ٹوٹٰی ہوئی سڑکـ افسانوں کا فسوں کدہ۔۔آصف اقبال

ٹوٹی ہوئی سڑک محمد جمیل اختر کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ہے۔۔ جس کو پڑھ کے پہلا خیال یہ ابھرتا ہے کہ اردو ادب کا مستقبل روشن اور تابناک ہے۔۔ کتاب میں سولہ افسانے اور مختصر کہانیاں شامل ہیں۔۔

جمیل اختر بہت پرانے لکھنے والے نہیں ہیں۔۔ لیکن چند برسوں کے اندر جمیل اختر کا نام اردو کے سنجیدہ افسانہ نگاروں میں لیا جانے لگا ہے تو اس کے پیچھے ان کی یہی کوشش ہے۔ کہ کس محنت اور لگن سے انہوں نے یہ افسانے تخلیق کیے ہیں۔ کتاب کا پہلا افسانہ ریلوے سٹیشن ہے۔۔ اور وہ کیا کمال کا افسانہ ہے۔ گوپی چند نارمگ نے لکھا ہے  کہ حیرت تخلیق کی انتہا ہے۔ افسانہ پڑھتے ہی   آپ حیرت کدہ میں چلے جاتے ہیں۔ ختم ہوتے ہی آپ اس افسانے کو دوبارہ پڑھتے ہیں۔ اور بے اختیار اس حیرت کدے کے خالق کو داد دیتے ہیں۔ اور پھر جیسے جیسے کتاب میں آگے بڑھتے جائیں۔ حیرت کدہ فسوں کدہ بنتا جاتا ہے۔

ٹک ۔ٹک۔ ٹک۔۔ ایٹو موسو۔۔ وہ آنکھٰیں۔۔۔ اور پوری کتاب۔۔

جمیل اختر کے پاس کہانی کی کمی نہیں ہے۔۔ اور ان کے ہر جملے میں کہانی بکھری ہوئی ہے۔ اور جمیل اختر کو اس کو برتنے کا سلیقہ ایساخوب جانتے ہیں کہ آپ ہر افسانے کے آخر میں انہیں داد و تحسین سے نوازے بغیر نہیں رہ سکتے۔ کہانی آپ کے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔۔ اور آپ کو وہاں لے جاتی ہے جہاں افسانہ نگار لے کے جانا چاہتے ہیں۔

جمیل اختر کے افسانوں میں سلاست ہے۔ روانی ہے، لطف ہے، حسن ہے۔انہوں نے زندگی کو ایک اور انداز سے دیکھا ہے۔ ان کے لیے فٹ پاتھ پر لیٹا ہوا بھکاری بھی کہانی ہے۔ ریل میں سفر کرنے والا ٹکٹ چیکر بھی کہانی ہے۔ کمرے میں لیٹا ہوا اکیلا اداس شخص بھی کہانی ہے۔ پاگل خانے میں موجود شخص بھی کہانی ہے۔ جیل میں موجود شخص بھی کہانی ہے۔ جب آ پ یہ سب کہانیاں پڑھیں گے۔ تو آپ کو احساس ہو گا۔ یہ کوئی آپ کسی اور زمانے ۔۔ کسی اور دنیا کی کہانیاں نہیں پڑھ رہے تھے۔ یہ افسانے آپ کو بالکل کسی فلسفیانہ موشگافیوں میں نہیں الجھائیں گے۔۔آپ کو تہہ در تہہ مباحث اور جدلیات میں لے جا کر زمین پر نہیں پٹخیں گے۔ یہ تو اسی وقت اور زمانے کی کہانیاں ہیں۔ یہ جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں یہ ہمارے ارد گرد ابھی اس وقت بیت رہاہے۔۔ کوئی کردار اجنبی ہے۔ نہ واقعہ غیر معلوم۔ ابھی آپ افسانہ ختم کریں گے ابھی آپ کو لگے گا یہ “گویا یہ بھی میرے دل میں تھا” ۔ اس کا ہر کردار جب آپ کتاب پڑھ کے باہر نکلیں گے۔ آپ کو اپنے ساتھ ساتھ چلتا نظر آئے گا۔ اپنے دفتر میں۔۔ اپنے محلے میں، اپنے تھانے کچہری کے کلچر میں۔ آپ کو ہر جگہ جمیل اختر کی کہانیوں کے کردار ملیں گے۔۔

ایک اور بہت ہم بات جو اس کتاب کا خاصہ ہے۔ وہ اختصار ہے۔ افسانے کی خاصیت یہ ہوتی ہے۔ کہ اس میں ایک لفظ بھی اضافی نہ ہو۔ کوئی واقعہ کوئی نسبت۔ کوئی بیانیہ ایسا نہ ہو جو براہ راست افسانے سے جڑا نہ ہو۔ جمیل اختر کی کہانیوں میں آپ کو یہ خاصیت نظر آئے گی۔ وہ ہر جگہ آپ کو یہ احساس دلاتے ہیں۔ کہ ہر فقرہ جو استعمال ہوا ہے وہ ضروری تھا اور اس کے بغیر بات ادھوری رہ جاتی۔

اور ایک مختصر کہانی جو یقینا شاہکار ہے۔۔ “حل”

“یکدم اس کی آنکھوں میں چمک دوڑی۔اس کے پاس گردے دو تھے” واہ جمیل بھائی، بہت داد۔۔۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔

ٹوٹی ہوئی سڑک ۔۔ محمد جمیل اختر کا نقش اول ہے۔ اور یہ نقش اول بتاتا ہے کہ آنے والا وقت اردو ادب کو بڑے لکھاری دینے والا ہے۔ ایک خوش آئند مستقبل!

Asif Iqbal
Asif Iqbal
محمد آصف اقبال تعلیم : ایم فل مارکیٹینگ مینجمینٹ۔۔ یو ایم ٹی لاہور پیشہ : دو یونیورسٹیز میں پڑھاتا ہوں ۔۔۔۔ پڑھنے پڑھانے کے علاوہ زندگی میں کوئی دوسرا شوق نہیں پالا۔۔۔ اکنامکس پے دو کتابیں لکھ رکھی رہیں ۔۔۔ جو اے لیولز کے بچے پڑھتے ہیں ۔۔۔ابھی بزنس پر ایک کتاب پریس میں ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *