ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے

گزشتہ روز حکمران جماعت کے رکنِ قومی اسمبلی جاوید لطیف کےمبارک منہ سے پی ٹی آئی کے رکنِ اسمبلی مراد سعید کی بہنوں کے بارے میں جو ارشاداتِ عالیہ برآمد ہوئے کوئی بھی غیرت مند شخص اُن کی حمایت نہیں کر سکتا۔میں نہیں کہتا اور میں نہیں کہنا چاہتا کی تکرار میں جو کچھ انہوں نے کہا اُس کیلئے غیر اخلاقی کا لفظ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ جاوید لطیف کی شرمناک گفتگو یقیناً قابلِ گرفت ہے اور اِس کی مذمت کے حوالے سے کوئی دو رائے بھی نہیں ہے۔
کل سے سوشل میڈیا بھی اِس معاملے پر غیرت کھائے بیٹھا ہے۔ دے مار ساڑھے چار اور دمادم مست قلندر والی کیفیت سوشل میڈیا پر طاری ہے۔ مجھے اتنی حیرت جاوید لطیف کے بیان پر نہیں ہے کیونکہ ایسی گھٹیا گفتگو کا استعمال تو اِن رہنماؤں اور ارکانِ اسمبلی کا پرانا شیوہ ہے۔خواجہ آصف کا شیریں مزاری کو ٹریکٹر ٹرالی کہنا ہو یا الطاف بھائی کی ایک پپی اِدھر اور ایک پپی اُدھر، عمران خان کا شیخ رشید کو شیدا ٹلی کہنا ہو یا اِس کو تو میں چپڑاسی بھی نہ رکھوں کہنا ہو یا جلسے کے سٹیج پر دھکا لگنے پر موٹی سی گالی نکالنا ہو، وسیم اختر کی چوہدری نثار کی پریس کانفرنس کے جواب میں کی گئی کیچڑ میں لتھڑی گندی گفتگو ہو یا شیخ رشید کا اسمبلی میں محترمہ شہید بینظیر کو پیلی ٹیکسی کہہ کے آوازیں لگانا ،نوازشریف کی 90 کی دہائی میں محترمہ کے بارے میں کی گئی اخلاقیات سے گری گفتگو ہو یا فردوس عاشق اعوان کا نیشنل ٹی وی پر بیٹھ کر کشمالہ طارق کو یہ کہنا کہ میں نے کم ازکم اپنی سیاست کا آغاز ہیرا منڈی سے نہیں کیا تھا۔۔۔ یہ سب تو اِن رہزنوں۔۔معاف کیجیے گا رہنماؤں کا مشغلہ ہے۔ مجھے تو حیرت سوشل میڈیا کے اُن سورماؤں کے ردِعمل پر ہو رہی ہے کہ جن کی سوشل میڈیا والز جا کر کھولیں تو دوسروں کی ماؤں بہنوں کی کردار کشی سے بھری پڑی ہیں۔شریف خاندان کی کرپشن، کذب بیانیوں اور شاہانہ طرزِ حکومت سے اختلاف درست اور اپنی جگہ لیکن مریم نواز کی ذاتی زندگی پر کیچڑ اچھالنا اور اُن کی کردارکشی کرنے کا جواز کہاں سے نکلتا ہے؟ اور سوشل میڈیا پر کل سے جاوید لطیف کے بیان پر ہاہاکار مچانے والے سب وہی لوگ ہیں نا جنہوں نے علیحدگی کے بعد اپنی ہی بھابی کی بھی غلیظ اور گھٹیا انداز میں کردار کشی کی؟ اور جو گزشتہ چار دن سے عفت حسن رضوی پر بھی گالیوں، الزامات اور مغلظات کی بوچھاڑ کیے ہوئے ہیں کیونکہ اُس خاتون صحافی نے پھٹیچر والی گفتگو منظرِعام پر لا کر اُن کے دیوتا کا ایک پول اور کھول دیا تھا اور اُس بےچاری کے شوہر منتظر نقوی کو پل بھر میں غیرملکی امریکی یہودی ولیم کلاسکی بنا دیا اور یہ سب وہی لوگ ہیں نا جو ذرا سا اگر کوئی اِن کے دیوتا سے اختلاف کر بیٹھے تو یہ برسوں کے خاندانی تعلقات کا بھی لحاظ کیے بغیر پل بھر میں آنکھیں ماتھے پر رکھ لیتے ہیں اور خان صاحب کے مؤقف سے برعکس لکھنے اور بولنے والوں کاجینا دُوبھر کر دیتے ہیں۔
ایک دوست نے تبصرہ کیا کہ اُسے کوئی ایک مثال دے دی جائے کہ تحریکِ انصاف کے کسی ایک بھی عہدیدار نے کبھی کسی کی ماں بہن کے بارے میں ایسی گفتگو کی ہو اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ برائے مہربانی تحریکِ انصاف کے کارکنوں کی زبان کی مثال نہ دینا۔ ایک بات تو وہ بھی مان گئے کہ تحریکِ انصاف کے کارکن کیسی زبان استعمال کرتے ہیں اور دوسری بات یہ کہ غلط بات صرف تبھی غلط ہوتی ہے جب وہ کسی لیڈر یا عہدیدار کی زبان سے نکلے؟ عامیوں کو اختیار ہے کہ وہ جس کی چاہیں اور جیسے چاہیں پگڑیاں اچھالتے پھریں؟ لیڈر کیا اِس بات سے بے خبر ہے کہ اُس کے کارکنوں نے کیا طوفانِ بدتمیزی برپا کر رکھا ہے؟ اور اگر وہ جانتا ہے اور اپنے لوگوں کو کنٹرول نہیں کر رہا تب بھی اور اگر نہیں جانتا تب بھی وہ رہنما کہلانے کے لائق نہیں ہے، وہ تحریکِ انصاف کا رہنما ہو چاہے مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی کا یا پھر کسی بھی مذہبی جماعت کا لیکن بدقسمتی سے مجھے اُن کے لیڈر کا بیان بھی یاد ہے جو خان صاحب نے کچھ عرصہ قبل دیا تھا کہ جو خواتین مجھ پر تنقید کرتی ہیں مجھے معلوم ہے کہ وہ اراکینِ اسمبلی کیسے بنیں۔۔لیکن اِس بیان پر اِن میں سے کسی کی غیرت بھی نہیں جاگی تھی، اُس وقت غیرت شایدسو رہی تھی۔ یہاں بھی یہی رویہ ہے کہ میری جماعت کا بندہ کرپشن کرے تو میں خاموش رہوں اور مخالف جماعت کا کوئی شخص کرپشن کرے تو میں اچھلنے لگوں اور میرے مسلک کا بندہ دہشتگردی میں پکڑا جائے تو میں آسمان سر پہ اٹھا لوں اورمخالف مسلک کا پکڑا جائے تو میں تالیاں پیٹنے لگوں۔ قدرت کا قانون ہے کہ کوئی اُس وقت تک دنیا سے اُٹھے گا نہیں جب تک اُس کا ظاہر اور باطن آشکار نہ ہو جائے اور اسی قانون کے تحت یہ سب آشکار ہو رہے ہیں۔ رہنما بھی اور عامی بھی، لیڈر بھی اور کارکن بھی۔
یہ ہے دونوں طرف کے رہنماؤں کا کردار۔۔یہ لکیر کے اِس طرف ہوں یا لکیر کے دوسری طرف۔۔یہ سب ایک جیسے ہی ہیں۔ یہ ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔ اِن سے کسی قسم کی امید رکھنا پرلے درجے کی بےوقوفی اور خام خیالی ہے۔ یہ شیشے کے گھروں میں بیٹھ کر ایک دوسرے کو پتھر مارتے ہیں اور اِن کے جذباتی کارکن آپس میں لڑتے جھگڑتے الجھتے رہتے ہیں۔ اُن کے جھگڑے سے جو گرد اڑتی ہے، یہ گرد کے دوسری طرف کچھ نظر نہ آنے کے باعث اپنے کام نکالتے رہتے ہیں۔
خوفِ خدائے پاک دلوں سے نکل گیا
آنکھوں سے شرمِ سرورِ کون ومکاں گئی!

ہارون الرشید
ہارون الرشید
میں جو محسوس کرتا ہوں، وہی تحریر کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *