ای وی ایم پر احتجاج نظر انداز نہیں کیا جاسکتا: حفیظ نعمانی

کل کے اخبارمیں برار عزیز سجادنعمانی کا ایک مضمون سب نے پڑھا ہوگا۔ انھوں نے سپریم کورٹ کے جج صاحبان کے اس مشورہ کہ بابری مسجد رام مندر کا مسئلہ ہندو اور مسلمان عدالت سے باہر بیٹھ کر ہی سلجھالیں تو اچھا ہے، 1949میں گاندھی جی کے قتل اور اس کے ا ثرات کوبابری مسجد میں مورتیاں رکھ کر کم کرنے سے لے کر اب تک ہونے والی آر ایس ایس کی شاطرانہ چالوں سے ملادئے ہیں۔ اور جو کچھ انھوں نے کہا ہے وہ حرف بہ حرف درست ہے۔
ہم بھی ان لوگوں میں ہیں جنھوں نے برسبیل تذکرہ یہ لکھا ہے کہ ای وی ایم ووٹنگ مشینوں کے ساتھ اترپردیش ا ور اتراکھنڈ کے نتیجے چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ نہیں ہیں۔بلکہ یہ اس کا نتیجہ ہے کہ وزیر اعظم نے اپنا وہ سیکولر مکھوٹا جو پہلے ہی سے جگہ جگہ سے پھٹ گیا تھا وہ اتار کر تیسرے راؤنڈ کے بعد پھینک دیا تھا اور سیدھا سیدھا ہندو بنام مسلم الیکشن بنادیا تھا۔ انھوں نے تین راؤنڈ تک تو سب کا ساتھ سب کا وکاس کا وہ ڈھونگ رچایا جو 2014میں رچایا تھا۔ اس کے بعد قبرستان اور شمشان، دیوالی اور رمضان کو آمنے سامنے کرکے پورے الیکشن میں صرف یہ ثابت کیا کہ سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج مسلم نواز پارٹیاں ہیں اور بے چارے ہندوؤں کی صرف ایک پارٹی ہے جس کا نام بی جے پی ہے۔
اور دوسرا جھوٹ انھوں نے مسلسل یہ بولا کہ ۱۱؍ تاریخ کو نتیجے آئیں گے، ۱۳؍ تاریخ کو ہم فتح کی ہولی منائیں گے اور ۱۵ کو حکومت حلف لے گی پھر اس کی پہلی میٹنگ میں کسانوں کا قرض معاف کردیا جائے گا۔ وہ قرض جس کی بنا پر ہزاروں کسان خودکشی کرچکے ہیں اور مزید کرنے والے ہیں۔ اس لیے کہ نوٹ بندی کی وجہ سے کسان کو اس لیے اچھا بیج نہیں ملا کہ ۵۰۰ اور ۱۰۰۰ کے پرانے نوٹوں سے صرف سرکاری دوکانوں پر بیج مل رہا تھا جو ہر سرکاری چیز کی طرح بیج کم کوڑا زیادہ تھا۔ اور اچھا بیج جن کے پاس تھا وہ نئے نوٹ مانگ رہے تھے۔ اس کا نتیجہ اپریل میں سامنے آجائے گا کہ گیہوں کا دانہ یا تو باریک ہوگا یا دانہ پورا ہوگا مگر اس میں آٹا کم ہوگا اور وہ خریداری مرکزوں پر واپس کردیا جائے گا۔ اور جب گیہوں کے پورے پیسے نہیں ملیں گے تو قرض کہاں سے دے گا؟
اترپردیش کے کسانوں نے نہ چاہتے ہوئے بھی مودی کوووٹ دئے ہوں گے۔ یہ تو انہیں اب معلوم ہوا ہے کہ قرض سے یوپی کی حکومت سے کوئی تعلق نہیں وہ تو مودی جی کے ہاتھ میں پہلے بھی تھا اور اب بھی ہے۔
الیکشن جب ہندو مسلم ہوجاتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟ ہم نے 1946کے الیکشن میں دیکھا تھا کہ مسلمانوں کی نوے فیصدی بھیڑ جب ہندو کو نہیں، تقسیم کے مخالف علماء اور نیشنلسٹ مسلمانوں کو کافروں سے بد تر سمجھتی تھی اور صرف مرد یا لونڈے نہیں عورتیں اور بچے بھی کہتے تھے کہ وہ جارہے ہیں برلا کے ٹٹّو اور ٹاٹاکے پٹھّو ۔یہ فضا ایسی ہوتی ہے کہ لوگ گھروں سے نکلنا چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن اکھلیش بھی ہندو تھے اور مایاوتی بھی مسلمان نہیں تھیں اس لیے وہ ماحول تو نہیں بنا لیکن یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ اس کا بھرپور اثر نہیں ہوا۔ بہار کے لوگ اس کی تائید کریں گے کہ بی جے پی کا برا حال وہاں صرف اس افواہ نے کیا کہ موہن بھاگوت ریزرویشن واپس لے لیں گے۔
لیکن یہ حقیقت ہے کہ ان تمام باتوں کے بعد بھی ہار جیت تو ہوسکتی تھی لیکن اتنی بڑی جیت خواب و خیال میں بھی نہیں تھی اور اس میں مشینوں کا کھیل وہ جیسا بھی ہوسکتا ہے ، لیکن اتنے بڑے ہندوستان میں کیا صرف وہی دو چار انجینئر ہیں جو مودی کے غلام ہیں؟جب نسیم زیدی صاحب چیلنج کررہے ہیں کہ مشینیں حاضر ہیں جو کوئی اس میں ایسا کردے کہ بٹن کوئی بھی دباؤ کمل کا پھول دبے گا وہ آئے اور کرکے دکھائے، تو جواب میں یہ کیوں کہا جارہا ہے کہ جرمن یا امریکہ یا ان ملکوں کا انجینئر ہو جہاں ان کا ا ستعمال بند کیا گیا ہے۔
ہمارا 1953سے الیکشن اور ہونے والی بے ایمانی اور ایمانداری سے تعلق ہے۔1953میں جو بے ایمانی ہوئی وہ بہت آسان تھی اور 1971میں جو علی گڑھ میں یونس سلیم صاحب کے الیکشن میں ہوئی وہ بہت مشکل لیکن سب سے بڑی تھی۔ بیلٹ پیپر جیب میں رکھ کر واپس لے آنا، ایک آدمی یا عورت کا بار بار ووٹ ڈالنا یا جعلی ووٹ ڈالنا اور کاؤنٹنگ کے وقت ٹیبل نمبر 22کے بارے میں بتانا اور رجسٹر میں کچھ اور لکھنا یہ سب سے خطرناک کھیل تھا۔
1990ء میں ہمارے حضرتِ دل نے جواب دے دیا اور پیس میکر لگوانا پڑا۔ ڈاکٹروں نے سب سے زیادہ پرہیز ٹینشن کا بتایا اور الیکشن کا ٹینشن وہی جانتے ہیں جنھوں نے خود لڑا ہو یا اپنا سمجھ کے لڑایا ہو۔ اس لیے ہم مشین کے بارے میں کہنے کا حق نہیں رکھتے کیوں کہ ہم نے مشین سے ووٹ دیا تو ہے لیکن یہ نہیں معلوم کہ پولنگ ایجنٹ اور کاؤنٹنگ ایجنٹ کو کہاں تک جانے کی اجازت ہے؟ اور کیا ایجنٹ کو اس کا اطمینان ہے کہ وہ یہ کہہ سکے کہ ووٹ دیتے وقت یا گنتی کے وقت بے ایمانی نہیں ہوسکتی ؟
علی گڑھ میں اگر یونس سلیم صا حب کے بجائے کوئی ہندو لیڈر لڑتا تو وہ سیٹ کانگریس آرام سے جیت جاتی۔ خود کانگریس کے لوگوں کو بھی شکایت تھی کہ باہر کے آدمی کو کیوں دیا؟ اور آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ برہمانند ریڈی نے سلیم صاحب کی مسلم نوازی کی وجہ سے ہی کہا تھا کہ میں اس بار ان کو ٹکٹ نہیں دوں گا جس کے جواب میں کانگریس کے جنرل سکریٹری ہیم وتی نندن بہو گنا نے ا علان کردیا تھا کہ سلیم صاحب اترپردیش کی جس سیٹ سے لڑنا چاہیں گے انھیں ٹکٹ دیا جائے گا۔ یہ تھی وہ وجہ کہ ووٹ ڈالنے کو ۱۰ آدمی بھی نہیں آئے مگر ۸۰ فیصدی ووٹ پڑ گیا۔ اس لیے کہ پولنگ پر ہر افسر اور کلرک ہندو تھا اور وہ فساد کے بعد برہمانند ریڈی ہوگیا تھا۔
اب اگر مودی جی کے قبرستان اور شمشان اور دیوالی اور رمضان کی فرقہ وارانہ تقریروں نے پولنگ اور کاؤنٹنگ کے عملہ کو بھی ہندو بنادیا ہو تو مشینوں میں کچھ بھی کئے بغیر سب کچھ ہوسکتا ہے۔ اب اکھلیش یادو کو صرف اپنی بوا کی تائید کرنے کے بجائے اور ’’اگر‘‘ لگانے کے بجائے خود سامنے آنا چاہیے۔ وہ نہ کہیں کہ بے ایمانی ہوئی ہے لیکن یہ کیوں نہیں کہتے کہ اگر عوام کا بھروسہ مشین سے اٹھ گیا تو اسے تبدیل کیا جائے۔ کیوں کہ ا صل چیز عوام ہیں وہ اگر کسی کو ووٹ دے کر یہ اطمینان نہ کریں کہ اسے ملا، یا نہیں تو وہ طریقہ اختیار کیا جائے جس سے ہر ووٹر کو اطمینان ہو۔

گوشہ ہند
گوشہ ہند
ہند کے اردو دان دوست آپ کیلیے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *