خدا،تقدیر اور ہم۔۔۔جواد بشیر

اللہ کے کاموں میں دخل نہیں دیتے ،کامران نے یقین کے لہجے میں کہا ۔

میں نے حیرانگی سے پوچھا کہ کیا ہم خدا کے کاموں میں دخل دے بھی سکتے ہیں ؟

کامران نے کہا جو تم کرر ہے ہو یہ دخل ہی ہے ۔

میں نےکہا،میں سمجھا نہیں ۔

کامران نے  بات جاری رکھتے ہوئے کہا تمہارے گھر والے مجھے کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ تمہیں سمجھایا جائے کہ تم مزید  بچوں  کے لیے کیوں نہیں سوچتے،صرف ایک پر ہی اکتفا کر لیا ہے ۔

مجھےبات سن کے جھٹکا سا لگا کہ انسان کے ذاتی انتخاب کو خدا پہ کیوں ڈال دیا اس نے ،خیر میں نے کامران سے پوچھا تمہارے کتنے بچے ہیں اس نے جواب دیا الحمد للہ پانچ ہیں چار بیٹے ہیں اور ایک بیٹی ۔۔

میں نےکہا تمہاری بیوی بانجھ ہو گئی ہے کیا ؟

اس نے کہا،نہیں ۔

میں نے کہا اگر تمہاری بیوی بانجھ نہیں ہو گئی ہے تو وہ ابھی دس پندرہ سالوں تک بچے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔

کامران نے کہا تمہارے کہنے کا کیا مطلب ہے، صاف صاف کہو۔

میں نے کہا، اگر تمہاری بیوی بانجھ نہیں ہوئی، تو وہ دس پندرہ سالوں تک ابھی اور بچے پیدا کر سکتی ہے،اگر ایسا ہے تو صرف پانچ ہی کیوں ؟

کامران نے فوراً جواب دیا کیوں کہ میں پانچ بچوں کے بعد مطمئن ہو گیا ہوں ۔

میں نے کہا تم پانچ کے بعد مطمئن ہوئے، میں ایک کے بعد ہو گیا ہوں ۔اس میں خدا کے کاموں میں دخل دینے والی بات کہاں سے آگئی ؟

کامران کی آنکھیں پھٹ  گئیں اور منہ کھلےکا کھلا رہ گیا ،اس نے اس بات کو کبھی ایسے سوچا ہی نہیں تھا۔

Fate اور free will بھی ایسی ہی ایک گتھی ہیں
ہر بات کو خدا پہ ڈال کے ہم خود کے فیصلوں کے نتیجوں سے فرار حاصل کرنا چاہتے ہیں اور دوسروں کو بھی اپنی اسی سوچ کا شکار کرنا چاہتے ہیں ۔باتوں کو دوسرے انداز سے سوچنے کی عادت ڈالیں ۔ہمیں عقل اسی لیے دی گئی ہے ہر بات تقدیر اور خدا پر ڈالنے کے لیے نہیں ۔

جواد بشیر
جواد بشیر
تحریر بارے اپنی رائے سے کمنٹ میں آگاہ کیجیے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *