بدلا ہے پنجاب، بدلیں گے پاکستان؟

” بدلا ہے پنجاب، بدلیں گے پاکستان“ کا نعرہ انتہائی خوش آئند ہے۔ آج ہم بدلا ہے پنجاب پر غور کرنے کی کوشش کریں گے۔ دیکھا جائے تو پنجاب کئی طرح سے واقعتاًٍ بدل چکا ہے۔ مثال کے طور پر پہلے ہم جب گھروں سے نکلتے تھے تو یہ حساب لگا کے نکلنا پڑتا تھا کہ کس جگہ کتنی دیر ٹریفک جام رہنی ہے اور ہم کب تک پہنچ سکتے ہیں لیکن اب پہلے والے بالکل بھی حالات نہیں۔ میاں صاحب کے آنے کے بعد سڑکیں بنیں، ٹریفک کے مسائل کم ہوئے اور لاہور واقعتاً ایک مثال بن گیا۔ میٹرو بس کے فوائد سےانکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی اہمیت ایسے سیاحوں سے پوچھیے جو بیس روپے میں سارا لاہور گھوم لیتے ہیں۔ یا ان ٖغریب مزدوروں سے معلوم کیجیے جو رکشوں کے کرایوں سے تنگ تھے لیکن اب انہیں ایک بہت بڑی سہولت میسر آگئی ہے۔ خلاصہ یہ کہ میٹرو بس بھی ایک بہترین اقدام ہے۔صفائی کا نظام بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ شاید ہی آپ کو شہر لاہور میں کہیں گندگی نظر آئے۔ جہاں گندگی ہوگی تو وہاں ورکر فوری حاضر ہو جاتے ہیں۔ ڈینگی سے آگہی کی مہم بھی خوب رہی۔سکولوں، کالجوں اور پارکوں وغیرہ میں سپرے کا انتظام کیا گیا، حتیٰ کہ گھروں میں بھی سپرے کا انتظام کروایا گیا۔ ڈینگی کی آگہی مہم والے اس عظیم کام میں اساتذہ کو ساتھ ملا کر ایک عظیم کام سر انجام دیا گیا جس سے گھر گھر ڈینگی سے آگاہ ہو گیا۔سرکاری سکولوں کا جو حال پچھلے دور میں ہو گیا تھا وہ ہم سب جانتے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں بھیجنا فضول سمجھتے تھے لیکن اب سرکاری سکول بھی اچھی تعلیم و تربیت مہیا کرنے لگے ہیں۔ اساتذہ کی حاضری اور رزلٹ پر پرنسپلز کی پوچھ گچھ ایک اچھا اقدام ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بورڈز میں سرکاری سکولوں کا نتیجہ تسلی بخش ہو گیا ہے۔ان امور میں پنجاب بدلا ہے لیکن جو چیزیں نہیں بدلی جا سکیں، ان میں سے ایک پولیس کا شعبہ ہے۔ اس سے کچھ دن پہلے واسطہ پڑا۔ سوچا حکام و عوام کو اس سے آگاہ کر دیا جائے۔ ہمارے مال پر ان لوگوں نے ڈاکا ڈالا جن کا کام لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کرنا ہے لیکن پتہ نہیں انہیں کیا ہو گیا ہے؟ اپنے اصل فرائض کی ادائیگی کے بجائے گناہوں کی طرف چند ٹکوں کی خاطر نکل پڑے ہیں۔ واقعے کی مکمل تفصیل یہ ہے۔ہم دو افراد موٹر سائیکل پر سوارتھے، شاہدرہ سے آگے نکلے تو چند ڈاکو پولیس کا لبادہ اوڑھے اپنے شعبے کو بدنام کرنے کےلیے کھڑے ہوئے تھے. انہوں نے ہمیں رکنے کا اشارہ کیا ، ہماری منزل یونیورسٹی آف انجنئیرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کالا شاہ کاکو تھی۔پولیس والوں نے لا ئسنس کا مطالبہ کیا جو کہ ان کی ذمہ داری بالکل بھی نہیں ہے، اور جس کی وجہ سے ہم لاہور میں چالان جمع کروا کے آہی رہے تھے۔ لائسنس کی غیر موجودگی کی وجہ سے ہم سے انہوں نے 600 روپے کا مطالبہ کیا تو ہم نے دینے سے انکار کر دیا جس کی وجہ سے انہوں نے ہمیں تھانے لے جانے کی دھمکی دی اور مجبوری یہ تھی کے یونیورسٹی میں جلدی پہنچنا تھا، اس لیے مجبورا 300 دے کر جان چھڑوائی جو کہ ہم رشوت نہیں بلکہ ڈاکہ سمجھتے ہیں ۔میاں صاحب! آپ کا صوبہ جس کے آپ خادم کہلاتے ہیں، اس میں طالب علموں کے ساتھ پولیس کا یہ سلوک ہے، اس کے خلاف نوٹس لیں۔ ملک عزیز کو دیگر بہت سے مسائل کا سامنا ہے، اس کا وہ شعبہ جو امن و سلامتی کا ضامن ہے، وہ اگر اس طرح کرے گا تو ملک کے حالات کیسے بہتر ہوں گے؟

Avatar
نعیم الرحمان
کم عمر ترین لکھاری ہیں۔ روزنامہ تحریک کے لیے مستقل لکھتے ہیں ۔ اور سب سے بڑھ کر ایک طالب علم ہیں ۔ اصلاح کی غرض سے لکھتے ہیں ۔ اسلامی نظریے کو فروغ دینا مقصد ہے ۔ آزادی کو پسند کرتے ہیں لیکن حدود اسلامی کے اندر۔ لبرل ازم اور سیکولرزم سے نفرت رکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *