محبت کے سرخ پھول۔۔۔صادقہ نصیر

محبت کے سرخ پھول۔۔۔
ہفتہ محبت شروع ہے
ایک ہفتے میں ختم بھی ہو جائے گا
آؤ گلہریوں کی باتیں کریں۔
اس برڈ فیڈر کی بات کریں؛ جو بہار میں آنے والے پرندوں کو دانہ ڈالنے کے لئے خریدنا ہے۔
آؤ گلی میں کھڑی بہار کی بات کریں جو دروازہ کھٹکھٹانے کے لئے منتظر ہے۔ ۔
نئے پودے جو لگانے ہیں وہ سوچیں کہ کونسے لا نے ہیں۔
ان گلاب کے پودوں کی بات کریں جو
برف میں دبے ہوئے ہیں۔
وہ پودے جو گزشتہ برس لگائے تھے۔
ان کے بارے میں کیا بات کریں؟
یہی کہ اب برف پگھلنے کے بعد گلاب نمو پاکر بڑا ہوگا ۔
اور پھر پھول نکلیں گے ۔
دو پھول۔
یہی تو بات ہے کرنے کی ہے ۔
اس مرتبہ کیا گھر میں تمہاری پسند کے پکوان بنائیں؟
یا
باہر سے کھانا آرڈر کریں۔؟
باہر سے آرڈر کرلیتے ہیں۔
تاکہ کچھ وقت بچ جائے۔
محبت کی باتیں کرنے کو۔
باتوں پر سے خاموشی کی برف اتار کر؛
ہفتہ محبت منائیں۔
ہاں ایک سرخ پھولوں کا ایک بوقے بھی آرڈر کرنا ہے ۔
ایمزون سے یا آن لائن گلفروش سے آرڈر کردیتے ہیں۔
ہفتہءِ محبت کا ایک پل بھی ضائع نہ ہو۔
بس تین چار روز میں
ہفتہ محبت چلا جائے گا۔
پیار جھوٹا نہ ہو
کم ہی سہی۔
جھوٹے پیار کے ہزار سال پر
ہفتہ محبت کے چند روز کافی ہیں۔
یہ سچی محبت
بغیر گفتگو کی کبھی
سالہا سال فضل گل دیتی رہتی ہے۔
چلو سب مل کر
ایک ساتھ کہہ دیں
بی مائی ویلنٹائن۔
اور اس تھوڑے سے وقت میں صدیاں جی لیں ۔
یہ گانا ابھی نہ گاؤ ۔
پل پل دل کے پاس۔۔۔ ۔ہم رہتے ہیں۔
ابھی تو بوقے کے پھول دیں گے اور لیں گے۔
دل کے بدلے دل۔۔
یہ گیت تو ہفتہ محبت کے ختم ہونے سے لے کر اگلے سال کے ویلنٹائن تک گنگناتے رہیں گے۔۔۔
پل پل دل کے پاس ۔۔۔۔ ہم رہتے ہیں۔۔۔۔
یہ پھول محبت کے انسانیت کے نام ۔
خیال رہے کوئی پھول کسی انسان کے خون سے سرخ نہ ہو۔۔۔۔۔۔
All humans are my Valentines…
صادقہ نصیر

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply