برطانوی مستقبل پہ بے یقینی کے سائے

جیسا کہ بریگزیٹ والے دن ہی عرض کیا تھا کہ یہ ایک واقعہ نہیں بلکہ واقعات کے زنجیری ردعمل کو جنم دے گا اور وہی ہوا آج سکاٹش پارلیمنٹ نے برطانیہ سے علیحدگی کے لئے ریفرینڈم کرانے کا فیصلہ کرلیا۔ اس میں کوئی حیرانی کی بات بھی نہیں بریگزٹ کے سوال پہ سکاٹ لینڈ نے بھاری اکثریت سے یورپی یونین میں رہنے کا فیصلہ کیا تھا اور انگلینڈ نے یونین سے نکلنے کا تو تبھی سکاٹش فرسٹ منسٹر نکولا سٹرجن کا کہنا تھا کہ سکاٹ لینڈ کا فیصلہ مختلف تھا سکاٹ لینڈ یورپی یونین نہیں چھوڑنا چاہتا اس لئے دوبارہ ریفرینڈم کرانا ضروری ہے تاکہ عوامی رائے معلوم کی جاسکے۔ جہاں تک محسوس ہوتا ہے، سکاٹ لینڈ بالآخر برطانیہ عظمی یا سلطنت متحدہ سے نکل جائے گا اور انگلینڈ و سکاٹ لینڈ نامی دو علیحدہ علیحدہ ممالک وجود میں آجائیں گے۔ یونین جیک کی بجائے جارج نامی ولی محترم کا سفید زمین پہ سرخ صلیب کا جھنڈا انگلینڈ میں لہرانا اور سیلٹک جھنڈے کا سکاٹ لینڈ پہ لہرانا تو محض علامتی عمل ہوگا۔ اس کے گہرے اثرات مرتب ہونے والے ہیں۔ پہلے دیکھنے والی چیز یہ ہے کہ بریگزٹ کے فیصلے کے بعد اب تک برطانیہ اور یورپ کی باہمی کشمکش کیا رہی؟
برطانوی یہ چاہتے تھے کہ مشرقی یورپ سے آنے والوں کا دروازہ کسی نہ کسی طرح بند کیا جائے اور یہی بریگزٹ کی بنیادی وجہ بھی تھی۔ حالانکہ انکا دروازہ خود برطانیہ نے ہی کھولا تھا تو مغربی یورپ کی برافروختگی ظاہر تھی۔ اگلی خواہش برطانیہ کی یہ تھی کہ وہ یونین سے تو نکل جائے جس کے نتیجہ میں یورپی شہریوں کے آنے، رہنے اور کام کرنے کے حقوق پہ قدغن عائد کیا جاسکے اور برطانوی عدالتیں یورپی سپریم کورٹ کے ماتحت نہ ہوں اور نہ ہی برطانیہ یورپی آئین کا پابند ہو لیکن برطانیہ بدستور یورپی سنگل مارکیٹ کا حصہ رہے اور برطانوی خدمات و مصنوعات پہ یورپ کسی قسم کا محصول عائد نہ کرسکے۔ یورپی جواب سیدھا اور کھرا تھا کہ سنگل مارکیٹ محض مصنوعات اور خدمات کی آزادانہ منڈی نہیں بلکہ محنت یا لیبر کی بھی آزادانہ منڈی ہے ایک کو دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ نیز یورپی سنگل مارکیٹ کا حصہ بننے کے لئے برطانیہ کو جو مالی حصہ دینا پڑے گا وہ وہی ہوگا جو یونین میں رہتے ہوئے دیتے رہے۔ نیز آج سے برطانیہ یورپ کے کسی اجلاس میں شرکت نہیں کرسکتا۔ یعنی کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا چار آنے ! آپ پہلے جتنی رقم ہی ادا کریں گے یورپی شہریوں کے حقوق پہ قدغن بھی نہیں لگا سکتے البتہ آپ یورپ کے کسی سیاسی فیصلہ میں شریک نہیں ہوسکتے۔ برطانیہ نے دریں اثناء کافی کھیل کھیلے، مثلا سپین کے ساتھ علیحدہ سے معاہدہ کی کوشش، سپین برطانیہ کی دکھتی رگ ہے اس کے نکل جانے پہ سپین میں موجود لاکھوں برطانوی شہری بھی مسائل کا شکار ہونگے اور جبرالٹر بھی غیر عملی کالونی بن سکتا ہے۔ تھریسا مے کے حالیہ دورہ سپین میں کوشش تھی کہ سپین یورپ سے الگ ہو کے شہریوں کے حقوق کے بارے میں کچھ فیصلہ کرے لیکن سپین نے ہری جھنڈی دکھا دی کہ جو بھی رویہ رکھا جائے گا تمام یورپی شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کا ہوگا۔ مغربی اور مشرقی یورپ کو اس مرحلہ پہ الگ کرنا ممکن نہیں۔ یہ کل کی پیشرفت تھی سوال مستقبل کا ہے کہ کیا ہونے جارہا ہے؟ برطانیہ اگر اپنی پالیسی میں تبدیلی نہیں لاتا، جو اس سطح پہ غیرممکن محسوس ہوتی ہے تو سکاٹ لینڈ برطانیہ کو چھوڑ کے یورپی یونین کا حصہ بن جائے گا، یہ پیشرفت اگلے دو سال تک ممکن ہے۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں انگلینڈ کی منڈی بہت زیادہ محدود ہوجائے گی۔ انگلش اشیاء و خدمات کو یورپ برآمد کرتے وقت نہ صرف کرنسی کی شرح تبادلہ کا مسئلہ درپیش ہوگا بلکہ یورپی محصولات کا سامنا بھی ہوگا۔
انگلینڈ میں مینوفیکچرنگ پہلے ہی بہت کم تھی اور جو تھی بھی وہ یورپی یا غیرملکی فرموں کی مرہون منت تھی۔ مثلاً سرے سے کوئی برطانوی آٹو موبائیل فرم موجود ہی نہیں۔ رولز رائس اب بی ایم ڈبلیو نامی جرمن فرم کی ملکیت ہے۔ اور بینٹلے واکس ویگن کے پاس جاپانی آٹو موبائل فرمیں برطانیہ میں مینوفیکچرنگ ضرور کر رہی ہیں لیکن ان کی بڑی منڈی یورپ ہے ناکہ انگلینڈ۔
اسی طرح بے شمار برطانوی فرمیں اپنی زیادہ برآمدات یورپ کو ہی کرتی ہیں انگلینڈ حقیقتاً بہت چھوٹی منڈی ہے لہذا ان کو نہ چاہتے ہوئے بھی مجبوراً سکاٹ لینڈ منتقل ہونا پڑے گا تاکہ انکے کاروبار کو دھچکا نہ لگے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بینکنگ اور انشورنس میں برطانیہ ورلڈ لیڈر ہے لیکن یہ فرمیں بھی مینوفیکچرنگ پہ انحصار کرتی ہیں۔ جہاں بازار جائے گا بنیا وہیں جائے گا۔
یہ بہت سنجیدہ صورتحال ہے۔ لندن تین صدیوں سے دنیا کی فنانس، تجارت اور سیاست کو کنٹرول کرتا آیا کیا یہ اب تبدیل ہونے والا ہے؟ برطانیہ کے ہوتے ہوئے مغرب کی قیادت امریکہ کے پاس تھی روایتی اینگلو سیکشن رشتہ کی وجہ سے۔ تو کیا اب مغرب دو حصوں میں بٹ جائے گا؟ ایک طرف لندن نیویارک اور دوسری طرف برلن پیرس؟ یہ ایک دلچسپ مرحلہ ہوگا عالمی کشمکش میں۔

عمیر فاروق
عمیر فاروق
اپنی تلاش میں بھٹکتا ہوا ایک راہی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *