• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • اُسی کے جلوے، اُسی سے ملنے، اُسی سے اُس کی طرف گئے تھے۔۔حافظ علی حسن شامی

اُسی کے جلوے، اُسی سے ملنے، اُسی سے اُس کی طرف گئے تھے۔۔حافظ علی حسن شامی

فرمایا موسیٰ احساس کیجئے، بےشک آپ کلیم ہیں، آپ مجھ سے ہمکلام ہونے والے ہیں، لیکن یہ پاک وادی طویٰ ہے، اپنے جوتے اتار دیجیئے۔ یہ تو حکم موسیٰ علیہ السلام کے لیے ہے، لیکن وہ رات جب وہ پاک ذات اپنے محبوبﷺ کو رات کے کچھ حصے میں مسجدِ حرام سے انتہائی سجدہ گاہ تک لے گئی اور پھر وہاں سے سِدْرَةُ المُنْتَهَى اور پھر اس کے پار جہاں نہ کوئی زماں کا تصور ہے نہ کوئی مکاں کا، جہاں نہ کوئی ابتداء ہے اور نہ کوئی انتہا، جہاں نہ کوئی لفظ ہے اور نہ کوئی بیاں۔

فرمایا میرے حبیبﷺ جوتے کیوں اُتار رہے ہیں، میرے محبوبﷺ اپنے مبارک پاؤں کو اپنے نعلینِ مبارک سے کیوں جدا کر رہے ہیں۔ موسیٰ موسیٰ ہیں۔ لیکن آپﷺ تو ہماری آنکھ کے تارے ہیں، ہم تو ہر پل آپﷺ کو اپنی نگاہوں میں رکھتے ہیں، آپﷺ ہی کے لیے ہم نے ساری کائنات تخلیق کی، آپﷺ کو تو ہم نے نور ہی نور بنایا، ایسا نور جہاں کوئی تاریکی ہی نہیں۔

ہم نے تو آپﷺ ہی کی وجہ سے آپﷺ کے چاہنے والوں کو اپنا محبوب بنایا، آپﷺ ہی کی وجہ سے اپنی رحمتیں پوری کائنات پر نازل کیں، ہم نے آپﷺ کے ذکر کو بلند ہی بلند کردیا، آپﷺ کو رحمۃ للعالمین بنا کے بھیج دیا، ہم تو آپﷺ ہی کی قسمیں اٹھاتے ہیں، جو چیز آپﷺ سے منسلک ہو جائے اس کی بھی قسم اٹھا لیتے ہیں، ہم نے آپﷺ پر قرآن کو مکمل کردیا، لیکن آپﷺ کے ذکر کو کائنات پر مکمل نہیں کیا۔

میرے محبوبﷺ نعلینِ پاک سمیت آجائیے ہم آپﷺ کے منتظر ہیں آجائیے اور قریب آجائیے، اس کے بعد جو راز و نیاز کی باتیں ہوئیں، وہ رب العالمین جانے اور اس کا محبوب رحمت للعالمین جانے۔ عقلِ انسانی تو کھڑی تکتی رہی، حیرت تو جھنجھلا کر رہ گئی اور جہاں کے گمانِ نقص میں اس رات کا تصور ہی نہیں آسکتا۔

لیکن آج تک جہاں کے ہست و بود سے کوئی آقاﷺ کا دیوانہ یہ صدائے مسلسل دے رہا ہے، کہ اے!!! میرے رب کے محبوبﷺ کے معراج پر عتراض کرنے والوں، کیا تم لوگوں کو معلوم نہیں؟؟؟

وہی ہے اوّل، وہی ہے آخِر، وہی ہے باطِن، وہی ہے ظاہِر
اُسی کے جلوے اُسی سے ملنے اُسی سے اُس کی طرف گئے تھے

حافظ علی حسن شامی
حافظ علی حسن شامی
آپ ایک تجربے کار سائبر سیکیورٹی تجزیہ کار اور ایتھیکل ہیکر ہیں۔ آپ مصنف، محقق اور متکلم بھی ہیں اور موجودہ دور کو قرآن مجید، حدیث رسولﷺ، سنت رسولﷺ کی روشنی میں اور تاریخ کے تناظر میں لوگوں تک پہنچاتے اور اُن کو خطرات سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ اس کے علاؤہ آپ اسلامی لٹریچر کے متعلق بھی لکھتے رہتے ہیں۔ آپ ایک شاعر بھی ہیں اور اردو زبان سے بےحد محبّت کرنے والوں میں سے ہیں اور اس زبان کے فروغ میں کسی بھی قسم کی کوشش سے دریگ نہیں کرتے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *