انتہا پسندی اور رد عمل کی نفسیات (1)

(“مضامین کا یہ سلسلہ مغرب کے ساتھ ہمارے پیچیدہ تعلق کے نفسیاتی پہلوؤں کی یافت کی ایک کوشش ہے۔ استعمار کا جبر اور اسکے نتیجے میں تشکیل پاتی ردعمل کی نفسیات کا جائزہ مسلم دنیا بالعموم اور پاکستان کے مخصوص سیاسی اور سماجی حالات کے تناظر میں لینے کی ایک درسی کاوش ہے۔ کل تیرہ اقساط میں یہ سلسلہ مکمل ہو گا۔” مصنف)

خود راستی (Self Righteousness) کے موضوع پر گزارشات کے شائع ہونے پر ایک کرم فرما نے فون کر کے ارشاد فرمایا کہ اختلاف کی گنجائش نہیں ہے، لیکن مذہبی ذہن کے بارے میں کہی گئی بات کو قبول کرنے پر دل آمادہ بھی نہیں ہے۔ سلمان تاثیر کا قتل غلط تھا لیکن قاتل بھی غلط نہیں۔ پچاس سے ستر ہزار افراد کا قتل غلط، مگر قاتل بھی برحق۔ تاریخ سے واقف جانتے ہیں کہ ہماری قوت فیصلہ کے ایسے بہت سے مظاہر اور مثالیں تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہیں جہاں قاتل و مقتول دونوں ہی معتبر اور دونوں ہی ہماری ھمدردی کے حقدار ٹھہرے۔ قوت فیصلہ کا فقدان شائد اتنے مسائل پیدا نہ کرے اگر اسکا ادراک اور احساس موجود ہو۔ ہر انسان کی زندگی ایسے بہت سے لمحات آتے ہیں جب صحیح اور غلط کا فیصلہ نہیں ہو پاتا۔ لیکن ایسے میں انسان عمل سے گریز کرتا ہے۔ یورپ میں عام افراد کی الیکشن میں عدم شرکت اس کی ایک مثال ہے۔ عام آدمی جب امیدواروں میں فرق کو واضح طور محسوس نہیں کر پاتا تو گھر بیٹھ جاتا ہے۔ کسی واضح فیصلے کی غیر موجودگی میں اصرار اور ضد کے ساتھ کچھ کاموں کی تکرار غور طلب ہے۔ سلمان تاثیر کے قاتل کا عمل غلط، مگر اس کے جنازے میں شرکت بھی ضروری۔ دہشت گرد غلط، مگر ان کے سرپرستوں کی امامت بھی تسلیم۔ جمہوریت بہترین نظام، مگر جمہوریت کش قوتوں کے لیے بھی دیدہ و دل فرش راہ۔
دن رات شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کرنے والے پاکستانی آخر اپنی ذات پر شریعت نافذ کیوں نہیں کر سکتے؟۔ اپنی اخلاقی اور معاشرتی کمزوریوں کو تسلیم کرنے میں کون سا امر مانع ہوتا ہے؟۔ ہم عورتوں کے چہرے پر تیزاب پھینکنے اور غیرت کے نام ہونے والے قتل پر اتنا برہم نہیں ہوتے جتنا اس پر بننے والی ڈاکومنٹری اور اس کو ملنے والے انعام پر۔ جواب میں امریکہ میں عورتوں پر ہونے والے مظالم گنوا دیے جاتے ہیں۔ کیا کوئی پوچھ سکتا ہے کہ ایسے واقعات کے بعد وہاں قانون اور معاشرہ مجرموں کے لیے کیا رویہ رکھتا ہے؟ ایسے واقعات کو موضوع بنانا ان معاشروں میں لائق تحسین ہو جاتا ہے جہاں ایسے مجرم لائق تقلید ٹھہرتے ہیں۔ ہمارے ہاں ملالہ پر قاتلانہ حملہ کرنے والا اتنا مطعو ن نہیں ہوا جتنی مضروب ملالہ۔ دہشت گردی کے تیس سال طویل اور خون آلود دور کے بعد آج بھی ہم صرف قاتل ہاتھ کاٹنے کو کافی سمجھ کر خوش ہیں کہ ہم محفوظ ہو گئے۔ انتہائی تکلیف اور خوف کے ساتھ اس اندیشے کا اظہار مقصّود ہے کہ ہماری یہ خوشیاں کہیں عارضی ثابت نہ ہوں۔
ایک بات نسبتاً اصرار کے ساتھ عرض کی جا سکتی ہے اور وہ یہ کہ پاکستان جیسی پرتشدد انتہا پسندی، معاشرتی ہمدردی اور مدد کے بغیر نہ تو پیدا ہو سکتی ہے اور نہ پھل پھول کر بچے پیدا کر سکتی ہے۔ زندہ، متحرک اور پرتشدد انتہا پسندی کا وجود ان معاشرتی رجحانات کی نشاندہی کرتا ہے جو اس انتہا پسندی کے ہاتھوں نقصان اٹھانے کے باوجود اس کے لیے پسندیدگی اور ہمدردی رکھتا ہے۔ سٹوک ہوم سنڈروم Stolkholm Syndrom کی بات کرنے سے پہلے ہمیں اپنے ناک کے نیچے نظر کیوں نہیں آتا۔ کیا ہم نے اپنے بچوں کے قاتلوں کو ”شہید” اور ”بازوے شمشیر زن” نہیں کہا؟ اپنے قاتلوں کو ہم نے ہی اپنا اثاثہ ٹھہرایا ہے۔ راولپنڈی کے جنازے میں شرکت قاتل کے لیے پسندیدگی کا اظہار ہے۔ تصور فرمائیں اگر مجاہدین کے لشکروں کو آج بھی چندہ اکھٹا کرنے کی اجازت ہوتی تو زیادہ رقم لشکروں کے لیے ہوتی یا کسی ہسپتال کے لیے؟۔ کیا یہ مناسب نہ ہوگا کہ ہم “سٹوک ہوم سنڈروم” کا نام “پاکستان سنڈروم” رکھ دیں؟ اس لیے کہ قاتل پسندی کی یہ تازہ، زیادہ واضح اور بھیانک مثال ہے۔ اس کا دائرہ بھی وسیع ہے۔ چند افراد کی جگہ معاشرے کی اکثریت اس سنڈروم کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ سوال سادہ اور سیدھا ہے۔ کیا ہمیں اپنے قاتلوں سے محبت ہے؟ مجھے یہ عرض کرنے دیں کہ ہمیں اپنے قاتلوں سے محبت ہے صرف بر ملا اور بآواز بلند اعتراف میں تامل ہے۔ بعض صورتوں میں وہ بھی نہیں۔
ہمارا اصل مسئلہ ”مغرب دشمنی” ہے۔ (یہاں مغرب کے لفظ کا استعمال طالب علم کی کوتاہ علمی پر دلیل ہے) یہ ذہن میں رکھیے کہ یہ کوئی سیدھی سادھی دشمنی نہیں ہے اس کی پیچیدگیاں بیان کرنے کے لئے دفتر درکار ہیں۔ ہماری ذہنی ساخت اور تربیت اس پیچیدہ عناد اور دشمنی کی بنیاد پر ہوئی ہے۔ ایسے میں ہر مغرب دشمن خواہ وہ کوئی (اس کوئی کا دائرہ بہت وسیع ہے) ہو ہمیں اپنا نجات دہندہ لگتا ہے۔ اس کے سایہ عاطفت میں ہم اپنے کو محفوظ تصور کرتے ہیں۔ اس کی موجودگی میں ہم اپنے کو طاقت ور محسوس کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے زوال پر گریہ و زاری کا محور حکومت اور طاقت سے محرومی کا نوحہ ہے۔ زوال پر ہونے والی ساری بحث اس نکتے پر تمام ہوتی ہے کہ مسلمان آج غیر مسلموں جتنی طاقت، قدرت اور دولت کیوں نہیں رکھتے۔ جس طرح غیر مسلم جب چاہیں، جہاں چاہیں چڑھ دوڑتے ہیں مسلمان ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟۔ مسلمان حکومتوں کی ریڑھ کی ہڈی کمزور اور دانت کند کیوں ہیں؟ زوال کا مسلمانوں کی علمی پسماندگی سے کوئی تعلق نہ تو دیکھا جاتا ہے اور نہ بیان۔ ایک معروف اخبار نویس نے جب اس علمی زبوں حالی پر توجہ دلائی، اس پر حسب توقع چوتھی صدی ھجری تک کے مسلمان سائنس دانوں کے اسماے گرامی دوہرا دیے گئے۔ مسلمانوں کا عہد زریں مسلمان حکومتوں کے پھیلاؤ کا دور تھا۔ ہم نے یہ طے کر لیا ہے کہ جرم ضعیفی کا مطلب صرف اور صرف ضرر رسانی کی صلاحیت سے محرومی ہے اور دوسروں کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت طاقت کی تعریف ہے۔ القاعدہ نے اس صلاحیت کا مظاہرہ کیا، کمال کیا اور جرم ضعیفی سے نجات پائی۔ طاقت کے اس مظاہرے کا نتیجہ کیا نکلا یہ دیکھنے کے لیے ہماری دیدہ وری کو نرگسس کا ہزار سالہ گریہ چاہیے۔
جرم ضعیفی اور طاقت کی اس تعریف نے ہمارے ذہن میں موجود حفاظت کے تصور تعریف اور مراکز کا تعین کیا ہے۔ ہم تیغوں کے سائے میں محفوظ اور کتابوں کی صحبت میں غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ انسان کش ہتھیار ہمیں محفوظ بناتے ہیں مگر معاشروں کو حسن عطا کرنے والے علوم و فن نہیں۔ جب تک دشمن کا قلع قمع نہ ہو جائے ہم اپنے کو محفوظ محسوس نہیں کر سکتے۔ نفسیات کا مبتدی طالب علم بھی آج یہ جانتا ہے کہ یہ احساس حفاظت ہر آن دشمن کا سراغ لگانے کی کوشش میں مصنوعی دشمن پیدا کرتا ہے اور وہاں بھی دشمن دکھاتا ہے جہاں وہ نہیں ہوتا۔ نئے دشمن پیدا کرتا ہے اور پرانے دشمنوں کے نئے اوصاف اور نئی سازشوں کو سونگھتا ہے۔ اپنی صفوں میں دشمنوں کے اتحادی ڈھونڈھ نکالتا ہے اور ان کے خلاف نئی صف بندی میں مصروف ھوجاتا ہے۔ (جاری ہے)

نوٹ: یہ سیریز اس سے قبل ہم سب پر بھی شائع ہو چکی ہے۔

اختر علی سید
اختر علی سید
اپ معروف سائکالوجسٹ اور دانشور ہیں۔ آج کل آئر لینڈ میں مقیم اور معروف ماہرِ نفسیات ہیں ۔آپ ذہنو ں کی مسیحائی مسکان، کلام اور قلم سے کرتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *