کلبھوشن معاملہ، پسپائی کس کی؟

بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی عالمی عدالت انصاف سے سزائے موت کی معطلی پر جہاں پاکستان میں ایک تنقید کا طوفان ہے تو دوسری طرف سابق بھارتی سفارتکار اس کو انڈیا کی سب سے بڑی غلطی قرار دے رہے ہیں۔ کلبھوشن کے معاملے کو عالمی سطح پر شائد ہماری سفارت کاری نے اتنی پذیرائی نہیں دی ، جتنی بھارت کی عالمی عدالت انصاف میں جانے سے ملی ہے۔ سزائے موت کے متعلق عبوری حکم ایک عام قانونی طریقہ کار ہے۔ پاکستانی عدالتیں ہوں یا پھر یورپ کی جیوری ہر حکم امتناعی حاصل کرنے کا ایک ہی طریقہ کار ہے۔ مدعے کی صحت کو بیان کریں، اپنے نکات سامنے رکھیں اور مزید بحث کے لئے وقت مانگیں اور پھر اس دورانیے کو حکم امتناعی کہتے ہیں جو عدالت جاری کرتی ہے۔پاکستان کی جانب سے عالمی عدالت انصاف کے دائرہ سماعت کو چیلنج کرنا خاصی اہمیت کا حامل ہے۔
دوسری جانب اسی عدالت میں اپنا موقف پیش کرنا کئی قانونی و خارجی سقمات کو بیان کرتا ہے۔ بھارتی وکیل نے پورے نوے منٹ دلائل دئیے جبکہ ہمارے وکیل صاحب نے اپنے دلائل کو پچاس منٹ میں ہی مکمل کردیا۔ اس بابت خاصی بحث جاری ہے، لیکن میرے نزدیک وقت نہیں نکات اور بات کا وزن اہمیت کا حامل ہے۔ مبالغہ آرائی اور پوائنٹ اسکورنگ کے لئے وقت کا ضیاع پروفیشنل ازم سے انحراف ہے۔بھارتی وکلاء پینل کے سربراہ ہاریش سالوے جو کہ بنیادی طور پر آئین اور ٹیکسنگ لاء کے وکیل ہیں اور کافی عرصہ تک سنٹرل اٹارنی آف انڈیا بھی رہے ہیں۔ ان کی جانب سے آرگومنٹس کا طول میری سمجھ سے باہر ہے۔ پاکستانی وکیل خاور قریشی جو کہ عمر اور تجربے میں ہاریش سالوے سے کم عمر ہیں، لیکن ان کی جانب سے ابتدائیہ خاصہ مدلل نظر آتا ہے۔ کیس کی ابتدائی سماعت سے پہلے ہی ہر قانونی فہم والے بندے کو اندازہ تھا کہ حکم امتناعی جاری ہوسکتا ہے۔ اب جب پورا ٹرائل شروع ہوگا تب سب کھل کر سامنے آئے گا۔ وہ تمام نکات اور ثبوت جن کا بھارت سفارتی سطح پر محض ازام تصور کرتا ہے، اب ریکارڈ کا حصہ بننے جارہے ہیں۔ یہ تمام ثبوت جن کو قانون کی زبان میں” ایگزیبٹس” کہتے ہیں، یہ دستاویزات عالمی سطح پر قابل قبول تصور ہوں گی۔
کلبھوشن کیس کا جب میں نے بحیثیت قانون کے طالب علم مطالعہ شروع کیا تو مجھے صرف ایک بات نظر آرہی ہے کہ بھارت نے ہیروں کے لالچ میں اس کوئلے کی کان میں ڈیرے جما لئے ہیں ، جس کا کوئلہ بھی خاص نہیں اور ہیرے پہلے ہی ہڑپ ہو چکے ہیں۔ اس کوئلے کی کان سے سوائے منہ کالا ہونے کے اور کچھ ممکن نہیں ہے۔ بھارت شروع سے ہی عالمی عدالت کو رد کرتا آیا ہے، لیکن موجودہ کیس کی وجہ سے جہاں بھارت کو اس کا دائرهء اختیار ماننا پڑا وہیں پر آئندہ کے لئے کسی بھی غیر انسانی سرگرمی کے نتیجے میں اسی عدالت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ کلبھوشن کی سزا معطلی کی بنیادی وجہ پاکستان کا عدالت کے دائرہ سماعت کو چیلنج کرنا بنی۔ عدالت نے اپنے دائرہ سماعت کے تعین تک اس کی سزاکو معطل کیا ہے۔ اگر دائرہ سماعت نہ بنا تو سزا پھر بحال۔ملکوں کے فیصلے اور خارجی امور جذبات سے نہیں آئندہ نسلوں کے فوائد کے لئے ہوتے ہیں۔ میرے نزدیک حالیہ موومنٹ آئندہ سالوں میں انڈیا کے لئے گڑھا ثابت ہوگی۔ کیونکہ عدالت میں کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے لے کر کلبھوشن کے اعترافی بیان تک سب کچھ ڈسکس ہوگا اور اس کے دفاع کے لئے بھارت کے پا س میٹریل ناکافی ہے۔دوسرے نقطہء نظر سے دیکھیں تو شائد حکومت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ جس کی وجہ سے حکومت کے لتے لئے جارہے ہیں۔ ہمیں اپنے سفارت خانوں کو متحرک کرنا پڑے گا۔ کیس ابھی مزید چلے گا۔ اس لئے مزید محنت اور حب الوطنی درکار ہوگی۔

محمود شفیع بھٹی
محمود شفیع بھٹی
ایک معمولی دکاندار کا بیٹا ہوں۔ زندگی کے صرف دو مقاصد ہیں فوجداری کا اچھا وکیل بننا اور بطور کالم نگار لفظوں پر گرفت مضبوط کرنا۔غریب ہوں، حقیر ہوں، مزدور ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *