جمہوریت کیسی ہوتی ہے؟

کیا آپ نے کبھی تھامس ایڈورڈ پیریز کا نام سنا ہے؟
نہیں؟ ۔۔۔۔ ٹام پیریز کا تو سنا ہو گا؟
یہ بھی نہیں؟ ۔۔۔۔ یہ ایک ہی آدمی کا نام ہے۔
ٹام 7 اکتوبر 1961 کو بفیلو، نیویارک میں پیدا ہوا۔ اس کے والدین ڈومینیکن ریپبلک سے ہجرت کرکے امریکا آئے تھے۔ اس کے والد نے ایک ڈاکٹر کے طور پر امریکی فوج میں خدمات انجام دینے کے بعد امریکی شہریت حاصل کی تھی۔
پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا ٹام بارہ برس کا تھا جب اس کے والد دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔
ٹام نے 1979 میں نیویارک کے ایک معمولی سکول سے گریجوایشن کی۔ 1983 میں براؤن یونیورسٹی سے انٹرنیشنل افئیرز اور پولیٹیکل سائنس میں بی اے کی ڈگری حاصل کرنے والے ٹام کو اپنے تعلیمی اخراجات “پیل گرانٹ” کے تعلیمی وظائف اور ایک وئیر ہاؤس میں ملازمت سے پورے کرنے پڑے۔ اس وئیر ہاؤس میں ٹام کوڑا اور کباڑ اکٹھا کرنے کا کام کرتا تھا۔
اس کے بعد ٹام نے ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ 1987 میں اس نے ہارورڈ لاء سکول سے “جیورس ڈاکٹر کم لاڈ” کی ڈگری اور جان ایف کینیڈی سکول آف گورنمنٹ سے “ماسٹر آف پبلک پالیسی” کی ڈگریاں حاصل کیں۔ اس بار تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے اس نے ایک ڈائننگ ہال، رہوڈ آئی لینڈ کمیشن فار ہیومن رائٹس اور 1986 میں اٹارنی جنرل ایڈون میس کے دفتر میں جونئیر وکیل کے طور پر ملازمتیں کیں۔
1987 میں وکالت کی ڈگری ملنے کے بعد اس نے ڈسٹرکٹ کولوریڈو کی جج کے چیمبر میں ملازمت کی۔ بعد ازاں 1989 سے 1995 تک وہ محکمہ انصاف میں ڈپٹی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل فار ہیومن رائٹس بھی رہا۔ 1995 سے 1998 تک اس نے ڈیموکریٹ سینیٹر ٹیڈ کینیڈی کے مشیر اعلیٰ برائے سول رائٹس، کریمنل جسٹس اور آئینی امور خدمات انجام دیں۔ 1998 سے 2000 تک اس نے امریکی محکمہ صحت و انسانی خدمات میں ڈائریکٹر آف دی آفس فار سول رائٹس کے عہدے پر کام کیا۔
2001 سے 2007 تک ٹام پیریز یونیورسٹی آف میری لینڈ کے لاء سکول میں “کلینیکل لاء اینڈ ہیلتھ پروگرام” کا پروفیسر رہا۔ اس دوران وہ جارج واشنگٹن یونیورسٹی سکول آف پبلک ہیلتھ کا جزوقتی فیکلٹی ممبر بھی رہا۔
اب ایک نظر اس کے سیاسی کیرئر پر بھی ڈال لیجیے۔2002 میں ٹام نے ریاست میری لینڈ کی کاؤنٹی منٹگمری کی کونسل کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ پہلے اس نے ڈیموکریٹ پارٹی کے اندر ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے ایک سینئیر امیدوار کو شکست دی اور پھر انتخابات میں 76 فیصد ووٹ حاصل کرکے ریپبلیکن امیدوار کو شکست دی۔ وہ ہسپانوی نسل سے تعلق رکھنے والا پہلا کونسل ممبر تھا۔ چار سالہ مدت میں اس نے صحت، انسانی خدمات، ٹرانسپورٹ اورماحول کی کمیٹیوں میں خدمات انجام دیں۔ اس کے زیر صدارت ایک کونسل کمیٹی نے قرضے تلے دبے لوگوں کے لیے ایک قانون کی منظوری دی جس میں انسانی حقوق کو زبردست اہمیت دی گئی تھی۔ اس نے ایک کونسل کمیٹی میں ضاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین کے لیے صحت کی سہولیات بہتر بنانے اور کینیڈا سے کم قیمت ادویات منگوانے کا انتظام بھی کیا۔
2007 میں ریاست میری لینڈ کے گورنر مارٹن اومیلی نے ٹام پیریز کو سیکرٹری (وزیر) برائے لیبر، لائسنسنگ اینڈ ریگولیشن مقرر کیا۔ ٹام نے مزدوروں اور کارکنوں کے حالات بہتر بنانے کے لیے سرمایہ داروں کے خلاف کئی قوانین منظور کرائے جن کے تحت، کام کی جگہ، کارکنوں کے لیے صحت کی سہولیات، انشورنس بیفیفٹس، کارکنوں کی دوران ملازمت حفاظت یقینی بنانے، ان کے ساتھ آجروں کے معاہدوں میں بہتری اور ٹیکس معاملات کے قوانین شامل تھے۔ اس کے علاوہ اس نے مہاجرین کے لیے بھی سہولتات فراہم کرنے کے قوانین کے نفاذ کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ ٹام نے اس دوران میری لینڈ ورک فورس اینڈ ایڈلٹ ایجوکیشن کونسل کی سربراہی کے فرائض بھی انجام دئیے۔ ٹام نے ریاست بجٹ کا خسارہ دور کرنے کے لیے جوئے اور قمار بازی کی مشینوں کو بھی قانونی قرار دینے کی تجویز دی جس پر اسے سرمایہ داروں کی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ بہر حال اس معاملے پر ریاست میں ریفرنڈم کرایا گیا اور عوام نے ٹام کی تجویز منظور کر لی جس کے تحت 15000 سلاٹ مشینز لگائی گئیں۔
31 مارچ 2009 کو صدر اوباما نے ٹام پیریز کو امریکی محکمہ انصاف میں اسسٹنٹ اٹارنی جنرل فار سول رائٹس نامزد کیا۔ اس نامزدگی پر ریپبلیکن ارکان کانگریس کو خاصے تحفظات تھے تاہم اکتوبر 2009 میں سینیٹ نے 22 کے مقابلے میں 77 ووٹوں کی اکثریت سے اس نامزدگی کی منظوری دے دی۔ یہاں پیریز نے متعدد قوانین کی بہتری اور تیاری میں اہم خدمات انجام دیں خصوصاً “ایمپلائمنٹ نان ڈسکرمینیشن ایکٹ” میں ان کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل تھا۔کانگریس نے پولیس فائرنگ سے مارے جانے والے نوجوانوں کے دو مقدمات کی تحقیقات کی ذمہ داری بھی ٹام پیریز کے سپرد کی اور دونوں معاملات میں ٹام نے غیر جانبدارانہ انکوائری کو یقینی بنایا۔
2011 میں پیریز نے صدر اوباما کی ہدایت پر ریاست جنوبی کیرولینا کے ووٹر آئی ڈی قانون کو کالعدم قرار دلوانے کی ذمہ داری اٹھائی۔ یہ قانون 1965 کے ووٹنگ قانون کے منافی تھا۔
18 مارچ 2013 کو صدر اوباما نے اپنی دوسری ٹرم میں ٹام پیریز کو سیکرٹری لیبر (وزیر محنت و افرادی قوت) نامزد کیا۔ اس نامزدگی پر ریپبلیکن سینیٹرز کو متعدد اعتراضات تھے تاہم ایک طویل مباحثے کے بعد 46 کے مقابلے میں 54 ووٹوں سے اس نامزدگی کی توثیق کر دی گئی۔ اس تقرری کو امریکی لیبر گروپس، کارکنوں اور ملازمین کی اکثریت نے خوش آمدید کہا۔ اس دور میں ٹام نے جن قوانین پر کام کیا، ان کی فہرست کافی طویل ہے تاہم یہ کہنا کافی ہے کہ اوباما دور کی اکثر اصلاحات میں پیریز کا ذہن بھی کارفرما تھا۔
15 دسمبر 2016 کو ٹام نے ڈیموکریٹک پارٹی کی چئیرمین شپ کے لیے انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ پارٹی کو شہروں کے علاوہ مضافاتی اور دیہاتی علاقوں میں بھی عوام تک پہنچانے کی بہت زیادہ ضرورت ہپے۔ اس نے پارٹی ارکان سے وعدہ کیا کہ فیڈرل لابئسٹس، غیر ملکی افراد یا اداروں اور لیبر ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین سے کوئی چندہ نہیں لیا جائے گا۔ پیریز کی پارٹی صدارت کمپئین کی سابق نائب امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی حمایت کی۔
25 فروری 2017 کو ٹام پیریز 235 ووٹ حاصل کرکے ڈیموکریٹک پارٹی کا چئیرمین منتخب ہوا۔ وہ پہلا لاطینی امریکی ہے جس نے ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہی کا اعزاز حاصل کیا۔ ان پارٹی انتخابات میں اس کے قریب ترین حریف کیتھ ایلیسن نے 200 ووٹ حاصل کیے تھے۔ پیریز نے کیتھ کو پارٹی کا ڈپٹی چئیر مین نامزد کر دیا۔
یہ ایک غریب مہاجر خاندان کے غریب اور یتیم بچے کی داستان حیات ہے جس نے مسلسل محنت اور لگن سے صرف اپنا نام ہی نہیں پیدا کیا بلکہ ہمیشہ اپنے کیتھولک مسیحی والدین کی اس نصیحت کو یاد رکھا:
“جنت میں داخلے کے لیے تمہارے پاس غریبوں اور مفلسوں کے سفارشی خطوط ہونے چاہئیں۔”

ژاں سارتر
ژاں سارتر
کسی بھی شخص کے کہے یا لکھے گئے الفاظ ہی اس کا اصل تعارف ہوتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 0 تبصرے برائے تحریر ”جمہوریت کیسی ہوتی ہے؟

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *