تصویر اگر صرف ایک تقریب کی ہے
تو کوئی بات نہیں
تحریر تو ساتھ تینوں تقریبوں کی لکھی ہوئی ہوگی نا ؟
ان تین تقریبوں کی روداد کا طویل ہونا بنتا ہے ۔ شاید آپ ان تین تقریبات کی روداد پڑھتے پڑھتے تھک جائیں لیکن ایسا بالکل بھی نہیں ہوگا کیونکہ وہاں سنائی گئی باتیں آپ کے لیے پہلے سے اَن سنی ، منفرد اور انہیں اِس طور اور سلیقے سے پیش کیا گیا ہے کہ جو پہلی تقریب کو پڑھ لے گا ۔ وہ دوسری تقریب تک ضرور جائے گا اور جس نے دوسری تقریب کو پڑھ لیا تو وہ آخری تقریب کی چند سطریں بھی پڑھتا چلا جائے گا ۔
کراچی اور لاہور لٹریری فیسٹیول دونوں شہروں میں چونکہ یکساں دنوں میں ہی ہو رہا تھا تو جس طرح استادِ گرامی نے بتایا تھا ۔ وہ کراچی میں مختلف تقریبوں میں دو دن شرکت کر کے جب وہاں بھی فیسٹیول کا آخری دن تھا اور یہاں بھی ، وہ کراچی سے لاہور لٹریری فیسٹیول کے آخری دن یہاں پہنچ آئے تھے ۔
گزری اتوار الحمراء آرٹس کونسل کے ہال نمبر ایک میں سیکڑوں سامعین موجود تھے ۔ تقریب کی موڈیریٹر صغریٰ صدف نے فاطمہ حسن اور ڈاکٹر شائستہ حسن سے چند سوال کر چکنے کے بعد جب محترم سر ناصر عباس نیر صاحب سے یہ سوال پوچھا کہ جون ایلیا کا جدید شاعری میں کیا مقام ہے اور چونکہ شاعر کی شخصیت کا اس کی شاعری پر بحر حال اثر ہوتا ہے تو ان کی شخصیت کا ان کی شاعری پر آپ کس طرح کا اثر دیکھتے ہیں ؟
تو
استادِ محترم نے اس سوال کی وضاحت کچھ یوں کی تھی کہ بلاشبہ جون ایلیا نئی نسل کا مقبول ترین شاعر ہے ۔ اب یہ بات نئی نسل کے حق میں تو جاتی ہے کہ انہیں پسند کرنے اور پڑھنے کے لیے ایک بہت عمدہ ، بہت اچھا اور اول درجے کا شاعر مل گیا مگر یہ بات جون ایلیا کے حق میں نہیں جاتی ۔ جون ایلیا صرف ایک زمانے کی نسل کا شاعر نہیں ہے ۔ وہ ایک ایسا شاعر ہے جو کئی زمانوں کا شاعر ہے ۔
استادِ محترم نے سیشن کے عنوان کی طرف دھیان دلاتے ہوئے کہا کہ اس تقریب کا عنوان بہت سوچ سمجھ کر رکھا گیا ہے کہ :
” جون ایلیاء کی شاعری اور فکر ”
اور عنوان کے ساتھ یہ مصرع بھی درج ہے کہ :
” اپنا رشتہ زمین سے ہی رکھو ”
اب دیکھا جائے تو جون ایلیا صرف شاعر نہیں تھے ۔ وہ شاعر ہونے کے علاوہ ایک صاحبِ علم اور مفکر بھی تھے ۔
لوگوں کو یہ تو یاد رہتا ہے کہ جون ایلیا جب مشاعرے پڑھتے تو سردیوں میں گرمیوں والا لباس اور گرمیوں میں سردیوں والا لباس پہن کر آ جاتے ، مشاعرہ پڑھتے ہوئے غیر سنجیدہ رہتے اور ڈرامہ کرتے تھے کہ کسی وقت رونے لگتے تو کسی وقت ہنسنے لگ جاتے تھے ۔ لوگوں کو ان کی شخصیت کا یہ ظاہری پہلو تو یاد رہتا ہے ۔ جس میں وہ کافی مضحکہ خیز نظر آتے تھے لیکن ان کی فکری شخصیت ہمیشہ نظروں سے اوجھل رہتی ہے ۔
کسی بھی شخص کے ظاہری طور اطوار ، رہن سہن اور برتاؤ ایک الگ چیز ہیں مگر کسی بھی شخص کی ایک دوسری شخصیت وہ ہوتی ہے جو اس کی شاعری میں جھلکتی ہے یا جس کا اظہار وہ تنہائی میں اپنے چند دوستوں سے کیا کرتا ہے ۔
جون ایلیا ظاہری طور پر بہت غیر مرتب نظر آتے تھے لیکن وہ اندر سے بہت مرتب ، منظم اور مربوط شخصیت کے مالک تھے ۔
آپ اس بات کو یوں سمجھیے کہ جون ایلیا کا سامنے کا حلیہ ایک ماسک تھا ۔ بہت سے لوگ بہت سے ماسک پہنتے ہیں ۔ بہت سی چیزوں کو چھپانے کے لیے ۔ ماسک چیزوں کو چھپایا بھی کرتا ہے اور ماسک چیزوں کو منکشف بھی کیا کرتا ہے ۔ ان کا ماسک ایک طرح سے بہت سی چیزوں کو چھپانے کے ذریعے انہیں ظاہر کرنے کا ایک ذریعہ تھا ۔ وہ بہت پیچیدہ اور سنجیدہ قسم کے انسان تھے ۔
شاعری کے علاوہ انہوں نے بہت سے علمی کام بھی کیے تھے جیسے ” اخوان الصفا ” کے بیس رسائل بہت محنت سے ایک سال لگا کر ترجمہ کیے لیکن وہ سب ضائع ہو گئے ۔ اسی طرح منصور بن حلاج ان کی پسندیدہ شخصیت تھے تو انہوں نے اس کی کتاب ” الطواسین ” کا ترجمہ بھی کیا ۔ انہیں فارسی ، عربی ، انگریزی پر مکمل عبور حاصل تھا ۔ ان کا سب سے بڑا علمی کام ہمیں ان کی کتاب ” فرنود ” میں نظر آتا ہے ۔ ان کی شاعری تو فکری شاعری ہے مگر اپنی نثری تحریروں میں وہ ایک عالم کے طور پر نظر آتے ہیں ۔ مثال کے طور پر اپنے ایک مضمون میں وہ لکھتے ہیں کہ ہم پاکستان میں رہتے ہیں لیکن ہمارے لیے کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمیں یہاں عقل کا مقدمہ لڑنا پڑتا ہے یعنی لوگوں کو عقل کی اہمیت بتانا پڑتی ہے ۔ آپ معاشرے کی سطح کا یہاں سے اندازہ لگائیں کہ معاشرے میں فکری ڈسکورس کا پیدا ہونا تو بعد کی بات ہے ۔ آپ کو شروع میں ہی چیلنج درپیش آ جاتا ہے کہ آپ نے لوگوں کو بتانا ہے کہ ہم اس دنیا کو عقل کے ذریعے بھی سمجھ سکتے ہیں مثلاً ان کا ایک شعر ہے کہ :
اپنا رشتہ زمین سے ہی رکھو
کچھ نہیں آسمان میں رکھا
اگر آپ اس شعر کو غور سے دیکھیں تو جتنی بھی باتیں بیان کی جا چکی ہیں ۔ ان سب کا براہِ راست تعلق اس شعر کے ساتھ ہے ۔ دیکھنے میں یہ شعر بالکل سادہ سا لگتا ہے جسے اصطلاح میں سہلِ ممتنع کہتے ہیں ۔ سہلِ ممتنع کی ایک خوبی تو یہ ہوتی ہے کہ وہ دیکھنے میں آپ کو بہت سہل اور آسان لگتا ہے لیکن جب آپ اسی طرح کا شعر کہنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ آپ کو مشکل اور محال لگتا ہے ۔ سہلِ ممتنع کی دوسری خوبی یہ ہوتی ہے کہ آپ کو اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ سہلِ ممتنع کا شعر ہمیشہ نثر سے بہت قریب اور ملا ہوا ہوتا ہے مگر جون ایلیا کے ہاں آسان شعر کے پسِ پردہ بھی بہت سی پیچیدگیاں نظر آتی ہیں ۔
اس شعر میں وہ کہنا چاہتے ہیں کہ انسان کا بنیادی رشتہ زمین سے ہی ہے ۔ اس کا آسمان سے رشتہ بہت دور کا ہے ۔ آپ زمین پر پیدا ہوئے ، زمین میں رہتے ہیں اور زمین میں ہی دفن ہو جائیں گے ۔ پیدائش سے لے کر آخر تک آپ کا تعلق ہمیشہ زمین سے ہی رہتا ہے ۔ آسمان ہمیشہ دسترس سے دور رہتا ہے ، بلند رہتا ہے اور اوپر رہتا ہے ۔ اردو اور فارسی کی کلاسیکی شاعری میں آسمان ہمیشہ نا انصاف رہتا ہے غالب کا شعر ہے کہ :
کچھ تو دے اے فلکِ ناانصاف
آہ و فریاد کی رخصت ہی سہی
جون صاحب کہتے ہیں کہ آپ کا بنیادی تعلق اور بنیادی مرنا جینا اسی زمین کے ساتھ ہے آسمان میں کچھ نہیں رکھا جیسے یہ شعر کہ :
سب ہیں حامی آسماں کے اے زمیں
کوئی تیرا بھی طرفدار آئے تو
فارسی ، اردو کلاسیکی شاعری اور جون ایلیا کے ہاں آسمان ایک بہت بڑی علامت سمجھا جاتا ہے جیسے :
حاصلِ کُن ہے یہ جہانِ خراب
یہی ممکن تھا اتنی عجلت میں
یہاں آسمان جو آپ کی دسترس سے ہمیشہ دور رہتا ہے ۔ اس سے کتنا بڑا سوال کیا گیا ہے ۔ آسمان ہم سے اتنی دور ہے اور لوگ زمین پہ پیدا ہوتے ہیں مگر اسی زمین سے رشتہ بھول جاتے ہیں ۔
اب ایسا کیوں ہوتا ہے ؟
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے اور حقیقت بھی ہے کہ ہمارے اندر اپنی قریب ترین چیزوں اور خود اپنی ذات سے انکار کی ایک روش ہمیشہ موجود رہتی ہے ۔
جب محترم سر سے سوال پوچھا گیا کہ جون ایلیا کی شاعری میں انکار کی وجہ ان کی فکری سوچ ہے یا نفسیاتی تناؤ ؟
تو انہوں نے اس کا جواب جون ایلیا کے ایک شعر سے ہی شروع کیا تھا ۔ جو کچھ یوں ہے کہ :
کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے
پھر اس شعر کی وضاحت کی کہ وہی بات ہے کہ شعر جتنا سادہ اور آسان نظر آتا ہے وہ اتنا ہے نہیں ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ دنیا ایک ایسا گھر ہے ۔ جس میں روز چیزیں ٹوٹ جایا کرتی ہیں ۔ دنیا کی ہر ایک چیز ہمیشہ منظم ہوا کرتی ہے لیکن وہ کون سی طاقت ہے جو اس منظم چیز کو غیر منظم بنا دیا کرتی ہے یعنی جو دنیا کی ترتیب اور تنظیم ہے ۔ کیا اسی ترتیب کے اندر ہی بےترتیبی کا سامان موجود ہے کہ کثافت کے نیچے لطافت اور لطافت کے نیچے کثافت ۔
اب یہ مسئلہ ہے کیا ؟
کیا اس کے عوامل اندرونی ہیں یا بیرونی ؟ کیا گھر کی ساخت ہی اس طرح کی ہے کہ اس کا ٹوٹ جانا ناگزیر ہے یا اس کی وجہ کوئی بیرونی ہے ؟
اور
گھر سے مراد صرف ان کا اپنا گھر نہیں ہے ۔ اب حال کا ہی ایک واقعہ دیکھ لیں کہ ہم اپنے گھر کو جتنا اچھا بنانے کی کوشش کرتے ہیں پھر کوئی ایسا واقعہ ہو جاتا ہے کہ اس گھر کی ترتیب میں نظم و ضبط ٹوٹ جاتا ہے پھر اس گھر کو کائنات کی سطح پر لے جائیں تو وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اس گھر کی کون دیکھ بھال کرتا ہے کہ روز کوئی نہ کوئی چیز بن بگڑ رہی ہوتی ہے ۔
آخر پر جون ایلیا کے حالاتِ زندگی کا ذکر ہوا تو یہ شعر سامنے آیا کہ :
میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
پھر ان کی ایک طویل غزل کے چند اشعار کی طرف بھی اشارہ کیا گیا تھا جو کچھ یوں ہیں کہ :
عمر گزرے گی امتحان میں کیا
داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا
میری ہر بات بے اثر ہی رہی
نقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا
بولتے کیوں نہیں مرے حق میں
آبلے پڑ گئے زبان میں کیا
یوں جو تکتا ہے آسمان کو تو
کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا
چونکہ ناصر کاظمی اور انتظار حسین کو گزرے ایک صدی گزر چکی ہے تو دوسری تقریب ان دونوں شعرا کی یاد میں منعقد کی گئی تھی ۔ جس میں سب اکٹھا ہوئے اور اس سیشن کا عنوان ” بستی سے چلے تھے منہ اندھیرے ” رکھا گیا تھا ۔
ڈاکٹر شیبا عالم نے ناصر کاظمی اور انتظار حسین کے بارے میں اصغر ندیم سید صاحب سے کئی سوال پوچھنے کے بعد جب استادِ محترم سے یہ سوال پوچھا کہ یادوں کے حوالے سے انتظار حسین پر بہت سی باتیں کی جاتی ہیں اور انتظار حسین اپنے ناول بستی کے حوالے سے بھی کہتے ہیں کہ میں نے اکہتر میں ۴۷ کو دوبارہ سے دیکھا اور میں نے جو ناول لکھا وہ بھی ایک طرح کی کوشش تھی کہ میں اپنی ان باتوں کو ، ان یادوں کو دوبارہ سے دیکھوں کہ وہ کس طرح کے واقعات تھے جو ۴۷ جیسے واقعے کا سبب بنے ۔ آپ اس بارے میں کیا کہیں گے ؟
تو سر نے اس سوال کا جواب بڑی وضاحت اور صراحت سے دیا تھا کہ :
یہ ایک بہت اہم موقع ہے کہ ہم اردو ادب کی دو ممتاز ترین شخصیات کو ، ایک فکشن کی بہت ممتاز ترین شخصیت اور دوسری شاعری کی ممتاز ترین شخصیت کو یاد کرنے بیٹھے ہیں ۔ دونوں شخصیات کا تعلق پوسٹ پارٹیشن کے ساتھ ہے ۔
انتظار صاحب کے فکشن کی بنیادی بات جو انہیں اس سے پہلے کے سارے فکشن کی روایت سے ایک طرح سے جدا کرتی ہے ۔ وہ ان کی یادیں ، ان کا ہجرت کا تجربہ اور اپنے ماضی کو پاکستان میں آکر لکھنا ہے ۔ آپ نے درست کہا کہ انتظار صاحب پہ لوگوں نے یہ اعتراض اٹھایا کہ وہ ناسٹلجیا میں رہتے ہیں اور ناسٹلجیا کو ایک مرض کے طور پر پہنچانا گیا
حالانکہ
ناسٹلجیا ایک مرض نہیں ہے اگر ایک آدمی ادب میں آ کر ادب تخلیق کرتا ہے تو ادب کا موضوع اگر وائلنس بھی ہو تو وہ وائلنس نہیں رہتا ۔ ادب کا موضوع اگر جنس بھی ہو تو وہ جنس نہیں رہتا کیونکہ ادب میں کسی بھی موضوع کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ جب کوئی آدمی کسی صورتحال میں گرفتار ہوتا ہے تو وہ کن کیفیات سے گزر رہا ہوتا ہے ۔ اس کا بطورِ انسان تجربہ کیا ہوتا ہے ۔ اس کے اچھے بھلے پہلو ، اس کے اخلاقی بحران ، وہ ان سب چیزوں کو بیان کرتا ہے ۔
اسی طرح ناسٹلجیا پر جب ادب لکھا جاتا ہے تو اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ جب کوئی آدمی کسی ناسٹلجیا میں جاتا ہے تو وہ ناسٹلجیا کے ایک مجموعی اور الجھے ہوئے تجربات کو بیان کر رہا ہوتا ہے ۔ ناسٹلجیا کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے برا بھلا کہا جائے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ یہ دونوں ادیب اور ہندوستان سے پاکستان آنے والے بہت سے ادیب ایسے تھے ۔ جو اردو میں بہت نمایاں ہوئے ۔ جون ایلیا وہاں سے آئے ، منیر نیازی وہاں سے آئے ، اشفاق احمد وہاں سے آئے ۔ ایک لمبی فہرست ہے جو ہندوستان سے پاکستان آئے لیکن ان سب ادیبوں میں ناصر کاظمی اور انتظار حسین کو جو چیز دوسروں سے جدا کرتی ہے ۔ وہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی ہجرت اور اپنی یاد کو اپنے ادب کی فلاسفی اور اپنے ادب کی شعریات میں تبدیل کر دیا ۔ جو کوئی اور نہیں کر سکا
مثلا
منیر نیازی کے ہاں ہمیں ہجرت کا پہلے سے طے کیا گیا تجربہ نہیں ملتا ۔ ان دونوں کے ہاں ہجرت ایک پہلے سے طے کیا گیا تجربہ بن جاتا ہے ۔ استادِ محترم نے خود ہی سوال اٹھایا کہ :
آغاز وہ کہاں سے کرتے ہیں ؟
پھر وضاحت کی کہ انتظار صاحب کہتے ہیں کہ جب میں نے لکھنا شروع کیا تو اس سے پہلے اردو فکشن میں جو روایت چلی آ رہی تھی ۔ جو اردو فکشن کا گولڈن پیریڈ بھی ہے ۔ جس میں پریم چند ، سعادت حسن منٹو ، عصمت چغتائی ، کرشن چندر اور کچھ اور لوگ بھی شامل ہیں ۔ وہ سارے کے سارے ایک ہی طرح کی حقیقت نگاری کی روایت کو لکھ رہے تھے ۔
انتظار صاحب اپنی کتاب ” علامتوں کا زوال ” میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ اردو افسانے کی جو پہلی اینٹ رکھی گئی ۔ وہ اینٹ ہی ٹیڑھی رکھی گئی اور وہ پہلی اینٹ پریم چند ہیں ۔ پریم چند اُسی طرح کی حقیقت نگاری کی نمائندگی کر رہے تھے ۔
انتظار صاحب کا تجزیہ یہ تھا کہ حقیقت نگاری کی یہ روایت فکشن کا ایک خالص مغربی کینن ہے ۔ اس کو ہم نے اتنا اختیار کر لیا اور ہم بھول گئے کہ ہمارے اپنے پاس کہانی کہنے کی ایک متبادل ، ایک خالص ادبی روایت موجود ہے ۔ ہم انتظار حسین کی طرح اس کینن کا انکار نہیں کرتے ۔ اس کینن میں بہت اچھی چیزیں بھی لکھی گئیں ۔ جب اسی کینن کو مقامی سطح پر استعمال کیا گیا تو اس کے نتیجے میں منٹو جیسا تخلیق کار بھی پیدا ہوا
لیکن
انتظار صاحب نے کہا کہ ہم اس کینن کے نتیجے میں جو اپنی زبانی بیانیے اور کہانی کہنے کی قدیم روایت موجود ہے جیسے پنج تنتر ، الف لیلہ و لیلہ اور کتھا سرت ساگر جس کا پوری دنیا کے ادب پر اثر ہوا ، اسی کے ساتھ چلیں گے ۔ کہانی کی وہ روایت جو ایک کتاب کی شکل میں آئی ۔ وہ ایک زبانی روایت کی شکل میں پہلے سے موجود تھی ۔ انتظار صاحب نے اپنی ذاتی یادوں اور ہجرت کے تجربے کا اسی زبانی روایت کے ساتھ رشتہ جوڑا ۔
انتظار صاحب نے کہا کہ اگر ہم اپنے ادب کو ایک طرح سے نوآبادیاتی سوچ سے چھٹکارا دلانا چاہتے ہیں تو اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ جو مغربی فکشن کی حقیقت نگاری کی روایت موجود ہے ۔ ہم اس روایت سے ہٹ کر خود مشرق کے پاس کہانی کہنے کی جو ایک بڑی زبانی روایت موجود ہے اس کے ساتھ رشتہ جوڑیں ۔ انہوں نے لکھتے ہوئے فارم تو مغربی فکشن یعنی ناول اور افسانے کی اپنائی لیکن اس کے اندر کہانی بیان کرنے کے جو سارے طریقے تھے وہی پرانے قصے ، وہی روایت ، ملفوظات کی روایت اور آیات کی روایت کے اپنائے ۔ انہوں نے کہا جب بڑے سے بڑے اور گہرے سے گہرے مسائل پیش کرنے کے لیے ہمارے اپنے پاس فکشن کی روایت موجود ہے تو ہمیں مغربی روایت کی طرف جانے کی کیا ضرورت ؟
انتظار صاحب کا جو سب سے بڑا کمال ہے ۔ جس کو اردو فکشن میں ان کی ایک کنٹری بیوشن بھی کہنا چاہئے ۔ وہ یہ ہے کہ انہوں نے مغربی فکشن کی روایت سے انحراف کر کے اپنی مقامی کہانی کی جو روایت تھی اس کی بازیافت کی اور اس کو تقسیم اور تقسیم کے بعد کے تجربات کے ساتھ جوڑ دیا ۔ اس کے نتیجے میں انہوں نے ایک بہت کمال کا فکشن تخلیق کیا
لیکن
اس کا مطلب یہ نہیں ہے اور اس غلط فہمی کا ازالہ بھی کرنا چاہئے کہ انہوں نے صرف پرانی کہانیاں لکھیں ۔ یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ پرانی کہانیاں لکھ کیسے رہے تھے ۔ اگرچہ ماضی کی یادیں کھوئے ہوؤں کی جستجو ہوا کرتی ہیں جیسے اقبال نے کہا تھا کہ :
میری تمام سرگزشت کھوئے ہوؤں کی جستجو
تو انتظار صاحب کے ہاں بھی کھوئے ہوؤں کی جستجو ہے لیکن یہ پہلی بات ہے کہ آپ جب ماضی کو دریافت کرتے ہیں تو ماضی کی کن چیزوں کو سامنے لاتے ہیں ۔ ان میں سے کن چیزوں کا اتخاب کرتے ہیں ۔ آپ کے ماضی میں تو بے شمار چیزیں ہوا کرتی ہیں ۔ آپ کے پورے کلچر کی یاداشت ، کہانیاں اور تصورات جو کتابوں کی شکل میں موجود ہوتے ہیں اور ان میں بے تحاشا تنوع ہوتا ہے ۔ آپ سارے کے سارے ماضی کو تو سامنے نہیں لا سکتے ۔ آپ اس میں سے ایک انتخاب کیا کرتے ہیں ۔
دوسرا یہ کہ آپ اس کو پیش کیسے کرتے ہیں کیا آپ ماضی کا احیاء چاہتے ہیں ؟
انتظار صاحب نے ماضی کے ادب اور کلچر کے ایک متحرک اور متنوع تصور کو اپنایا ۔ مثلا جب وہ کہانی کی روایت میں نکلتے ہیں تو ہندوستانی روایت ، عبرانی روایت اور عربی کی روایت کو ساتھ لے کر چلتے ہیں اور کربلا تک چلے جاتے ہیں ۔ وہ اس سارے تصور کو لے کر اسے ایک طرح سے اپنی تخلیقی انسپائریشن کا ذریعہ بناتے ہیں ۔ انسپائریشن بنانے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے زمانے کے شناخت کے جو سوالات تھے ۔ وہ اُسے ان کے ساتھ جوڑتے ہیں ۔
یہ بات اہم ہے کہ ہمارے ہاں کلونیل پریڈ میں ہماری اپنی روایت میں ایک طرح کا جو شگاف پیدا ہو گیا تھا انتظار صاحب کا فکشن اس شگاف کو پورا کرنے کی ایک بہت ہی غیر معمولی کوشش ہے ۔
اسی تقریب میں جب بستی کا ذکر ہوا تو سر نے کہا کہ بستی کے بغیر انتظار حسین کا ذکر ادھورا ہے اور بتایا کہ :
انتظار حسین نے بلاشبہ اپنی بستی کو لکھا ۔ اس بستی کو جسے وہ چھوڑ کر آئے تھے لیکن اس بستی نے ان کے اندر رہنا شروع کیا اور آدمی کے اندر جو بستیاں ایک دفعہ قائم ہو جایا کرتی ہیں ۔ وہ نہ خاموش ہوا کرتی ہیں اور نہ ہی ویران ۔
تو اب سوال یہ ہے کہ ان کا بستی کا تصور کیا تھا ؟
وہ جس کو اپنی بستی کہتے تھے ۔ کیا وہ محض کچھ اینٹوں کا بنا ہوا ایک گھر تھا یا کچھ اور ؟ آپ ان کا ناول ” بستی ” پڑھیں یا ” آگے سمندر ہے ” یا ان کی خود نوشت ” تذکرہ ” پڑھیں یا باقی کہانیاں تو وہ جس بستی کا ایک تصور کرتے تھے ۔ اس میں انسان ، جانور ، درخت ، حشرات اور تمام قسم کی مخلوقات موجود ہوتی ہیں ۔
انتظار صاحب نے جس ماضی کو لکھا ۔ وہ ماضی صرف انسانوں کا ماضی نہیں ہے ۔ وہ ماضی ان سب مخلوقات کا ماضی ہے ۔ جب وہ کسی جگہ یا اپنے گھر کا تصور کرتے ہیں تو گھر کی چڑیا تک کا بھی ذکر کرتے ہیں ۔ کسی اور اردو فکشن لکھنے والے کے ہاں اس طرح کا تصور نہیں ملتا ۔
انہوں نے ایک جگہ لکھا کہ میں افسانہ کیسے لکھتا ہوں تو انہوں نے کہا جس طرح ایک چھوٹی سی چیونٹی مٹی سے اپنا گھر بناتی ہے میں تو وہ ہوں ۔ جو افسانہ بناتا ہوں ۔ گویا مٹی سے میرا ایک رشتہ ہے اور افسانہ اسی مٹی سے نکلتا ہے پھر یہ کہ میں نے یہ کہیں اور سے نہیں سیکھا ۔ نہ مجھے کہیں سے الہام ہوا ۔ یہ تو میں نے گھر کی اس معمولی سے معمولی چیز سے سیکھا ۔ جس کو آپ نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ وہ اپنی تحریروں میں صرف ایک سوسائٹی کو شامل نہیں کرتے تھے بلکہ کائنات اور زمین کا جو پورا ماحول اور تصور ہے اسے لیکر چلتے تھے ۔
اسی چیز نے ان سے ” مور نامہ ” لکھوایا کہ جب انسان مارے گئے تو انسانوں کا دکھ تو آپ مناتے ہیں لیکن جو مور مارے گئے ۔ وہ بھی اسی زمین کے باسی تھے ۔ ناصر کاظمی کی طرح انہیں بھی تمام پرندوں سے ایک طرح کا والہانہ لگاؤ تھا ۔
جس طرح تقریب کا عنوان تھا ” بستی سے چلے تھے منہ اندھیرے ” اسی طرح اب الحمراء آرٹس کونسل پر بھی اندھیرا چھاتا چلا جا رہا تھا ۔ جاتی سردیوں کا آسمان پر دن بھر چمکنے والا سورج اب الحمرا آرٹس کونسل کی بلند و بانگ عمارتوں کے پسِ پردہ جا کر نظروں سے اوجھل ہو چکا تھا ۔ میلے کا آخری دن اور الحمرا کے تمام ہال میں آخری آخری سیشن چل رہا تھا ۔ انہیں میں سے ایک ہال میں اب منیر نیازی کو یاد کیا جانا تھا ۔
” منیر نیازی کی شاعری” کا عنوان لیے پہلی تقریب کی طرح اس تقریب کی بھی موڈیریٹر صغریٰ صدف نے فاطمہ حسن ، اصغر ندیم سید اور احمد شاہ صاحب سے منیر نیازی کی وابستہ یادوں کو سامنے لانے کے بعد جب محترم سر سے کچھ سوالات پوچھے تو انہوں نے منیر نیازی کو کچھ یوں یاد کیا تھا کہ :
منیر نیازی کی شاعری کے بارے میں ہماری تنقید میں جو غالب رائے ہے وہ یہ ہے کہ منیر نیازی کی شاعری میں آسیب ہے ، جنگل ہے ، حصار ہے ، خوف ہے ، چڑیلیں ہیں اور اسی طرح کی بہت سی چیزیں ہیں ۔ جن کا ذکر ہم پرانی اساطیر میں بھی پڑھا کرتے ہیں ۔
اب اس کی وجہ کیا ہے ؟
اصل میں بہت سے ادیبوں نے ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کی ۔ ہر انسان کا ہجرت کا تجربہ دوسرے سے مختلف ہوا کرتا ہے ۔ ہجرت کا جس طرح کا تجربہ ناصر کاظمی اور باقی شعراء کے ہاں ملتا ہے ۔ منیر نیازی کا ہجرت کا تجربہ اس سے بالکل مختلف ہے ۔ منیر نیازی ایک جنگل نما گاؤں سے ہجرت کر کے آئے تھے اور اس کے بعد انہیں شہر میں رہنا پڑا ۔
منیر نیازی کی شاعری کے بیشتر معانی تناؤ کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں ۔ تناؤ ، تصادم ، آویزش یا جھگڑا ایک ہی چیز کے نام ہیں ۔ جو تناؤ ہوتا ہے وہ مختلف گروہوں میں ، مختلف تجربات میں ، مختلف چیزوں میں ، ایک طرح سے ایک نئے خیال ، ایک نئے آرٹ اور ایک نئی جمالیات کا باعث بنا کرتا ہے ۔
مطلب کسی بھی شاعر کے ہاں اگر بنیادی جھگڑا موجود نہیں تو اس کے لیے شاعری کرنا مشکل ہے ۔ اس کا جھگڑا آسمان میں رہنے والے خدا ، اس کا جھگڑا باہر کی قوتوں ، اس کا جھگڑا اپنے اندر کے شیطان یا اس کا جھگڑا اپنے گھر والوں کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے ۔ جب تک وہ جھگڑا موجود نہیں ہے ۔ اس سے ایک طرح کی جو معانی کی چنگاری پیدا ہوتی ہے وہ پیدا نہیں ہو سکتی ۔
آویزش یا جھگڑا آدمی کے اندر کی گہری نفسیاتی قوتوں کو ایک طرح سے جگاتا ہے کیونکہ جھگڑے کے ساتھ آپ رہ نہیں سکتے ۔ آپ کو اس جھگڑے سے نکلنا ہوتا ہے اور یہی تصادم تخلیق کا سبب بن جایا کرتا ہے ۔
منیر نیازی کا جھگڑا اپنی چھوڑی ہوئی جگہ سے نظر آتا ہے ۔ جسے وہ آسیب کہتے ہیں ۔ اب وہ آسیب اپنے گاؤں سے نہیں لائے تھے ۔ جب وہ ہجرت کر کے شہر میں آ گئے تو شہر میں رہنے کے بعد انہیں لگا کہ وہ آسیب ہے یعنی وہ آسیب تب بنا جب وہ شہر میں رہنا شروع ہوئے ۔ ان کا تصادم اپنی بستی کے آسیب اور جنگل اور شہر کے آسیب اور جنگل سے ہے ۔ ان کی بستی کا جو جنگل تھا ۔ وہ تو معصوم تھا لیکن شہر کا جنگل ویسا نہیں تھا ۔ ان دونوں کے درمیان تصادم ان کی شاعری کا سبب بنا ۔
ان کی شاعری کے ہاں وسعت اور انکار بھی موجود ہے مثلاً جب وہ کہتے ہیں کہ :
کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے
سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے
اب کسی سے مراد کوئی بھی ہے ۔ یہ جرات کی بات ہے کہ ہم کسی کے جواب دہ نہیں ہیں ۔ اس لیے کہ سارے لوگ جو سوالات اٹھا رہے ہیں ۔ وہ میرے نزدیک ایک شاعر کے نزدیک غلط ہیں ۔ مجھے یہ حق ہے کہ میں ان سوالات کے بارے میں محاکمہ کر سکتا ہوں کہ وہ غلط ہیں ۔ میں جواب نہیں دوں گا ۔ اسی طرح ان کے ہاں حصار صرف جنگل کی سطح تک کا نہیں ہے بلکہ وہ ایک نفسیاتی اور آرٹ کی سطح کا بھی حصار ہے جیسے یہ شعر کہ :
خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے
سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے
جب استادِ محترم سے سوال پوچھا گیا کہ منیر نیازی کی شاعری کو یاسیت بھری شاعری کہا جاتا ہے اور جدید اردو شاعری میں ان کا کیا مقام ہے ؟
تو تقریب ختم ہونے والی تھی ۔ استادِ محترم نے اپنی بات کو لپیٹتے ہوئے کہا ۔ ہم اصرار کرتے ہیں کہ ہر شاعر کے ہاں رجائیت دکھائی دینی چاہیے ۔ رجائیت حقیقی ہونی چاہیے اور یاسیت اگر ایک حقیقی تجربہ ہے تو سامنے آنا چاہیے ۔
یاسیت جب ادب میں یا شاعری میں آتی ہے تو وہ یاسیت وہ نہیں ہوتی جس کا دنیا میں محض ایک عمومی تصور ہوتا ہے بلکہ ادب میں یاسیت ایک انسان کا مجموعی گہرا اور تہہ دار تجربہ بن کے آتی ہے جیسے منیر نیازی کا یہ شعر کہ :
آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے
ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے
یہ جو رائیگانی ہے ۔ منیر نیازی کہہ رہے ہیں کہ اگر اور کچھ نہیں ہے تو اس سفر کا ایک حاصل رائیگانی تو ہے ۔ میں اسی رائیگانی کے ساتھ بھی جی سکتا ہوں اور رائیگانی کے ساتھ جینا بھی انسانی تجربے کا ایک لازمی حصہ ہوا کرتا ہے ۔ دنیا میں وہ ادب زیادہ لکھا گیا ہے جو آپ کو ایک مثالی دنیا دکھایا کرتا ہے ۔ کوئی بھی دنیا مثالی نہیں ہوا کرتی دنیا میں بہت جھگڑے ، بہت تکالیف اور بہت مصائب ہوا کرتے ہیں ۔ ہماری ان مصائب کے خلاف مسلسل ایک جہدوجہد ہوا کرتی ہے ۔
منیر نیازی نے اپنی شاعری میں یہی دکھایا ہے کہ بجائے اس کے کہ وہ ایک خیالی دنیا اور بالکل رجائیت کو پیش کرتے ۔ جیسا بہت سے شاعر کرتے بھی ہیں ۔ انہوں نے ایک حقیقی تجربے کو جو ہم سب کا تجربہ تھا ۔ اس کو پیش کیا ہے ۔ یہ بات جچی تلی ہے کہ یاسیت پر مبنی شاعری آپ کو یاسیت میں مبتلا نہیں کرتی بلکہ یاسیت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے کی جرات بھی عطا کیا کرتی ہے ۔
علمی تو تھی ہی ۔ منیر نیازی کی تقریب کے دلچسپ ہونے کی تمام شرکاء نے تعریف کی تھی ۔ روداد ختم ہوئی ۔ ہم نے استادِ محترم کی ایک تہائی باتیں اپنے پاس رکھ لیں ۔ دو حصے آپ تک پہنچا دئے لیکن ساتھ ہی ساتھ اس بات کا ذکر کرتے چلے جانا بھی لازم ہے کہ ان تینوں سیشن میں بتا دئے گئے دیگر مقررین کی باتیں بھی اپنے آپ میں وزن رکھتی تھیں ۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں