• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ہمارےپاس ان کاموں کے لیے وقت ہی کہاں ہے۔۔محمد اظہار الحق

ہمارےپاس ان کاموں کے لیے وقت ہی کہاں ہے۔۔محمد اظہار الحق

وہ الاسکا سے روانہ ہوئی ۔

کیا آپ کو پتہ ہے الاسکا کہاں ہے؟ دنیا کا نقشہ دیکھیے ۔یہ کرہ ء ارض کا آخری آباد کنارہ ہے۔ انتہائی شمال میں ،کچھ کچھ شمال مغرب میں ۔ یہ امریکہ کی ریاست ہے مگر جغرافیائی لحاظ سے امریکہ سے کٹی ہوئی! اس کے شمال میں ‘ مغرب میں اور جنوب میں بحرالکاہل کی بے کنار وسعتیں ہیں ۔

وہ الاسکا سے روانہ ہوئی۔تن تنہا ۔قافلہ تھا نہ کوئی گاڑی ۔جہاز تھا نہ کوئی راکٹ ۔ سفر کے لیے اس کا کل سامان اس کے د وپُر تھے۔ دو پروں کی بھی کیا حثییت تھی۔ چونچ سے لے کر دُم تک اس کی کل لمبائی چالیس سنٹی میٹر یعنی پندرہ انچ تھی۔

الاسکا سے نکل کر ا س نے اپنا رخ جنوب کی طرف کیا۔ اس کے نیچے اور اس کے اوپر ،بحرالکاہل تھا۔ کرہ ارض کا سب سے بڑ اسمندر۔اڑتے ہوئے اس کی رفتار تقریباً چھپن کلو میٹر فی گھنٹہ تھی۔

اڑتی رہی ،وہ اڑتی رہی، سورج طلوع ہوا ۔،پھر غروب ہوا۔ پھر طلوع ہوا، پھر غروب ہوا ،پھر طلوع ہوا،پھر غروب ہوا۔ اس کے نیچے جزیرے آئے ۔ملک آئے ،شہر آئے ، ہوائی کا جزیرہ آیا، فجی کا جزیرہ آیا ،بحرالکاہل پر سینکڑوں آباد اور غیر آباد جزیرے ہیں ۔یہ سب اس کے پروں کے نیچے آتے رہے۔ جاگتے رہے،سوتے رہے، صبحیں آئیں ،دوپہری آئیں ، راتیں آئیں ، پھر گئیں پھر آئیں ،وہ اڑتی رہی۔

آنکھیں بند کیجئے! دل پر ہاتھ رکھیے ۔جو آپ کو بتایا جانے لگا ہے اس پر یقین کیجئے۔ یہ کوئی سنی سنائی بات نہیں ،یہ کوئی اندازہ نہیں ، یہ کوئی داستاں نہیں ، یہ کوئی دیومالائی حکایت نہیں ، یہ کوئی اساطیری قصہ نہیں ، یہ کوئی سینہ گزٹ روایت نہیں ،یہ کسی مجذو ب کی بڑ نہیں ،یہ سائنسدانوں کے ایک گروہ کی تحقیق ہے۔ایک پرندے کے جسم کے ساتھ کمپیوٹر کی چپ بندھی تھی۔ ایک لمحے کےلیے سائنسدانوں نے اسے نظر سے، سکرین سے ،ریکارڈ سے اوجھل نہیں ہونے دیا ۔

نو دن اور نو راتیں وہ اڑتی رہی ۔ایک لمحے کے لیے بھی اس کی اڑان بند نہیں ہوئی۔ دونوں پر اس کے ہوا میں پھیلے ہی رہے۔ جھکڑ آئے، آندھیاں چلیں ، تیز ہوائیں بحرالکاہل کے پانیوں کو پہاڑوں کی اونچائی پر لے گئیں ۔ پھر نیچے سمندر پر دے مارا۔ برف کے طوفان آئے،اور اولے گرے، بارشیں ہوئیں ، بحرالکاہل کے کسی نہ کسی حصے میں ہر وقت کوئی نہ کوئی زلزلہ آتا رہتا تھا۔زلزلے آئے ۔عناصرنے ساری سختیاں آزمائیں ۔مگر یہ پندرہ انچ لمبی مادہ پرندہ اڑتی رہی۔ اس عرصہ میں اس کے پیٹ میں کوئی خوراک نہیں گئی، اس نے آرام نہیں کیا۔ اس نے پلک نہیں جھپکی، گیارہ ہزار پانچ سو کلو میٹر کا فاصلہ اس نے طے کیا ،بحرالکاہل کے جنوبی سرے پر پہنچی، یہ نیوزی لینڈ تھا، نیوزی لینڈ جزیروں کا مجموعہ ہے۔اس کے چاروں طرف بحرالکاہل کی نیگوں وسعتیں ہیں ۔ نیوزی لینڈ اس کی منزل تھی، یہ جنوب کا آخری ملک ہے۔

آپ اگر نقشے سے اٹلس سے اور گلوب سے واقف ہیں تو الاسکا او ر نیوزی لینڈ کے درمیانی فاصلے کا سوچ کر ہی آپ کو جھر جھری آجائے گی، اس کا یہ نو دن اور نو راتوں کاسفر اتنا ہی ہے جتنا کوئی انسان سات دن مسلسل ستر کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑتا رہے اور ایک پل نہ رکے۔

ہاں !اس پرواز کے دوران پرندے نے جسے bar Trailled Godwit کہاجاتا ہے، صرف ایک رعایت ،ایک سہولت سے فائدہ اٹھایا، اس کے دماغ کے دو حصے ہیں ، ایک وقت میں ایک حصہ سوتا ہے ،آرام کرتا ہے،دوسرا کام کرتا ہے، پھر پہلا جاگ جاتا ہے اور دوسرا نیند پوری کرتا ہے، اس پرواز کے دوران وہ ساری چربی جو اس نے الاسکا کے قیام کے دوران جسم پر چڑھائی تھی ،پگھل جاتی ہے، اور نیوزی لینڈ پہنچتے پہنچتے اس کا وزن آدھا آدھا یعنی پچاس فیصد رہ جاتا ہے۔

گاڈ وٹ Godwitکو غالباً ہمارے ہاں لم ڈھینگ کہتے ہیں ، فارسی میں اسے “نوک دار آبی “ کہا جا تا ہے، گاڈوٹ کی کئی اقسام ہیں ۔،سلاخ نما دم والی، سیاہ دم والی، ریڈ ناٹ ، یعنی سرخ گانٹھ، یہ مطالعہ اور مشاہدہ جس کا ذکر کیا جارہا ہے، گاڈوٹ کی اس قسم کا کیا گیا جسے Bar Trailled کہا جاتا ہے۔

لیکن حیرت کا جہاں ابھی ختم نہیں ہوا۔ یہ پرندے اسی ہزار کی تعداد میں سرما کا موسم نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں گزار کر مارچ میں واپس الاسکا کا رخ کرتے ہیں، اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ واپسی کا  روٹ مختلف ہے۔ اس کی مثال آپ یوں سمجھیے کہ کوئی پرندہ لاہور سے کراچی تک کا سفر کرے تو بہاولپور اور مشرقی سندھ سے ہوتا ہوا کراچی پہنچے مگر واپس لاہور جانے کے لیے وہ پہلے کوئٹہ جائے۔ وہاں سے پشاور اور پھر لاہور ۔گاڈوٹ آسٹریلیا سے شمال کا رخ کرتے ہیں ۔ اب یہ راستے میں ٹھہرتے ہوئے جاتے ہیں ، یہ “زرد سمندر” کوریا اور چین کے درمیان واقع ہے اصل میں بحرالکاہل ہی کا حصہ ہے۔ وہاں سے یہ روس کے مشرقی کناروں کے اوپر پرواز کرتے ہوئے الاسکا پہنچتے ہیں جہاں انہوں نے افزائش نسل کا قرض ادا کرنا ہوتا ہے۔نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا سے زرد سمندر (یعنی کوریا) کا فاصلہ دس ہزار دو سو کلو میٹر  ہے۔ وہاں کے میدانوں اور چراگاہوں میں یہ کھاتے پیتے ہیں ،آرام کرتے ہیں مگر الاسکا واپس جانا نہیں بھولتے۔ پانچ ہزار کلو میٹر کا سفر مزید طے کرکے جون تک الاسکا واپس پہنچ جاتے ہیں ۔

جس پرندے کا نام ریڈ ناٹ red knot ہے،اس کا کارنامہ سن کر یقین نہیں آتا۔ مگر کارخانہء قدرت میں حیرتوں کے خزانے ختم نہیں ہوتے۔ ایک ریڈ ناٹ کا بائیس برس تک  مطالعہ کیا گیا ۔ معلوام ہوا کہ ایک سو گرام وزنی اس پرندے نے بائیس سالوں کے دوران ہر سال نیوزی لینڈ سے سائبیریا کا تک کا سفر کیا ۔

اب اس ہنس نما پرندے کا حال سنئے جسے”بار ہیڈ ڈ گوز”bar headed goose کہا جاتا ہے۔ برطانیہ کی ہینگر یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ان پرندوں کے اجسام کے ساتھ آلات لگائے اور پھر مشاہدہ کیا ۔یہ پرندے وسط ایشیا میں رہتے ہیں ۔جاڑا آتا ہے تو ہندوستا ن کا رخ کرتے ہیں /۔اور آسام بنگال اور تامل ناڈو کی معتدل آب و ہوا  میں تعطیلات مناتے ہیں ۔

آپ کا کیا خیال ہے بار ہیڈڈ گوز وسط ایشیا سے ہندوستان آنے کے لیے کون سا راستہ استعمال کرتے ہیں  ؟نقشہ دیکھیے۔ انٹر نیٹ پر ڈھونڈیے ۔وسط  ایشیا ہندوستان آنے کا راستہ کیا ہے؟ چنگیز خان ،تیمور ۔اور بابر وسط ایشیا سے ہندوستان آئے تو افغانستان کے راستے درہ خیبر کو عبور کرکے آئے اس لیے کہ ان کے پاس گھوڑے اونٹ تھے۔ ساز و سامان تھا اور پیدل فوج بھی تھی۔مگر بار ہیڈڈ گوز کے ساتھ یہ ساری مجبوریاں یہ سارے علائق، یہ سارے بندھن نہیں ۔

وہ سیدھی ہمالیہ کے اوپر سے پرواز کرکے ہندوستان میں دخل ہوتی ہے ۔جی ہاں ! ہمالیہ کے اوپر سے! جارج لود نیوزی  لینڈ کا وہ کوہ پیما ہے جو ماؤنٹ ایورسٹ پر 1953 میں پہنچا تھا۔ اس نے گواہی دی ہے کہ اس نے ان پرندوں کو ماؤنٹ  ایورسٹ کے اوپر اڑتے دیکھا ہے۔ یہ اونچائی 29 ہزار فٹ ہے۔پرندوں کے جسموں کے ساتھ لگے ہوئے آلات نے پرندوں کی پرواز کی اونچائی چوبیس ہزار فٹ تک ریکارڈ کی ہے۔مسلسل پر مارتے ان پرندوں نے 17 گھنٹۓ تک لگا تار پرواز کی۔عجیب بات یہ ہے کہ جہاں آکسیجن کم ہوتی ہے وہاں یہ زیادہ آسانی سے سانس لے سکتے ہیں۔

یاقوت کی گردن والا گنگناتا پرندہ RUBBY .THROATED HUMMNG.BIRD جنوبی امریکہ کی باسی ہے۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے اس کا اوسط وزن پانچ گرام ہے۔ یہ نو سو میل نان سٹاپ اڑتا ہوا خلیج میکسیکو سے  ہو تا سیدھا ریاست ہائے متحدہ میں داخل ہوجاتا ہے۔ سفر شروع کرنے سے پہلے یہ جسم میں چربی ذخیرہ کرتا ہے۔ پھر بیس گھنٹے مسلسل پرواز کے دوران یہ اضافی چربی خرچ ہوجاتی ہے۔ پانچ گرام وزن رکھنے والےاس پرندے کا دل  ایک منٹ میں ایک ہزار  دو سو  پچاس بار سانس لیتا ہے۔

کون ہے جو ان پڑھ پرندے کو الاسکا سے نیوزی لینڈ تک کا گیارہ ہزار پانچ سو کلو میٹر کا فاصلہ رکے بغیر طے کراتا ہے؟ جو نیوی گیشن کے آلے GSP کے بغیر ا سے کوریا کے نزدیک واقع زرد  سمندر کے راستے واپس بھیجتا ہے ؟ ہمالیہ کی بلندیوں پر پرواز کراتا ہےاور نو سو میل نان سٹاپ اڑاتا ہے۔

جن لوگوں نے دن رات کرکے یہ ساری تحقیق کی ہے!انہیں معلوم ہی نہیں کہ ان پرندوں کو فضا میں قائم و دائم رکھنے والی ذات نے کیا کہا ہے۔

“کیا انہوں نے اپنے اوپر پرندوں کو نہیں دیکھا جو پروں کو پھیلائے رکھتے ہیں اور پروں کو سکیڑتے ہیں ،انہیں رحمٰن کے سواکوئی نہیں تھامے رکھتا ۔ بے شک وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے”۔

جن لوگوں کے  پاس  یہ آیت ہے،اصل میں تو یہ ساری ریسرچ ،یہ ساری تحقیق انہیں کرنا چاہیے تھی ،پھر یہ ریسرچ، یہ تحقیق ،اس آیت کے ثبوت کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنی چاہیے تھی مگر ان کے پاس ان کاموں کے لیے وقت ہی کہاں ہے۔ وہ ابھی “اسلامی شہد” فروخت کررہے ہیں ۔ وہ ابھی حوروں کے اسی فٹ گھیرے والے لباس کی تشہیر کررہے ہیں ۔وہ ابھی عوام کو یہ سمجھانے میں لگے ہیں کہ پتلون پہننا اور کرکٹ اور ہاکی کھیلنا حرام ہے ۔ابھی تو وہ بھین کی سری تلاش کررہے ہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *