عاصمہ جہانگیر ۔۔آصف محمود

 جنرل حمید گل سے میرا پیار ، محبت اور احترام کا رشتہ تھا ۔ اختلاف بھی پیدا ہوا مگر احترام موجود رہا ۔ ایک شام خبر ملی حمید گل اس دنیا میں نہیں رہے اور دل لہو سے بھر گیا ۔ ایک تو حمید گل کے بچھڑنے کا دکھ تھا اوپر سے بعض سیکولر حضرات نے سوشل میڈیا پر ایسی ناتراشیدہ چیزیں لکھنا شروع کر دیں کہ تکلیف کی شدت میں اضافہ ہو گیا۔وجاہت مسعود ایک مرہم کی صورت بروئے کار آئے اور انہوں نے اپنے سیکولر لشکریوں کو تنبیہہ کی کہ حمید گل سے اختلافات کا اظہار آپ پہلے بھی کرتے آئے ہو اور آئندہ بھی ان کی فکر پر تنقید کے مواقع آپ کے لیے ختم نہیں ہو جائیں لیکن یہ جنرل کا وقت وداع ہے اور ان کے چاہنے والے اس وقت افسردہ ہیں ۔

اس وقت زبانوں اور قلم کو تھام کر رکھیے ۔ اگر مرحوم کے لیے کوئی کلمہ خیر کہہ سکتے ہیں تو کہیے ورنہ اس وقت خاموشی بہتر ہے ۔ عاصمہ جہانگیر کی وفات کی خبر سنی توافسوس ہوا اور ساتھ ہی مجھے وجاہت مسعود یاد آگئے۔ عاصمہ جہانگیر صاحبہ کی فکر سے مجھے شدید اختلاف رہا لیکن اس اختلاف کا اظہار تو میں ان کی زندگی میں کئی بار کر چکا ، کالموں میں بھی ، ٹاک شوز میں بھی اور حتی کہ ان کے منہ پر بھی ۔ میں ان کا ناقد تھا اور ان کی فکر کے بعض حوالوں کا ناقد رہوں گا ۔ میری طرح ان کے اور بھی بہت سے ناقد ہوں گے لیکن یہ ان کا وقت وداع ہے ۔ یہ ان سے اختلاف کے اظہار کا موقع نہیں ہے۔ ان کے ناقدین میں سے کسی کے پاس ان کے لیے کلمہ خیر کہنے کو کچھ ہے تو اس کا اظہار ضرور کرے لیکں ایسا نہیں ہے تو کم از کم اتنی مروت اور اتنی وضع تو ہونی چاہیے کہ اس لمحے خاموش رہا جائے۔

مجھے مگر خاموش نہیں رہنا ۔ مجھے کچھ کہنا ہے۔ یادیں ہجوم کیے ہوئے ہیں۔ جس عاصمہ جہانگیر کو میں نے دیکھا ، سنا اور جس سے اکثر اختلاف کیا اس کے بارے میں کہنے کو میرے پاس ایسا بھی بہت کچھ ہے جو کسی کسی کو الوداع کہتے وقت کہا جاسکتا ہے۔ اختلاف تو بہت کر لیا اور ان کی فکر پر نقد آئندہ بھی ہوتا رہے گا لیکن جہاں ان پر نقد ہو سکتا ہے وہاں ان کی خوبیوں کی تحسین کرتے وقت بخل کیسا؟ خوب یاد ہے ، جس روز اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد آپریشن ہوا اگلے روز سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کی سماعت تھی جو آصف زردای نے بطورصدر پاکستان دائر کیا تھا ۔اس میں ، میں بھی وفاق کی جانب سے معاون وکیل کے طور پر کام کر رہا تھا ۔ اگلے روز میں کمرہ عدالت پہنچا تو میں نے دیکھا عاصمہ جہانگیر ایک ایک وکیل کے پاس جا کر کہہ رہی تھیں کہ دیکھیے اسامہ جو بھی تھا لیکن اس کی فیملی کو کیوں گرفتار کیا گیا ہے ، آئیے ہم سب مل کر یہ آواز اٹھائیں کہ اسامہ بن لادن کی بیوی بچوں کو فوری طور پر رہا جائے۔ میں عینی شاہد ہوں کہ کئی ایسے وکیل جو دائیں بازو کے ٹیپو سلطان بنے پھرتے ہیں عاصمہ جہانگیر کی بات سن کر پریشان ہو کر ادھر ادھر ہو جاتے تھے ۔ بیس پچیس وکلاء سے عاصمہ جہانگیر نے میرے سامنے بات کی لیکن کوئی ایک بھی ایسا نہ تھا جس نے گرمجوشی سے کہا ہو کہ ہاں ہمیں یہ کام کرنا چاہیے۔ جس بھاری پتھر کو اٹھانے کی بات عاصمہ کر رہی تھیں اسے چھونا بھی ان احباب کے لیے ممکن نہ تھا ۔

چنانچہ احباب سرسری سی ہاں میں ہاں ملاتے اور یہ جا وہ جا۔میں نے اگر خود یہ منظر نہ دیکھا ہوتا تو کبھی یقین نہ کرتا کہ عاصمہ جہانگیر اسامہ بن لادن کے اہل خانہ کے لیے آواز بلند کرتی پائی گئیں۔ سچ تو یہ ہے کہ آج اس ملک میں حقوق انسانی کا تصور اپنا آپ منوا رہا ہے تو عاصمہ جہانگیر کی کاوشوں کا شمار اس کے اولین اور زندہ نقوش میں ہو گا ۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا ادارہ بھی عاصمہ جہانگیر نے قائم کیا تھا ۔ یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ وہ فلسطین میں اسرائیل کی ناجائز آباد کاری پر ہونے والی تحقیق میں اقوام متحدہ کی مندوب کی حیثیت سے شامل رہیں اور کھل کر اسرائیل کے خلاف رپورٹ دی لیکن یہ بات بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے حقوق انسانی کی پامالی کے خلاف بھی انہوں نے اقوام متحدہ کی مندوب کی حیثیت سے بہت بھر پور رپورٹ پیش کی ۔ تیرہ سالہ نابینا صفیہ کا کیس اگر کسی کو یاد ہو تو اسے یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اس بیٹی کو انصاف دلانے کے لیے مملکت خداداد میں واحد آدمی جو باہر نکلا وہ یہی عاصمہ جہانگیر تھی ۔

آئین اور قانون کے ہر طالب علم کو عاصمہ جیلانی بنام وفاق کیس کا معلوم ہو گا ۔ آمریت کے خلاف یہ ایک سنگ میل تھا ۔ اس کیس میں جو عاصمہ جیلانی تھی اسی کو آج ہم عاصمہ جہانگیر کے نام سے یاد کر رہے ہیں ۔ دلیر اور حوصلہ مند خاتون جو یہ جرات رکھتی تھی کہ جو بات دل میں ہو اسے زبان پر بھی لایا جاتا ہے ۔ جو جرات زندانہ اس خاتون میں تھی اس کا اب صرف تصور ہی کیا جا سکتا ہے ۔ افتخار چودھری صاحب کے خلاف جنرل مشرف کے ریفرنس کو جب سپریم کورٹ نے خارج کیا تو عاصمہ جہانگیر کسی بچے کی طرح خوش تھیں اور شاہراہ دستور پر ہمارے ساتھ نعرے لگوا رہی تھیں اور چند ماہ بعد سپریم کورٹ کی عمارت میں وہ اسی بانکپن کے ساتھ وکلاء کو سمجھا رہی تھیں کہ جانثار نہیں اب تم قانون دان ہو ، اس لیے قانون دان جیسا رویہ رکھا کرو ۔ وہ وہ بات عاصمہ کہہ جاتی تھیں جس کے تصور ہی سے فرہاد کا زہرہ آب ہو جائے۔ اب عاصمہ اپنے اللہ کے حضور کے حضور پہنچ چکیں ۔ ہم ان کے لیے دعا گو ہیں ۔ہم دعا گو ہیں اللہ ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے ۔ ہم دعا گو ہیں اللہ ان سے رحم کا معاملہ فرمائے۔ ایک غیر معمولی باب تھا جو بند ہو گیا ۔

آصف محمود
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”عاصمہ جہانگیر ۔۔آصف محمود

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *