پلیٹس (John T Platts)، چھولے اور عابد صدیق۔۔حافظ صفوان محمد

ایک روز ریلوے پھاٹک پر گاڑی گزرنے کے انتظار میں کھڑے دیر ہوگئی تو گاڑی سے نکل کر ترے سروِ قامت سے ایک قدِ آدم قسم کی انگڑائی لی۔ قریب گیلے چھولے بیچنے والے ایک کابلی بھڑبھونجے سے بیس روپے کے چھولے لیے جو اس نے کاغذ کی مخروطی پڑیا میں لپیٹ کر دے دیے۔ پڑیا کو کھولا اور کچھ چھولے ہتھیلی پر انڈیل کر پھنکا مارا۔ نرم چھولے منہ میں تحلیل ہونے لگے اور گلے سے نیچے اترنے لگے۔

اچانک کاغذ کی پڑیا پر نگاہ پڑی۔ یہ پلیٹس کی A Dictionary of Urdu, Classical Hindi and English کا ایک ورق تھا۔ چھولے میرے منہ میں پتھر ہوگئے۔ جلدی سے کابلی کی طرف بھاگا اور پوچھا کہ اس کے ساتھ کے باقی کاغذ کدھر ہیں۔ اس کے پاس سے کوئی ڈیڑھ سو کے قریب شیرازہ بند کاغذ ملے۔ میں نے اسے سو روپیہ دیا اور یہ شیرازہ اس سے جھپیٹ لیا۔ وہ مجھے کہتا رہا کہ امیر صیب ام پیسہ نئیں لے گا لیکن میں زبردستی اسے پیسے تھماکر واپس گاڑی میں آ بیٹھا اور گاڑی ایک طرف لگاکر ان صفحات کو دیکھنے لگا۔

پلیٹس کے لغت کے یہ صفحات سنگِ میل کے شائع کردہ ایڈیشن کے تھے۔ چھولے ختم کیے اور پڑیا والا کاغذ بھی سیدھا کرکے باقی شیرازے کے ساتھ رکھنے لگا تو دیکھا کہ ایک اندراج پر کچی پنسل سے ہلکا سا ٹک مارک لگا ہوا ہے۔ خدا کی پناہ، یہ مخصوص سا ٹک مارک میرے ابا جان لگایا کرتے تھے۔ لیکن میں نے اسے اپنا واہمہ سمجھا۔ شیرازہ سمیٹا، اور دفتر کی راہ لی۔

رات کو گھر آکر ان کاغذوں کو پھر سے دیکھا۔ وہی مخصوص ٹک مارک کئی جگہ نظر آیا۔ یقین ہوگیا کہ پلیٹس کے لغت کا یہ وہی نسخہ ہے جو کچھ عرصہ پہلے میرے گھر سے غائب ہوا تھا۔

میں باپ کی میراث کی حفاظت نہ کرسکا۔ میرے گھر سے کئی قیمتی کتابوں کے ساتھ ابا جان کی کچھ یادگار کتابیں بھی کسی طرح نکل گئیں۔ جس کم نصیب نے مجھے یہ داغ دیا، بے برکتی اس کے ہاں بھی ڈیرے ڈالے ہوئے ہے ورنہ یہ خزانہ چھولے بیچنے والے بھڑبھونجیوں کے ہاں نہ ملتا۔

اگلی صبح پلیٹس کی  لغت کے یہ منتشر کاغذ دفتر لے گیا اور گلاب کی ایک کیاری میں گہرا گڑھا کھود کر اس میں ڈال کر زمین برابر کر دی۔ ابا جان کی قبر کی زمین 8 دسمبر 2000ء کو سخت سردی میں برابر کی تھی، گلابوں کی یہ کیاری 29 فروری 2016ء کو۔ ہر سال بہار میں کیاری کا یہ حصہ زیادہ سرخ ہوتا ہے۔

روش روش پہ ہیں نکہت فشاں گلاب کے پھول
حسیں گلاب کے پھول، ارغواں گلاب کے پھول!

Save

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *