• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • فتویٰ: رہنمائی کا آلہ یا سماجی دباؤ کا ہتھیار/محمد امین اسد

فتویٰ: رہنمائی کا آلہ یا سماجی دباؤ کا ہتھیار/محمد امین اسد

برصغیر پاک و ہند میں عام طور پر فتویٰ کو ایک علمی رائے کے بجائے حتمی، فیصلہ کن اور واجب التعمیل حکم سمجھ لیا گیا ہے، گویا یہ کسی عدالتِ عالیہ کا آخری فیصلہ ہو جس کے بعد نہ سوال کی گنجائش باقی رہتی ہے اور نہ اختلاف کی۔ اس ذہنی فضا میں فتویٰ علم کی روشنی نہیں بلکہ خوف کی علامت بنتا چلا گیا ہے، اور سوشل میڈیا کے دور میں یہ رجحان اور بھی سنگین صورت اختیار کر چکا ہے، جہاں چند سطروں، آدھے جملوں اور جذباتی نعروں پر مشتمل فتوے لمحوں میں ہزاروں ذہنوں کو متاثر کر دیتے ہیں۔ سیاسی مفادات اور فرقہ وارانہ کشمکش نے اس عمل کو مزید مسخ کیا ہے، یہاں فتویٰ اصلاحِ فکر کے لیے نہیں بلکہ مخالف کو خاموش کرانے، بدنام کرنے یا دائرۂ اسلام سے باہر دھکیلنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور یوں ایک ایسا علمی آلہ جو اصل میں رہنمائی، خیر خواہی اور تقویٰ کے لیے تھا، آہستہ آہستہ طاقت، دباؤ اور تقسیم کا ہتھیار بن جاتا ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں فتویٰ کی اصل حیثیت، اس کی حدود اور اس کے اخلاقی تقاضوں کو ازسرِنو سمجھنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔

اسلامی شریعت میں فتویٰ کا مقام نہایت بلند بھی ہے اور نہایت نازک بھی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ایک انسان، اپنے محدود علم اور فہم کے ساتھ، اللہ کے ابدی قانون کو سمجھنے اور بیان کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی لیے قرآن مجید نے اللہ کے نام پر بلا علم بات کرنے کو سخت گناہ قرار دیا اور واضح تنبیہ کی کہ زبان سے حلال و حرام کے فیصلے گھڑنا دراصل اللہ پر بہتان ہے۔ اس تنبیہ کا مقصد یہی تھا کہ فتویٰ کو کبھی بھی ہلکے، جذباتی یا اقتداری عمل کے طور پر نہ لیا جائے، بلکہ اسے ایک امانت سمجھا جائے جس میں لغزش کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے۔

فقہ اسلامی کی پوری روایت اس حقیقت پر گواہ ہے کہ فتویٰ وحی نہیں بلکہ فہمِ وحی ہے۔ امام ابو حنیفہؒ اس باب میں نہایت واضح اور جری موقف رکھتے تھے۔ وہ اپنی آرا کو کبھی حتمی نہیں سمجھتے تھے اور بار بار کہتے تھے کہ یہ ہماری رائے ہے، اگر اس سے بہتر بات کوئی پیش کر دے تو ہم اسے قبول کریں گے۔ یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک مکمل علمی مزاج ہے جو یہ بتاتا ہے کہ فتویٰ حق کا دعویٰ نہیں بلکہ حق تک پہنچنے کی ایک کوشش ہے۔

یہی نہیں، امام ابو حنیفہؒ کے اپنے شاگرد، امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ، سینکڑوں مسائل میں اپنے استاد سے اختلاف رکھتے تھے۔ فقہ حنفی کی معتبر کتب کا مطالعہ کرنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ معاملات، عبادات، قضاء، سیاست اور معاشرت کے بے شمار مسائل میں شاگردوں کے فتوے استاد کے فتوے سے مختلف ہیں، اور خود امام ابو حنیفہؒ نے اس اختلاف کو نہ صرف برداشت کیا بلکہ علمی صحت کی علامت سمجھا۔ اگر فتویٰ حتمی اور ناقابلِ اختلاف ہوتا تو یہ اختلاف فقہ کی بنیاد ہی نہ بن پاتا۔

یہی صورت حال دیگر ائمۂ مجتہدین کے یہاں بھی نظر آتی ہے۔ امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کے درمیان سینکڑوں مسائل میں اختلاف پایا جاتا ہے، اور ان اختلافات کو کبھی دین سے انحراف یا گمراہی قرار نہیں دیا گیا۔ بلکہ فقہ کی ضخیم کتابیں اس بات کی شاہد ہیں کہ یہی اختلاف اسلامی قانون کو جمود کے بجائے وسعت اور لچک عطا کرتا رہا۔ امام شافعیؒ کا عراق اور مصر میں اپنا مسلک بدل لینا اس حقیقت کی زندہ مثال ہے کہ فتویٰ حالات، دلائل اور فہم کے بدلنے سے بدل سکتا ہے۔

امام غزالیؒ نے فتویٰ اور قضاء کے فرق کو واضح کرتے ہوئے یہ بنیادی اصول قائم کیا کہ مفتی محض خبر دیتا ہے، حکم نافذ نہیں کرتا۔ اس اصول کو نظرانداز کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ بعد کے ادوار میں فتوے عدالتی فیصلے بننے لگے اور علمی اختلاف سماجی جرم میں بدلتا چلا گیا۔ حالانکہ کلاسیکی فقہ میں فتویٰ کی حیثیت ایک مشورے کی تھی، جس پر عمل کرنا سوال کرنے والے کی ذمہ داری اور اختیار تھا، نہ کہ پورے معاشرے کی جبری پابندی۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے اس اصول کو مزید وسعت دی اور واضح کیا کہ فتویٰ زمان، مکان، عرف اور حالات کے بدلنے سے بدل جاتا ہے۔ ان کے نزدیک ایک ہی مسئلہ مختلف معاشرتی اور سیاسی حالات میں مختلف جواب کا تقاضا کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے خود متعدد مسائل میں اپنے سابقہ فتووں سے رجوع کیا، اور اسے علمی کمزوری نہیں بلکہ دیانت سمجھا۔ یہ رویہ اس تصور کی نفی کرتا ہے کہ فتویٰ ایک جامد اور ابدی شے ہے۔

اسلامی تاریخ کے آغاز سے لے کر وسطی ادوار اور پھر جدید زمانے تک اگر فتاویٰ کے مجموعوں کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں فتوے ایسے ہیں جو وقت کے ساتھ تبدیل ہوئے۔ کبھی معاشرتی حالات بدلے، کبھی عرف تبدیل ہوا، کبھی نئے مسائل پیدا ہوئے، اور علما نے دیانت داری کے ساتھ پرانے فتووں پر نظرِ ثانی کی۔ یہی وجہ ہے کہ فقہی کتب میں “الفتویٰ علی قولٍ قدیم” اور “الفتویٰ علی قولٍ جدید” جیسی اصطلاحات ملتی ہیں، جو خود اس تبدیلی کا اعتراف ہیں۔

جدید دور میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اسی کلاسیکی حقیقت کو نئے فکری اسلوب میں بیان کیا۔ ان کے نزدیک فتویٰ اللہ کے قانون کو سمجھنے کی انسانی کوشش ہے، خود اللہ کا قانون نہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جب فتویٰ کو سیاسی، مسلکی یا گروہی غلبے کے لیے استعمال کیا جائے تو وہ دین کی خدمت کے بجائے دین کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ان کے نزدیک اختلافِ فتویٰ امت کے لیے رحمت ہے، بشرطیکہ اسے اخلاق اور دیانت کے دائرے میں رکھا جائے۔

اسی فکری سلسلے کو مولانا وحیدالدین خانؒ نے دعوتی اور اخلاقی زاویے سے آگے بڑھایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ فتویٰ ایک عالم کی رائے ہے، اللہ کا براہِ راست حکم نہیں، اور اسی تناظر میں انہوں نے اروندھتی رائے کے مضمون کا حوالہ دے کر مسلمانوں کو آئینہ دکھایا کہ ہم نے خود فتوے کو کس طرح خوف اور دباؤ کی علامت بنا دیا ہے۔ مولانا کے نزدیک یہ رویہ اسلام کے دعوتی مزاج کے سراسر خلاف ہے۔

آج کے دور میں، خاص طور پر سوشل میڈیا کے ماحول میں، فتویٰ چند لمحوں کا جذباتی ردِ عمل بن چکا ہے۔ نہ سوال کی گہرائی دیکھی جاتی ہے، نہ حالات کی نزاکت، نہ نتائج کی ذمہ داری۔ یہ طرزِ عمل اس پوری علمی روایت کی نفی ہے جو صدیوں میں قائم ہوئی تھی۔ جب فتویٰ تحقیق کے بجائے مقبولیت، اور تقویٰ کے بجائے طاقت کے تابع ہو جائے تو وہ اصلاح نہیں بلکہ فساد کو جنم دیتا ہے۔

julia rana solicitors london

اسلامی اقدار کا تقاضا یہ ہے کہ فتویٰ نرمی، ہمدردی اور خوفِ خدا کے ساتھ دیا جائے، اور اختلاف کو کفر و ایمان کا مسئلہ بنانے کے بجائے علمی دائرے میں رکھا جائے۔ سلف صالحین کا طرزِ عمل ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ فتویٰ علم کا دروازہ ہے، تلوار نہیں۔ اگر ہم اس حقیقت کو دوبارہ سمجھ لیں تو فتویٰ امت کو جوڑنے کا ذریعہ بن سکتا ہے، ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ اسے ہتھیار بنانے کا انجام ہمیشہ فکری جمود اور سماجی انتشار کی صورت میں نکلا ہے۔
محمد امین اسد

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply