رنگ، پتنگ، ڈھول، گلیمر اور میڈیا کی چکاچوند/سائرہ رباب

گزشتہ دنوں ایک طرف بسنت اور دوسری طرف ایک خاموش سا کتاب میلہ تھا، جو ہمیشہ کی طرح بغیر ہنگامے کے لگا رہا… اور ہمیشہ کی طرح ریاست اور حکومت کی ترجیحات میں شامل نہ ہو سکا۔
بسنت اپنی جگہ اہم ہے، تہوار کے طور پر اس کی اپنی قدر و قیمت ہے۔
مگر ہم جیسے مزاج رکھنے والوں کے لیے شور شرابے اور ہنگامے کے بعد ایک خاموش گوشہ بھی ضروری ہوتا ہے….اپنی محبوب کتاب کے ساتھ۔
جیسے بسنت روح کی ایک فطری بھوک ہے، ویسے ہی نئی کتابوں، نئے خیالوں اور نئے سوالوں کی بھوک بھی کم سچی نہیں۔
ہم پری ڈیجیٹل عہد کے لوگوں کے لیے
کتاب بھی محبوبہ کی طرح ہوتی ہے۔
اس کے اوراق کی سرسراہٹ، بھینی بھینی خوشبو، اور لفظوں کا لمس ۔۔۔۔سب کچھ ویسا ہی جیسے کسی محبوب کے قریب بیٹھنے کا سکون۔۔
کتاب میلے میں کیی نایاب لوگوں سے ملنے کا موقع ملا۔
اکبر علی ناطق کی صحبت میں بیٹھنے کا شرف حاصل ہوا جو یہاں چند ایسے لکھاریوں سے ہیں جنکا اپنی دھرتی کے ساتھ تعلق بہت گہرا اور سچا ہے۔ہم جیسے لوگ جو بات منطق اور دلیل کی زبان میں لکھتے ہیں، ناطق جی جیسے فنکار وہی بات کہانی اور احساس کی زبان میں اس طرح بیان کرتے ہیں کہ قاری خود کو اس سفر میں گم پاتا ہے۔ انکو مل کر یہی احساس ابھرا کہ سچا فنکار جتنا بڑا ہوتا ہے، اتنا ہی عاجز اور ملنسار بھی ہوتا ہے۔
پھر پروفیسر سعید صاحب سے ملاقات ہوئی۔ جب ہر طرف پنجاب، پنجابیت اور قوم پرستی کے مباحث چل رہے ہیں، کانفرنسز، کلچرل شوز کے ہنگامے عروج پر ہیں۔ آپ دنیا و مافیہا سے بے نیاز، پہاڑوں کے درمیان ایک جھونپڑے میں بیٹھ کر
اپنی محبوبہ پنجابی کے لیے بن باس کاٹ رہے ہیں۔شاید اسی امید پر کہ ایک دن ماں بولی پھر سے اپنے بچوں کے پاس لوٹ آئے، اُن کے ہونٹوں پر بسے، اُن کی سانسوں میں گھلے، اور گھروں کے آنگن میں دوبارہ مہکنے لگے۔
آپ مادّی آلائشوں سے پاک، حرص و طمع سے دور، ایک درویش صفت انسان ہیں۔۔۔۔سچے معنی میں پنجابی۔ بلھے اور وارث کی روایت کے امین۔
آپ کی صحبت میں علم بھی ملا اور محبت بھی۔❤
آپ کی کتابوں کے ساتھ پنجابی شاعری سے مزین بیگز کا یہ تخلیقی خیال بھی بے حد خوبصورت لگا۔..
وقار احمد صاحب سے بھی ملاقات ہوئی، جو مستنصر حسین تارڑ کے اسفار میں ان کے رفیقِ سفر رہ چکے ہیں۔ جہاں دیدہ انسان کے پاس صرف معلومات نہیں ہوتیں، زمانوں کا مشاہدہ، راستوں کی دھول اور تجربوں کی روشنی بھی ہوتی ہے اور وہ خود ایک کتاب بن جاتا ہے۔ اُن کی پہلی کتاب “بچے کا مقدمہ” اُن کے آٹوگراف کے ساتھ لینا بھی ایک خوشگوار مسرت تھا.
اور نصیر احمد ناصر صاحب ۔۔۔۔ جن کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان سے مل کر پھر یہی یقین تازہ ہوا کہ شاعر واقعی ایک پیغمبر صفت ہستی ہوتا ہے۔ وہ لفظوں سے آگے جا کر روح کے بھید جان لیتا ہے، وہ وہ کچھ دیکھ لیتا ہے جو عام آنکھ سے اوجھل رہتا ہے، اور جسکی نظم الہام بن کر دل پر اترتی اور اسکو معطر کر دیتی ہے ۔۔ انکی نیی کتاب ” تیسرے قدم کا خمیازہ ” آٹو گراف کے ساتھ آج کا سب سے خوبصورت تحفہ تھا۔۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply