اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی ایک واقعے سے ہمارے اندر ایک پورا نظریہ جنم لے لیتا ہے۔ ایک تلخ تجربہ، ایک کڑوا جملہ، ایک ایسا منظر جو دل کو چیر دے اور پھر ہم فیصلہ کر لیتے ہیں کہ شاید مسئلہ پوری سوچ میں ہے، شاید مسئلہ مذہب میں ہے، شاید بہتر ہے کہ اس راستے پر چلا ہی نہ جائے۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟
چند دن پہلے ایک محفل میں گفتگو ہو رہی تھی۔وہاں میں نے محسوس کیا کہ آج کل لوگ تسبیح کو گویا ایک فیشن کے طور پر ہر وقت ہاتھ میں تھامے رکھتے ہیں۔ انگلیاں دانے پھیرتی رہتی ہیں مگر نظریں دوسروں کے معاملات پر ہوتی ہیں۔ زبان پر ذکر جاری رہتا ہے لیکن توجہ اس بات پر کہ کس نے کیا کہا، کس نے کیا پہنا، کس کے گھر میں کیا ہو رہا ہے۔ گویا تسبیح ہاتھ میں ہے مگر دل دنیا کے حساب کتاب میں الجھا ہوا ہے۔ یہ تضاد سن کر مجھے احساس ہوا کہ مسئلہ تسبیح کا نہیں۔۔۔ نیت اور کردار کا ہے۔
یہ کیفیت صرف ایک محفل تک محدود نہیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے مناظر دیکھتے ہیں جہاں عبادت دکھائی دیتی ہے مگر اخلاق کی جھلک کم نظر آتی ہے۔ سوال نماز کا پہلے اٹھتا ہے، روزے کا ذکر فوراً آتا ہے، لیکن کم ہی کوئی اپنے لہجے، اپنے رویے اور اپنی نیت کا احتساب کرتا ہے۔
اس موقع کی نسبت سے یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ انسان کا ہر عمل، چاہے وہ ذاتی لگے، حقیقی زندگی میں ظاہر ہوتا ہے۔آپ جو کچھ بھی اکیلے میں کرتے ہیں وہ آخرکار آپ کی شخصیت اور زندگی کے ہر پہلو میں ظاہر ہوتا ہے۔ جو کتابیں آپ پڑھتے ہیں، وہ آپ کی باتوں اور خیالات میں جھلک دیتے ہیں۔ آپ وقت کیسے گزارتے ہیں، آپ کی عادات اور رویے میں صاف دکھائی دیتا ہے۔ آپ جو کھاتے ہیں اس کا اثر آپ کی صحت، توانائی اور جسمانی حالت پر براہِ راست پڑتا ہے۔ زندگی میں آپ کا نظم و ضبط اور پابندی آپ کے اعتماد اور خوداعتمادی میں ظاہر ہوتا ہے۔ آپ کی محنت، آپ کے نتائج، کامیابیوں اور ناکامیوں میں صاف جھلکتی ہے۔ اور جب آپ کسی ناکامی یا نقصان کا سامنا کرتے ہیں، تو یہ دیکھنے کا انداز کہ آپ اپنے آپ کو کس طرح سنبھالتے ہیں، آپ کے ذہن اور سوچ کے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ آپ کی چھپی ہوئی عادتیں، چھوٹے چھوٹے فیصلے اور روزمرہ کے اعمال آپ کی مکمل شخصیت کا عکس ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ دین، اخلاق اور عادات سب ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔ اگر ہم عبادت کو صرف رسمی طور پر کریں اور اپنی زندگی میں تربیت اور نظم قائم نہ رکھیں۔۔۔ تو اثر محدود اور کبھی کبھار منفی ہو سکتا ہے۔
ہم بھول جاتے ہیں کہ اسلام صرف چند مخصوص عبادات کا نام نہیں۔ اسلام ایک مکمل طرز زندگی ہے۔ سیرتِ نبویؐ پر نگاہ ڈالیں تو آپؐ کی نرمی، تحمل اور عظیم ظرفی ہر پہلو پر غالب نظر آتی ہے۔ انہوں نے کبھی دین کو بوجھ بنا کر پیش نہیں کیا بلکہ سہولت اور محبت کے ساتھ سمجھایا۔ اگر دین صرف الفاظ کا مجموعہ ہوتا تو دلوں میں انقلاب نہ آتا۔۔۔ لیکن دین کردار سے پھیلا۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنے ہر عمل کو، چاہے وہ ذاتی لگے یا عمومی، شعور اور نرمی کے ساتھ کریں تاکہ اندر کی تربیت ظاہر ہو۔
مسئلہ مذہب نہیں۔۔۔ مسئلہ ہمارا رویہ ہے۔ عبادت اگر کردار سازی نہ کرے تو وہ لفظوں اور حرکات کا مجموعہ تو ہے، مگر روحانیت سے خالی۔۔۔ تسبیح کے دانے انگلیوں میں گھومتے رہتے ہیں مگر دل کا زنگ جوں کا توں رہتا ہے۔ نماز کے سجدے مکمل ہو جاتے ہیں مگر تکبر سر سے نہیں اترتا۔ ایسے میں نئی نسل کے ذہن میں سوال پیدا ہونا فطری ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہماری مستقل مزاجی اور توجہ کی سمت زندگی کے تمام پہلوؤں میں جھلکتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دین کا اثر حقیقی ہو تو ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ، اپنی جسمانی حالت اور اپنی عادات کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔
لیکن یہاں رک کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ کیا چند غلط مثالوں کی بنیاد پر ہم پورے دین کو رد کر سکتے ہیں؟ اگر کسی ڈاکٹر کا رویہ خراب ہو تو کیا ہم طب کو چھوڑ دیتے ہیں؟ اگر کسی استاد کا اخلاق کمزور ہو تو کیا ہم علم سے نفرت کرنے لگتے ہیں؟ نہیں۔۔۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فرد کی کمزوری ہے۔۔۔ اصول کی نہیں۔ اسی طرح، مذہب کی اصل روح نرم دلی، شفقت اور حسنِ سلوک میں چھپی ہے نہ کہ صرف ظاہری عبادت میں۔
دین کی اصل روح نرمی ہے۔ قرآن میں بار بار رحمت، صبر، درگزر اور حسنِ سلوک کی تلقین کی گئی ہے۔ عبادت کا مقصد انسان کو بہتر بنانا ہے، دوسروں پر برتری جتانا نہیں۔ اگر کسی کے اندر کینہ، بغض اور سختی بڑھ رہی ہے تو اسے اپنی عبادت کا جائزہ لینا چاہیے نہ کہ عبادت کو ہی نمائشی انداز میں پیش کرنا چاہیے۔
سماج میں مذہبی شناخت ایک ایسی ذمہ داری بن جاتی ہے جو انسان کو دین کی نمائندگی کے مقام پر لا کھڑا کرتی ہے۔ ان کا ہر جملہ، ہر عمل دوسروں کے ذہن میں دین کی تصویر بناتا ہے۔ اگر وہ نرم ہوں گے تو لوگ دین کی طرف آئیں گے، اگر وہ سخت ہوں گے تو لوگ دین سے دور جائیں گے۔وہ اعمال جو ہمیں صرف ذاتی معلوم ہوتے ہیں دراصل ہمارے مزاج، ایمان اور اخلاق کی ترجمانی کرتے ہیں۔
لیکن ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ ہم توازن قائم رکھیں۔ کسی کے غلط رویے کی وجہ سے ہم اپنی روحانی ضرورت کو نظر انداز نہ کریں۔ انسان کو کسی نہ کسی اخلاقی بنیاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر مذہب کو چھوڑ کر خلا پیدا کیا جائے تو وہ خلا کسی اور چیز سے پُر ہو جاتا ہے۔۔۔کبھی انا سے، کبھی مادیت سے، کبھی بے مقصدیت سے۔
اصل چیلنج مذہب اختیار کرنا نہیں۔۔۔بلکہ اسے حکمت، توازن اور اخلاص کے ساتھ اپنانا ہے۔ کیا ہم اسے صرف ظاہری اعمال تک محدود رکھیں یا اپنے رویے، اپنے ڈسپلن، اپنے فوکس اور اپنے مائنڈ سیٹ کو بہتر بنانے کا ذریعہ بنائیں؟ کیا ہم اسے دوسروں پر لاگو کرنے کا آلہ بنائیں یا خود کو بہتر بنانے کا راستہ؟
اگر آپ کے آس پاس کوئی ایسا شخص ہے جس کے رویے نے آپ کو دین سے بدظن کیا ہے تو ایک لمحہ رک کر سوچیں۔ ہو سکتا ہے وہ خود اندر سے الجھا ہوا ہو۔ ہو سکتا ہے اسے بھی دین کی اصل روح سمجھ نہ آئی ہو۔ لیکن اس کی کم فہمی آپ کے لیے راستہ بند نہ کرے۔
دین کا حسن اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب انسان طاقت میں ہو اور پھر بھی معاف کرے۔ جب وہ حق پر ہو اور پھر بھی نرم لہجہ اختیار کرے۔ جب اسے غصہ آئے اور وہ خود کو قابو میں رکھے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں عبادت اثر دکھاتی ہے اور آپ کی ذاتی زندگی کے ہر پہلو میں یہ اثر ظاہر ہونا شروع ہوتا ہے۔۔۔چاہے وہ جسمانی صحت ہو، نفسیاتی سکون ہو یا تعلیمی اور پیشہ ورانہ کامیابیاں۔
ہمیں اپنے گھروں، اپنی محفلوں اور اپنی ذات سے آغاز کرنا ہوگا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اگلی نسل دین سے محبت کرے تو انہیں محبت کا نمونہ دکھانا ہوگا۔ عزتِ نفس کا خیال، چھوٹی باتوں پر برداشت، دوسروں کے معاملات میں بلاوجہ مداخلت سے گریز، اپنے جسم، دماغ اور وقت پر قابو۔۔۔ یہی وہ عملی درس ہیں جو الفاظ سے زیادہ اثر رکھتے ہیں۔
کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ دیں کہ اگر مذہب ایسا ہے تو ہم اسے نہ ہی اپنائیں۔ بلکہ ایسا کردار اختیار کریں کہ لوگ کہیں اگر مذہب یہ بناتا ہے تو ہمیں بھی یہی راستہ چاہیے۔

بات سادہ سی ہے کہ تسبیح ہاتھ میں ہو یا نہ ہو۔۔۔ اصل تسبیح دل کی نرمی ہے۔ ذکر زبان سے ہو یا خاموشی میں۔۔۔ اصل ذکر وہ ہے جو انسان کو بہتر بنائے۔ اگر عبادت ہمارے اخلاق کو سنوار نہیں رہی، ہمارے رویے کو نرم نہیں کر رہی، ہمارے ڈسپلن، فوکس اور مائنڈ سیٹ پر اثر نہیں ڈال رہی، تو ہمیں اپنے طریقے پر غور کرنا چاہیے اور جب ہم اسے اپنی زندگی کے ہر پہلو میں حقیقت کے ساتھ اپنائیں تو نہ کسی کا دل دکھے گا، نہ کسی کے دل میں نفرت پیدا ہوگی، بلکہ وہی دین جو کبھی کچھ لوگوں کو سخت محسوس ہوتا ہے، بہت سوں کے لیے سکون، امید اور عملی رہنمائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں