نے مزید بتایا کہ اس کیپسول میں ایک ہفتے کی خوراک کے برابر توانائی موجود ہے کیونکہ اس میں وہ تمام اجزا موجود ہیں جو کہ ایک شخص کو سات دن کی خوراک کیلئے درکار ہوتے ہیں۔ ڈیوس نے اپنی عمر بھی ایک سو تین سال ہونے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ بائیسویں صدی میں خوراک کی قلت اور پلاسٹک کی آلودگی سے نجات مل جائیگی کیونکہ اس دوران تمام خوراک عوام کو مفت میں مہیا ہوگی۔ ڈیوس نے مزید کہا کہ مستقبل میں انسانوں کے پاس دیگر سیاروں پر زندگی بسر کرنے کیلئے ٹیکنالوجی بھی دستیاب ہوگی تاہم اس دوران ماحولیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتی ہوئی تپش ایک بڑا مسئلہ بن جائیگی جس کی وجہ سے انسان مریخ پر منتقل ہونے پر مجبور ہوجائیں گے۔ ڈیوس نے مزید کہا کہ بائیسویں صدی میں آبادی بھی کئی گناہ بڑھ چکی ہوگی ۔ ڈیوس نے بائیسویں صدی میں زیر سمندر شہر بسنے کا دعوی بھی کیا اور کہا کہ وہ ایسے شہروں کا سفر بھی کر چکے ہیں۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ انسان جلد غیر انسانی مخلوق کا کھوج لگانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ڈیوس کا مزید کہنا تھا کہ ٹائم ٹریول مستقبل میں کمرشلائز ہوجائیگی اور اس تک رسائی کیلئے دولت مند ہونا ضروری ہے۔ ٹائم مشین کی ہیت بتاتے ہوئے انہوں نے اسکو دائرے کی شکل کا قرار دیا اور کہا کہ جیسے ہی کوئی شخص اس میں داخل ہوتا ہے وہ کسی دوسری طول و عرض میں داخل ہوجاتا ہے۔ تاہم اس دوران انہوں نے اپنی شخصیت عوام کے سامنے لانے سے گریز کیا اور کہا کہ اس س انکی زندگی کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *