چوہدری۔۔ اصغر محمود چوہدری

میرے ابا جی میرے آئیڈیل نہیں تھے، میرے خاندان والوں کے نزدیک بھی وہ زندگی کی دوڑ میں   ایک ناکام شخص تھے کیونکہ انہوں نے ایک ایسے خاندان میں آنکھ کھولی جس میں ان کے کزن اور قریبی رشتہ دار  بڑے عہدوں پر تعینات تھے۔ ڈپٹی کمشنر ، کمشنر ، ممبر ریونیوبورڈ پنجاب ، ڈی ایس پی ، ایس پی پولیس ،پی ایچ ڈی ڈاکٹر وں  پروفیسر ،پولیس انسپکٹر،آرمی کیپٹن ،چارٹرڈ اکاﺅنٹنٹ، تحصیلدار،انجینئر، ذیلدار، پٹواری اور ایس ڈی اومیں سے کوئی بھی ایساعہدہ باقی نہیں بچا تھا جو ہمارے خاندان کے حصے  میں نہیں آیا۔۔ ایسے میں میرے والد صاحب خاندانی روایات کے مطابق آفیسر نہیں بن سکے حتی کہ ان کی تربیت جس چچا نے کی وہ خودایک پولیس انسپکٹر تھے۔

میرے والد صاحب آفیسر نہیں بنے چلو کوئی بات نہیں لیکن انہوں نے خاندان کی دیگر روایات کو بھی نہیں اپنایا ۔ مثلا ً ہمارے خاندان میں اتنے بڑے عہدے تھے اور انگریز سرکار کے زمانہ سے قائم اس افسری کو ایک ہی ٹریننگ دی جاتی تھی کہ پبلک سرونٹ حاکم کے رتبہ پراور عوام الناس سرونٹ کے مقام پر ہوتے ہیں اس لئے خاندانی روایت کے مطابق ضروری تھا کہ” عام سویلین“ سے فاصلہ رکھا جائے کسی بھی ریڑھی والے سے فری نہ ہوا جائے ، کسی بھی عام آدمی کو گلے لگا کر نہ ملا جائے ، ہاتھ ملانے کی بجا ئے ہاتھ کا اشارہ کافی سمجھا جائے ، چہرے پہ سنجیدگی قائم کی جائے اور کسی بھی مزے کی بات پر محض اس لئے نہ ہنسا جائے کہ لطیفہ سنانے والا کوئی عام میراثی ہے ، اگر کوئی ملنا چاہے تو وہ فون کر کے اپائنٹ منٹ لیکر آئے ، کسی کے گھر جانے سے پہلے اس کی  تنخواہ کا سکیل ماپاجائے ، کسی سے تعلقات بناتے وقت اس کا گریڈ دیکھا جائے ۔ رشتہ داروں تک کی حیثیت پر توہین آمیز فقرے کسے جائیں اپنے ڈرائیور اور مالی کانام یاد نہ کیا جائے کئی سال کی ملازمت کے بعد بھی انہیں ڈرائیوراور مالی ہی پکارا جائے لیکن ابا جی کویہ ساری دنیا داری آتی نہیں تھی اس لئے وہ دنیا داری کے میدان میں ناکام ہوگئے کیونکہ ان کے تعلقات عام آدمی سے رہتے تھے وہ گھر میں کام کرنے والے ملازماﺅں کے نہ صرف نام یاد رکھتے تھے بلکہ انہیں ”بیٹا “ کہہ کر مخاطب ہوتے تھے سبزی والے سے دوستی کر لیتے تھے اور چائے والے کی پریشانیاں سننے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے

ان کی دوسری بڑی خامی یہ تھی کہ وہ ایک شریف انسان تھے خامی اس لیے کہ ہمارا تعلق گجرات کی گجر فیملی سے ہے جو چوہدری کہلوانے کی خاطر دشمنیاں پالتے اور اپنا شملہ اونچا کرنے کے لئے بعض دفعہ لوگوں کی گردنیں کاٹتے ہیں ہمارے علاقے میں باعث عزت ایسی شخصیات سمجھی جاتی ہیں جو بدمعاشی میں مشہور ہوں جن کے ”بیر “اور دشمنیاں کئی سال سے چل رہی ہوں جن کے آگے پیچھے چلتے گن مین ہوں اور جن کی مونچھوں کے بل سے لوگوں کو خوف محسوس ہوتا ہو۔جہاں قابل فخر بات کئی سال کی دشمنی کا چلانا ہو جہاں ابھی بھی ذات برادری کی تفریق رکھی جاتی ہے اونچے خاندان اور نچلے طبقے کے درمیان فاصلہ رکھا جاتا ہے بندے کی شناخت اس کے کام کے حوالہ سے کی جاتی ہںے چوہدری اور” کمیں “کا فرق اخلاقی فرض سمجھاجاتا ہے ، کام کرنے والوں کوگھر آنے پر کرسی یا چارپائی مہیا نہیں کی جاتی ان کے لئے علیحدہ سے ”پیڑھا “موجود ہوتا ہے ان کا نام عزت سے نہیں لیا جاتا بلکہ اگر کوئی خلیل کو” خیلا“ ، شریف کو شریفا اور نواب کو” نبو“ نہ کہے تو ا سے  بڑاچوہدری نہیں سمجھا جاتا۔

جس کے لہجے میں رعونت نہ ہو ، جس کے انداز تکلم میں تکبر اور دوسروں کی جانب توہین آمیز رویہ نہ ہولوگ اس کی بات نہ تو مانتے ہیں اور نہ ہی اسے قابل احترام سمجھتے ہیں لیکن ابا جی ان سب باتوں میں یقین نہیں رکھتے تھے وہ کسی کو نہ تو توہین آمیزطریقہ سے مخاطب کرتے تھے اور نہ ہی گھر میں کام کے لیے آنے والے کسی شخص کے درمیان فاصلہ رکھتے تھے نہ اپنی مونچھوں کو بل دیتے تھے اور نہ ہی گالی گلوچ کا سہارا لیتے تھے کام کرنے والے ”کمیں “کو چارپائی دے دیتے تھے۔

مجھے اس بات کا قلق تھا کہ اس طرح لوگ انہیں چوہدری نہیں مانیں گے کیونکہ احترام انسانیت کا جو سبق وہ دنیا کو دینا چاہتے تھے اس لحاظ سے وہ معاشرہ میں مس فٹ تھے
ان کی تیسری بڑی خامی یہ تھی کہ وہ صوم وصلوٰةکے پابند ،باقاعدگی سے تہجد گزار ،ہر روز قرآن پاک کی تلاوت کرنے والے اوردل میں خوف خدا رکھنے والے تھے ہمارے خاندان اور علاقہ میں ایسی تمام عادتیں باعث مذاق بن جاتی ہیں انہوں نے ساٹھ سال کی عمرگزر جانے کے بعد سارا قرآن معروف تلفظ کے ساتھ مسجد جا کر سیکھا مجھے خوشی ہوئی کہ ابا جی مروج روایات کے تحت ایک ”اچھے چوہدری“ ثابت نہیں ہوئے۔ ایک آفیسر بھی نہیں بن سکے تو کم از کم ایک ایسی فیلڈ ضرورہے جس میں وہ اپنی دھاک بٹھا سکتے ہیں ان کے پاس ایک ایسی اہلیت ضرور ہے جس کے تحت وہ باقی دنیا کو اپنے سے حقیراور خود کودوسروں سے افضل ثابت کر سکتے ہیں وہ بڑی رعونت سے دوسروں کو گناہ گار اور بے نمازی کہہ سکتے ہیں وہ بڑی نفرت سے لوگوں پر اپنی نمازوں کا رعب جھاڑ سکتے ہیں وہ دوسروں کو جہنم کا سرٹیفیکیٹ دے کر خود کو متقی ڈیکلئر  کر سکتے ہیں لیکن اباجی نے اس میدان میں بھی اپنی اہلیت کا”فائدہ “نہیں اٹھایا،کبھی پرہیز گاری کالبادہ اوڑھنے کی کوشش نہیں کی ۔انہوں نے کبھی کسی کو حقارت آمیز رویہ میں بے نمازی نہیں کہا۔ کسی کو اس کے اعمال کی وجہ سے گناہگار کا سرٹیفیکیٹ نہیں دیا۔

نہ جانے وہ کونسی مٹی کے بنے تھے کہ کسی بھی بات کا کریڈیٹ لینا نہیں چاہتے تھے ۔وہ صوفیاءکے اس فلسفہ کا بہت پرچار کرتے تھے کہ اپنی ”میں“ کومارنا چاہیے ،کسی کو تکلیف نہیں دینی چاہیے کسی سے سوال نہیں کرنا چاہیے اور کسی سے مدد نہیں مانگنی چاہیے۔

ان کے دوستوں سے پتا چلا کہ وہ ہر شام سورہ ملک اور ہر صبح سورة یٰسین کی تلاوت کرتے تھے جمعہ کے دن وہ ایسے خوش ہوجاتے تھے اور صبح ہی سے نماز کا ایسے اہتمام کرنے لگتے تھے جیسے بچے چھٹی والے دن کھیل پر جانے سے پہلے اہتمام کرتے ہیں وہ ہر جمعہ کو باقاعدگی سے نماز تسبیح پڑھتے تھے اٹلی میں بہت سے مقامات پر وہ میرے ساتھ سیر کو نہیں گئے کہ کہیں اس طرح ان کی نمازیں قضاءنہ ہوجائیں۔ وہ اٹلی رہتے ہوئے بھی ہرروز تین کلومیٹر پیدل چل کر نمازمسجد میں پڑھنے جاتے تھے یہ عادت ان کی زندگی کے آخری دن تک جاری تھی انہوں نے اپنا آخری جمعہ بھی پیدل چل کر مسجد میں جا کر ادا کیا۔

ان کی چوتھی خامی یہ تھی کہ وہ اپنے اورکم عمر بچوں کے درمیان بھی فاصلہ نہیں رکھتے تھے وہ تمام بچوں کے ساتھ بچہ بن جاتے تھے ان کی جیب میں ہر وقت ٹافیاں موجود ہوتی تھیں جو وہ گلی محلہ کے تمام بچوں کو دیتے رہتے تھے مسجد میں قرآن سیکھنے آنے والے بچوں میں ٹافیاں بانٹتے رہتے تھے اسی لئے ہمارے محلہ کے سارے بچے انہیں دادا ابو کہتے تھے ۔

ان کی تفرقہ پرستی سے بیزار ی کا عالم یہ تھا کہ وہ پیدل چلتے ہوئے نہ صرف پاکستانی مردو خواتین بلکہ سکھوں اور ہندووں کو بھی روک کر ان کا حال احوال پوچھتے اور ان سے دوستی کر لیتے محلہ کی سکھنیاں اور سکھ بھی ان کو احترام سے ”ابو“ کہتے تھے ہماری ٍبلڈنگ میں رہنے والے تمام اطالوی باشندوں کو ”چاو“ ضرور کہتے تھے انہیں اطالوی زبان نہیں آتی تھی لیکن ایک یونیورسل زبان سے کام چلا لیتے تھے جس کی سمجھ سب کو آتی ہے اور وہ ہے” مسکان“ جو ہمیشہ ان کے چہرے پر رہتی تھی ۔سردی میں ٹھٹھرنے والے شخص کواپنی جیکٹ اور کسی کا پرانا سوٹ دیکھ کر اسے اپنے گھر سے جاکر سوٹ دے آتے ہیں اور اس نیکی کو اپنے بیٹے سے بھی چھپاتے ہیں کہ کہیں ریا کاری کے زمرے میں نہ آجائے۔ ان کی موت کے بعد میں نے ان کی جیکٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا تو اس میں ابھی بھی ٹافیاں موجودتھیں جو یقینا ً انہوں نے محلہ کے بچوں کو دینے کے لیے رکھی ہوئی تھیں ۔وہ گفتگو والے شخص نہیں تھے وہ تکلم سے زیادہ عمل پر یقین رکھتے تھے انہتر سا ل کی عمر میں بھی عاشورہ وشب برات کا روزہ رکھنا نہیں بھولتے تھے۔

وہ زندگی کی دوڑ میں اپنے خاندان کا مقابلہ شاید نہیں کر سکے کیونکہ انہوں نے زندگی گزارنے کا طریقہ سیکھا ہی نہیں انہوں نے ساری تیاری موت کا طریقہ سیکھنے میں کی اسی لیے ان کی موت اتنی حیران کن ہوئی کہ وہ جوبیمار کی عیادت اورکسی مرحوم کی تعزیت و جنازہ میں جانا فرض عین سمجھتے تھے وہ جو دوسروں کے درد و بخار کے لیے گھر سے دوائی لیکر جاتے تھے جب ان کا آخری وقت آیا تو انہیں کسی دوا کی حاجت نہیں ہوئی جنہوں نے اپنی زندگی میں کسی کی محتاجی قبول نہیں کی انہیں اپنے آخری وقت میں کسی سے پانی تک نہیں مانگنا پڑا ۔مزے سے تہجد پڑھی فجر کی نماز ادا کی اور پرسکون حالت میں اپنے بستر پر لیٹ کر اپنے آخری سفر کو روانہ ہوگئے انا للہ وانا علیہ راجعون۔۔

جب میں ہوش و خردکی شمع جلاتا ہوں اور ان کی موت کے بعد پاکستان اور اٹلی میں رہنے والے ان لوگوں کو اشکبار ہوتے دیکھتا ہوں جن کو ان سے ملاقات کا موقع ملاتو مجھے اندازہ  ہوتا ہے کہ وہ ایک بہت اچھے چوہدری ثابت ہوئے کہ گاﺅں میں کونسا گھر سفید پوش ہے اور کس کو مدد کی ضرورت ہے یہ ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا تھااور مددبھی اس انداز سے کہ کوئی فوٹو سیشن نہیں کوئی تشہیر نہیں اور کوئی شور وغوغا نہیں وہ ایک بہت اچھے آفیسر ثابت ہوئے کہ آرمی میں ان کے نیچے کام کرنے والے سپاہیوں نے کہا جب ان کی ڈیوٹی ان کے ساتھ ہوتی تو وہ کسی کو ڈانٹتے نہیں تھے کسی کو سزا نہیں دیتے تھے اور اہل دانش کہتے ہیں کہ کسی انسان کی بڑائی کا انداز اس بات سے نہیں کیا جاتا کہ وہ اپنے برابر والوں کے ساتھ کیسا ہے بلکہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے ماتحت کے ساتھ کیسا تھا وہ ایک بہت اچھے صوفی ثابت ہوئے کہ وہ تکبر و غرور سے ناآشنا تھے انہوں نے زندگی میں کبھی کسی کی غیبت نہیں کی ۔کبھی کسی کو تکلیف نہیں پہنچائی۔ اس دنیا میں کوئی ایسا شخص ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا جو یہ کہے کہ اسے انہوں نے گالی دی تھی یا اس کا گریبان پکڑا تھا۔

میں جب اٹلی میں ان کے جنازہ کی ستائیس صفیں گنتا ہوں ،پاکستان میں سبزی والے تک کو روتا دیکھتا ہوں ، مسجد میں ان کے ایصال ثواب کے لئے بیسیوں قرآن ختم ہوتے دیکھتا ہوں، اوسلو کے اسلامک سنٹر سے لیکر اٹلی کی مساجد اور پاکستان میں ان کے لئے ہاتھ اٹھتے دیکھتا ہوں، مسجد میں چھوٹے بچوں کو روتے دیکھتا ہوں جن کے لئے وہ مٹھائیاں لیکر آتے تھے ، ان کے  جنازہ میں ان کا چہرہ دیکھتے ہوئے لوگوں کے منہ سے بے اختیار سبحان اللہ کہتے سنتا ہوں ،ہماری پڑوسن سربجیت کورکی آنکھوں میں ”ابو “ کہتے ہوئے آنسو دیکھتا ہوں ، اپنے علاقہ کے چرچ کے پادری کا فون ریسیو کرتا ہوں جس میں وہ ان کے لئے چرچ میں دعا کراتا ہے ،تو مجھے یقین ہوتاجاتا ہے کہ خاندان والوں نے ان کو زندگی کی دوڑ میں ناکام ہی کہاحالانکہ انہوں نے اپنی ساری اولاد کو زیور تعلیم اور اچھی تربیت سے روشناس کرایا لیکن میرا خیال ہے کہ اپنے آخری سفر میں اتنی اچھی گواہیوں کی موجودگی میں وہ ایک کامیاب چوہدری ثابت ہوئے۔ میراوجدان کہتا ہے کہ جب فرشتے انہیں لینے آئے ہوں گے تو ضرور کہا ہوگا۔۔۔ اے مطمئن روح اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی!

محمود چوہدری
محمود چوہدری
فری لانس صحافی ، کالم نگار ، ایک کتاب فوارہ کےنام سے مارکیٹ میں آچکی ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *