اچھی نیند چاہیے تو بیڈ روم سے 7 چیزیں باہر نکال دیں

بیڈ روم سونے اور آرام کرنے کی جگہ ہے ۔اس لیے اس کمرے کا آرام دہ اور پرسکون ہونا نہایت ضروری ہے ۔ مگر آج کے اس جدید اور الیکٹرونک دور میں ایسی بے شمار چیزیں ہیں جن کی وجہ سے ہماری خواب گا ہ پرسکون اور آرام دہ ہونے کے بجائے ہماری بے چینی ، نیند سے دوری اور ذہنی تھکاوٹ کا سبب بن رہی ہیں ۔اگر ہم ان چیزوں کو اپنیبیڈ روم سے نکال دیں تو ہم پرسکون نیند سوسکتے ہیں ۔ یہ ہماری ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے بھی مفید ہوگا۔ یہاں ہم ان چند چیزوں کا ذکر کررہے ہیں جن کا ہمارے بیڈ روم میں میں داخلہ ممنوع ہونا چاہئے ۔

1۔نیلی روشنی

ٹیلی ویژن ،لیپ ٹاپ،ٹیبلٹ اور اسمارٹ فون۔ ان سب میں سے نیلے رنگ کی ایک مخصوص روشنی خارج ہوتی ہے ۔ اور سائنس دان اس کی وجہ سے بہت فکر مند ہیں۔ اگرچہ یہ روشنی دن میں موڈ بہتر بناتی ہے اور چستی پیدا کرتی ہے ۔لیکن رات کے وقت یہ آپ کی نیند اچاٹ کرکے سونے اور بیدار ہونے کے پورے نظام کو برباد کردیتی ہے ۔سائنس دانوں کا مشورہ ہے کہ سونے سے تقریباً دو تین گھنٹے پہلے ان اسکرینوں سے دور ہوجانا چاہئے ۔بچوں کے بیڈ روم میں ٹی وی ہرگز نہیں ہونا چاہئے ۔امریکی محققین کا کہنا ہے کہ بیڈ روم میں ٹی وی کی موجودگی بچوں کی نیند کو برُی طرح متاثر کرتی ہے۔6ماہ سے 8سال کے 18سو بچوں پر کی جانے والی تحقیق کے مطابق وہ بچے جن کے کمروں میں ٹی وی نہیں تھا وہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ بہتر نیند سوئے۔

2۔پالتو جانور

پالتو جانور تو بہت پیارے ہوتے ہیں ، پھر ان کے بہڈ روم ہمیں داخلے پر پابندی کیوں ہونی چاہئے ؟اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ رات کو اٹھ کر آپ کی نیند خراب کرسکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ وہ الرجی اور بعض دوسری بیماریوں جیسے داد ورم اور بخار وغیرہ کا باعث بن سکتے ہیں ۔پالتو جانوروں سے پیار کریں ، ان کے آرام کا خیال رکھیں ، مگر اپنے بیڈروم سے انہیں دور رکھیں ۔

3۔فیملی تصاویر

اپنی فیملی سے کون پیار نہیں کرتا۔ہر کوئی ا پنے گھروالوں سے قریب رہنا چاہتا ہے ۔اسی لیے ہم گھر کے مختلف کمروں میں اپنی فیملی تصاویر آویزاں کرتے ہیں ۔ مگر یہ تصاویر ڈرائنگ روم اور دیگر کمروں میں لگانا تو ٹھیک ہے مگربیڈروم میں لگانا مناسب نہیں ۔ماہرین کہتے ہیں یہ تصاویر آپ کو آپ کے فرض اور ذمہ داریوں کا احساس دلاتی ہیں۔اور ذہن میں ایک ایسے شور کا احساس پیدا کرتی ہیں کہ کبھی کبھی آپ کو بے چینی محسوس ہونے لگتی ہے ۔بیڈروم میں یہ تصویریں لگی ہوں اور آپ سونے لگیں تو ان تصاویر کی وجہ سے آپ کی نیند اچاٹ ہوسکتی ہے ۔

4۔بکھرا ہوا سامان

کیا بیڈ روم میں بے ترتیبی سے اِدھر اُدھر بکھری ہوئی چیزیں دیکھ کر آپ کو بے چینی ہوتی ہے ؟اکثر لوگ اس سوال کا جواب ہاں میں دیں گے ۔ میلے کپڑے، کھلی کتابیں،جوتے اور اسی طرح کی چیزیں بیڈروم میں پھیلی ہوئی ہوں تو انہیں دیکھ کر جی خراب ہونے لگتا ہے ۔ اس سے بے آرامی کا احساس ہوتا ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نیند غائب ہوجاتی ہے ۔اس لیے صفائی کا خیال رکھیں ، ویسے بھی صفائی نصف ایمان ہے ۔ بیڈروم میں چیزوں کو ترتیب سے رکھیں اور سکون کی نیند سوئیں ۔

5۔کھانے پینے کی چیزیں

کھانے پینے کی چیزیں بھی بیڈ روم سے باہر رہیں تو اچھا ہے ۔ کچھ لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ رات کو سونے سے پہلے کچھ کھاتے ہیں ، اس کے لیے وہ اپنے بیڈروم کا انتخاب کرتے ہیں ۔ اس کے لیے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو چھٹی کے دن بستر پر ہی ناشتہ پسند کرتے ہیں ۔ اس سے ہوتا تو کچھ نہیں تاہم یہ ضرور ہوتا ہے کہ کھانے کے ذرات بستر پر فرش پر گرتے ہیں ۔ جس سے چیونٹیوں اور دیگر کیڑے مکوڑوں کے بیڈروم میں داخلے کا راستہ کھل جاتا ہے ۔ اور وہ رات کو آپ کو ڈسٹرب کرسکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ بیڈروم کی صفائی میں بھی مسئلہ ہوتا ہے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ خوراک کو بھی بیڈروم سے باہر ہی رکھنا چاہئے ۔

6۔تکیوں کا سمندر

اپنے بستر کو تکیوں کا سمندر نہ بنائیں ۔ آپ کا سر صرف ایک تکئے پر ہوتا ہے اور اسی پر آپ ساری رات گزار دیتے ہیں ۔ مگر کچھ لوگوں کے بستر تکیوں سے بھرے ہوتے ہیں ۔ ان پر بھی نقش و نگار اور مختلف ڈیزائن بنے ہوتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ یہ رنگ برنگے تکیہ بھی آپ کی نیند اڑانے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس لیے آپ کے بیڈ پر تکیوں کی کثرت ہے یا وہ رنگ برنگے اور مختلف ڈیزائن کے ہیں اور آپ کو نیند نہ آنے کی شکایت ہے تو سمجھ جائیں کہ اس کا ذمہ دار کون ہے ۔ بیڈ پر تکیہ صرف ایک ہونا چاہئے یا پھر دو ، اس سے زیادہ نہیں ۔ گاؤ تکئے اوراس جیسے دوسرے لوازمات کو خواب گاہ میں نہ آنے دیں ۔ تکیوں کا رنگ بھی سادہ ہونا چاہئے ، اس سے سکون کا احساس ہوتا ہے اور نیند اچھی آتی ہے ۔

7۔سگریٹ

بیڈ روم کو مکمل طور پر نو اسموکنگ زون بنائیں ۔ سگریٹ نوشی کی عادت ویسے بھی برُی چیز ہے ، مگر بیڈروم میں تو اس پر مکمل پابندی ہونی چاہئے ۔کیونکہ بیڈروم عموماً ایک بند کمرہ ہوتا ہے ۔ سگریٹ کا دھوا ں کافی دیر کمرے میں گرد ش کرتا رہے گا۔اس سے کمرے میں اگر کوئی اور بھی موجود ہے تو اس دھویں سے وہ بھی سو فیصد متاثرہوسکتا ہے ۔ سگریٹ کا دھواں نیند کے اعصاب پر حملہ آور ہوتا ہے اور نیند برباد کرکے رکھ دیتا ہے ۔صرف یہی نہیں بلکہ سگریٹ نوشی کرکے جب آپ اگلے دن بیدار ہوتے ہیں تب بھی آپ تھکاوٹ ،غنودگی اور بے چینی محسوس کرتے ہیں ۔ اس لیے اول تو یہ ہے کہ پرسکون نیند کے لیے آپ سگریٹ چھوڑ دیں۔ اگر فوری طور پر یہ ممکن نہیں تو کم از کم بیڈروم میں اس لت کا داخلہ ہمیشہ کے لیے بند کردیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *