ڈھٹائی یا اداکاری۔۔۔آصف محمود

معلوم نہیں اسے ڈھٹائی اور دیدہ دلیری کہا جائے یا اداکاری کا نام دیا جائے، یہ بات البتہ واضح ہے کہ تجربہ اپنے کمال پر ہے اور اس کی ایک ایک انگڑائی اعلان عام کر رہی ہے : روک سکتے ہو تو روک لو ۔ اب ہم خاک نشیں کون سے شیخ غلام ہمدانی مصحفی ہیں جو گرہ لگائیں :
’’ قد ، قیام ، اور خرام آفت ہے
واں جو کچھ ہے ، تمام آفت ہے‘‘

دل تھام لیجیے ، نظریاتی سیاست کے معینِ ملت فرماتے ہیں : سینیٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ ہوئی ہے اس کی تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کو سزا دی جائے ۔ یہی نہیں نظریاتی سیاست کے گریہِ عشق میں یہ آہ وبکا بھی شامل ہے کہ اس سلسلے کو روکنے کے لیے قانون سازی کی جائے ۔ نظریاتی سیاست نہ ہوئی داغ کا دیوان ہو گئی : ’’ سمجھ میں یہ کتاب آئے نہ آئے‘‘۔ دستِ ہنر کی خانہ خرابی دیکھیے ، ہارس ٹریڈنگ کے جس فن کو صاحب نے نہ صرف متعارف کرایا بلکہ اپنے کمال تک پہنچا دیا ، رنجِ نا رسائی میں آج اسی فن کو گالی دے رہے ہیں اور ا س کے خاتمے کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔

نظریاتی سیاست کے امام وقت نے غضب یہ کیا کہ پاکی داماں کی جھوٹی حکایت بھی سربازار کہہ دی ۔فرمایا ’’ مسلم لیگ ن کبھی ہارس ٹریڈنگ میں ملوث نہیں رہی۔ ہم اس سے نفرت کرتے ہیں‘‘۔ ایک خیال آیا کہ معین ملت کا ارشاد گرامی سن کر چھانگا مانگا کا جنگل تو ساری رات عالم جنوں میں قہقہے لگاتا رہا ہو گاکہ قائد محترم کی وصولی سیاست کا وہ عینی شاہد ہے۔ میں نے اپنے دوست رانا عبد الشکور کو فون کیا تو انہوں نے بتایا : اوّل شب جنگل سے قہقہوں کی آوازیں بلند ہوتی رہیں پھر ایک اُلّو کا خطاب سنائی دیا ۔ سنجیدہ لہجے میں وہ کہہ رہا تھا : یہ پارلیمان کی بالادستی اور جمہوریت کی سربلندی کا معاملہ ہے اور تم قہقہے لگا رہے ہو۔ تمہیں معلوم نہیں تمہارے قہقہوں سے جمہوریت کو کالی کھانسی ، تپ دق اور تشنج سمیت کئی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں ۔ اُلّو یہ کہہ کر خاموش ہوا تو ایک گِدھ درخت پر اترا اور کہنے لگا :’’ آج کے بعد کسی کی آواز نکلی تو اسے جمہوریت دشمن تصور کیا جائے گا‘‘۔ رانا عبد الشکور کا کہنا ہے کہ گدھ کے اس اعلان کے بعد سارا جنگل خاموش ہے۔

نومولود نظریاتی سیاست کی تازہ شوخیوں کی خیر مگر حقائق کو کیسے جھٹلایا جائے؟ یہ آپ کا اپنا میڈیا کنسلٹنٹ ہی تو تھا جس نے آپ کی نظریاتی سیاست کا بھانڈا بیچ بازار پھوڑا تھا ۔ تہتر کے آئین کے تناظر میں آپ کا اقبال بلند ہو مگر برائے وزنِ بیت ہی سہی ، ہتک عزت کا ایک دعوی تو اس شاہد اورکزئی کے خلاف کردیجیے جس نے عدالت میں جا کر کہا کہ میاں محمد نواز شریف نے میرے ساتھ معاہدہ کیا تھا کہ مین ان کے لیے فاٹا کے اراکین کی وفاداریاں خریدوں اور میں نے یہ اراکین خریدے مگر اب میاں نواز شریف معاہدے کے تحت ایک کروڑ پچھتر لاکھ کی پوری رقم نہیں دے رہے اور ستر لاکھ روپے دبا کر بیٹھ گئے ہیں ۔ ہارس ٹریڈنگ کے بانی ہی اس کی مذمت کر نے لگ جائیں اور پاکی داماں کا فسانہ بھی ان کے ہمراہ ہو تو پھر سوال تو پیدا ہو گا کہ یہ ڈھٹائی اور دیدہ دلیری ہے یا اسے نہال ہاشمی کی زبان میں اداکاری کہا جائے ؟

ملکی معیشت کو تباہ کر دیا گیا ۔ جتنے قرضے پاکستان نے اپنی پوری تاریخ میں لیے کم وبیش اتنے ہی قرضے اس حکومت کے چار سالوں میں لے لیے گئے۔ نواز حکومت نے صرف ایک سال یعنی 2016 کے مالی سال میں 10 ارب ڈالر قرض حاصل کیا ۔ پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں کشکول بھرائی کا یہ ایک شرمناک ریکارڈ ہے۔

وزارت خزانہ نے 19 اکتوبر 2016 کو سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس میں یہ خوفناک انکشاف کیا نواز حکومت نے جولائی 2013 سے جون 2016 تک 25 ارب ڈالر کے نئے قرض حاصل لیے۔ کوئی مہذب معاشرہ ہوتا تو ایک طوفان آ جاتا لیکن یہاں راوی چین اور درباری قصائد لکھتے رہے اور اس دوران معلوم ہوا کہ وزیر خزانہ کے اپنے اثاثوں میں 91 گُنا اضافہ ہو گیا ۔ مقدمہ چلا تو وزیر خزانہ مفرور ہو گئے۔ اس پر بھی پروفیسر احسن اقبال صاحب اگر فرمائیں کہ ہم نے معیشت کو مستحکم کر دیا تو سوال تو پیدا ہو گا کہ یہ رویہ ڈھٹائی اور دیدہ دلیری کہلائے گا یا اسے تجربہ کار اداکاروں کی اداکاری کہا جائے گا جو ایک دور حکومت میں قرض اتارو ملک سنوارو سکیم کے نام پر کھلواڑ کرتے ہیں اور دوسرے دور حکومت میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ قرض لے کر ستیا ناس کر دیتے ہیں۔

ایف اے ٹی ایف میں بلا ٹل گئی تھی اور امریکی قرارداد چین ، ترکی اور گلف کونسل کے تین ووٹوں سے مسترد ہو گئی تھی ۔ امور خارجہ سے نا بلد وزیر خارجہ کے ٹویٹ نے مگر لٹیا ہی ڈبو دی ۔ صاحب کا ٹویٹ امریکہ کے لیے انا کا مسئلہ بن گیا ۔ پہلی بار ایسا ہوا کہ مسترد قرارداد دوبارہ پیش کی گئی اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے ۔ ایک ایٹمی طاقت کے وزیر خارجہ کو معلوم ہونا چاہیے تھا امور خارجہ سنجیدگی اور تدبر کا نام ہے سطحی بڑھک بازی کا نام نہیں ۔ ہمیں مگر اب بھی عقل نہیں آئی اور کیرئر ڈپلومیٹس کو نظر اندازت کرتے ہوئے وزیر اعظم کی نجی ایر لائن میں شیئر رکھنے والے خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے شخص کو امریکہ میں سفیر تعینات کر دیا گیا ہے جسے سفارت کاری کا بیس منٹ کا تجربہ بھی نہیں ہے اور جس کے خلاف نیب اور دیگر اداروں میں انکوائریاں چل رہی ہیں ۔ اس پر بھی اگر حکومت اپنی کامیاب سفارت کاری پر بغلیں بجاتی پائی جائے توسوال وہی ہے یہ رویہ ڈھٹائی اور دیدہ دلیری کہلائے گا یا اسے اداکاری کا نام دیاجائے گا؟

نظریاتی سیاست کے نوحوں میں سب سے اونچا یہ تھا کہ مشرف کا احتساب کیوں نہیں ہو رہا ۔ تجربہ کاروں نے خود مشرف کو باہر جانے دیاا ور بعد میں روایتی چالاکی سے اس کا بوجھ عدالت پر ڈال دیا حالانکہ عدالت نے مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا کوئی حکم نہیں دیا تھا جس پر حکومت نے مجبوری کے عالم میں عمل کیا ۔ عدالت نے حکومت کو کوئی بھی فیصلہ کرنے کی اجازت دی تھی ۔ حکومت مشرف کا نام مزید ای سی ایل پر رکھنا چاہتی تو عدالت کا فیصلہ ہر گز رکاوٹ نہیں تھا ۔ خود مشرف کو جانے دیا اور جب وہ چلے گئے تو اجتماعی سینہ کوبی شروع ہو گئی ۔ اب مگر کل عدالت نے جب پرویز مشرف کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم دینے کے کے بعد سوال اٹھایا کہ جب پر ویز مشرف کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں تو حکومت ان کی گرفتاری کے لیے انٹر پول سے رابطہ کیوں نہیں کرتی تواب تجربہ کار حضرات بغلیں جھانک رہے ہیں ۔ مظلومیت کی اداکاری مگر اب بھی جاری ہے۔ معلوم نہیں یہ ڈھٹائی ہے یا اداکاری ؟
لیجیے آج پھر داغ دہلوی یاد آ گئے :

’’ہوش و حواس و تاب و تواں داغ جا چکے
اب ہم بھی جانے والے ہیں، سامان تو گیا‘‘

آصف محمود
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *