صحافت کا لیر و لیر دامن۔۔۔رانا اورنگزیب

چچا غالب فرما گئے ہیں۔۔
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالبؔ صریر خامہ نوائے سروش ہے!
مگر اب مضامین غیب سے نہیں جیب سے آتے ہیں۔انسان رب کائنات کی ایسی تخلیق ہے جس کے سینکڑوں نہیں ہزاروں روپ اور چہرے ہیں۔ کچھ علم نہیں کہ کب وہ کون سا روپ بہروپ اور رویہ اختیار کرلے۔کس چہرے کو کہاں چھپا لے اور کس کو کہاں عیاں کردے۔کوئی عقلمند و معزز انسان کب کوئی چول مار دے انسان اس کے بارے میں پیشگی کچھ نہیں کہہ سکتا۔

جناب سہیل وڑائچ میرے پسندیدہ صحافی اور لکھاری ہیں۔بہت سے لوگ ان کو ایک مانا ہوا صحافی اور منجھا ہوا لکھاری مانتے ہیں۔بلاشبہ سہیل وڑائچ کا علمی وصحافتی قد کاٹھ ان کے جسمانی قد کاٹھ سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ادبی وصحافتی حلقوں میں سہیل وڑائچ کی راۓ مستند مانی جاتی ہے سیاست وصحافت، سماجی ومعاشرتی،قومی و بین الاقوامی حالات حاضرہ پر سہیل وڑائچ کی راۓ کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔الیکٹرانک و پرنٹ ہر دو میڈیا میں جناب وڑائچ صاحب اپنا ایک الگ مقام اور اپنی ذاتی پہچان رکھتے ہیں۔ اگر کوئی عام لکھاری یا کوئی مستند خوشامدی یا حکمرانوں کی صفوں میں جگہ بناتا صحافی کسی طاقتور کی مدح سرائی کرے تو عام آدمی سے لے کر پڑھے لکھے اور سنجیدہ لوگوں تک سب اس کو نظر انداز کرکے گزر جاتے ہیں کہ چھوڑیں جی بیچارے کی معاشی ومعاشرتی مجبوریاں اس کام پر اکساتی ہیں۔مگر جب سہیل وڑائچ جیسا سنجیدہ انسان بھی پٹڑی سے اترنے لگے تو پھر کس پر اعتبار کیا جاۓ۔

چند دن پہلے جب نہال ہاشمی اپنے آقاؤں کی محبت میں مغلوب الغضب ہو کے عدلیہ پر چڑھ دوڑا اور ملک کی سب سے بڑی عدالت نے اس کو سزا سنائی تو جناب سہیل وڑائچ کچھ ان الفاظ میں رقم طراز ہوۓ۔۔۔
“نہال ہاشمی کے ساتھ جوہوا اور جو ہو رہا ہے وہ بالکل ٹھیک ہے۔ اس طرح کے دیوانوں کا ہمیشہ سے یہی حشر ہوتا رہا ہے اور آئندہ بھی یہی حشر ہوتا رہے گا۔ لبنانی صحافی امین معلوف نے اپنی مشہور کتاب ’’ثمرقند‘‘ میں لکھا ہے ’’جب بادشاہ ابو المنصور، مشہور فلاسفر ابن رُشد کے خلاف ہوا تو فلسفے پر ہی پوری ریاست میں پابندی لگادی اور ابن رُشد کو جلاوطن کردیا۔ ابن رُشد جہاں جاتا تھا وہاں کے سرکاری کوتوال اور سرکاری جج اس کو پہچان کر عوام سے اس کو سرعام جوتے لگواتے اور’’نہال‘‘ ہوتے۔ آج ابن رُشد کے نام پر سپین میں یادگاریں قائم ہیں مگر اس کے اپنے زمانے میں اس کو نہال ہاشمی کی طرح جوتے کھانے پڑے، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔ حسین بن منصور حلّاج بھی دیوانہ تھا، وہ بھی اسی سلوک کا مستحق ٹھہرا۔ وحدت الوجود کا نعرہ انا الحق کیا لگایا، منصف اور کوتوال سب نے ڈنڈے اور پتھر اٹھالئے، عوام بھی شریک کار تھے۔ اس کو پتھر مار مار کر سنگسار کردیا۔ مخدوم بلاول سمّوں بھی ایسا ہی تھا، اس کا انجام بھی ویسا ہی ہوا۔ کیاملّا اور کیا منصف اور کیا کوتوال سب نے مل کر مخدوم بلاول کو کافر قرار دیا اور اسے چکی کے دوپاٹوں میں ڈال کر پیس دیا گیا۔ حلّاج، ابن رُشد اور بلاول کو بالکل درست سزا ملی۔ نہال ہاشمی کے ساتھ بھی ٹھیک ہوا مگر اسے سزا کم ملی ہے، اتنی بڑی توہین، اتنی بڑی غلطی اور اتنی کم سزا۔ اسے یا تو تختہ دار پر چڑھائیں یا پھر سرعام سنگسار کریں تاکہ آئندہ کوئی توہین نہ کرسکے”۔

میں ان کی یہ درفنطنی دیکھ کے دم بخود رہ گیا کہ کہاں نہال ہاشمی جیسا دو ٹکے کا چاپلوس ایک بدعنوان دولتمند حکمران کا تحفظ کرنے والا۔اور کہاں منصور حلاج،ابن رشد اور بلاول سموں جیسے نابغے۔ جو دوست مذکورہ بالا تینوں شخصیات سے واقف نہیں ان کے لیے میں تینوں بزرگوں کا مختصر تعارف یہاں دیتا ہوں۔
1۔منصور حلاج ایک صوفی بزرگ جنہوں نے ساری زندگی وحدت الوجود کا پرچار کیا۔اور مستی میں اناالحق کا نعرہ لگایا۔اپنے نظریات وعقائد سے ایک انچ پیچھے نہ ہٹے حتیٰ کہ سولی چڑھ گئے۔
2۔ابن رشد فلسفی، ریاضی دان، ماہر علم فلکیات، ماہر فن طب اور مقنن۔ قرطبہ میں پیداہوئے۔ ابن طفیل اور ابن اظہر جیسے مشہور عالموں سے دینیات، فلسفہ، قانون، علم الحساب اور علم فلکیات کی تعلیم حاصل کی۔ خلیفہ یعقوب یوسف کے عہد میں اشبیلیہ اور قرطبہ کے قاضی رہے۔ ہسپانوی خلیفہ المنصور نے کفر کا فتویٰ عائد کرکے ان کی تمام کتب جلادیں اور انہیں نظر بند کر دیا۔ چند ماہ کی نظر بندی کے بعد مراکش چلا گئے۔ اور وہیں وفات پائی!
3۔مخدوم بلاول سموں سندھ دھرتی کے عظیم سپوت اور صوفی جو کہ سمہ خاندان کے چشم وچراغ تھے۔انہوں نے قرآن فقہ کے علاوہ عربی اور فارسی پر عبور حاصل کیا ضلع دادو کے ایک گاؤں میں مسجد ومدرسہ قائم کیا ساری زندگی درس و تدریس میں گزار دی ان کو شہباز قلندر اور مخدوم نوح کے پاۓ کا ولی اللہ سمجھا جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ نہال ہاشمی کا موازنہ ان شخصیات سے کس بنا پر کیا جاسکتا ہے۔کہاں ابن حلاج کہ جنہوں نے سولی چڑھنا منظور کیا مگر جابر حاکم کے کسی حکم کو درخور اعتناء نہ جانا۔اور کہاں نہال ہاشمی جیسا بزدل اور بڑبولا جو ایک ماہ کی قید سے نکلا تو پھر سے بوجھا اٹھاتے اونٹ کی  طرح بلبلایا۔جیسے ہی عدالت نے طلب کیا تو فوراً بولا مائی  باپ میں تو ایکٹنگ کر رہا تھا۔

محترم جناب سہیل وڑائچ صاحب آپ کا ممدوح نہ تو منصور حلاج بنا نہ ابن رشد اور نہ ہی بلاول سموں ! جناب سہیل وڑائچ نے ابھی تین چار دن پہلے پھر سے کالم لکھا اور میاں نوازشریف کو داراشکوہ بنا کے پیش کردیا۔ ”

حیراں ہوں  کہ روؤں دل کو یا پیٹوں جگر کو میں

مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں !

مانتا ہوں مفادات اصولوں سے بڑھ کے ہوتے ہیں۔تسلیم کہ خواہشات پر قابو رکھنا ہرکس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔مگر جناب بندہ بات کرتے لکھتے کم از کم اپنے مقام کو ہی دیکھ لے۔نہال ہاشمی کے بارے اپنے اقوال زریں کو دیکھ کے میں سمجھا چلیں کوئی  بات نہیں کبھی کبھی انسان پراگندہ ذہن ہوتا ہے کبھی انسان کو مکمل توجہ اور یکسوئی  حاصل نہیں ہوتی اس لیے آپ نے بے دھیانی میں لکھ دیا ، دوسرا خیال آیا کہ شاید سٹھیا گئے ہوں مگر دارشکوہ والا کالم پڑھ کے مجھے یقین ہوا کہ جناب سٹھیا نہیں گئے بلکہ لفیا گئے ہیں۔

کیا آپ جیسے قد آور صحافی اور کالم کار کو بھی لفافے کی ضرورت پڑتی ہے۔کیا آپ جیسے انسان جس کے لاکھوں چاہنے والے اس کے قلم سے نکلے ایک ایک لفظ کو مستند ومحترم جانتے ہوں کو بھی مصلحت کوش منافقت کا سہارا لینا پڑتا ہے۔کیا پاکستان میں چلنے والی جمہوریت اس قابل ہے کہ اس کے لیے اپنے ہی اداروں خصوصاً عدلیہ اور فوج پر الزامات اور تبرا بازی کی جاۓ؟۔

آپکی ساری زندگی کی کمائی  ایک طرف اور آپ کے مذکورہ دو کالموں کا خسارہ دوسری طرف رکھ کے ترازو اٹھایا جاۓ تو یقیناً آپ کے ان دو کالموں کا خسارہ بہت زیادہ ہے۔ بھارتی فلم نصیب میں بزرگ اداکار قادر خان اور گووندا کا ایک منظر کچھ اس طرح سے ہے کہ” قادر خان جو کہ ایک رفوگر ہوتا ہے اس کو گووندا اپنے ساتھ اس شرط پر رکھتا ہے کہ جب میں کوئی  بڑا جھوٹ بول بیٹھوں تو تم نے اس میں رفوگری کرنی ہے اور بات سنبھالنی ہے۔ایک محفل میں گووندا نے ایک اوٹ پٹانگ گپ پھینک دی۔اور قادر خان کی طرف دیکھا قادر خان بولا کہ حضور اگر چھوٹا موٹا سوراخ ہو تو میں رفو کرسکتا ہو ں اور اگر لیرو لیر کرکے کپڑا میرے ہاتھ پکڑا دوگے تو میں کیا میرا باپ بھی اس کو  رفو نہیں کرسکتا”۔

تو محترم جناب سہیل وڑائچ صاحب اگر آپ نے ن لیگ کے احسانات و انعامات کا بدلہ دینا ہے تو کچھ ایسا لکھیں جس کو پڑھ کے قاری کا حسن ظن تو قائم رہے۔اگر شریف خاندان کا دفاع کرنا ہی ٹھہرا تو کچھ ایسا لکھیں جو پڑھے لکھے اور واقفان حال نہیں تو کم از کم میرے ان پڑھ عوام کو تو سمجھ میں آۓ۔

قلم فروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا ہے کتنی رقم ملنے والے بل میں ہے!

رانا اورنگزیب
رانا اورنگزیب
اک عام آدمی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *