• صفحہ اول
  • /
  • گوشہ ہند
  • /
  • عورت کی امامت: کہیں یہ کسی بڑے فتنے کا آغاز تو نہیں؟۔۔سہیل انجم

عورت کی امامت: کہیں یہ کسی بڑے فتنے کا آغاز تو نہیں؟۔۔سہیل انجم

گزشتہ سال ہم نے یہ خبر پڑھی اور اس کی تصویر بھی اخباروں اور سوشل میڈیا پر ملاحظہ کی تھی کہ بنارس کے ایک مندر میں کچھ مسلم برقعہ پوش خواتین اجتماعی طور پر بالکل سیپارہ پڑھنے کے انداز میں ہنومان چالیسہ کا پاٹھ کر رہی ہیں ۔ ابتدا ہی میں لوگوں کو یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ اس میں کچھ نہ کچھ شرارت کا عمل دخل ضرور ہے۔ بعد میں متعدد خبروں سے یہ بات واضح ہوئی تھی کہ ان خواتین کی قیادت کرنے والی کوئی مسلمان نہیں بلکہ ایک ہندو تھی۔ اس خاتون کی تصویر کا، جو غالباً  آر ایس ایس کی کسی تنظیم سے وابستہ ہے، دیگر تصاویر سے میل کرایا گیا تو یہ راز فاش ہو گیا تھا۔

اب کیرالہ سے ایک خبر آئی ہے جو مع تصویر اخباروں میں شائع ہوئی ہے اور سوشل میڈیا پر بھی گردش کر رہی ہے کہ ایک عورت نے نماز جمعہ کی امامت کی ہے۔ وہ ایک ادارے ’’قرآن سنت سوسائٹی‘‘ کی جنرل سیکرٹری ہے۔ اس 34 سالہ خاتون کا نام جمیتا ہے۔ اس واقعہ کی تصویر اور نماز کی ادائیگی سے بھی شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں ۔ مثال کے طور پر یہ نماز جمعہ ہے مگر اس میں محض چند افراد ہیں ۔ خیر یہ کوئی بات نہیں ۔ سب کھلے سر ہیں ۔ سب بڑی بے دلی کے ساتھ کھڑے ہیں اور ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے تصویر کشی اور ویڈیو گرافی کی وجہ سے وہ ایک قسم کے احساس گناہ میں مبتلا ہوں ۔ اس کے علاوہ یہ بھی لگتا ہے کہ خاتون امام کو نماز کی ادائیگی کا طریقہ نہیں معلوم اور کب کون سی تکبیر ادا کی جائے گی اس کا بھی علم نہیں ۔ کیونکہ وہ رکوع سے کھڑے ہونے پر سمع اللہ لمن حمدا کے بجائے اللہ اکبر کہتی ہے۔ اس کے علاوہ وہ دو سجدوں کے بجائے ایک ہی سجدہ پر اکتفا کرکے بیٹھ جاتی ہے۔

یہ نماز سوسائٹی کے دفتر میں ادا کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق وہاں ہر ہفتے نماز جمعہ کی ادائیگی ہوتی رہی ہے البتہ یہ پہلا موقع تھا جب ایک خاتون نے امامت کرائی۔ ابھی اس واقعہ کی صداقت اور اصلیت سامنے نہیں آئی ہے لیکن امکان ہے کہ جس طرح ہنومان چالیسہ کے پاٹھ کی حقیقت منظر عام پر آگئی تھی اسی طرح اس کی حقیقت بھی سامنے آجائے گی۔

قابل ذکر ہے کہ ایک روز قبل ہی اس خاتون کی جانب سے امامت کا اعلان کیا گیا تھا اور ایک مخصوص طبقے نے سوشل میڈیا پر اس کی خوب تشہیر کی تھی۔ ہندوستان میں کسی خاتون کی نماز جمعہ کی امامت کا غالباً یہ پہلا واقعہ ہے۔ اسی لیے اس کی تشہیر بھی بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے۔ انگریزی روزنامہ ٹائمز آف انڈیا میں 29 جنوری کی اشاعت میں کیرالہ کے ایک مولوی کے برسوں قبل لاپتہ ہو جانے کی خبر شائع ہوئی ہے اور اس کے ڈانڈے مذکورہ واقعہ سے ملانے کی کوشش کی گئی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان کا قتل ہو ا تھا۔ رپورٹ کہتی ہے کہ متنازعہ اسلامی اسکالر مولوی چیکنور Chekannur کی تعلیمات قرآن پر مبنی تھیں اور وہ صنفی مساوات پر زور دیتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ پردہ غیر اسلامی ہے۔ وہ طلاق ثلاثہ کے بھی مخالف تھے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ جمیتا ان کی معنوی شاگرد ہے۔

رپورٹ کے مطابق 29 جولائی 1993 کو کچھ لوگ ملاپورم میں واقع پی کے محمد ابو الحسن مولوی عرف چیکنور کے گھر آئے اور کہا کہ وہ ایک پروگرام میں انھیں لے جانا چاہتے ہیں ۔ لیکن اس کے بعد وہ لاپتہ ہو گئے۔ اس معاملے میں ایک کیس چلا اور سی بی آئی کی ارناکلم عدالت نے 30 ستمبر 2010 کو وی کے حمزہ نامی شخص کو مولوی کے قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے کہا کہ اگر چہ چیکنور کو قتل کیا گیا تھا مگر ان کی لاش نہیں ملی۔ بتایا جاتا ہے کہ شمالی کیرالہ کے ایک طاقتور سنی رہنما کا مبینہ طور پر اس قتل میں ہاتھ تھا لیکن سی بی آئی کی حتمی رپورٹ میں اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔ ایسا سمجھا گیا کہ ایک گروپ نے قتل کی ذمہ داری لی تھی اور ایک دوسرے گروپ نے لاش کو غائب کر دیا۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ چیکنور کے ذریعے اس بات پر زور دینے کی وجہ سے کہ حدیث کی کتابوں میں جو حدیثیں درج ہیں ان میں سے بیشتر فرضی ہیں ، وہ کیرالہ کی بڑی مسلم تنظیموں کے نشانے پر رہے ہیں ۔ ’’دانشوروں ‘‘ کے ایک طبقے میں مذکورہ مولوی کو بڑی پذیرائی حاصل تھی۔ ایک سماجی کارکن ایم کے کاراسرے M K Karassery کے مطابق میں نے ایک بار جمیتا کو ’’لیڈی چیکنور‘‘ کہا تھا۔ کیونکہ وہ اسلام میں مولویوں کے اس نظام کے خلاف، جس میں مردوں کو برتری حاصل ہے، لڑائی کا عزم کیے ہوئے ہے۔ ممکن ہے کہ اس کی ملاقات مذکورہ مولوی سے نہ ہوئی ہو لیکن ان کے خیال میں جمیتا حقیقتاً مولوی چیکنور کی معنوی شاگرد ہے۔

اب تک مذکورہ خاتون کے بارے میں جو خبریں آئی ہیں ان میں اس بات کو زیادہ ابھارنے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ اسلام میں مردوں اور عورتوں کے مابین مساوات پر زور دیتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اسلام نے مردوں اور عورتوں کو برابری کا درجہ دیا ہے اس لیے ہر معاملے میں ان میں مساوات ہونی چاہیے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس نے نماز جمعہ کی امامت کے فرائض انجام دینے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ بات کہ اسلام نے مردوں اور عورتوں کو برابری کا درجہ دیا ہے، غلط ہے۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ایک مرد کے مقابلے میں دو عورتوں کی گواہی کی بات نہیں کہی گئی ہوتی۔ اور یہ کہ نکاح مردوں کی گواہی پر ہوتا ہے عورتوں کی گواہی پر نہیں ۔ اس کے علاوہ قرآن مجید میں کہا گیا ہے کہ مرد عورتوں پر قوّام یعنی حاکم ہیں ۔ اس کا مطلب تو یہی ہوا کہ عورتیں محکوم ہیں ۔ یوں بھی اگر مردوں اور عورتوں کی جسمانی بناوٹ دیکھی جائے تو دونوں میں بہت فرق ہے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ بہت سی عورتیں عزم و ارادہ اور کردار کے معاملے میں بہت سے مردوں کے مقابلے میں کہیں مضـبوط ہوتی ہیں اور بہت سی عورتوں نے بے تحاشہ اسلامی خدمات انجام دی ہیں ۔ لیکن جسمانی ساخت اور مضبوطی کے اعتبار سے عورتیں ہر حال میں مردوں سے کمتر ہیں ۔

ابتدائے اسلام میں بہت سی صحابیات میدان جنگ میں مسلمانوں کو پانی پلاتی تھیں یا زخموں پر مرہم پٹی کرتی تھیں لیکن انھیں جنگ میں شریک ہونے کے لیے نہیں کہا گیا یا انھوں نے جنگوں میں حصہ نہیں لیا۔ اسلام کی بات چھوڑ دیجیے ہندوستان جیسے ملک میں فوجی عورتوں کو لڑائی کے میدان میں نہیں بھیجا جاتا۔ اس کا قانون ہی نہیں ہے۔ ان سے دوسرے شعبوں میں جیسے کہ طبی، قانونی اور تعلیمی وغیرہ میں خدمات لی جاتی ہیں ۔ اس سلسلے میں کئی برسوں سے انسانی حقوق اور عورتوں کی تنظیموں کی جانب سے مطالبات ہو رہے ہیں اور اب جا کر ایک قدم آگے بڑھایا گیا ہے کہ فوجی عورتوں کو لڑاکا ٹکڑی میں شامل تو کیا جائے گا لیکن انھیں میدان جنگ میں نہیں بھیجا جائے گا۔ انھیں دوسرے کام تفویض کیے جائیں گے۔جیسے کہ پہلے انھیں ملٹری پولیس میں داخل کیا جائے گا۔ ان کو محاذ پر نہ بھیجنے کی جو کئی وجوہات بیان کی جاتی ہیں انہی  میں ان کی جسمانی ساخت کے علاوہ ایک وجہ ان کا مخصوص ایام سے گزرنا بھی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر لڑائی کے دوران کوئی فوجی عورت حیض میں مبتلا ہو جائے تو اس سے ہونے والی تکلیف اس کے فرض کی ادائیگی میں رکاوٹ بن جائے گی۔ لہٰذا ابھی ہندوستان جیسے ملک میں ، جہاں عورتوں کو حقوق دینے کی بہت باتیں کی جاتی ہیں ، میدان جنگ میں نہیں بھیجا جا رہا ہے۔ صرف چند ملکوں میں خواتین کو یہ رول حاصل ہے، تمام ملکوں میں نہیں ۔ تو جب ایک دنیاوی معاملے میں مخصوص ایام کی وجہ سے عورتوں کو محاذ جنگ پر نہیں بھیجا جا سکتا تو پھر نماز جیسی مقدس عبادت کی امامت ان کو کیسے تفویض کی جا سکتی ہے۔

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ عورتوں کی مخصوص ایام کی نماز معاف کر دی گئی ہے۔ ان دنوں میں وہ ناپاک رہتی ہیں اور ناپاکی میں نماز نہیں ہو سکتی۔ اور پھر جب تک عورت سن یاس کو نہ پہنچ جائے اس وقت تک اسے ہر ماہ اس مرحلے سے گزرنا ہے۔ ایسے میں بہت سی قباحتیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ ایک بات اور کہ اسلام میں مرد و عورت کے اختلاط کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اسی لیے خلفائے راشدین کے دور ہی میں عورتوں کو مسجدوں میں آکر نماز پڑھنے سے روک دیا گیا کہ اس سے ایک بڑے فتنے کا دروازہ وا ہو جائے گا۔ البتہ اگر مسجد میں اس کا انتظام ہو کہ مرد اور عورت بالکل الگ الگ منزلوں میں نماز ادا کریں اور ان کی آمد و رفت میں اختلاط بھی نہ ہو تب تو وہ مردوں کے ساتھ مسجد میں نماز ادا کر سکتی ہیں ۔ لیکن وہاں بھی وہ امامت نہیں کر سکتیں ۔ ہاں اگر کسی مسجد میں یا کہیں اور صرف عورتیں ہی نماز پڑھ رہی ہیں تو ان کی امامت عورت کر سکتی ہے۔ یہ بھی حکم ہے کہ کوئی عورت اتنی بلند آواز میں بات نہ کرے کہ اس کی آواز کسی غیر محرم مرد کے کانوں میں پڑے۔ اب اگر وہ امامت کرے گی تو جہری نمازو ں میں قرآت بھی کرے گی اور اس کا سننا ضروری بھی ہوگا ورنہ قرآن کی بے حرمتی ہوگی۔ اس کے علاوہ عورت کی امامت کے دوران کسی بھی مرد کے دل میں شیطان نفسانی خواہشات ڈال سکتا ہے۔ جو لوگ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اسلام میں مردوں اور عورتوں کو مساوی درجہ حاصل ہے وہ ایک غلط بات پر اصرار کر رہے ہیں ۔ ہاں اس بات کو ضرور پوری قوت کے ساتھ کہنا چاہیے جوکہ درست بھی ہے، کہ اسلام نے سب سے پہلے عورتوں کو بہت زیادہ حقوق دیے اور ان کے عزت و وقار میں اضافہ کیا، ان کا تحفظ کیا۔ جو غیر مسلم مردوں اور عورتوں میں مساوات کی بات کرتے ہیں کیا وہ یہ بتا سکتے ہیں کہ ان کے مذہب میں عورتوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے یا ان کو کیا اختیارات دیے گئے ہیں ۔ ان کی مذہبی کتابوں میں عورتوں کو کیا درجہ ملا ہوا ہے۔ اسلام نے عورتوں کو بہت ہی متبرک مقام پر فائز کیا ہے۔ اور یہ نظام قدرت ہے کہ حاکم اور محکوم کے بغیر یہ دنیا نہیں چل سکتی۔ جب دنیاوی امور میں حاکم اور محکوم کا ہونا لازم ہے تو پھر دینی امور میں کیوں نہیں ۔ اگر ایک فیملی میں مرد اور عورت دونوں حاکم ہوں اور دونوں اپنی اپنی مرضی چلانے پر اصرار کریں تو ذرا تصور کیجیے کہ اس گھر کا کیا ہوگا۔ ہمارے جد امجد حضرت آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے پیدا ہونے والی مائی حوا کی نسوانی اولاد کو ان کی اولاد نرینہ کے برابر درجہ دینا کہاں تک صحیح ہے۔ اس معاملے میں ضرور کوئی سازش یا شرارت ہے جس کا راز فاش ہو کر رہے گا۔

بشکریہ مضامین

گوشہ ہند
گوشہ ہند
ہند کے اردو دان دوست آپ کیلیے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *