وارث۔۔روبینہ فیصل/افسانہ،آخری حصہ

ثریا غصے سے اپنی بڑی بہو،جو اس کی سگی بھانجی تھی، کو کہہ رہی تھی:
” کیسی  عورت (پہلے وہ ہاجرہ کو اس نام سے بلاتی تھی)ہو، کہ تم سے ایک زندہ بچہ نہیں پیدا ہو رہا۔۔میری تو قسمت پھوٹ گئی جو تم جیسی سے اپنے ہونہار چاند جیسے بیٹے کی شادی کر دی “۔۔بہو جو مردہ لڑکے پیدا کر کر کے کمزوری اور غم سے بے حال ہو چکی تھی اور  ثریا ہی کے خاندان کی تیزی طراری جہیز میں ساتھ لائی تھی غصے سے پھٹ پڑی:
“آپ اپنے بیٹے کا علاج کروائیں۔میرا قصور نہیں،جائیں دیکھیں میڈیکل سائنس کیا کہتی ہے؟ میں نے نہیں کہا تھا کہ میری شادی اپنے ہونہار سے کروائیں، میں تو یہ شادی کر نا ہی نہیں چاہتی تھی،آپ لوگ فیصلے کرنے سے پہلے سوچ لیا کریں،کزنز کی شادی بار بار ہو گی تو یہی کچھ ہو گا”۔
“توبہ توبہ کیسا کفر بول رہی ہے، اسلام میں ہے بی بی اسلام میں”۔ثریا نے سوچا ایک ہی بیٹا ہو تا تو اس کی دوسری شادی کا سوچتی، مگر یہاں تو اللہ کے فضل سے تین تین بیٹے تھے، لہذا وہ دوسرے بیٹے کی شادی کا سوچنے لگی۔جب سجاد کو اس کے ارادے کا پتہ چلا تو، اس نے بیوی کو سمجھایا کہ دوسرے کو ڈپریشن کے جس طرح کے شدید اٹیک آتے ہیں ایسے میں اس کی شادی کر نا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ کیونکہ
کئی دفعہ، جب وہ کسی چھوٹی سی بات پر بھی غصے سے بے قابو ہو جاتا تھا تو چیزیں اٹھا اٹھا کر گھر والوں پر مارنا شروع کر دیتا تھا اور سب مل کر اسے مشکل ہی سے کنڑول کرتے تھے۔ اس لئے، اس گھر میں کوئی بھی اس کی مر ضی کے خلاف چھوٹا سا بھی کام نہیں کرتا تھا اور ہر دم اس کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش ہو تی۔اس نے تعلیم بھی ادھوری چھوڑ دی تھی اور اپنے کمرے میں بند بس خاموش خلاؤں میں گھورتا رہتا یا کبھی کبھار کچھ لکھ لیتا تھا۔۔کیا لکھتا رہتا تھا کبھی  کسی نے دیکھنے کی جرات نہیں کی تھی۔ حتی کہ کام والیاں بھی اس کے کمرے میں جانے سے گر یز کر تی تھیں۔ ایسے میں اس کی شادی کا سوچنا ہی بے و قوفی تھی۔مگر ثریا کو لگتا تھا شاید  بیوی کے آنے سے اس میں تبدیلی آجائے۔ اس نے سجاد کے انکار کے باوجود اس کی شادی کے لئے خاندان اور محلے میں رشتے کے لئے کوششیں جاری رکھیں مگر اس لڑکے کے پاگل پن کی باتیں اتنی مشہور تھیں کہ کوئی بھی اس آنکھوں دیکھے پاگل کو نگلنے کو تیار نہیں تھا۔

ماں کے روز کے طعنوں سے اور بھائی کی ایسی چخ چخ سے تنگ آکر بڑا بیٹا بیوی کو لے کر الگ ہو گیا۔اب تک اس کے دو بیٹے مر چکے تھے، ایک تو اس کی بیوی کے پیٹ میں ہی اور ایک،آدھے گھنٹہ دنیا میں سانس لینے کے بعد۔بڑے کو لگتا تھا شاید  وہ خود بھی درمیانے کی طرح پاگل ہو جائے گا۔جس دن وہ الگ ہو ا اس کے ٹھیک ایک سال بعد اس کے ہاں صحت مند بیٹی کی پیدائش ہو ئی، مگر ساتھ ہی ڈاکٹر نے اس کی بیوی کو بتایا کہ اب وہ مزید بچے پیدا نہیں کر سکے گی اور یہی بیٹی ان کا سرمایہ حیات ہو گی۔ دونوں میاں بیوی،مایوسی اور موت کے اس اندھیرے میں صحت مند اور زندہ سلامت بچی کو پا کر بہت خوش ہو ئے۔مگر ثریا کو جب یہ پتہ چلا کہ اس کی بھانجی اب اس بچی کے بعد کو ئی اور بچہ پیدا نہیں کر سکے گی تو وہ بے چین ہو اٹھی، مگر بیٹے کو دوسری شادی کا مشورہ نہیں دے سکتی تھی۔ زمانہ بدل چکا تھا، اور اس کا بیٹا بیوی کے باپ کی دولت اور عہدے سے بے شمار فائدے حاصل کرتا تھااس لئے وہ ایک بیٹی کو پا کر ہی مطمئن ہو چکا تھا۔

اب سجاد کو یہ خیال بڑی شدت سے ستانے لگا کہ ثریا نے چار بیٹوں کو جنم تو دیا مگر ان میں سے اب تک تین تو سجاد کا نام آگے بڑھانے کے لئے نااہل ہو چکے تھے، ایک کو موت ساتھ لے گئی، ایک کے بیٹوں کو موت لے گئی اور ایک شادی ہی کے قابل نہیں۔۔سجاد کے دماغ میں چار بیٹوں کا باپ بننے کے بعد بھی،اتنے سالوں بعد، پھر سے سالوں پہلے والے لفظ بی۔۔ٹا۔۔بی۔۔ٹا کی تکرار شروع ہو چکی تھی۔
سب سے چھوٹا بیٹا، امید کا واحد مر کز رہ گیا تھا۔ اس نے نجانے کیسے مگر بغیر اعلی تعلیم حاصل کیے بہت دولت اکھٹی کر لی تھی۔ ثریا تو اس کی دولت کی وجہ سے اس کے صدقے واری جاتی تھی، انتہائی حسین اور امیر لڑکی سے اس کی شادی کر وا دی گئی۔اس کے گھر بھی پہلی بیٹی ہو ئی۔ مگراس کی بیوی دھن کی پکی تھی، سوچ کے آئی تھی کہ اس خاندان کو بیٹا دے گی اور اس طرح اس خاندان کی ساری دولت اور عزت اکٹھی کر لے گی۔اس لئے وقت ضائع کیے بغیر فوراً  ہی دوسری دفعہ امید سے ہو گئی، اب اس نے پیروں فقیروں کے ڈیروں کے چکر لگانے شروع کر دیے ۔ دم درود، تعویز دھاگہ سب ہو نے لگا۔ لڑکی کی ماں پڑھی لکھی جاہل تھی، لڑکی بھی اپنی ماں جیسی تھی، ثریا چھوٹے بیٹے کی دولت سے مرعوب اور باقی بیٹوں کی ناقص کا ر کردگی کی وجہ سے کوئی رائے یا مشورہ دینے کے قابل نہیں رہ گئی تھی۔ اور سب سے زیادہ یہ کہ چھوٹے کی بیوی اپنے معاملے میں کسی کو بات بھی نہیں کر نے دیتی تھی۔ وہ ثریا کی جوانی کا عکس تھی اس لئے ثریا اسے فوراً  سمجھ گئی اور آرام سے ایک کونے میں بیٹھ گئی۔

اب سجادبھی ریٹائرڈ اور بہت بوڑھا ہو چکا تھا کئی طرح کی بیماریوں نے اسے اپنے گھیرے میں لے رکھا تھا۔زیادہ تر وہ اپنے بستر پر لیٹا چھت کو گھورتا رہتا تھا۔ کبھی کبھار اپنی ماں اور بیٹے کی قبر پر جاتا۔دونوں قبریں ساتھ ساتھ تھیں بلکہ اب اس کے بڑے بیٹے کے بیٹے کی بھی ایک ننھی سی قبر ادھر ہی تھی۔ وہ ان سب قبروں کے کتبوں پر ہاتھ پھیرتا۔۔ان کے ناموں کو محسوس کرتا۔ہر ایک کے آخر میں اس کا آبائی نام لگا ہو ا تھا۔وہ خوف زدہ ہو کرنام کے آخری حصے کو دیکھتا جو سب کا ایک جیسا تھا۔

ایک دن وہ اپنے اسی آبائی قبرستان گیا اور ماں کی قبر کے پاس جا کر دھیرے سے بولا:
“اماں چھوٹے کی بیوی،آج ہسپتال گئی ہے،چھوٹے سے چلے گی میری نسل، دیکھنا اب اس کے گھر بیٹا پیدا ہو گا اور اس کی بیوی بھی ثریا کی طرح چار بیٹے پیدا کر ے گی۔وہ عادتوں میں اور صحت میں بالکل ثریا ہی ہے۔ تو دیکھنا تو سہی اماں۔۔۔اماں تو اللہ سے کہہ اب کے ہمارے گھر میں بیٹی نہ آئے۔ اماں دعا کر،بیٹی نہ پیدا ہو”۔۔

سجاد بڑی محویت سے اپنی ماں کی قبر سے باتیں کر رہا تھا کہ فون کی گھنٹی نے اسے ہوش کی دنیا میں لا کھڑا کیا،یہ فون یقیناً  خوشی کی خبر لایا تھا۔۔ “اس کی ماں نے اللہ سے کہا ہو گا اور اللہ اب کی بار کیوں نہیں سنے گا” اس نے کانپتے ہاتھوں سے فون آن کیا۔۔
“ابو ابو۔۔۔۔۔چھوٹے کی کانپتی ہو ئی آواز سن کر اس نے سوچا خوشی سے کانپ رہی ہے۔
“ابو ابو۔۔ ”
“ہاں ہاں بولو بیٹا کیا ہوا۔؟ اس نے پوری شدت سے چاہا کہ لفظ بیٹی اس کے بیٹے کے منہ سے نہ نکلے۔۔۔۔
“زندہ ہے نا؟ بچہ۔۔۔؟اس نے ڈرتے ڈرتے پو چھا
“ہاں ہاں۔۔۔۔چھوٹا رو تے روتے بولا
“صحت مند ہے؟ ”
“ہاں ہاں۔۔۔۔۔ہاں۔۔ہاں۔۔۔ “چھوٹاپاگلوں کی طرح چلا رہا تھا۔۔۔
“تو پھر رو کیوں رہا ہے؟ ‘سجاد کو کچھ سمجھ نہ آیا۔۔ شاید خوشی کے آنسو۔۔؟
“تیری بیوی ٹھیک ہے نا؟”
“ہاں ٹھیک ہے بالکل۔۔ بالکل ٹھیک۔۔۔”
“تو؟بیٹی تو نہیں نا۔۔۔؟ سجاد نے دھڑکتے دل سے خود ہی پو چھ لیا۔۔۔
“نہیں ابو۔۔۔۔نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔”چھوٹا چلا یا
تو؟ بیٹی نہیں تو تُو خوش کیوں نہیں۔۔۔”؟سجاد کا بوڑھا وجود پتے کی طرح لرزنے لگا اسے چھوٹے کا یوں چیخیں مار مار کے رونا سمجھ نہیں آرہا تھا۔
“کاش بیٹی ہی ہو تی ابو۔۔۔کاش!! وہ بیٹا بھی نہیں وہ بیٹی بھی نہیں۔۔ ابو پتہ نہیں وہ کیا ہے۔۔۔ابو میں برباد ہو گیا۔۔۔”
وہ ہسٹریائی انداز میں چیخنے لگا۔۔۔۔۔۔

تو کون ہے وہ؟ اب چیخنے کی باری سجاد کی تھی۔۔۔
یہ قبرستان،جہاں کی آدھے سے زیادہ قبروں میں سجاد کے خاندان کے لوگ دفن تھے، سب کتبوں پر لکھے ناموں کے آخری لفظ، جو خاندان کا نام زندہ رکھتے ہیں جگ مگ کر نے لگے۔۔۔اور اسے لگا اس کی وراثت گھنگور پہنے آبائی قبرستان میں دھمال ڈال رہی ہے۔۔اور ہر طرف ان کی جھنکار پھیل رہی ہے!!!

روبینہ فیصل
روبینہ فیصل
کالم نگار، مصنفہ،افسانہ نگار، اینکر ،پاکستان کی دبنگ آواز اٹھانے والی خاتون

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”وارث۔۔روبینہ فیصل/افسانہ،آخری حصہ

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *