بچوں کی کتاب ، پہلا انشاء،سیج ، انشے سیریل ، شارق علی/قسط1

میں ہوں عزم، سیج انٹرنیشنل یونی ورسٹی کا تئیس سالہ طالب علم ۔ ساٹھ ہزار آبادی کے شہر فہم آباد میں کوئی پینتیس ہزارطلبا ہیں اور باقی لوگ بھی سیج ہی سے جڑے ہوئے ہیں ۔ جی ہاں فہم آباد ایک سرسبز و شاداب اور بہت پر ماجرا یونی ورسٹی ٹاؤن هے جہاں ہردم کچھ نہ  کچھ ہوتا رہتا ہے ۔ سیج کے کشادہ سر سبز میدانوں میں مناسب فاصلوں پر بنے مختلف شعبوں کے بلڈنگ بلاکس ہیں۔ سامنے پھولوں کی کیاریوں اور گھنےمیپل کے درختوں کے درمیان سے ہو کر گزرتے پیدل راستے جو قریبی سڑک تک جاتے ہیں۔ بس سروس سات منٹ میں مرکزی کیمپس تک پہنچا دیتی ہے۔ لائبریری، آڈیٹوریم، سپورٹس ایرینا، میس اور ہوسٹل کی عمارتیں۔ یوں تو سب کچھ بے حد جدید اور دلکش ہے۔ لیکن ٹی ہاؤس جیسی پرجوش اور زندگی سے بھرپور جگہ شاید ہی کوئی اور ہو۔میری اکثر شامیں کھڑکی کے ساتھ والی مخصوص ٹیبل پر رمز، سوفی اور پروفیسرگل کے ساتھ دنیا بھر کے موضوعات پر مکالمے اور کافی کے ذائقے اور مہک سے لطف اندوز ہوتے گزرتی ہیں۔

دراز قد کتابوں کا رسیا رمز اور بے حد ذہین اور مباحثے کی شوقین سوفی میرے عزیز ترین دوست ہیں اور پروفیسر گل ہم سب کے من پسند استاد ۔ آج شام جب هم ٹی ہاؤس بیٹھے تو رمز نے کہا۔ پروفیسر آپ تو کرکٹر بھی بہت اچھے تھے، پھر ساری عمر تعلیم دینے میں گزاری۔ کیوں؟

یہ بھی پڑھیں  :  شیرو دادا کی سیکس ایجوکیشن۔۔۔ انعام رانا

بولے۔ میں نے نو جوانی ہی میں جان لیا تھا کہ علم اور روشن خیالی ہی انسانی صورت حال اور مسائل کا قابل اعتماد حل ہے۔ تم جیسے شاگرد جب تنقیدی نکتہ نظر، سوال کرنے کی ہمت اور منظم سوچ کا مظاہرہ کرتے ہیں تو درست فیصلے پر خوشی ہوتی ہے مجھے۔ کسی بھی استاد، قائد یا ادیب کی سوچ اور سمت کیونکہ دور تک اثر پذیر ہوتی ہے، اس لئے میں نے سب سے پہلے اپنے فلسفہ زندگی کو عقلیت پسند بنایا۔ بہت فائدہ ہوا مجھے اس بات کا۔ سوفی نے کہا۔ علم حاصل کرنے میں استاد اور شاگرد کا رشتہ اور سیکھنے کی فضا بہت اہم ہوتی  ہے۔ خوف کی حدوں کو چھوتا احترام اگر سوال کی ہمت ہی چھین لے یا فضا ایسی ہو کہ مصوری، سنگ تراش، موسیقی حتی کہ امام غزالی کے بقول ریاضی بھی حرام قرار پائے تو تخلیقی صلاحیت کی خودکشی پر حیرت کیسی۔ رمز بسکٹ پر ہاتھ صاف کرتے ہوئے بولا۔ مکالمہ ذہنی صنم کدے میں تسلیم شدہ بتوں کو پاش پاش کرنے کے لئے بہت ضروری ہے۔ ذہنی کشادگی میسر ہو تو نئے خیالات کی آرائش اور ذہنی ارتقاء ممکن ہے ۔

یہ بھی پڑھیں :  ہمارےپاس ان کاموں کے لیے وقت ہی کہاں ہے۔۔محمد اظہار الحق

پروفیسر بولے۔ روشن خیالی اخلاقی اصولوں، علم، تجربے اور سماجی فلاح میں توازن پیدا کر لینے کو کہتے ہیں۔ یہ مسلسل سیکھنے ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ کیا ہی اچھا ہو اگر ایک عالمی بنیادی نصاب تشکیل دیا جائے جس میں آفاقی قدروں مثلا نیکی، سچائی اور انصاف کے ساتھ سماجی ضرورتوں سے ہم آہنگ عملی اخلاقیات اور مختلف قوموں اور عقیدوں کا معاشی، سیاسی اور سماجی مساوات کے اصول پر مل جل کر رہنا بنیادی انسانی حق تسلیم کر لیا جاے ۔ میرے خیال میں ایسی تعلیم ہی سچی عالمی جمہوریت قائم کر سکے گی۔

میں نے کہا۔ آئیے  آئندہ صدی کے لئے ایک خواب دیکھتے ہیں۔ نوع انسانی کے ہر فرد کے لئے امن اور خوش حالی کا خواب۔ دنیا کے تمام بچوں کے لئے مشترکہ بنیادی نصابی کتاب کا خواب جو اجتماعی شعور اور انسانیت کا تقدس سکھا سکے ۔۔

جاری ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”بچوں کی کتاب ، پہلا انشاء،سیج ، انشے سیریل ، شارق علی/قسط1

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *