تیری میری ایسی دوستی۔۔خطیب احمد

دوست کا لفظ سنتے ہی ذہن میں ایک بات آتی ہے۔ یعنی اس کے کیے  جانے والے کارناموں میں اس کا بھی ہاتھ ہوسکتا ہے۔ یوں کہہ لیجۓ کہ مناسب حد تک اس کو شرارتی اور کمینہ ہونا چاہیے ۔

آپ نے یہ بات تو سنی ہوگی کہ فلاں  بندے نے تو دل میں گھر کر لیا ہے۔بالکل اسی طرح واہبہ کنول صاحبہ کی دوستی نے بھی دل میں گھر کر لیا ہے۔ دوستی کے معیار پر وہ اس طرح  پوری اتری ہیں  کہ بھکاری بار بار آکے تنگ کرتے ہیں۔ جو کہ میرے ساتھ بچپن سے ہے اور میں اسے اب تک بھگت رہا ہوں۔ اصل میں یہ و ہی ہے جس نے مجھے  سکول ، کالج کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد جامعہ میں اپنے ساتھ اپنے ہی شعبے میں گھسیٹا اور جامعہ میں داخلہ لینے کے لیے آمادہ کیا ، ورنہ میں تو اچھا خاصا معصوم اور کم گُو انسان تھا۔

واہبہ کنول صاحبہ کی شخصیت میں دو خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ ایک تو   سب سے عمدہ خوبی یہ ہے کہ وہ اس قدر تیز رفتاری سے بولتی ہیں کہ برق رفتار ٹرین بھی شرما جاۓ کہ کون میری سوتن آگئی ہے۔ جہاں تک بولنے کی بات ہے تو یہ کسی کو بولنے کا موقع بھی نہیں دیتی۔ اس سے مکالمہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے چلتی جُوسر مشین سے گپ کرنا۔ دوسری خوبی یہ ہے کہ یہ ہر واقعے  کو اس طرح ڈرامائی رخ دے دیتی ہے کہ لگتا ہے کسی مشہور ڈرامہ نگار کا سکرپٹ پڑھ کے سنا رہی ہو۔ آپ اسے بس ایک طرح خاموش پاسکتے ہیں وہ ہے اس کی تصویر جس میں اتنی حسین لگتی ہے جتنا ایک عورت بات سنتے ہوۓ۔

ہماری دوستی قائم رہنے کی اہم وجہ ہم خیال ہونا ہے۔ ورنہ آج کل کوئی ایک دوسرے کو منہ نہیں لگاتا۔ ہم خیال ہونے کی بنا پر ہم نے ایک دوسرے کو منہ لگانا شروع کردیا، (فرانسیسی باشندوں کی طرح نہیں) مجھے معلوم تھا آپ کے ذہن میں کیا فحش بات آئی ہوگی لہذا میں نے اس بات کو واضح کر دیا ہے۔ پریکٹیکل اورئینٹیشن کے لیے انٹرنیٹ پر کثیر مواد موجود ہے (اب مجھ سے لنکس مانگ کر شرمندہ نا کیجئے گا)۔

ہاں تو، میری دلفریب دوست، اول تو تم پیدا ہی نہیں ہوئی اس دنیا میں بلکہ نازل ہوئی تھی۔اب پتہ نہیں ہے کہ یہ واقعہ کس سال کا ہے۔ دراصل ہمارے ستارے ایک جیسے ہیں مگر کرتوت بالکل بھی ایک جیسے نہیں ہیں۔ کیونکہ ایک طرف   بولنے والی تیز رفتار ٹرین ہے اور دوسری طرف مریل گدھا جوکہ کئی گنا  وزن اٹھا کر چل رہا ہو۔ کیونکہ اگر ہم دونوں ہی برق رفتاری سے بولنا شروع کردیں تو یا ہم نہیں رہیں گے یا یہ دنیا نہیں رہے گی۔

دراصل اس معصوم سی جان کے ساتھ ایک ظلم اس طرح سے بھی ہورہا ہے کہ ایک طرف میرے  والد محترم ہیں جو  بالکل واہبہ سے مماثلت رکھتے  ہیں بلکہ ان دونوں  میں پائی جانے والی خصوصیات تقریباً ایک جیسی ہی ہیں۔ اگر آپ ان دونوں کو ایک ساتھ بیٹھا دیں تو یہ لوگ اپنی آدھی زندگی بولنے میں ہی گذار دیں گے۔ان کے پاس بہت قصے  ہیں ۔۔ مزے دار بات یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو جان کر خوش بھی ہوۓ جب میں نے والد محترم کو واہبہ سے ملوایا تھا، تو اس معصوم انسان نے خاموشی اختیار کر کے ا ن کی ہاں میں ہاں ملانا شروع کردی۔ کیونکہ مجھے اس بات کا علم تھا اگر ان دو بولنے والوں کے درمیان ایک لفظ  بھی زبان سے نکالا تو پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہوجاناہے ۔تو اس وجہ سے خاموشی کو  ہی غنیمت جانا۔

ہاں تو بات ہو رہی تھی   دوستی کی، تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ فی الحال تو یہ ابھی کچھ بنی نہیں ہے مگر محلے کی ٹیوشن والی باجی ضرور بن چکی ہے۔ مستقبل میں لیکچرار بننا چاہتی ہیں اور مستحق بچوں کے لیے  تعلیمی ادارہ قائم کرنا چاہتی ہیں۔ ابھی ہم جامعہ کراچی میں زیر تعلیم ہیں۔ واہبہ کنول صاحبہ جامعہ کراچی کے شعبہ تعلیم اور میں شعبہ تاریخ اسلام کا طالب علم ہوں۔ اور ہم اپنی ماسٹرز کی ڈگری مکمل کر کے ، Ph.D کرنے کے خواہشمند ہیں۔امید ہے اللہ تعالٰی ہمیں اپنے مقاصد میں کامیاب کرے گا۔ ویسے ہماری یہ دوستی تا دم  حیات برقرار رہے گی اور اس کے درمیان کوئی دراڑ  نہیں آۓ گی۔ ہماری اس اٹوٹ دوستی کودیکھ کر اور اس تحریر کو پڑھنے والے قارئین کو حسد ہورہا ہوگا،  تو جناب محنت کیجئے ، حسد نہیں۔

آخر میں بس اتنا کہوں گا کہ ‏میٹھا خربوزہ، خاموش بیوی، اچھی پھوپھو، معقول رشتے دار، اُدھار دینے والے دوست اور پردیس میں “فالسے” قسمت والوں کو ہی ملتے ہیں اور واہبہ کنول جیسی دوست اور اِس کی خاص نظر کرم نصیب والوں کو ملتی ہے۔ تو اس معاملے میں اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتا ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *