• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پاکستان میں ایک کینسر نہیں بلکہ کئی کینسر ہیں۔۔اسدمفتی

پاکستان میں ایک کینسر نہیں بلکہ کئی کینسر ہیں۔۔اسدمفتی

حیرت ہوتی ہے کہ ہم کس زمانے میں جی رہے ہیں ،کیا عجوبہ فضا ہے کہ ایک طرف انسانی عقل و علم  چھلانگیں مارتا ،ہر دس سال کے دوران پچھلے عشرے کو گویا ایک صدی پیچھے چھوڑتا اس تیزی سے آگے جارہا ہے کہ “ طالب علم” کے لیے اس کا پیچھا کرنا دشوار ہوگیا ہے۔اور وہ نہیں کہہ سکتا کہ اگلے مرحلے پر سائنسی ریسرچ تباہ کاریوں کا نیا حربہ نکال لے گی  یا تعمیر و ترقی و سلامتی کا سرو سامان ۔۔۔
گزشتہ برس کی تو بات چھوڑئیے ،اس نئے برس یعنی 2018 میں خلائی پروگرام یا سٹار وار اتنا آگے جاچکا ہوگا کہ روئے زمین کو ستاروں کی گزر گاہ پر خلائی سٹیشن کا کوئی بٹن دبا کر تباہ کیا جاسکے گا۔
ایک خوش خبری طبی سائنس نے یہ دی ہے کہ وہ شئے جسے جینی gene کہتے ہیں وہ حتمی طور پر دریافت ہوگیا ہے جسے کینسر یا سرطان کا توڑ کہا جاسکتا ہے۔
کسی زمانے میں ہیضے کی وبا ۔طاعون کی وبا، ملیریا کی ،گردن توڑ بخار کی،یرقان کی،یاایڈز کی وبا جان لیوا شمار ہوتی تھی ،گزشتہ صدی میں ان سب وباؤں کے  توڑ ملتے گئے اور آج ترقی یافتہ ملکوں میں (جن میں ایک ملک جہاں میں بھی رہتا ہوں ) کوئی ان بیماریوں سے خوف زدہ نہیں ،سب کے معالج ہیں ۔ ہسپتال  میں   فوری علاج کے اور انسدادی تدبیروں کے انجکشن موجود ہیں، جن تک غریب و امیر سب کی رسائی ہے ،تمدن، تدبیر اور بین الاقوامی ریسرچ اداروں کی بدولت آج انسانی عمر کا اوسط بڑھتا جارہا ہے۔

لیکن ایک “بلا” ایسی ہے کہ انسان کو اس کا علم تو صدیوں سے ہے ۔بھرپور علاج اب تک دریافت نہیں ہوا اور نہ ٹھیک ٹھیک یہ دریافت ہوسکا کہ مرض کی جڑ کہاں ہے۔ یہ مرض ہے کینسر جسے عربی میں “سرطان” کہتے ہیں ۔ حکیم بو علی سینا نے کتاب “القانون”میں  یہی درج کیا ہے۔برج سرطان کی شکل رصد گاہوں میں دیکھی  جو کہ کیکڑے کی سی تھی ۔اسے کیکڑا یا سرطان بھی کہتے ہیں۔ یہی لفظ اسی معنی میں لاطینی انگریزی میں کینسر اور بعض یورپی زبانوں میں “راک”یعنی کیکڑا کہلایا۔

خدا جانے خون میں ،ورثے میں ،ہوا میں ،غذا میں ،تنفس کی راہ سے، منہ ،ناک یا لمس کی راہ سے کون سی نامعلوم شئے نفوذ پذیر ہوجاتی ہے کہ پھر و ہ کیکڑے کی طرح ہاتھ پاؤں پھیلا کر تیزی سے پہلو کو زہر آلود کردیتی ہے۔

پتہ چلا کہ تمباکو کھانے پینے والے اس کے زیادہ شکار ہوتے ہیں ۔ ڈر کے مارے ہزاروں لوگوں نے سگریٹ نوشی کو ترک کردیا ۔ پھر ہم جیسوں کےعلاوہ خدا کے نیک بندوں میں بھی یہی مرض پایا گیا جو نہائیت احتیاط سے پاک صاف اور باوضو رہتے ہیں ، پھر بچوں کی اموات کینسر سے ہوئیں۔

ہر ایک ترقی یافتہ ملک میں کینسر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کھلے ہوئے ہیں ،کروڑوں ڈالر، یورو کی  رقم اس پہ خرچ کی جارہی ہے۔ حاصل یہ ہوا کہ کینسر کے ابتدائی مرحلے پر تو اس کا توڑ ہو بھی جاتا ہے۔ اس مرحلےسے آگے اگر مرض پہنچ گیا تو پھر ڈاکٹر حضرات مریض کو تجربوں کا نشانہ بنا لیتے ہیں   کہ مریض کے بچنے کی آس معدوم ہوجاتی ہے ہر بار کہیں نہ  کہیں سے خبر آتی ہے کہ ریسرچ  کرنے والوں نے مرض کی جڑ پکڑ لی ہے۔پھر پتہ چلتا ہے کہ جس پر ہاتھ پڑا  وہ کینسر کی جڑ نہیں تھی۔

اب جاکر نیویارک سے خوش آئند خبر ملی ہے کہ یہ راز دریافت ہوگیا ہے  کہ کچھ لوگوں میں کینسر کا شکار ہونے  کی صلاحیت دوسروں سے زیادہ کیوں ہوتی ہے اورکیسے یہ موروثی مرض بن جاتا ہے۔ کیسے پھیلتا اور گرفت سے نکل جاتا ہے اور یہ سب کچھ طبی سائنس کی دین ہے۔

“جین”کیا ہے؟
چار چیزوں کی پہلی شکل کو مادہ، خون ،بلغم ،سودا،صفرا ،ذرے سے بھی کم ۔۔حتی کہ ننگی آنکھ سے بھی نظر نہ آنے والا ،لیکن اثرات کو آگے لے جانے والا۔وجود کی تشکیل میں تاثیر دکھانے والا مادہ۔
جتنے لفظ جین سے بنے ہیں ان سب میں تولید اور تناسل مشترک ہیں ۔ ہمارے عام لفظ جنتی،جن ،جنا، جنتا، جننا وغیرہ اسی جین سے ماخوذ ہیں  اور اسی مادے کے حوالے سے Geneticاور جینیالوجی بنے ہیں۔

ظاہر ہے صدیوں سے ہم نے جین کو مادہ اولیٰ   میں شامل یا اس کی بنیادی  اینٹ  مان لیا تھا  اور یہ بھی جان لیا تھا کہ خون میں کہاں کہاں  اس کی تاثیر چھپی ہوئی ہے ،لیکن ہمیں نہ تب معلوم تھا اور نہ اب تک قطعی طور معلوم ہوا ہے کہ بدن کے اندر نسوں اور رگ پٹھوں میں پہلو کی نالیوں میں یا خون کے اجزا میں یہ کیکڑا پنپتا کیسے ہے۔

اسے پنپنے سے پہلے ختم کرنے اور بھسم کر  ڈالنے تک تو طبی سائنس پہنچ گئی تھی لیکن اس کے “انڈے یا بچے” دینے کے گھونسلے کے بارے میں معلوم نہ تھا۔ تمباکو نوشی سے جو سوزش ہوتی ہے وہ کینسر کی رفتار تیز ضرور کرتی ہے لیکن رفتار سے پہلے اس کی آماجگاہ ۔۔۔؟

خیر اب پوری امید ہے کہ “مجرم “ کے ہاتھ پاؤں باندھ دیئے جائیں گے۔کینسر کا مرض آج کل بیالوجی میں تفصیل سے پڑھا جانے لگا ہے ،(ملک عزیر میں تو بیالوجی   میں نماز روزہ تک پڑھایا جارہا ہے) لیکن پھر بھی پاکستان   ان چند ملکوں میں شامل ہے جہاں کینسر کا ابتدائی مرحلے میں حتمی پتہ نہیں چلتا ،چھوٹے پیمانے پر چند لیبارٹریاں  قائم کی گئی ہیں لیکن بڑے پیمانے پر کسی انسٹی ٹیوٹ یا ریسرچ پروگرام کی کشور حسین سے نوید نہیں آئی۔

ہاں البتہ کینسر کے علاج کا چند ہسپتالوں میں انتظام ضرور کیا گیا ہے جن میں معروف کرکٹر عمران خان نے اپنی مرحومہ والدہ کے نام پر قائم ہونے والے ہسپتال میں علاج کرنے کی اعلی پیمانے پر کوشش کی ہے۔میرے حساب سے عمرا ن خان  سیاست کو خیر باد کہہ کر اگر رفاعی کاموں پر توجہ دے تو یہ عوام کے حق میں کہیں بہتر ہوگا کہ پاکستان کوعوام    کو خانوں سے زیادہ سائنس دانوں کی ضرورت ہے۔۔
کیا میں نے غلط سوچا ؟

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *