ریاست کو سب کے رہنے لائق بنائیں۔۔عمار کاظمی

سیکولرازم کا مطلب لادینیت نہیں، اس کا مطلب محض اتنا ہے کہ ریاست کا ہر شہری اپنے مذہب، عقیدے اور نظریے پرعمل کرنے اور اس کےتحت زندگی بسر کرنے میں آزادہوگااور امور سلطنت میں مذہب کا کوئی دخل نہ ہوگا۔یعنی ”سیاسی و معاشرتی معاملات میں مذہب کی عدم مداخلت کا نام سیکولرازم ہے“۔ جب دین میں جبر ہی نہیں اور دین خود کہے کہ’’تمھارے لیے تمھارا دین ہمارے لیے ہمارا دین‘‘ تو سیکولر ازم قبول کرنے میں قباحت کیا ہے؟ مطلب ہم عجب کنفیوزڈ قوم ہیں کہ مُلا یا عالمِ دین کو ووٹ بھی نہیں دینا اور سیکولرازم پر اعتراض بھی کرنا۔ ذرا ثابت کیجیے اس سوچ کے تحت پاکستان ایک اسلامی ریاست کیسے ہے؟ کیا خلفائے راشدین کے دور میں ان سے بہتر شریعت اور دین کو سمجھنے والے کوئی دوسرےموجود تھے؟ آپ ایک سپریم (مذہبی پیشوا، امیر المومنین) لیڈر کے بغیر اسلامی ریاست کا تصور کیسے قائم کر سکتے ہیں؟ کیا جناح سے لے کر آج تک کے حکمران آپ کے جید علمائے  کرام سے زیادہ عالم فاضل تھے یا ہیں؟ مطلب دین کی سمجھ تو سیاسی علما میں بھی آپ کے ان روایتی سیاستدانوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ تو یہ سب منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟

کیا شاہد خاقان عباسی یا پھر موجودہ سپریم کورٹ سے نا اہل وزیر اعظم میاں نواز شریف تمام مکاتب فکر اورمسالک کے جید علمائے  کرام سے زیادہ مذہب کی سمجھ رکھتے ہیں جو آپ اُنھیں منتخب کرتے ہیں؟ وجہِ انتخاب کیا ہے؟ کیوں مولویوں کو منتخب نہیں کرتے؟ یقیناً آپ کے پاس وجہ انتخاب کی وہی دلیل ہوگی جو اوپر سیکولرازم کی تعریف بیان کی گئی ہے۔ یعنی آپ یہی سمجھتے ہیں کہ سیاسی و معاشرتی معاملات کے فیصلے علمائے  کرام بہتر انداز میں نہیں کر سکتے۔ اگر آپ انھیں اہل سمجھتے تو ہمیشہ انہی کو ووٹ دیتے اور تاریخ میں نہ کوئی جناح ہوتا نہ بھٹو ،نہ بے نظیر نہ نواز شریف اور نہ ہی عمران خان بطور لیڈر تسلیم کیا جاتا۔ ان تمام لوگوں سے ایک عام مولوی بھی دینی معاملات میں زیادہ صاحبِ علم ہوتا ہے۔ تو بھائی یا تو صرف مولوی کوووٹ دو(بھلے اپنے اپنے مکاتب فکر والے کو ہی کیوں نہ دو) یا پھر سیکولرازم کی غیر منتقی  اور منافقانہ مخالفت کی روش ترک کرو۔

ہم جانتے ہیں کہ مختلف مکاتبِ فکر کم از کم پاکستانی معاشرے میں کبھی یکجا نہیں ہو سکتے ۔اور اگر کبھی اکٹھے ہو بھی جائیں یا کر بھی دیے جائیں ایم ایم اے کی طرح (متحد کرنے والے کون تھے اور وہ کیسے جیتے اس بحث میں پڑے بغیر) تو آپ ایک ہی ٹرم کے بعد انھیں مسترد کر دیتے ہو۔ بس یہی وجہ ہے کہ ہم سیکولرازم کی مسلسل حمایت کرتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ اس دور میں کوئی ایسی مذہبی شخصیات موجود ہیں جوخود کو مذہب کے علاوہ سیاسی،سماجی اور معاشی محاذ  پر بھی اہل ثابت کر سکیں۔ ہم جو کم و بیش گزشتہ ستر برس سے تنزلی اور زوال کا شکار ہیں ہماری ناکامی کی بنیادی وجہِ ہی یہی ہے کہ ہماری فکر اور عمل ایک نہیں۔ووٹ ڈالتے ہمیں مذہب کا خیال نہیں آتا مگر سیکولرازم کی بات پر(چاہے وہ مذہب سے متصادم ہو نہ ہو) ہم جھٹ سے مذہب کو بیچ میں لے آتے ہیں۔ اور فرمان جاری کر دیتے ہیں کہ ’’پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے‘‘ ۔ پاکستان کواسلامی ریاست ثابت کرنے کے لیے ہمارے پاس اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہ ملک مسلمانوں کے لیے ایک الگ ریاست کے حصول کی ڈیمانڈ کے نتیجے میں بنا تھا۔

چلیے ہم سیکولر دانشورد وستوں کے اس انکار اور مقدمے میں بھی نہیں پڑتے کہ جناح صاحب کے مقاصد کیا تھے اور انھوں نے اپنی تقاریر میں کیا کہا تھا، آپ صرف اتنا بتا دیجیے کہ آپ مذہبی سیاسی جماعتوں کے علمائے  کرام کو ووٹ دینے کی بجائے عمران، نواز اور زرداری جیسے عام لوگوں(دینی لحاظ سے) کوووٹ دینا کیوں پسند کرتے ہیں؟ یقیناً اکثریت کے  پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہوگا، مگر بغیر جانے ،بغیر سمجھے جاہلوں کی طرح سیکولرزام کی مخالفت اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہوئے بہت سے لوگ کرتے نظر آئیں گے۔ مولوی نے غلط ترجمہ کیابتایا کہ سیکولرازم لادینیت کا نام ہے تو مان لیا، مگر وہی مولوی آپ کے ووٹ کا حقدار نہیں۔ کیسی مضحکہ خیز  فکر ہے یہ ؟

دنیا ترقی کر کے جانے کہاں پہنچ گئی مگر ہم ہیں کہ آج بھی اسی لڑائی میں مصروف ہیں کہ نہیں میرا فرقہ میرا مکتبِ فکر ہی درست ہے اور دوسرا کہتا ہے نہیں میرا درست ہے۔ جب یہ بات طے ہے کہ مسلمانوں میں اتنے فرقے بنیں گے تو پھر تاریخ میں الجھے رہنے سے انسانیت اور دین کی کونسی خدمت کی جا رہی ہے؟ سنی شیعہ اختلاف کم و بیش چودہ سو سال پرانے ہیں، تو کیا یہ اب حل ہو جائیں گے؟ کہاں سے وہ تاریخ وہ مورخ لاؤ  گے جو سب کو قبول ہوں گے؟ مطلب بنیادی اختلافات تو کیا دور ہونے تھے نئے اختلافات نے جانے کتنے ایسےفرقے اور مکاتب فکر بنا دئیے ہیں جو اپنے سوا کسی کو قبول کرنے کو ہی تیار  نہیں۔ ایک طرف ہم دین میں مساوات کی عظیم مثالیں پیش کرتے ہیں دوسری طرف حالت یہ ہے کہ ذرا سے تاریخی اختلاف پر خدا کی دی زندگی چھیننے پر راضی ہو جا تے ہیں۔ ایسے کہ جیسے ہم پر ہمارے اکابرین پر ہمارے درست ہونے کی وحی نازل ہوتی ہے۔

بھائی آپ کے جو بھی عقائد ہیں جو بھی فرقہ یا مکتبِ فکر ہے آپ اس کو درست جانتے ہوئے  اس پر مضبوطی سے عمل پیرا رہیں اور دوسرے کو اس کے عقیدے پر عمل کرنے کی آزادی دیں۔ آپ کو کس نے ٹھیکہ دیا کہ آپ نے ہر کسی کا عقیدہ مذہب مسلک درست کرنا ہے؟اور یہ کہاں کی مساوات آپ نے باقی چھوڑی کہ آپ جہاں چاہے جس کو چاہے غلط کہیں اس پر اس کے نظرئیے ،مذہب ،مسلک پر تنقید کریں، اپنی تبلیغ کریں ،مگر دوسرا کرے تو اس پر پابندی لگا دیں؟ہم عام سے مسلمان ہیں ،ہمیں تو کبھی یہ خوف لاحق نہیں ہوا کہ کوئی آ کر ہمیں ورغلا لے گا۔یہ خوف تو کفار کو ہوا کرتا تھا جو اللہ کے سچے نبی پر جادو کی تہمت باندھتے تھے۔ ہمارا ایمان اس قدر کمزور کیوں ہوکہ ہم علم کے شہر کی اُمت دلیل و منطق پر راہِ فرار اختیار کریں اور دوسروں پر پابندیاں لگائیں؟ دین میں جبر نہیں ، مساوات دین کا بنیادی جزو ہے۔ ہم اسلام کی ان بنیادی تعلیمات کی نفی کیسے کر سکتے ہیں؟اقلیتوں کی قبروں کے قطبے اکھاڑ کر پھینکے جا رہے ہیں،ان کی لاشوں کی بے حرمتی کی جا رہی ہے،کہیں کسی کو زندہ جلایا جا رہا ہے۔ یہ سب کب تک چلے گا؟ کب تک مذہبی، مسلکی اور فکری اختلافات کے نتیجے میں لوگ مارے جاتے رہیں گے اور کب تک یہ کمزور ریاست ان مظالم کا بوجھ سہے گی ؟اور کب تک ہم کنفیوزڈ   رہیں گے؟ جناب جو ریاست آپ نے مذہب کے نام پر حاصل کی تھی وہ ستر میں ٹوٹ چکی ،جو بچی ہے اسے سیکولر قرار دے کر سب کے رہنے لائق بنائیں!

عمار کاظمی
عمار کاظمی
عمار کاظمی معروف صحافی اور بلاگر ہیں۔ آپ سماجی مسائل پر شعور و آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”ریاست کو سب کے رہنے لائق بنائیں۔۔عمار کاظمی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *