موت کے ہاتھ آگئی۔۔روبینہ فیصل

سری دیوی کی موت کی خبر،شہ پارہ، نے سب سے پہلے فارورڈ کی۔۔ کسی اخبار کا لنک تھا۔۔۔
آج کل مشہور شخصیات کی اموات کی جھوٹی خبریں پڑھ پڑھ کر آنکھیں لفظ “موت “کو بھی کوئی لطیفہ ہی سمجھنے لگی ہیں اسی لئے ایک دم لگا، یہ بھی کوئی جھوٹی خبر ہو گی لیکن شہ پارہ، پر یقین تھا کہ وہ حالات حاضرہ پر” اپنی نظر” رکھتی ہیں، دوسروں کی نظر وں سے دنیا نہیں دیکھتیں۔اور اپنے بڑے واضح نقطہ نظر کے ساتھ بات کر تی ہیں، جس کا فقدان آج کل بہت زیادہ ہو تا جا رہا ہے۔۔ بس ایک لہر سی چلتی ہے، ایک پیغام فاروڈ ہو نا شروع ہو تا ہے، وہ کوئی خبر بھی ہو سکتی ہے، کوئی کارٹون، کو ئی لطیفہ یا کوئی قول،تو بس سارا دن با ر بار وہی گھومتا رہتا ہے۔آخر انسان کتنوں کو لکھے کہ یہ پیغام ہمیں موصول ہو چکا ہے۔۔ تو شہ پارہ کی سچائی کے باوجود دل کیا کہ کوئی کہہ دے کہ یہ خبر جھوٹی ہے اور سری دیوی کا ایک ٹویٹ آجائے۔۔۔۔ ” کہ نیندیں اڑانے۔۔۔ ہوا ہوا آئی۔۔۔”

فیس بک کے شور شرابے اور fakeness سے گھبرا کر اسے بند کیا ہو تو وٹس ایپ کو کھلا رکھنا پڑتا ہے ورنہ لوگ مکمل طور پر مردہ ہی سمجھنے لگتے ہیں۔ خیراس کے بعدلگے بندھے طریقے سے، سری دیوی کی ناگہانی موت کے میسجز آنے لگ گئے۔۔ فارورڈ لنکس۔۔
کچھ لوگ، کچھ چیزیں، کچھ جگہیں ایسی ہو تی ہیں، جن سے آپ کی زندگی کا کوئی باب جڑا ہو تو، وہ دور ہوں یا پاس، ان سے منسلک کوئی بھی خبر آپ کو ہلا دیتی ہے۔
اسی لئے سری دیوی کی موت کا دکھ، محض ایک اداکارہ کا دکھ نہیں تھا، اس کے ساتھ ہمارے اس سنہری دور کی یادیں جڑی ہو ئی تھیں، جب ہم پڑھائی کی لمبی فکروں کے باوجود بے فکری کی لمبی نیند سوتے تھے۔ایک فلم دیکھنے کے لئے ویک اینڈ کا انتظار کرتے تھے، اور جب وہ گذر جاتا تھا تو اگلے ویک اینڈ کا انتظار شروع ہو جاتا تھا۔ اور جس دن وی سی آر کرائے پر آجا تا تھا، اس دن ایک نہیں چار چار فلمیں دیکھنا فرض ہو جاتا تھا، ورنہ کر ائے کے پیسے کیسے پو رے ہو تے ۔۔۔ ہماری نسل عجیب نسل ہے، انہوں نے کرائے پر لائے جانے والے وی سی آر کا دور بھی دیکھااور سمارٹ فون پر دنیا کے کسی بھی حصے، کسی بھی وقت کی فلم،دیکھنے والا دور بھی بھر پور طریقے سے دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔۔
ہم سا ہو تو سامنے آئے۔(سری دیوی ہوتی تو یہی کہتی)

یہ بھی پڑھیں :  سری دیوی اورناسٹیلجیا کی موت۔۔گل نوخیز اختر

سری دیوی ایک پورے دور کا نام تھا۔ ہماری نسل کو جوان کر نے اور رنگین خواب دکھانے میں اس ہو شربا اداکارہ کا بہت ہا تھ ہے۔ اس کی کوئی بھی فلم آتی، اسے دیکھنے کے لئے سب مچل اٹھتے تھے۔ہم سب اس کی فلمیں دیکھ کے لطف اندوز ہو تے، وہ ہماری نسل کو entertainکر تی تھی۔۔ آپ کو کوئی ایک پل کی بھی خوشی دے اس سے بڑا آپ کا محسن کون ہو سکتا ہے۔ اور سری دیوی نے تو نجانے کتنے ہی خوشی اور relaxationکے پل دیے ہوں گے۔
میں نے بوجھل دل کے ساتھ اس منخوس خبر کو سب جاننے والوں کے ساتھ شئیر کیا۔ دل کر رہا تھا کوئی مجھ سے بات کر ے۔جیسے کوئی اپنا مر جائے تو اپنوں کے گلے لگ کر ہی سکون آتا ہے، مجھے کسی کے لکھے ٹویٹ یا فیس بک کی پو سٹس نہ فارورڈ کر ے، کوئی مجھ سے اس زمانے کی بات کرے جب دیوی کا عروج تھا اور ہم سب ا س کے ننھے منے پرستار۔کبھی کبھی خواہشیں پل بھر میں پو ری ہو جاتی ہیں۔۔ عین اسی وقت ایک میسج ملا۔۔

“سری دیوی سے میرا تعارف بہت سال پہلے ہو اتھا، اس کی کوئی بھی فلم دیکھنے سے بھی پہلے،ابو، GHQمیں تھے اور ان کی ایک عادت یہ تھی کہ وہ دفتر میں مختلف قسم کے میگزین لاتے تھے۔شروع شروع میں وہ ٹا ئمز اور نیوز ویک ہو تے تھے،بعد میں اضافہ ہو تا گیا۔ملٹری جرنلز کے ساتھ ساتھ انڈین میگزینز بھی ان کے بریف کیس میں آنے لگے۔مجھے” انڈیا ٹو ڈے” اچھا لگنے لگا۔ایک کے ٹائٹل پر میں نے سری دیوی کی تصویر دیکھی۔ میگزین میں اس کے حسن، ڈانس،ایکٹنگ اور لگن اور محنت کی تعریفوں کی بھر مار تھی۔ میں نے وہ سب پڑھا اور پھر میں نے اس کی فلم ڈھونڈنی شروع کی۔۔پہلی فلم میں نے اس کی” تحفہ” دیکھی۔جس کا گانا “پیار کا تحفہ تیرا۔۔بنا ہے جیون میرا ”
خوبصورت کپڑے،عظیم الشان سیٹ،دلکش ڈانس، جمپنگ جیک جتیندر کے ساتھ ڈانس کرتی سری دیوی۔۔ وہ دیکھنے میں بھی اچھی لگی اور اس کی ایکٹنگ نے بھی متاثر کیا۔میں اس کے سحر میں ایسے نہیں گرفتار ہوا جیسے کہ ڈمپل اور پروین بوبی کے  سحر میں ہوا تھا لیکن مجھے پھر بھی وہ اچھی لگی۔پھر میں نے اس کا امیتابھ کے ساتھ ڈانس دیکھا۔۔”سارے بدن میں زہر چڑھ گیا “۔۔پھر اس کا گانا “کسی کے ہاتھ نہ آئے گی یہ لڑکی۔۔”چاندنی اور لمحے اس کی بہترین فلمیں ہیں۔اب نگینہ بھی دیکھوں گا۔سری دیوی RIP۔۔تم ایک خاص قسم کی داسی تھی۔بے شک سب کو اللہ کی طرف واپس لوٹنا ہے۔اورتم لوٹ گئیں۔”(ترجمہ)

ایک قلمی دوست، جس سے میں آج تک نہیں ملی، کی طرف سے یہ میسج موصول ہوا تو سوچا شاید  انہوں نے فیس بک کا سٹیٹس لگا یا ہو گا اور مجھے فیس بک پر نہ ہو نے کی وجہ سے وٹس ایپ پر کا پی کر دیا۔۔ میں نے اُن سے کہا بہت moving ہے، فیس بک کے لئے ہے؟
جواب ملا: “نہیں آپ کے لئے۔۔”
میری آنکھوں میں سری دیوی کی موت کے دکھ کے ساتھ ساتھ، آج کے انسان کی ایک دوسرے سے بیگا نگی کا احساس نمکین پانی کی صورت ا تر آیا۔۔۔ کوئی تو ہے جو فیس بک کے ہجوم کو اپنی طرف مائل کر نے اور لایئکس کے چکر سے بیگانہ ہو کر صرف اپنے دوست کے ساتھ اپنے دل کی بات شئیر کر رہا ہے۔۔۔
“آپ کے لئے۔۔۔”

اب ہم کب ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں۔۔؟ فیس بک کی پوسٹس اور ٹوئیٹر پر میسج پوسٹ کر تے ہیں اور اس کے بعد اپنے followersاور likeاور کمنٹس کر نے والوں کی گنتی کرتے رہتے ہیں۔۔بات صرف اس سے کرتے ہیں جس سے کسی قسم کا کوئی مطلب ہو، باقی سب کو فارورڈ میسجز پر لگا کے رکھا ہو تا ہے۔۔۔مگر یہ کتنا عجیب دوست ہے جسے میں کبھی ملی نہیں، جو یورپ کے کسی ملک میں رہتا ہے ۔ایک ایسی لیجنڈ کی موت کو یاد کرتے ہو ئے مجھے اپنی ماضی کی گلیوں میں لے جارہا ہے، جہاں اس خوبصورت پری نے اسے زندگی کے خوش گوار احساسات سے روشناس کر وایا تھا۔۔۔
ہم کب سے ون ٹو ون خلوص اور دوستی کو کھو چکے ہیں۔۔؟ اور ہمیں اس نقصان کا اندازہ بھی نہیں۔

پاکستان میں میری ایک دوست  ہے عظمی، دن ہو یا رات کسی پہر بھی اسے میسج کروں تو فورا ً جواب دیتی ہے۔ میں نے عظمی کے ساتھ مل کے پرانی یادوں کو تازہ کیا، جب ہمیں سری دیوی اچھی لگتی تھی۔۔ ذوالقرنین، میرا پنجاب بنک کا ساتھی ،پاکستان میں ہو تا ہے۔ رات کے اس پہر وہ بھی جاگ رہا تھا اسے میسج کیا:
“تمھیں یاد ہے جب تم جدائی فلم دیکھ کے آئے تھے، اورتمھاری نظرکیش کاؤنٹر کے پیچھے نو ٹوں کی گڈیوں پر پڑی، تو تم نے کہا تھا۔۔ سری دیوی اپنے شوہر کو پیسے لے کر بیچ دیتی ہے اور پھر پو رے بیڈ پر نوٹوں کی گڈیاں پھیلا کر کہتی۔۔”ہائے میرے نوٹوں کی گڈیا ں “۔۔تم نے جس انداز سے اس کی نقل کی اس سے ہنس ہنس کے ہمارے پیٹ میں بل  پڑ گئے تھے۔ وہ بھی مل کے میرے ساتھ یادوں کی گلیوں میں نکل آیا۔

مجھے یورپ میں بسنے والے اس اجنبی دوست کے پر خلوص، میسج نے یہ یاد کر وایا کہ مجھے اپنے دوستوں سے اپنی باتیں کیے ، اپنا ماضی، اپنا حال سنائے کتنے دن ہو گئے ہیں۔سری دیوی خوش رہو، جہاں بھی رہو۔ جاتے جاتے بھی تم مجھ میں ایک احساس جگا گئی اور وسیلہ وہ دور دراز بے غرض مخلص انسان بنا۔

روبینہ فیصل
روبینہ فیصل
کالم نگار، مصنفہ،افسانہ نگار، اینکر ،پاکستان کی دبنگ آواز اٹھانے والی خاتون

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *