مشرقی اقدار کی پاسدار عورت۔۔خطیب احمد

 انسان ازل سے تسکین کا متلاشی  ہے اور تسکین پانے کے لیے اپنی تلاش اس انداز میں جاری رکھتا ہے، جیسے لق و دق صحرا میں ایک پیاسا آب کی تلاش میں در بدر بھٹکتا ہے۔ اسی طرح عورت بھی اپنی سوچ کے مطابق تعریف کی متلاشی ہوتی ہے۔عورت صرف اپنی شناسائی پر زندہ رہتی ہے۔ اب یہ اس کی فطری کمزوری سمجھا جاۓ یا اس کے نفس کا لالچ، کیونکہ خواتین کو اپنی جانب توجہ مبذول کروانا اچھا لگتا ہے۔عورت اپنی ذات کو محور بنا کر اپنے ارد گرد کے کرداروں خصوصاً   جنس مخالف  سے ستائش  چاہتی ہے۔ اس معاملے میں یہ بڑی جلدی  کا مظاہر کرتی ہیں، اپنی تعریف ان کو تصدیق شدہ اور شائشہ الفاظ میں چاہیے   ہوتی ہے، اور یہ ان کے  لیے  فرحت بخش احساس ہوتا ہے ۔ ہمارے مشرقی معاشرے میں شعراء اور فنکاروں نے عورت کو حتی الامکان رومانویت اور تصورات کی تصویر میں ڈھالا ہے۔ مرد کی نظر میں عورت  رومانیت اور جنسی تسکین حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔  بلکہ یوں کہہ لیجئے کہ یہ کنار بیکسی کا پتلا ہے۔

مشرق میں  عورت کو صرف مثالی طور پر دیکھا جاتا ہے۔تصور کیا جاۓ تو عورت کو حُسن اور زندگی سے مُستعار لیا گیا ہے۔ اس کی اہمیت مفروضاتی طور پر ہی مختص ہے۔ جس کو ہم اس نہج سے نہیں دیکھتے کہ وہ ہماری بہن ،بیٹی اور بیوی ہے، بلکہ صرف عینیت پسندی اور لذت حاصل کرنے کے لیے مختص ہے۔ مرد چاہے عورت کی کتنی ہی تعظیم کر لے مگر اس کی لڑائی کی ابتداء خواتین سے ہی ہوتی ہے۔ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ مرد کے لیے کوئی معقول گالی نہیں، تمام گالیوں کی ابتداء خواتین سے ہی ہوتی ہے۔  ہمارے   نظریات معاشرے کو انتشار کی جانب گامزن کر دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسا پیچیدہ نظام ہے، جس میں ایک چھوٹی سی بھی تبدیلی لانا نہ جانے کس بڑے سانحے کا سبب بن سکتا  ہے۔

 ہمارے معاشرے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ عورت ایک ایسی مخلوق ہے جس کا مرد کے ساتھ تعلق قائم ہوتا ہے تو اس کی ذاتی حیثیت ماند پڑ جاتی ہے۔ اس کی شناخت مرد کے اندر گم ہوجاتی ہے۔ وہ مرد کو اپنا محافظ تصور کرتی ہے اور تحفظ کی امید میں زندگی بسر کردیتی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *