مہنگائی نہیں ، ہمیں تو سستائی مار گئی۔۔سید عارف مصطفٰی

چکن کا مہنگا ہونا افسوسناک ہوتا ہے لیکن سستا ہونا خطرناک ہے بلکہ خاصی حد تک تشویشناک بھی ۔۔۔ اب اس بارے میں وضاحتاً صرف یہی بتاسکتا ہوں کے چند ہفتوں سے یہ نامراد مرغی کی قیمت کیا گری ہے ، میرا پیٹ مرغیوں کا قبرستان بن چکا ہے اور میری طبیعت مرغیوں کے انبارکھا کھا کے گری گری سی رہنے لگی ہے ۔۔۔ ہماری طبعی مجبوری یہ ہے کہ کسی چیز کی قیمت کا ہمارے والہانہ پن سے اک طرح کا راست متناسب سا تعلق ہے اور محض چکن ہی نہیں ، کسی بھی شے کے سستا ہونے سے ہی ، پہلے ہمارے ذہن اور پھر ہمارے دہن سے اس کا ذائقہ جاتا رہتا ہے اورپھر اس کی قیمت واپس بڑھ جانے تک لوٹ کے نہیں آتا یوں ہمارے منہ میں رال کی افزائش کسی شے کی قیمت کی گرمائش سے سیدھے سبھاؤ جڑی سی رہتی ہے۔۔۔

اب ایسا بانکا مزاج ملےاور اس پہ سستے چکن کا اٹا اٹ بلکہ اندھا دھند خراج چلے تو پھر ایسا کیوں نہ ہو کہ آج کل ہم سے کوئی لفظ پوئیٹری بھی کہے تو ہمیں پولٹری سنائی دیتا ہے- بات یہ نہیں کہ  ہم اس سوچ والے اکیلے ہی منش ہیں کیونکہ چکن کی ارزانی نے اس کی قدر ہی گھٹا کے رکھ دی ہے اور کفایتی سیزن کے شروع کے چند روز کی تابڑ توڑ رغبت کے بعد اب مرغیاں خاصی محفوظ و مامون ہوئی دکھائی دے رہی ہیں کیونکہ چکن فرشوں کی دکانوں پہ سے ہجوم شوق کب کا رخصت ہوگیا ہے اور اب تو جانے مانے مرغی چور بھی دبک کے بیٹھ گئے ہیں اور گھریلو مرغے اور مرغیاں بھی ان کے سامنے دھڑلے سے پینگیں لڑاتے اور چونچیں اڑاتے پھرتے ہیں

لیکن ہمارے گھر میں صورتحال بڑی مختلف ہے ، شہر میں چکن کا کفایتی سیزن کیا آیا ، بیگم نے موقع پاکے چکن پکانے کی ہر ترکیب پہ بڑے خانسامانہ انداز سے ہاتھ صاف کیا ہے اور ہمارے منہ کو اپنی تجربہ گاہ بنایا ہے ۔۔۔ پس اندازہ ہوا کہ  سخاوت سے زیادہ کبھی کبھی کفایت نڈھال کرڈالتی ہے اور یار لوگوں کو بھلے مہنگائی مارے ڈالتی ہو مگر سچ یہ ہے کہ ہمیں تو سستائی نے مارا ہے- حالت یہ ہے کہ ان دنوں ہمارا اسپ ذائقہ رات دن چکن کے کوڑوں کی زد میں ہے اور ہماری ڈائننگ ٹیبل پہ کبھی کسی مبینہ ایرانی ڈش میں مرغی اوندھی پڑی دکھائی دیتی ہے تو کبھی چینی سبزیوں کی اوٹ میں دبکی پڑی نظر آتی ہے اور کبھی کبھی تو کسی لبنانی ڈش کے نام پہ اس کے ، بیروت کی مانند پرخچے سے اڑے پڑے معلوم ہوتے ہیں اور ان سب آسنوں کو کسی مغالطہ آمیز و اشتہاء انگیز پردیسی کھانے کا نام دیدیا گیا ہوتا ہے لیکن اوپر کا مصالحہ ذرا ہٹانے کی دیر ہوتی ہے کہ اس کے ذائقے کے لچھن یکدم پاکستانی ڈش کے سے ہوجاتے ہیں اور خواہ مخواہ بین الاقومی غلط فہمیاں زور پکڑنے لگتی ہیں- ۔۔

ادھر ہمارے یہاں ہر طرح کے غذائی مچیٹے سے ہو گزرنے کے بعد اب تو چکن کی حالت زار کی نوبت یہ آگئی ہے کہ کبھی مرغی میں آلو ڈالے جارہے ہیں تو کبھی آلوؤں میں مرغی ڈالی جارہی ہے ۔۔ حتیٰ کہ ایک دن تو ہم نے مرغی کو دہکتے کوئلوں پہ پڑا ہوا بھی دیکھا اور اس روز گھر کے آخری کونے تک تو یہ صورتحال تھی کہ ہر ایک دھانستا اور کھانستا پھرتا تھا اور چھینکیں مارتے ہوئے ایک دوسرے سے دریافت کرتا تھا کہ یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے-

لیکن۔۔۔ آپ میری ان باتوں سے ہرگز حیران نہ ہوں کیونکہ مجھے پورا یقین ہے کہ اگر میری طرح آپ بھی یوں موسلا دھار چکن خوری پہ مامور کردیئے جائیں تو آپ کی کی طبعیت بھی عجیب پولٹریانہ سی ہوجائیگی اور کبھی آپ کا جی کڑکڑانے کو کرے گا تو کبھی طبیعت انڈہ دینے پہ مائل ہوتی معلوم ہوگی- اور کسی اہم مسئلے پہ غور کرتے سمے، آنکھیں موند کے ایک ٹانگ پہ کھڑے ہوئے بغیر تو آپکی دماغی قوتیں گویا بیدار ہی نہ ہو پائیں  گی- میرا جی تو بہت چاہتا ہے کہ اس گھور غزائی دہشتگردی پہ بیگم سے کھلم کھلا احتجاج کروں کہ  گھر کے بجٹ کو متوازن بنانے کے جنون میں ہمارا دماغی توازن کیوں غیر متوازن کیے  دے رہی ہیں لیکن کیا کیجیئے کہ وہ ہمارے مزاج کی حالت کے بارے میں پہلے ہی ایک واضح مگر ناقابل بیان رائے رکھتی ہیں اور اس کے لیے  کسی مرغ کو مورد الزام ٹھہرانے کی ہرگز روادار نہیں –

جیسا کہ ہمیشہ ہوتا رہا ہے کہ کسی چیز کے دام گرتے ہی اسکے مخفی طبی خواص کے اسرار ہماری بیگم پہ یکایک آشکار ہوجاتے ہیں اور حسب روایت اس بار بھی یہ ہوا ہے کہ مرغ خوری کی بے پایاں طبی فضیلت آجکل انکی نوک زباں ہے اور کئی ایسے یونانی و حکیمی کتابچے انکے زیرمطالعہ ہیں کہ جن پہ نظر ڈالتے ہی یوں محسوس ہوگا کہ  جیسے دنیا کے سارے موذی امراض سے نجات کا راز دبا دب مرغ کھانے میں ہے اور یہ مرغ انگیز و روح پرور کتابچہ ختم ہونے تک تو یہ بھی یقین ہونے لگتا ہے کہ پیہم مرغ خوری کرنے والا سیدھا جنت میں جائےگا-

باکفایت مرغ اندوزی کے بہاریہ دنوں میں ایک بڑا مسئلہ کچن میں دھری ، مرغ سے انتقام لینے کی نت نئی ترکیبوں پہ مشتمل کھانا پکانے کی وہ متعدد کتابیں ہیں کے جو نہایت سنگین مغالطے پیدا کرتی ہیں اورجن کا مرکزی خیال ہی یہ ہے کہ شوہر کے دل میں اترنے کے لیے معدے کی طرف جانے والے رستے میں ندیدے پن کی مطلوب پھسلن صرف چکن ہی پیدا کرسکتا ہے اور اسی لیے ان کے ہر صفحے پہ کسی نہ کسی انوکھے ڈھب سے چکن کی درگت بنانے کا خاطر خواہ اہتمام کیا گیا نظر آتا ہے – لیکن ہم ، کہ رنگارنگی اور تنوع کے اسیر ہیں اس مرغانہ افتاد کو سہارنے کی ذرا تاب نہیں رکھتے اوراسی سبب آجکل ہماری وہ کیفیت ہو چلی ہے کہ بقول شاعر ،، یہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیں ۔۔۔

زندگی عجب بے رونق اور بے کیف سی ہوگئی ہے اور کسی کام میں ذرا دل نہیں لگتا حتیٰ کے پڑھنے سے بھی طبیعت اچاٹ سی ہوگئی ہے ۔۔۔ ایک دن ذرا پڑھنے کو ہمت جٹائی تو ہاتھ بک شیلف میں سیدھا اقبال کی بانگ درا پہ پڑا اور میں کئی دن کا مرغ گزیدہ ، بانگ کا لفظ دیکھتے ہی خاصا سہم سا گیا اور کتاب کو وہیں چھوڑ فوراً پلٹ گیا – کل شیو کرنے کے لیے آئینے کے سامنے کھڑا ہوا اور جب سیفٹی ریزر چہرے سے ہونٹوں کے پاس لایا تو ہمیشہ کی طرح شیو کا یہ مرحلہ آسان کرنے کے لیے  اپنے ہونٹوں کو آگے کرکے گولائی میں سکیڑا تو یوں لگا کہ جیسے ہونٹوں پہ کوئی چونچ سی ابھر آئی ہے اور پھر اس مکروہ نظارے سے بچنے کے لیے باقی وقت آنکھیں بند کرتے کھولتے ہوئے محض اندازے سے شیو بھگتائی اور نتیجتاً چہرہ و ٹھوڑی خوب خوب زخمائی- روئی کے پھوئے لگاکے کسی ضروری کام سے باہر گیا تو ہر خداترس کی نظر یوں چہرے پہ جمی دیکھی کہ گویا زیرلب کہ رہا ہو۔۔۔” یہ عمر ہوگئی اور اب تک شیو بنانا نہ آئی ” – اب میں انہیں بھلا کیا بتاؤں کہ یہ تو خون ناحق ہے اور سراسر کسی نہ کسی مرغ کی گردن پہ ہے-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *