ایک رات “دریائے نیکر” کے کنارے

منگل کی شام میرا پڑاؤ “دریاۓ نیکر” کے کنارے واقع قدیم رومانوی شہر “ھائیڈرل برگ” میں تھا۔ تقریباً بیالیس مربع میل کے رقبہ اور374 فٹ کی بلندی پر واقع اس شہر کو “وادی نیکر” کا دل کہا جاتا ہے ۔تقریباً ڈیڑھ لاکھ نفوس پر مشتمل یہ جرمنی کے صوبے بادن-وورتمبرگ کا پانجواں بڑا شہر ہے۔ “ہائیڈرل برگ” کو دیکھنے اور گھومنے کی آرزو مجھے تب سے ہے جب سے مجھے معلوم ہوا تھا کہ شاعر مشرق “علامہ اقبال” نے پی ایچ ڈی مقالہ تحریر کرنے کے لیے جرمن زبان سیکھنے کے لیے ہائیڈل برگ میں چھ ماہ قیام کیا تھا۔ اور وہ “ہائیڈرل برگ” سے اتنے متاثر تھےکہ انھوں نے اپنی جرمن استاد ایما ویگیناست کو لکھے ئگئے درجنوں خطوط میں سے ایک میں کہا کہ ان کا ہائیڈرل برگ میں قیام ایک “خوبصورت خواب” ہے جسے وہ دوبارہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ جب میں شہر میں داخل ہوا تب شفق شام کا فسوں اپنے جوبن پر تھا اور میری بائیں جانب بہتے ہوۓ “دریاۓ نیکر ” کے خرام نے طبیعت پر عجب “دیوانگی ” طاری کررکھی تھی ۔ ۔ ۔ ” دریاۓ نیکر” کے کنارے گاڑی چلانا میرے لیے بہت مشکل ہورہا تھا چونکہ میری نظریں کسی طور اس سحرانگیز منظر سے ہٹنے کو تیار نہ تھیں ۔ ۔ ۔ لیکن تھوڑا آگے پہنچتے ہی مجھے اندازہ ہوا کہ یہ تو صرف ابتدا تھی ۔ ہائیڈرل برگ فطرت کے حسین مناظر سے مالامال ہے۔ ایک طرف پہاڑی پر واقع گھنے جنگلات میں گھرا”ہائیڈرل برگ کاسٹل ” (قدیم قلعہ ) ہے جو کہ تقریبا ًآٹھ سو سال پرانا ہے اور دوسری طرف “دریاۓنیکر” پر بنا ہوا “قدیم پل” ہے جو کہ قرون وسطی ٰکے دور کی نادر یادگار ہے۔

شہر کے پرانے حصے کی ایک پارکنگ میں گاڑی پارک کرنے کے بعد اونچی اور قدیم طرز تعمیر پر بنی عمارتوں کے بیچ سے ہوتا ہوا آگے بڑھا تو سامنے ہی شہر کے قدیم ترین “چرچ” کی پرشکوہ عمارت پر نظر پڑی ۔عمارت کیا تھی قدیم فن تعمیر کا ایک عمدہ شاہکار تھی، جو کہ تقریبا ًآٹھ صدی قبل تعمیر کی گئی تھی۔ تھوڑا آگے بڑھا تو بائیں جانب “ہائیڈرل برگ یونیورسٹی” تھی جوکہ تیرھویں صدی کے اواخر میں قائم کی گئی تھی اور جامعہ ھذا کا شمار جرمنی کی قدیم ترین جامعات میں ہوتا ہے اور یہ ہی وہ ادارہ ہے جہاں محبوب من شاعر مشرق “علامہ محمد اقبال ” زیر تعلیم رہے ۔ تھوڑا آگے بڑھ کے بائیں جانب کو جو نظریں اوپر اٹھیں تو اٹھتی ہی چلی گئیں ۔ تقریباً 260 فٹ کی بلندی پر واقع “کاسٹل ” کی دیو ہیکل عمارت نے تو جیسے “روشنیوں” کا پیرہن لے رکھا تھا ۔ ۔ میرے چلتے قدم وہیں رک گئے اور نہ جانے کتنی دیر اس مسحور کن منظر کے سحر نے مجھے جھکڑے رکھا ۔۔ ۔ اور مجھے تب ہوش آیا جب “دریاۓ نیکر ” کی جانب سے آنے والی ہوا کے ٹھنڈے جھونکے میرے چہرے سے ٹکراۓ ۔ ۔ مجھے شہر کی قدیم گلیوں میں چہل قدمی کرتے ہوۓ تقریبا ًتین گھنٹے ہو چکے تھے اور میری حالت اس دیوانے کی سی تھی کہ جس کا ہاتھ اس کی محبوبہ کے ہاتھ میں ہو اور وہ آنکھیں موندے صرف اس لمس سے لطف اندوز ہو رہا ہو اس بات سے بے خبر کہ قدم کس کی تقلید میں کس جانب اٹھ رہے ہیں ۔ جبکہ مجھ جیسے ” حسن پرست” اور فطرت کے نظاروں کے “عاشق” کے لیے تو وہاں بہکنے کو ” سامان” ہی بہت تھے۔ اور پھراسی سرشاری اور بے اختیاری کی کیفیت نے کچھ ہی دیر میں مجھے ” اولڈ برج ” (دریاۓ نیکر پر بنے قدیم پل) پر لا کھڑا کیا ۔ ۔ ۔ وہ کیف و مستی سے بھر پور لمحات ایسےتھے کہ اگر انھیں وہیں بیٹھ کر قید تحریر میں لانے کی کوشش کرتا تو شاید کسی حد تک کامیاب بھی ہوجاتا ۔ ۔ ۔ آدھی رات ، سیاہ آسمان، اور آسمان پر چمکتے ستارے اور دمکتی چاندنی ۔ ۔ اور نیچے تقریباً 200 میٹر لمبا “پل” جو کہ اڑھائی صدی پرانا تھا اور لطف بالاۓ لطف کہ اس پل پر اس لمحے میرے سوا کوئی دوسرا نہ تھا ۔ ۔

میں پل پر بنی ان مخصوص جگہوں میں سے ایک پر جا کھڑا ہو ا جو کہ ” ناظرین” کے لیے بنائی گئی تھیں ۔ چار سو “سکوت ” کی حکمرانی تھی اور سکوت بھی ایسا “دلنشیں ” کہ جس پر سبھی آوازیں ، سبھی تکلم دل و جاں سے ہزار بار قربان ہونا چاہیں ۔ ۔ ۔ آسمان پر چاند کی مستی ، میری دائیں جانب روشنیوں میں نہایا ہوا ” کاسٹل” اور تقریباً 23 فٹ نیچے بہتا ہوا ” دریاۓ نیکر” اور دور کھڑی کشتیاں ۔ ۔ ایسا لگ رہا تھا میں کسی اور ہی جہاں میں ہوں کسی ” رومانوی” جہاں میں جہاں ہر چیز ” خامشی ” میں کلام کر رہی ہے اور محبت و دیوانگی گے گیت گا رہی ہے ۔ میں نے اپنی نظروں کو ” دریاۓ نیکر” کی خرام موجوں کے دوش پر آزاد چھوڑ دیا اور بہت دور بائیں جانب جلتی کچھ روشنیوں کے پاس میری نظریں جا رکیں ۔ ۔ روشنیاں دریا کے پانی پر پڑ رہی تھیں اور عجب سماں باندھ رہی تھیں ۔ ۔ ۔یہ وہ جگہ تھی جہاں کسی دور میں شاعر مشرق “علامہ اقبال” بیٹھا کرتے تھے اور یہ ہی وہ مقام تھا جسے اقبال کے نام سے موسوم کرکے “اقبال اوفر” کا نام دیا گیا تھا ۔میں چشم تصور سے اپنے محبوب ” اقبال” کو وہاں بیٹھتا اور چہل قدمی کرتا دیکھ رہا تھا ۔مجھے لگ رہا تھا کہ بہت دور ” دریا کنارے ” “درویش ” کھڑا ہے اور پورے وقار کیساتھ خاموشیوں سے ہمکلام ہے ۔ ۔ ۔جرمن زبان اور لٹریچر کے ایک طالب علم کی حیشیت سے میرے ذہن میں یہ سوال بھی اٹھ رہے تھے کہ کیا اقبال کو بھی :جرمن زبان” مشکل لگتی ہوگی اور اگر ہاں تو کتنی ؟ اور میں اقبال کو انکی جرمن استاد ایما ویگیناست کے ساتھ بیٹھے ہوئے اور مختلف سوالات کرتے ہوۓ تصور کررہا تھا ۔۔ تب ہی نہ جانے کہاں سے اقبال کا وہ منظوم کلام یاد آگیا جو کہ ” ایک شام دریاۓ نیکر کے کنارے پر” کے عنوان سے معنون ہے اور ایسی ہی کسی “شراب سی شام ” اور ” نشہ سے سکوت” میں اقبال کے “منفرد تخیل” کے صدقے وجود میں آیا تھا ۔
خاموش ہے چاندنی قمر کی
شاخیں ہیں خموش ہر شجر کی
وادی کے نوا فروش خاموش
کہسار کے سبز پوش خاموش
فطرت بے ہوش ہو گئی ہے
آغوش میں شب کے سو گئی ہے
کچھ ایسا سکوت کا فسوں ہے
نیکر کا خرام بھی سکوں ہے
تاروں کا خموش کارواں ہے
یہ قافلہ بے درا رواں ہے
خاموش ہیں کوہ و دشت و دریا
قدرت ہے مراقبے میں گویا
اے دل! تو بھی خموش ہو جا
آغوش میں غم کو لے کے سو جا
میں دیر تک اس نظم کے وہ بند گنگناتا رہا جو میرے حافظے میں موجود تھے ۔ ۔۔اور یہ سلسلہ شاید رات بھر جاری رہتا مگر بھلا ہو اس “نسوانی آواز” کا جس کے نزاکت بھرے ” انٹشولڈیگنگ” (ایکسکیوز می) نے میری سوچوں کے سفر کو رکنے پر مجبور کردیا ۔ ۔ ۔ میں پیچھے کو پلٹا تو دیکھا کہ ساڑھے پانج فٹ لمبی ،گولڈن بالوں اور نیلی آنکھوں والی “گوری” دوشیزہ سگریٹ سلگائے کھڑی تھی اور مجھے احساس دلا رہی تھی کہ میری ” شال ” ہوا کے دوش پر مجھ سے چھ فٹ دور جا چکی ہے اور کسی بھی لمحے ہوا کا ایک جھونکا بھی اسے ” پل” کی دوسری جانب سے ” دریاۓ نیکر” کی موجوں کے سپرد کرسکتا ہے ۔ میں نے ” محترمہ” کا شکریہ ادا کیا اور اسکی ” خوش مزاجی” اور ” بے تکلف” طبیعت کا پورا پورا فائدہ اٹھانے کی ٹھان لی ۔ ۔ لہٰذا اپنی “شال” سنبھالی اور جھٹ سے اپنا ” فون” اسکے ہاتھ میں تھمایا اور کہا کہ تم وہ واحد “آوارہ ” ہو جو رات کے ” تین بجے” میری طرح ” آوارگی” کرتی پائی گئی ہو لہٰذا میری طرف سے یہ حقیر سا تحفہ قبول کرو ۔ ۔ حالت استعجاب میں اسکی ” جھیل ” سی آنکھیں مزید ” کھل” گئیں مگر قبل اسکے کہ وہ میرے مذاق کو ” حقیقت” مان لیتی میں نے فورا ًہی اس سے کہہ دیا کہ میری ایک ” تصویر ” بنا دو پلیز ۔ مجھے معلوم ہے کہ اسکا ” کانچ ” سا دل ٹوٹ گیا ہوگا مگر اسکے باوجود اس نے مختلف زاویوں سے میری “پانج عدد” تصاویر اتار دیں ۔ وہ کچھ دیر وہیں کھڑی رہی اور وقفے وقفے سے کچھ گفتگو کرتی رہی اور کچھ دیر وہاں رکنے کے بعد مجھے “چاؤ” (باۓ) کہا اور چل دی ۔ یہاں کے لوگ فرانسیسی کہاوت ’جیو اور خوش رہو vi vrode Joie کےقائل ہیں۔ اور مجھے آخری کچھ منٹوں میں اس بات کا بخوبی اندازہ بھی ہوچکا تھا۔ آخر میں نے بھی گھڑی پر نظر ڈالی تو اندازہ ہوا کہ میں ساری رات اس ” پرلطف آوارگی” پر قربان کرچکا ہوں ۔ ۔ لہٰذا میں نے بھی اس “رومانوی شہر ” پر ایک محبت بھری اور “سگریٹ” کے آخری کش کی مانند “لمبی” سی نگاہ ڈالی ۔ ۔ اور دوبارہ “دن میں ” ملاقات کا وعدہ کیا ، “چاؤ” (باۓ) کہا اور واپس گھر(لیونبرگ) کی جانب روانہ ہوگیا۔

عثمان ہاشمی
عثمان ہاشمی
عثمان ھاشمی "علوم اسلامیہ" کے طالب علم رھے ھیں لیکن "مولوی" نھیں ھیں ،"قانون" پڑھے ھیں مگر "وکیل" نھیں ھیں صحافت کرتے ھیں مگر "صحافی" نھیں ھیں جسمانی لحاظ سے تو "جرمنی" میں پاۓ جاتے ھیں جبکہ روحانی طور پر "پاکستان" کی ھی گلیوں میں ھوتے ھیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *