پابلو بیہودہ کی غیر ادبی خدمات۔۔معاذ بن محمود

موجودہ صدی میں اردو کا ایک عجیب دانشور گزر رہا ہے۔ دنیا اس دانشور کو پاگل و بیہودہ سمجھتی ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ ایسا ہرگز نہیں۔ مذکورہ شخصیت بظاہر کتنی ہی مجہول نہ ہو، اپنی ذات میں دلائل و مناطق کا ایک گہرا “بلیک ہول” رکھتی ہے۔ اگر آپ بلیک ہول سے مانوس نہیں تو ذرا ٹھہریے۔ آپ کو آپ کے بالوں کی قسم، اندازے لگانے سے گریز کیجیے گا۔ خطرناک ثابت ہوں گے۔ ہم بتلائے دیتے ہیں۔ بلیک ہول کہکشاؤں کے عین وسط میں شدید ترین کشش رکھنے والا مقام ہے۔ آپ کا ذہن پھر کہیں اور رواں ہے۔ رکیے۔۔۔ واپس آئیے! بلیک ہول، یہاں کی قید سے روشنی بھی باہر نہیں آپاتی۔ ان کے بلیک ہول سے بھی دلیل و منطق باہر نہیں آ پاتی، البتہ ان کا استعمال خوب کر لیتے ہیں۔ اسی وجہ سے مجہول و مجنون کہلائے جانے کے باوجود مشہور ہیں۔ وہ کہتے ہیں ناں بد سے بدنام برا یا بدنام ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔ بس ویسے ہی!

مشہور ہونا بھی کیسا عجب کارنامہ ہے۔ آسان نہیں، ہرگز نہیں۔ مگر کچھ ایسا مشکل بھی نہیں، خاص کر اگر بندہ عزت کے آنے جانے پہ یقین رکھتا ہو۔ مشہور سے یاد آیا’ بچپن میں ہماری گلی میں ایک بابا آیا کرتا تھا ، وضع قطع سے ایک دم ٹھیک، وہ ٹھیک رہتا جب تک کہ بچے اس پہ منتر ٹونا نہ کیے دیتے۔ منتر بھی کیا بس ایک چھیڑ۔۔ بچے کہتے “لبلبو” اور بزرگ اپنی بزرگی و شائستگی ایک جانب رکھ کر “تیری ماں تیری بہن” شروع کر دیتے۔ نوے کی دہائی میں پشاور صدر سے تعلق رکھنے والے احباب اس کردار کو بخوبی جانتے ہوں گے۔ ہمارے زیر بحث موصوف کے کیس میں یہ ذمہ ان کے ایک جانثار نے اٹھا رکھا ہے۔ کسی نہ کسی طرح مجنونِ مجہول کو مشہور و معروف کیے رکھتے ہیں۔ کبھی بازار میں اپنی قیمت دکھا کے تو کبھی ایک نمبر ہونے کا دعویٰ  کرکے۔ عوام میں آواز رکھنے والے بھی “لبلبو” کے نعرے کسنے والوں کی طرح فقرے کسنے سے باز نہیں آتے۔ جواب میں ذمہ دارِ مشہوری جلن کے ہاتھوں فیس بک پہ پوسٹ کرنے پہ مجبور ہوجاتے ہیں۔

تو ہم بات کر رہے تھے مشہور و معروف مجنونِ مجہول کی مشہوری کی۔ موصوف مشہور ہونے کے لیے بھانت بھانت کی کرامات دکھاتے رہتے ہیں۔ کرامات۔۔ جیسے چورنگی میں کھڑا سانڈے کے تیل بیچنے والے دکھاتے ہیں۔ طریقۂ واردات بعینہ وہی، جنسیت! کبھی عورت کے اعضائے مخصوصہُ کے باتصویر نمونے تو کبھی گزرے ہوئے کرداروں کے قصے بذبان اولیاء اللہ۔ طبیعت زیادہ رنگین ہو تو اخلاق سوز کہانیوں کے ذریعے جنسی خود سوزی۔ گویا کہ سندباد جہازی کے سفرنامے جونی سنز کے سنگ۔ مشہوری برحق، حق حق!

طنز کے جس کرشماتی سلسلے کا موصوف نے آغاز کروایا آثار کہتے ہیں رہتی دنیا تک حضرت اسی کے معتوب رہیں گے۔ مشہور و معروف ادیب پابلو بیہودہ کی ادبی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں البتہ یہ طے ہے  کہ ان کی غیر ادبی خدمات کے لیے ایک مضمون کم ہے!

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”پابلو بیہودہ کی غیر ادبی خدمات۔۔معاذ بن محمود

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *