ٹماٹر اور سونے کی قیمت یکساں کیوں؟

ٹماٹر اور سونے کی قیمت یکساں کیوں؟
طاہر یاسین طاہر
جمہوری حکومتوں کا بنیادی وظیفہ یہی ہوتا ہے کہ عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لیے تمام تر ضروری اقدامات اٹھائیں۔کیا ہمارے ہاں نام نہاد” پیداواری جمہوریت “کی علمبردار حکومتیں اپنے اس بنیادی وظیفے سے آگاہ ہیں؟بالکل آگاہ ہیں۔مگر عوامی فلاح اور خوشحالی کے کام سے انھیں سروکار نہیں۔ان کے نزدیک میٹرو بس،گرین ٹرین منصوبہ،موٹر ویز اور تعمیراتی ٹھیکے ہی ترقی و خوشحالی کی علامت ہیں۔اس امر میں کلام نہیں کہ مذکورہ منصوبے ترقیاتی اشاریے ضرور ہیں مگر اصل مسئلہ عام آدمی کے کچن کا ہے۔موٹر ویز اور میٹرو میں سفر ایک دوسری شے ہے۔ترقیاتی اشاریوں اور حرف و ہندسہ کی موشگافیوں سے قطع نظر ،سچ یہی ہے کہ عام آدمی کی زندگی دکھوں کا پہاڑ ہے۔سابق صدر پرویز مشرف کی حکومت کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت بنی ،اور اب نون لیگ کی۔گذشتہ ڈیڑھ دھائی کے عرصہ میں مہنگائی کو پر لگے ہیں ۔بے روزگاری بڑھی اور کئی معاشرتی برائیوں نے تیزی سے رواج پایا،توانائی سمیت کئی ایک بحرانوں نے بھی سر اٹھایا ہے۔حکمران طبقے کی پہلی ترجیح مگر اپنی ذات اور اقتدار کو بچانا ہی رہا۔
عام آدمی کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ آئین میں پندرھویں کے بعد سولہویں سے لے کر بیسویں،اکیسویں تک ترمیم ہو چکی ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔نہ ہی عام آدمی کو اس سے دلچسپی ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کیا بلا ہے؟کیا ریڑھی بان کا یہ مسئلہ ہے کہ صدر کے اختیارات زیادہ ہیں یا وزیر اعظم کے؟کیا 58/2/B،اور آئین میں تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے کی تبدیلی وغیرہ ٹرک ڈرائیور کے لیے اہم ایشو ہے یا دو وقت کی روٹی اس بیچارے کا اولین مسئلہ ہے؟پیپلز پارٹی اس پہ بہت نازاں ہے کہ اس نے اپنے اقتدار کے دوران میں آصف علی زرداری کی سیاسی فراست سے نہ صرف پانچ سال پورے کیے بلکہ این ایف سی ایوارڈ سے لے کر آئین میں دیگر ترامیم کر کے جمہوریت کو پٹڑی پہ ڈال دیا ہے۔یہ مگر حقیقت ہے کہ جمہوریت نے جو انتقام لیا وہ عام آدمی سے ہی لیا۔پیپلز پارٹی جو غریبوں کی پارٹی تصور کی جاتی ہے اگر اس جماعت کی موجودہ قیادت اپنے اقتدار کے دوران میں اپنے پارٹی منشور کی طرف رجوع کرتی تو کسی حد تک عام آدمی کے دکھ کا مداوا ہو جاتا۔نون لیگ کی حکومت کے تو کیا ہی کہنے۔پاکستانی سیاسی رواج یہی ہے کہ دعوے اور وعدے کیے جائو۔
نون لیگ کی قیادت اپنی حکومت کے حق میں سی پیک کو پیش کرتی ہے۔سی پیک بے شک بڑا ترقیاتی پروجیکٹ ہے۔لیکن کیا اس سے عام پاکستانی کی زندگی میں کوئی خوشگوار تبدیلی آئے گی؟ اس سوال کا جواب بہر حال حکومت اور معاشی ماہرین پر واجب ہے۔گوادر پروجیکٹ بھی نون لیگ اپنے حق میں استعمال کرتی ہے۔اس حقیقت سے مگر کیا انکارکیا جا سکتا ہے کہ مذکورہ پروجیکٹ پرویز مشرف کی حکومت کا ڈیزائن کردہ ہے؟بازی گری اور چیز ہے،زمینی حقائق ایک دوسری چیز۔
آشکار حقیقت یہی ہے کہ مرغی کا کاروبار حمزہ شہباز کے قبضے میں ہے۔دودھ دہی کا بھی۔آج کل زندہ مرغی کی قیمت فی کلو دو سو کے قریب ہے۔کیوں؟ اس لیے کہ مارکیٹ میں وہ مرغی فروخت ہو رہی ہے جس کی “پرورش” حمزہ شہباز کے شیڈز پر ہوئی۔ جونہی عام پولٹری فارمرز کی مرغی مارکیٹ میں آئے گی مرغی سو سے ایک سو دس روپے فی کلو تک فروخت ہونے لگے گی۔یہ ہیں خادم اعلیٰ کے فرزند ارجمند،جو منافع کی حرص میں ہر روز مرغی منڈی کے ریٹ طے کرتے ہیں۔اس جمہوریت کے علمبرداروں کا بنیادی وظیفہ یہی ہے کہ عام آدمی سے اس سے زندہ رہنے کا حق بھی چھین لیا جائے۔کہا جاتا ہے اور بہت تواتر سے کہا جاتا ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔
اس ملک کی ستر فی صد آبادی کا رزق روزگار زراوعت سے وابستہ ہے۔اس کے باوجود ٹماٹر ایک سو ساٹھ روپے فی کلو سے لے کر دو سو روپے فی کلو تک کیوں فروخت ہو رہے ہیں؟انڈوں کی قیمتیں کیوں بڑھ گئی ہیں؟دالیں اور سبزیاں کیوں مہنگی ہو رہی ہیں؟لاہور کی سبزی منڈی میں ایک گاہک کو ایک کلو سے زیادہ ٹماٹر نہیں دیا جا رہا۔ یہ مصنوعی قلت کس نے پیدا کی ؟کیا اس کا کھوج لگانا حکومت کی ذمہ داری نہیں؟پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بھی ٹماٹر کی قیمت جب بہت بڑھ گئی تھی تو پیپلز پارٹی کے ایک پارلیمانی ممبر نے کہا تھا کہ عوام ٹماٹر کے بجائے دہی استعمال کریں۔نون لیگ کی حکومت کوئی نئی تدبیر سامنے لائے گی؟
آج بھی دیہاتوں میں ہزاروں محنت کش دن کی روٹی ایک ٹماٹر اور ایک پیاز کے ساتھ کھا لیتے ہیں۔حکومت کیوں ان سے یہ حق بھی چھین رہی ہے؟ہر چیز کو سازش کہہ کر جان نہیں چھڑائی جاسکتی ہے۔ یہ باقاعدہ عوام کے خلاف حکمران طبقہ کا اتحاد ہے۔ورنہ ایک زرعی ملک کے باسیوں کو ٹماٹر بھی سونے کے بھائو فروخت ہونے لگیں؟سرا سر زیادتی اور حکومتی نا اہلی ہے۔حکومت اپنے بنیادی کام چھوڑ کر پامانا میں الجھی ہوئی ہے۔اپوزیشن کو بھی اپنی بقا کی پڑی ہوئی ہے۔کیا جس رفتار سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اسی رفتار سے عام آدمی کی آمدن کے ذرائع میں بھی اضافہ ہوا ہے؟بالکل نہیں ،بلکہ آمدن کے ذرائع اور مواقع کم ہوئے ہیں۔آپ کی جمہوریت آپ کو مبارک،ہمیں بس ہمارا زرعی ملک لوٹا دیں تا کہ ہم دیہاتی ٹماٹر پیاز اور چٹنی سے دو وقت کی روٹی کھا کر” یہ بھی زندہ باد “ہے “وہ بھی زندہ باد “کے نعرے لگانے کے قابل رہ سکیں۔

طاہر یاسین طاہر
طاہر یاسین طاہر
صحافی،کالم نگار،تجزیہ نگار،شاعر،اسلام آباد سے تعلق

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *