لاوارث۔۔قراۃ العین حیدر/افسانہ

جب اسے ہوش آیا تو زمین پر ہر طرف لاشیں اور خون بکھرا ہوا تھا۔ جابجا انسانی اعضاء ارد گرد پھیلے ہوئے تھے۔ چاروں اطراف میں ایمبولینسوں کے سائرن گونج رہے تھے۔ چیخیںں ، آہ و پکار مچی ہوئی تھی ۔ میڈیا اور پولیس کی گاڑیاں ۔۔۔۔وہ اٹھ بیٹھا اور شکر ادا کرنے لگا کہ اتنی تباہی کے باوجود وہ صحیح سلامت ہے۔ فوراً اٹھ کر اس نے قریب پڑی لاش کو ہٹانا چاہا لیکن ناکام رہا۔ وہ سوچنے لگا کہ شاید بم دھماکے سے اس کے اوسان خطا ہوگئے ہیں اور وہ تو ایدھی رضاکار ہے اور اس کا فرض ہے کہ ایسی صورت حال میں بڑھ چڑھ کر کام کرے ۔ اس کی ڈیوٹی چیئرنگ کراس پہ تھی وہ ایدھی ایمبولینس کے قریب کھڑا تھا کہ اچانک بم دھماکہ ہوگیا۔ اس نے بکھرے اعضاء اٹھانے چاہے تب بھی ناکام رہا ،اسے لگا کہ زمین پر جسم سے الگ یہ پاؤں اس کا اپنا ہے۔ قریب کھڑی ایک عورت سے کہا بہن میرا پاؤں آپ کے قریب پڑا ہے مجھے پکڑا دیجئے۔ ابھی کوئی رضاکار آتا ہے تو مجھے بھی ہسپتال لے جائے گا۔ گنگا رام ہسپتال قریب ہی ہے ایمرجنسی لگ گئی ہے۔
“یہ پاؤں تمہارا  نہیں تھا” ۔ ”
میں سمجھا نہیں ۔۔۔۔
“تم مر چکے ہو، تمہارا پاؤں یہ پڑا ہے اور نظر دوڑاؤ تمہاری باقی لاش بھی یہیں کہیں پڑی ہوگی۔”

وہ پریشان ہوگیا، میں مرچکا ہوں۔ دو رضاکاروں نے لاشوں کے بکھرے اعضاء اٹھائے ان کے نیچے اس نے اپنا ادھورا جسم دیکھ لیا۔ ٹانگوں کے بغیر وجود، کھلی آنکھوں والا چہرہ ۔۔۔۔ہاں یہ اسی کی لاش تھی۔۔۔۔ ہائے میں بھی بم دھماکے میں مرگیا۔ ”

ہاں ان سب لوگوں کے ساتھ تم بھی مرگئے اور میں بھی مرگئی۔” آپ بھی مرگئیں؟ ” وہ ہچکچاتے ہوئے بولا ۔ “وہ دیکھو۔۔۔ وہ رہی میری لاش۔۔۔ سڑک کی دوسری جانب۔” وہ خوفزدہ سا ہوگیا اب اس نے اس عورت کو غور سے دیکھا۔ تیس کے پیٹے کی خوش شکل عورت، کاسنی کپڑوں میں ملبوس، چہرے اور قمیض کے دامن پر چند خون کی چھینٹیں اور سامنے پڑی اس کی لاش۔

اب وہ نارمل ہونے لگا۔۔۔۔۔ اور ارد گرد غور سے دیکھنے لگا اپنے ساتھیوں کو ڈھونڈنے لگا جو اس کے ساتھ ایدھی کی ایمبولینس میں تھے۔ اسےایدھی کی قرطبہ چوک والی ٹیم نظر آئی ” منصور ” لیکن آج منصور نے اس کی نہ سُنی۔
وہ افسردہ ہوگیا ۔ اچانک منصور کی چیخ گونجی ہمارے محمد علی کی لاش یہ پڑی ہے۔ ٹیم کے باقی لوگ سوگواری سے اس کے اور باقی لاشوں کے ٹکڑے اکٹھے کرنے لگے اور وہ دونوں سامنے کھڑے دیکھتے رہے۔
وہ پوچھنے لگا آپ یہاں کیا کررہی تھیں؟ وہ بولی یہ الفلاح بینک ہے میں یہاں اےٹی ایم سے پیسے نکلوانے آئی تھی۔ انارکلی جارہی تھی۔ وہ دیکھو رنگیلے برگر کے باہر میری گاڑی کھڑی ہے سفید مہران۔ یہاں تو ہنگامہ ہوگیا ہے چلو سامنے سڑک پار فٹ پاتھ پہ بیٹھ کے دیکھتے ہیں ۔
“تمہاری لاش گھر جائے گی تو تمہارے گھر والوں کا بہت برا حال ہوگا نا۔۔۔۔۔”

“میرے گھر میں کوئی نہیں ہے۔ میں لاوارث ہوں”۔
لیکن کوئی رشتہ دار تو ہوگا ؟
نہیں میں چند دن کا تھا جب کوئی مجھے ایدھی سینٹر کے جھولے میں ڈال گیا تھا۔ مجھے نہیں پتہ کہ میرے والدین کون تھے؟ میرا کیا مذہب تھا؟ میں شاید ناجائز اولاد تھا اسی لئے مجھے لاوارث بنا دیا۔ میں وہیں پلا بڑھا میرا نام محمد علی بھی ایدھی والوں نے دیا۔ میری تاریخِ پیدائش کیا ہے؟ میری ذات کیا ہے؟ میں کس مذہب کس فرقے کا ہوں کچھ نہیں پتا؟ میرے ہونے نہ ہونے سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔” مجھے دفنایا جاتا ہے یا نہیں، نمازِ جنازہ ہوتی ہے یا نہیں میرے لئے فاتحہ کی جائے گی یا نہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم لاوارث لوگ ہیں ہمارے ہونے یا نہ ہونے سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم زمین پر رینگنے والے کیڑوں کی طرح ہیں۔”
اس کی دلجوئی کیلئے وہ کہنے لگی کہ “جب محبت اور عشق جائز ہے تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ ناجائز کیسے ہوسکتا ہے۔ یہ درست ہے کہ ہمارا مذہب اور معاشرہ اس کی اجازت نہیں دیتا لیکن اخلاقیات بھی کوئی چیز ہے کسی کے جرم کی سزا اولاد کو تھوڑی دی جاسکتی ہے۔ ہوسکتا ہے تمہارے والدین نے غربت سے تنگ آکر تمہیں ایدھی والوں کے حوالے کیا ہو؟ کوئی اپنی اولاد بیدردی سے نہیں پھینک سکتا۔”
میڈم آپ اچھے گھر کی ہیں آپ کو کیا پتا کہ میں زمانے کی ٹھوکروں میں بڑا ہوا ہوں ۔ زندہ رہنے کے لئے جگہ تو مل گئی لیکن ٹھوکریں ختم نہیں ہوئیں۔ میٹرک تک پڑھا دیا پھر ان کے ساتھ ہی کام کرنے لگا ،ٹریننگ کے بعد کچھ تنخواہ بھی ملنے لگی لیکن میں اس تنخواہ کا کیا کرتا؟ جب پہلی بار اپنی کمائی سے نئے کپڑے لئے تو میں پہن کے کس کو دکھاتا۔۔۔ نہ کوئی ماشاءاللہ کہنے والا باپ، نہ بلائیں لینے والی ماں، نہ نظر اتارنے والی بہن۔۔۔۔ لوگ کہتے ہیں رشتوں میں بہت طاقت ہے ۔۔۔۔ مجھے کیا پتا کہ تکلیف کیا ہوتی ہے؟ میرے اندر تو احساس نام کی چیز نہیں اور آج میں بغیر تکلیف کے مر بھی گیا اور مجھے احساس تک نہ ہوا۔

وہ دونوں فٹ پاتھ پہ بیٹھے اس افرا تفری کو بےدلی سے دیکھ رہے تھے جہاں درد تھا، آنسو تھے، جابجا بکھرے ہوئے اعضاء تھے، کرب تھا، بےحسی تھی، لاشوں کی سیاست تھی۔ وہ اس خاتون سے پوچھنے لگا آپ کی رہائش کہاں ہے؟ کیا آپ کے گھر والوں کو پتا ہے کہ آپ یہاں ہیں؟ ان پر کیا بیتے گی؟ ایک خاندان کیا ہوتا ہے میں نہیں جانتا لیکن لوگ اپنے گھر اور گھر والوں کے لئے بہت قربانیاں دیتے ہیں ۔
“جس طرح تم لاوارث ہو محمد علی اُسی طرح میں بھی لاوارث ہوں “۔
“نہیں میڈم آپ میری طرح کیسے ہوسکتی ہیں آپ دیکھنے میں اچھے گھر کی لگتی ہیں، صاحبِ حیثیت ہیں، بات چیت سے تعلیم یافتہ اور تہذیب یافتہ لگتی ہیں آپ میری طرح لاوارث کیسے ہوسکتی ہیں؟ اگرچہ آپ کی موت بھی اسی بم دھماکے میں ہوئی ہے لیکن آپ خود کو لاوارث تو نہ کہیں۔ ابھی آپ کے گھر والے آپ کو ڈھونڈتے ہوئے آجائیں گے اور ضروری کارروائی کے بعد آپ کی لاش ان کے حوالے کردی جائے گی۔”

تم میرا مطلب نہیں سمجھے محمد علی۔۔۔۔۔۔ لاوارث وہ نہیں ہوتا جس کے گھر والے نہ ہوں یا گھر نہ ہو، وہ شخص بھی لاوارث ہوتا ہے جس کی زندگی میں اس کے گھر والوں کا کوئی حصہ نہ ہو۔
محمد علی اب حیران ہوکر اس عورت کی طرف دیکھ رہا تھا۔ میں کچھ سمجھا نہیں میڈم۔۔۔۔
دیکھو جب رشتے بوجھ بن جائیں، احساس ختم ہوجائے، کسی کے ہونے یا نہ ہونے کا خیال نہ رہے تو ایسا شخص بھی لاوارث ہی ہوتا ہے ۔ میرے والدین حیات ہیں، بہن بھائی اپنے گھروں میں خوش باش ہیں، ایک شریکِ حیات بھی ہے۔۔۔۔ وہ بھی اپنی زندگی میں مگن ہے۔ دوست احباب، رشتہ دار، کولیگ سب ہیں لیکن میں لاوارث ہوں ۔ میرے مرنے کی اطلاع جائے گی۔ جنازہ اور باقی سب کام ہوں گے لیکن یہ سب لوگ مجھے کتنے دن یاد رکھیں گے۔ ایک ہفتہ، ایک مہینہ یا شاید ایک سال۔ ایک سال میں بہت زیادہ بتا رہی ہوں میں کسی کو یاد نہیں رہوں گی۔ میری قبر پر کوئی فاتحہ پڑھنے نہیں آئے گا۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ عرصے میری قبر کا نشاں تک نہ رہے اور اس قبر پر ایک اور قبر بن جائے ۔
چند سال بعد کسی کو یاد نہیں رہے گا کہ میں کون تھی؟ آہستہ آہستہ میرا خیال سب کے ذہنوں سے محو ہوجائے گا۔

وہ اس عورت کی باتیں بہت بےدلی سے سن رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ دنیا کتنی عجیب ہے مجھے پوری زندگی اس بات کا قلق رہا کہ میں اس بھری دنیا میں تنہا ہوں لیکن اس عورت کی باتیں دل کاٹ رہی تھیں ۔
ان سب لوگوں کو مجھ سے زیادہ مجھ سے متعلقہ چیزیں اور توقعات عزیز رہیں ۔ کسی نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ میں دل سے کیا چاہتی ہوں؟ مجھے کیا پسند ہے کیا ناپسند۔۔۔ میں صرف بیٹی، بہن بیوی اور دوست نہیں ایک پوری اور مکمل انسان بھی ہوں لیکن یہ صرف دِکھتا ہے نظر نہیں آتا۔ تو اب جبکہ میں مرچکی ہوں میں اپنے حصے کی چیزوں پر بٹوارہ اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتی ہوں۔ جائیداد، گاڑی، زیور اور روپے پیسے سب پر۔
محمد علی ہم انسان جانوروں سے بھی بدتر ہیں ہم کسی کے مرنے کا انتظار نہیں کرتے بلکہ زندہ انسانوں کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں کہ وہ زندہ در گور ہوجاتا ہے۔ میں مرنے کے بعد بے حس نہیں ہوئی بلکہ مجھے ان لوگوں کے بےحس روئیے نے بہت پہلے مار دیا تھا اور اب اس بےحسی کے باعث میں افسردہ بھی نہیں ہوں ۔ آؤ ہم اپنے مرنے کے بجائے اپنوں کی بےحسی پر ماتم کریں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”لاوارث۔۔قراۃ العین حیدر/افسانہ

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *