کامران مرزا کی بارہ دری(سفرانچہ)۔۔۔ظاہر محمود

صبح صبح جب میں ہیومینیٹیرین بلاگنگ ورکشاپ کی جامع رپورٹ لکھ چکا تو اذانوں کی صدا گونجنے لگی، ناشتے کا وقت ہوا چاہتا تھا، آنتیں قل ھواللہ پڑھ رہی تھیں، پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے، کتے بھونک رہے تھے، ہم نے رضوان میاں کو کال لگائی، صبح دم صلوۃ و سلام کی بجائے دو دھتکارے کَسے، پچکاریوں سے اظہارِ محبت کیا اور کہا میاں بائیک پکڑو اور پہنچو نیو ہاسٹل کے گیٹ پر، ابھی فون دھرا نہ تھا کہ قبلہ اعتزاز چودھری سکرین پر آ دھمکے، کہنے لگے ہمیں تو اسی بات پہ ساری رات نیند نہ آئی کہ آپ کی طرف سے ناشتے کی دعوت تھی، خیر ہم تینوں ہیرا منڈی کی مشہور حلوہ پوری کی دکان تاج محل سویٹس جا پہنچے، معلوم ہوا کہ رضوان اور اعتزاز میاں پوریاں کھانے میں ہلکے ہیں سو ان کے حصے کی آئی پوریاں بھی خودی کو کھانا پڑیں، بعد ازاں طے شدہ پروگرام کے مطابق ہمیں کامران کی بارہ دری جانا تھا- جونہی باہر سڑک پہ نکلے سامنے پُلسیے کھڑے تھے، قبلہ اعتزاز چودھری نے تو ماشاءللہ بائیک کے اوپر نیچے حتی کہ اپنے ہیلمٹ کے پیچھے بھی بڑا سا موٹا سا “PRESS” لکھوا رکھا ہے سو وہ تو ان کے سامنے سے غلط کراس کر گئے مگر ہم بیچارے سٹوڈنٹس کو ایسا کرنے کی ہمت نہ ہوئی، خیر ہم سورج کی بڑھتی کرنوں کے ساتھ ساتھ اپنی منزل کی جانب بڑھتے گئے- دریائے راوی کے پاس پہنچے، ایک بوڑھے ملاح نے ہمارا سواگت کیا، کشتی میں بٹھایا، ساتھ ہی خود بیٹھ گیا، لگا گٹر میں چپو چلانے، اعتزاز میاں کو شرارتیں سوجھیں، ہمیں یہ کھٹکا کہ ابھی دم گٹر کا پانی چپو سے ٹکرا کر ہمارے منہ یا کپڑوں پہ آ گرے گا اور ساتھ میں بیماریوں کا اسپتال اٹھا لائے گا، اللہ اللہ کر کے منزل کو پہنچے، پورے لاہور کے گٹروں کی بدبو سے سونگھنے کی حِس معطل ہو چکی تھی-

اب ایک نیا سفر درپیش تھا, لاہور میں رہتے مجھے کوئی ساتواں آٹھواں سال ہے، ہمیشہ خواہش رہی کہ یہ بارہ دری جو راوی میں دور درختوں کے جُھنڈ میں پوشیدہ ہے، دیکھنی ہے۔ بڑے بڑوں نے اس پہ لکھا ہے، مستنصر حسین تارڑ، جج عبداللطیف اور اسلم ملک صاحب کی وساطت سے کئی دفعہ اس کی بابت پڑھا- یہ کامران کی بارہ دری کامران مرزا کے نام سے جانی جاتی ہے جو مغل بادشاہ بابر کا بیٹا تھا اور ظاہری سی بات ہے ہمایوں کا بھائی تھا- اس نے بھلے وقتوں میں یہاں میوہ جات کے سرسبز وشاداب باغات لگوائے، اس وقت بقول ہمارے سینئر  تاریخ دانوں کے دریا موجودہ کھلیان سے دو میل دور شہر کی فصیل کے ساتھ بہتا تھا، بعد ازاں جب دریا کا رخ اس جانب ہوا تو باغات تو نیست و نابود ہو گئے البتہ یہ بارہ دری کی عمارت بلندی پر ہونے کے باعث بچ گئی- عجب بات تو یہ ہے کہ کامران کی یہ بارہ دری لاہور میں مغلوں کی تمام تعمیرات میں سب سے قدیمی ہے کیونکہ جہانگیر نے خاص کر لاہور کو مرکز بنایا اور کامران نے اس سے بھی پہلے اپنی موجودگی کے نشانات یہاں چھوڑ رکھے تھے- آج سے پہلے جب میں کئی دفعہ جہانگیر کے مقبرے بھی جاتا رہا تو یہ کہاوتیں بہت سنیں کہ مقبرے سے بارہ دری اور بارہ دری سے شاہی قلعے اور وہاں سے دلی کو زیرِ زمین سرنگیں جاتی ہیں مگر میں نے ذاتی طور پر وہاں کوئی ایسی زیرِ زمین پراسرار سرنگ کے آثار نہ دیکھے حتی کہ اس بارہ دری کی پرانی عمارت میں زبردست اور پختہ فرش سے نیچے جانے کا کہیں سے کوئی رستہ نہ تھا، شاید وہ سرنگ کہیں اور سے نکلتی ہو مگر ہم سارا باغیچہ گھوم رہے، وہاں ایسے کوئی آثار نہ ملے- بارہ دری کی عمارت فنِ تعمیر کے لحاظ سے ایک شاہکار ہے- اس کے اندر کھڑے ہو کر بات کرنے سے آواز بہت گونجتی ہے- وہیں کوئی لوکل بینڈ حضرت لعل شہباز قلندر کے قصیدے بھی ریکارڈ کروا رہا تھا، ان میں سے ایک قصیدہ تو بہت مزاحیہ تھا، ہم سب اس پہ خوب ہنستے رہے، اس کی وجہ بینڈ کا طرزِ لباس اور طرزِ لحن تھا جبکہ قصیدے کے بول تھے “ہٹ جا پِچھے”- ہمارے ہاں پاکستان میں ارغونوں، ترکھانوں، سموں، مغلوں، ایرانیوں، سکھوں اور انگریزوں کے طرزِ تعمیر کے شاہکار موجود ہیں اس کا فائدہ یہ ہے کہ ہماری ثقافت میں یہ شاندار طرزِ تعمیر سمو گئے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ہماری ثقافت کے رنگ مزید گہرے ہوتے جاتے ہیں مگر افسوس کہ ہم نے کبھی بھی ان عمارتوں اور آثارِ قدیمہ کو اپنا نہیں سمجھا، اب دیکھیے نا بارہ دری کی عمارت میں کوئی ایسی جگہ خالی نہیں رہ گئی تھی جس پر کسی تھرڈ کلاس عاشق کی بازاری شاعری، دوشیزاؤں کے فون نمبر، نام اور گھٹیا فقرے درج نہ ہوں- بعض ایسی جگہوں پر بھی کچھ نہ کچھ لکھا تھا کہ جسے دیکھ کر ہم کتنی دیر تو یہی سوچتے رہے کہ لکھنے والے نے یہاں لکھنے کے لیے نجانے کتنے پاپڑ بیلے ہوں گے- بارہ دری کے ساتھ ہی ایک بڑا حوض تھا جس میں یقیناً بھلے وقتوں میں پانی بھی ہوا کرتا ہو گا مگر اب تو وہاں کرکٹ کھیلنے والوں کا رش تھا- ارے بھائی لوگو تم کتنا عرصہ اسے سٹیڈیم بنائے رکھو گے، بیس سال، پچاس سال، سو سال! آخر کو ایک روز یہ عظیم تاریخی ورثہ معدوم ہو جائے گا-
بڑوں سے سنتے آئے تھے کہ بارہ دری کے احاطہ میں ہی ہمارے بھی کسی رشتہ دار کی کوئی قبر ہے سو آخر پہ ہم اس کی تلاش کو نکلے- باغیچے سے باہر، ذرا ہٹ کے، معلوم ہوا کہ کچھ قبریں ہیں- وہاں جا کر دیکھا کسی قبر پر کسی کا نام نہ تھا، سب قبروں پہ باری باری حاضری دی، سوچا کوئی نہ کوئی تو ہو گی- وہاں گھروالوں کو دکھانے کے لیے کچھ تصویریں لیں اور واپسی کی راہ لی- چلتے چلتے دریا کنارے آ پہنچے- وہاں کسی بیڑے کے انتظار میں ایک چھوٹے سے سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھ گئے- پورے لاہور کے سیوریج کے پانی میں چھوٹی بڑی کثافتیں اٹکھیلیاں کرتی بہہ رہی تھیں- لاہور جیسے صنعتی ترقی یافتہ شہر میں یوں دریا کنارے بیٹھ کر تخلیہ کرنا بڑا منفرد سا احساس اپنے دامن میں سموئے ہوئے تھا- آدھا گھنٹہ بیت چکا تھا کوئی کشتی اس جانب نہ آ رہی تھی- ہمیں کیا معلوم تھا کہ خدا نے یہاں بھی ہمارے لیے ایک کہانی چھپا رکھی ہے- ہم سے کوئی چند فرلانگ پیچھے ایک صاحب سگریٹ ہوا میں بلند کیے بیٹھے تھے- سر اور داڑھی کے بال الجھے ہوئے اور آلودہ تھے، شکل سے ہی کوئی موالی لگتا تھا- اتنے میں دو لوگ اس کے پاس جھمگٹا کیے بیٹھ گئے، بھائی صاحب نے نجانے کس پوٹلی سے کھانے کے دو شاپر نکالے، کھانا کھانے لگے- ہم باتوں میں لگ گئے، اتنے میں پشت سے ایک شخص نے آواز لگائی، کہنے لگا، بابا جی نے دریا سے پانی بھر لانے کا حکم دیا ہے- ہم نے پوچھا کہ بھئی خیر ہے یہ پانی تو بندہ فصلوں کو بھی نہ لگائے، بابا جی نے کیا کرنا ہے- رونگٹے تو تب کھڑے ہوئے جب اس شخص نے بڑبڑاتے ہوئے جھک کر خود ایک غلیظ شاپر میں دریا کا پانی بھرا اور بتایا کہ وہ فقیر لوگ ہیں، ہمیشہ دریا کا پانی ہی پیتے ہیں- یقین نہ آیا تو مڑ کر دیکھا، بابا صاحب سچی مچی اسی غلیظ شاپر میں بھرے گٹر کے پانی کو مزے لے لے کر پی رہے تھے- یا خدا! یہ کیسی دنیا ہے، اس کے کیسے رنگ ہیں- اتنے میں وہاں کنارے سے وہی بوڑھا ملاح ہمیں لینے آ گیا- ایک بار پھر ناک بھوں چڑھائے، گندے بدبودار پانی پر تیرتے ہوئے ہم واپس اپنی روزمرہ زندگی کی طرف آ گئے-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *