رومانس کی موجودہ شکل کس نے بنائی؟-یاسر جواد

ہم جس رومانس یا محبت یا عورت-مرد کے لگاؤ سے آشنا ہیں وہ ازلی اور فطری نہیں، بلکہ ایک خاص ماحول اور عہد کی پیداوار ہیں جس کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں۔ ایک بڑا سبب گیارھویں، بارھویں اور تیرھویں صدیوں میں جاگیردارای کے ضوابط بننا تھا۔ زرہیں، شہسواری، شہری ریاستیں، ٹیکس دینے والی ریاستوں، ڈچیز، راجواڑوں کا قیام بھی کم و بیش اِسی دور سے تعلق رکھتا ہے۔ بلاشبہ دیوی دیوتاؤں کی محبت سے بھرپور کہانیاں، شکنتلا اور دیگر کھیل اِس سے پہلے کے ہیں، لیکن گیارھویں تا تیرھویں صدی میں اِس نے ایک نیا رنگ اپنایا جس پر ول ڈیورانٹ نے چوتھی جلد میں کافی روشنی ڈالی ہے۔
اردو میں محبت کی روایت فارسی شاعری سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ سعدی، حافظ شیراز جیسے فارسی شعرا اوپر مذکور عہد سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔ اُن کے استعارے آج بھی رائج ہیں اور اُنھیں چھین لیا جائے تو اظہارِ محبت کے لیے کچھ نہیں بچتا۔ مسلم معاشروں میں عقل کی حتمی شکست اور حسین بن منصور حلاج کی نادانی کے بعد اِن استعاروں کو الوہی رنگ دے دیا گیا۔ قرب، وصال، بوسہ، حقیقت اور مجاز کی گڑبڑ اِسی کا نتیجہ ہو گی۔ مسیحی صوفیانہ سلسلوں کی تشکیل نے بھی اپنا سا رنگ دکھایا۔ ایک مسیحی عارفہ نے مسیح سے محبت کو شہوانی انداز میں بیان کیا۔ ایک اور ولی خاتون کوڑھیوں کے پاؤں دھلوا کر پانی پیا۔ مریض کے کے زخم کا چھلکا اُس کے حلق میں اٹک گیا تو وہ اِس خلش کی لذت کو بیان کرتی ہے۔
ان چیزوں کی زمانی ترتیب اور علاقے کا تعین کرنا ممکن نہیں۔ گیت گانے والوں نے محبت اور شہسواری (نائٹ ہڈ) کو ملا کر بیان کیا۔ یورپ میں شہزادیوں والی کہانیاں بھی اِنہی لوگوں کی تخلیق ہو گی جس میں الف لیلہ و لیلہ اور دیگر نے بھی حصہ ڈالا۔ اٹلی، سپین، پرتگال، فرانس میں محبت کے گیت گانے والے شعرا کو ٹروباڈوز کہتے تھے۔ دو تین سو سال کے دوران اُنھوں نے آہستہ آہستہ محبت کے کچھ اصول تشکیل دیے۔ یہ اصول کسی کانفرنس یا اجلاس میں نہیں بنے تھے۔ یہ زبان کے اصولوں جیسے تھے جو زبان کے بعد بنتے ہیں۔
ٹروباڈوز کے مطابق عاشق (ٹروباڈور) کسی خاتون سے وفا نبھانے کا وعدہ کرتا خواہ کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔ یہ بادشاہ اور جاگیردار والا تعلق تھا۔ دوسری اہم چیز یہ تھی کہ معشوقہ کوئی بالائی طبقے کی امیر عورت ہو، اور شادی شدہ بھی ہو۔ کنواری سے محبت کرنا شمار نہیں ہوتا تھا۔ خاتون کو اخلاقی اور روحانی رفعت کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، جس میں مقدسہ مریم سے محبت کا رنگ بھی تھا۔ سارے چکر کو خفیہ رکھنا بھی ضروری تھا۔ چنانچہ معشوقہ کو کوئی فرضی نام دے دیا جاتا۔
باقی آپ خود سمجھ دار ہیں۔ اردو شاعری کی روایت میں بھی ایسے ہی عناصر شناخت کر سکتے ہیں۔ جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں ٹروباڈوز کے چار اصولوں میں سے بس آخری یعنی خفیہ نام پر ہی عمل کرتا ہوں۔

Facebook Comments

یاسر جواد
Encyclopedist, Translator, Author, Editor, Compiler.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply