حوصلہ و جرات: سچ کے ساتھ کھڑے ہونے کی طاقت
قیادت کا سفر صرف منصوبوں اور فیصلوں کا نام نہیں، بلکہ اس جرات کا امتحان بھی ہے جو مشکل لمحوں میں سامنے آتی ہے۔ وژن راستہ دکھاتا ہے، کردار بنیاد فراہم کرتا ہے، دیانت اعتماد پیدا کرتی ہے، فیصلہ سازی عمل کو جنم دیتی ہے اور جواب دہی اسے اخلاقی وزن دیتی ہے—مگر ان سب کو قائم رکھنے کے لیے حوصلہ اور جرات ناگزیر ہیں۔ جرات کے بغیر بہترین نظریات بھی کاغذ پر رہ جاتے ہیں۔
جرات کا مطلب محض بلند آواز ہونا نہیں، بلکہ درست بات پر قائم رہنا ہے—چاہے مخالفت ہو، نقصان کا اندیشہ ہو یا وقتی مقبولیت خطرے میں پڑ جائے۔ اکثر لیڈر سچ جانتے ہیں، مگر دباؤ کے آگے جھک جاتے ہیں۔ حقیقی قیادت وہاں ظاہر ہوتی ہے جہاں انسان اپنے مفاد سے اوپر اٹھ کر اجتماعی مفاد کے لیے کھڑا ہو جائے۔
حضرت محمد ﷺ کی زندگی میں جرات کا پہلو نمایاں تھا۔ شدید مخالفت، سماجی دباؤ اور خطرات کے باوجود حق کی بات سے پیچھے نہ ہٹنا قیادت کی اعلیٰ مثال ہے۔ یہ جرات صرف میدانِ عمل کی نہیں، بلکہ اخلاقی ثابت قدمی کی بھی تھی۔
امریکہ میں مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے نسلی امتیاز کے خلاف آواز بلند کی۔ انہیں دھمکیاں ملیں، قید کا سامنا کرنا پڑا، مگر انہوں نے پرامن جدوجہد کا راستہ نہیں چھوڑا۔ ان کی جرات نے ایک معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑا اور ثابت کیا کہ قیادت کا اصل ہتھیار تشدد نہیں بلکہ اخلاقی استقامت ہے۔
برصغیر میں خان عبدالغفار خان، المعروف باچا خان، عدم تشدد کے فلسفے پر ڈٹے رہے۔ ایک ایسے ماحول میں جہاں طاقت کا جواب طاقت سے دیا جاتا تھا، انہوں نے صبر اور امن کا راستہ اختیار کیا۔ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا، مگر یہی ان کی قیادت کی پہچان بنا۔
برطانیہ میں ونسٹن چرچل کی قیادت دوسری جنگِ عظیم کے دوران جرات کی مثال بنی۔ جب حالات مایوس کن تھے اور شکست کا خوف غالب تھا، انہوں نے قوم کا حوصلہ بلند رکھا۔ بعض اوقات جرات کا مطلب محاذ پر کھڑا ہونا نہیں بلکہ قوم کے اندر امید زندہ رکھنا ہوتا ہے۔
حوصلہ صرف بیرونی خطرات کے مقابلے کا نام نہیں، بلکہ اندرونی کمزوریوں سے لڑنے کا نام بھی ہے۔ ایک لیڈر کو اپنی غلطی تسلیم کرنے، پالیسی بدلنے اور تنقید سننے کا حوصلہ بھی رکھنا چاہیے۔ جو شخص اپنی انا کے خلاف کھڑا نہیں ہو سکتا، وہ کسی بڑے مقصد کے لیے بھی مضبوطی سے نہیں کھڑا رہ سکتا۔
جرات اور جلد بازی میں فرق ہے۔ جلد بازی جذبات کا نتیجہ ہوتی ہے، جبکہ جرات شعوری فیصلہ ہے۔ ایک باہمت لیڈر پہلے سوچتا ہے، مشورہ کرتا ہے، نتائج کا اندازہ لگاتا ہے اور پھر قدم اٹھاتا ہے—مگر قدم اٹھانے کے بعد ڈگمگاتا نہیں۔
تاریخ یہ بتاتی ہے کہ بزدلی اکثر وقتی سکون دیتی ہے، مگر طویل المدت نقصان کا سبب بنتی ہے۔ اس کے برعکس جرات وقتی مشکلات لاتی ہے، مگر مستقبل کو مضبوط بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قومیں ان رہنماؤں کو یاد رکھتی ہیں جنہوں نے خوف کے بجائے اصول کا انتخاب کیا۔
آج کے دور میں، جب رائے عامہ لمحوں میں بدل جاتی ہے اور سوشل دباؤ شدت اختیار کر لیتا ہے، جرات پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ لیڈر کو یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ مقبولیت کے پیچھے چلے گا یا اصول کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قیادت کا اصل معیار طے ہوتا ہے۔
حوصلہ و جرات قیادت کی وہ طاقت ہے جو سچ کو زندہ رکھتی ہے۔ جب لیڈر خوف سے آزاد ہو کر اصول پر قائم رہتا ہے تو وہ صرف حالات کا مقابلہ نہیں کرتا بلکہ تاریخ کا رخ موڑ دیتا ہے۔ یہی جرات لیڈر کو عام انسان سے ممتاز بناتی ہے اور “لیڈر بننے کا سفر” کو معنویت عطا کرتی ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں