• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کرونا وائرس: میرا تجربہ کیسا رہا؟۔۔حمزہ ابراہیم

کرونا وائرس: میرا تجربہ کیسا رہا؟۔۔حمزہ ابراہیم

میں آج کل کام کے سلسلے میں اپنے گھر والوں سے دور ایک فلیٹ میں رہ رہا ہوں۔ تقریباً پندرہ دن قبل مجھے سردرد اور خشک زکام جیسی علامات کا احساس ہوا، لیکن ناک سے پانی نہیں بہہ رہا تھا۔ اس سے مجھے شک ہوا کہ کسی جگہ سے کرونا وائرس لگ چکا ہے۔ اس سے ہفتہ قبل میں ایک ایسی جگہ گیا تھا جہاں چین سے آئے کچھ افراد موجود تھے۔

معاملے کی سنگینی کے پیش نظر کچھ ایسی باتیں بتانا بھی ضروری ہے جو بظاہر کڑوی لگیں۔ان میں سب سے اہم چیز  اس وبا ء کے پس منظر میں موجود سائنسی حقائق  کو سمجھنا ہے، جو ہمارے عوام کیلئے کبھی آسان نہیں رہا۔ایران میں حاکم ولی فقیہ   نے ایک ماہ ان سائنسی حقائق سے چڑ کی وجہ سے اس وائرس کا انکار کیا تو صورت حال اتنی خراب ہو گئی کہ آخر کار ان کو گھٹنے ٹیکنے پڑے۔

موجودہ کرونا وائرس کا نام COVID-19  (کویڈ  ۔19)رکھا گیا ہے۔ اس کا تعلق وائرس کی نسل ’کرونا‘ سے ہے، جو چمگادڑ کی ایک قسم پر پایا جاتا ہے، اور اس چمگادڑ میں ایسا ارتقاء ہو چکا ہے کہ کرونا وائرس اس کو نقصان نہیں پہنچاتا۔ ‏نظریہء ارتقا ءکے مطابق ہر جاندار کے ڈی این اے میں کچھ عرصے کے بعد تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ جن میں ایسی تبدیلیاں ظاہر ہوں جو ان کے ماحول سے مطابقت نہ رکھتی ہوں، وہ وقت کے ساتھ ختم ہو جاتے ہیں۔ اگر جینیاتی تبدیلی ماحول سے مطابقت رکھتی ہو تو وہ نیا جاندار افزائش نسل کر کے پھیل جاتا ہے۔ اس قدرتی اصول سے کرونا وائرس بھی آزاد نہیں ہے۔اس میں بھی جینیاتی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔

‏کسی ایک جاندار پر رہنے والے طفیلیے جراثیم دوسرے جانداروں پر بھی جاتے رہتے ہیں اور وہاں ان کے گوشت یا اعضاء   کے ماحول سے مطابقت نہ رکھنے کی صورت میں مر جاتے ہیں۔‏البتہ بعض اوقات کسی جراثیم میں حادثاتی طور پر آنے والی جینیاتی تبدیلی ایسی ہوتی ہے جو اسے کسی اور جاندار کے جسم میں پھلنے پھولنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس صورت میں وہ جراثیم اس جانور کو منتقل ہو جاتا ہے۔ حادثاتی طور پر آنے والی یہ تبدیلی نئے میزبان کے لئے نقصان دہ بھی ہو سکتی ہے۔

‏2003ء میں کرونا وائرس کی ایسی ہی قسم جو چھپکلی پر منتقل ہوئی تھی، مزید تبدیل ہو کر انسان میں رہنے لگ گئی۔ اس نے انسان کے جسم کو نقصان بھی پہنچانا شروع کر دیا۔ اسے ’سارس‘ کا نام دیا گیا۔ 2012ء میں بھی ایک کرونا وائرس اونٹ کا پیشاب پینے سے سعودی عرب کے کچھ شہریوں  میں منتقل ہوا، اسے ’میرس‘ کہا گیا۔‏موجودہ کرونا وائرس مبینہ طور پر 2019ء میں چیونٹی خور  سے  قدرتی ارتقاء پا کر انسان کو منتقل ہوا ہے۔ ممکن ہے یہ کسی لیبارٹری سے حادثاتی طور پر کسی سائنسدان کے جسم پر منتقل ہو گیا ہو، لیکن کسی واضح ثبوت کے بغیر ایسے اندازے لگانے کا کوئی فائدہ نہیں۔دنیا بھر میں وائرالوجی کی لیبارٹریوں میں مختلف اقسام کے وائرسز کو مصنوعی طور پر ارتقاء کرایا جا رہا ہے تاکہ کسی ممکنہ وبا کو قبل از وقت سمجھا جا سکے۔ پاکستان کی کچھ یونیورسٹیوں، جیسے نسٹ اور پنجاب یونیورسٹی، میں بھی وائرالوجی پر تحقیق ہو رہی ہے۔لہذا ممکن ہے یہ وائرس کسی ایسی ہی لیبارٹری سے حادثاتی طور پر نکل گیا ہو۔کچھ لوگ کسی ثبوت کے بغیر اسے بیالوجیکل وار فیئر سے جوڑ رہے ہیں اور اسے چین پر امریکی حملہ قرار دے رہے ہیں۔ حیاتیاتی ہتھیار عموما ً بڑی دقت سے بنائے جاتے ہیں اور انکے اثرات مخصوص علاقے تک محدود رہتے ہیں۔یہ وائرس ساری دنیا میں پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ان ممالک کیلئے زیادہ خطرناک ہے جہاں شخصی آزادیوں کو کچلنا خلافِ قانون ہے اور افراد کی طاقت ریاست سے زیادہ ہے۔ لہذا مغربی ممالک کیلئے ویسے اقدامات کرنا ممکن نہیں جو چین نے ووہان میں کیے۔ اس وجہ سے مغربی ممالک میں شرح اموات آٹھ فیصد اور وطنِ عزیز جیسے ”قبائلی علاقہ جات“ میں  بیس فیصد تک ہو سکتی ہے۔ چنانچہ اگر یہ حیاتیاتی حملہ ہے تو یہ چین نے مغرب پر کیا ہے۔ہمارے کمیونسٹ حضرات نے یوں بھی ابھی سے  منصوبہ بند معیشت کی فتح کے شادیانے  بجانے شروع کر دیئے ہیں۔جون کے مہینے میں یہ وبا اپنے عروج تک پہنچ جائے گی اور اسکے بعد اسے ختم ہوتے ہوتے کئی ماہ لگ جائیں گے۔ مغربی  آزاد معیشت کو 1929ء جیسے بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔سازشی تھیوریاں پیش کرنے والے حضرات کو یہ بھی جاننا چاہیے کہ ایسا وائرس نظریہء ارتقاء کو استعمال کر کے ہی بنایا جا سکتا ہے۔ لہذا اگر آپ نظریہء ارتقاء کے منکر ہیں، تو آپکی یہ تھیوریاں کھلا تضاد ہیں۔

‏کرونا وائرس انسان کے معدے میں ہضم ہو جاتا ہے لیکن پھیپھڑوں میں زندہ رہتا ہے۔ اس طرح یہ سانس میں موجود نمی، یا بلغم یا تھوک کے ذریعے دوسروں کو لگتا ہے۔

میرا جس محفل میں جانا ہوا تھا وہاں پانچ سو کے قریب شرکا ء تھے اور مختلف ماہرین نے گفتگو کی تھی۔‏کسی بند جگہ پر متعدد افراد کے ایک ساتھ لمبے وقت کے لئے رہنے سے سانس کی نمی کی منتقلی آسان ہو جاتی ہے۔ اسی لئے ماہرین لوگوں کو تین فٹ دور رہنے کی نصیحت کر رہے ہیں تاکہ ایک فرد کے سانس کی نمی دوسرے تک نہ پہنچے۔

‏شروع میں ناک کے گرد اور آنکھوں کے پیچھے درد دو دن تک شدید تر ہوتا رہا۔ اس کے ساتھ ٹھوس قسم کا زرد زکام بھی آنے لگا۔ میں نے پہلے ہی ضروری اشیاء  کی خریداری کر کے خود کو اپنے فلیٹ تک محدود کر لیا تھا اور اپنے قریبی لوگوں کو اس کے بارے میں آگاہ کر دیا تاکہ وہ صرف فون پر ہی بات کریں۔‏اس کے ساتھ میں نے اپنے کمرے میں پانی کو ابالنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ صبح، دوپہر اور شام کو کم از کم ایک لٹر پانی کو بھاپ میں تبدیل کرتا رہا۔ اس سے بلغم کو نکالنے میں آسانی ہوئی۔ اس کے ساتھ انٹرنیٹ پر اس بیماری کے بارے میں آنے والی تازہ سائنسی تحقیق کو پڑھتا رہا۔اس تحقیق کے مطابق اپنے مدافعتی نظام کی مدد کے لئے یہ دوائیں کھانا ضروری تھیں، جو پہلے ہی میرے پاس موجود تھیں:

1۔ وٹامن ڈی
2۔ وٹامن بی کمپلیکس
3۔ پیرا سیٹامول
4۔ زنک سپلیمنٹ (یہ ایک دوست سے منگوایا)
5۔ وٹامن سی

ان کے علاوہ آرام کرنا اور لوگوں سے تین فٹ دور رہنا ضروری تھا۔

‏  بخار میں کمی کیلئے صبح شام پیراسیٹامول کی ایک ایک گولی کافی ثابت ہوئی۔ ماہرین  کہتے ہیں کہ کرونا وائرس کے مریض کیلئے کھانسی کا شربت نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ چنانچہ جب میں نے کھانسنا   شروع کیا تو اسے روکنے کیلئے کھانسی کا کوئی شربت استعمال نہیں کیا۔یہ بتانا اس لئے ضروری ہے کہ بعض حکیم حضرات شربت صدوری وغیرہ پینے کی تلقین کر رہے ہیں۔یہ شربت الٹا نقصان کا باعث ہو سکتا ہے۔البتہ  بعض ڈاکٹرز ملیریا کی دوا، Chloroquine، کی گولی صبح شام استعمال کرنے پر مریض کی حالت سنبھلنے کی خبر دے رہے ہیں۔ لیکن چونکہ میری حالت زیادہ تشویشناک نہیں ہوئی، لہذا میں نے اس دوا کو استعمال نہیں کیا۔

‏اس وائرس کے باہر چکنائی کی ایک تہہ بھی پائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے یہ صابن اور کپڑے دھونے والے پاوڈر سے مر جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلسل ہاتھ دھونے، دانت برش کرنے، کپڑے اور برتن دھونے، نیز کمرے کو صاف رکھنے کی ضرورت تھی۔ حالت خراب ہونے سے پہلے میں نے تمام کپڑے دھو لیے۔

‏تقریباً تین دن کے بعد میرے گلے میں تکلیف شروع ہوئی، جو جلد ہی ختم ہو گئی۔ اسکے بعد کھانسی شروع ہو گئی۔ وائرس اب پھیپھڑوں میں منتقل ہو چکا تھا۔ اس کے ساتھ پورے جسم، بالخصوص ٹانگوں میں درد شروع ہو گیا۔ ٹانگوں میں چلنے کی سکت نہ رہی۔ اس کی وجہ جسم کے مدافعتی نظام کا ردِ عمل تھا۔

‏کچھ جرمن ماہرین کی تحقیق کے مطابق جب وائرس آخری درجے میں داخل ہو جائے تو پھر وہ دوسروں کو منتقل نہیں ہوتا۔ دوسرے انسانوں کو منتقل ہونے کا عرصہ وہی ہے جب تک مریض کی حالت ٹھیک ہوتی ہے۔

‏پھیپھڑوں میں منتقل ہونے اور مدافعتی نظام کے حملے کا مرحلہ ہی سب سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ اس دوران مدافعتی نظام ضرورت سے زیادہ ردِ عمل دے کر پھیپھڑوں کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔اس دوران اگر مریض کیلئے سانس لینا مشکل ہو اور اس کی سانس پھول جائے تو آکسیجن لگوانا ہو گی۔

‏جسم میں درد اور کھانسی کے ساتھ مجھے ہلکا سا بخار بھی ہونے لگا۔ کچھ لوگوں کو سر درد کے ساتھ ہی بخار ہو جاتا ہے۔ البتہ صبح شام پیرا سیٹامول کی دو گولیاں کھانے سے بخار ختم ہو جاتا۔ اس دوران میں نے پھیپھڑوں سے نکلنے والے بلغم پر نظر رکھی۔ اگر اس میں خون آنے لگ جاتا تو اس کا مطلب تھا کہ مجھے ہسپتال جانے کی ضرورت ہو سکتی تھی۔

‏مجھے سانس لینے میں دشواری نہیں ہوئی۔ میں کبھی کبھار پھیپھڑوں کو بھر کرگہرا سانس لیتا تھا تاکہ اگر اس میں کوئی مشکل ہے تو پتہ چل جائے۔ اگرچہ ایسا کرنے پر پھیپھڑے تھوڑا بوجھل معلوم ہوتے تھے لیکن کوئی درد نہ ہوتا تھا۔ کھانسنے سے بلغم بھی نکل رہی تھی اور کمرے میں حبس بھی بنا رکھی تھی۔

‏ایک اور اہم بات یہ ہے کہ پانی کی بہت ضرورت محسوس ہوئی۔ چنانچہ نیم گرم پانی میں ہلکا نمک ملا کر پیتا رہا۔ سبز چائے بھی تھوڑا نمک ملا کر پیتا رہا، تاکہ نمکیات کی کمی نہ ہو۔ بعض مریضوں کو دست لگنے کی شکایت ہو سکتی ہے، ایسے میں شربت فولاد یا آئرن سپلیمنٹ کا استعمال مفید ہو سکتا ہے۔شربت فولاد یا آئرن کی گولی خون کی کمی دور کرنے میں بھی مدد کر سکتی ہے۔

‏جسم میں شدید درد تین دن تک رہا، اس کے بعد کم ہونے لگ گیا اور بخار ختم ہو گیا۔ اب میرے جسم کا درد تقریباً ختم ہو چکا ہے لیکن کبھی کبھار کھانسی آ جاتی ہے۔ اس دوران میں صرف کوڑا پھینکنے کی غرض سے باہر نکلا اور اس دوران بھی لوگوں سے دور رہنے کی کوشش کی، مفلر اور دستانے استعمال کیے۔

‏میں ہاتھ دھونے کے ساتھ ساتھ اسی صابن سے ٹونٹی کو بھی دھو لیتا تھا۔ بصورت دیگر دھلے ہوئے ہاتھ سے ٹونٹی بند کرتے وقت جراثیم دوبارہ منتقل ہو سکتا تھا۔ غسل خانے کا دروازہ پاؤں کی ٹھوکر سے کھولتا تھا، تاکہ اس کے کنڈے پر جراثیم منتقل نہ کروں۔ ان احتیاطوں پر اب بھی عمل کر رہا ہوں، تاکہ کسی جگہ سے جراثیم اٹھا کر کسی اور شخص کو منتقل نہ کروں۔

‏اب طبیعت ٹھیک ہوگئی ہے تو فرش، دروازوں اور فریج کے کنڈے، برتن، موبائل فون، ٹونٹیوں، غسل خانے، ٹوائلٹ سمیت جہاں وائرس ہونے کا خطرہ ہے، ان کو صاف کیا ہے۔ موبائل فون پر صابن استعمال نہیں ہو سکتا لیکن اسے ٹشو پیپر پر جراثیم کش جیل یا ایتھانول لگا کر صاف کیا جا سکتا ہے۔

‏گھر والوں سے فون پر روزانہ بات ہوتی رہی۔ انہوں نے مجھے مختلف دعائیں اور سورتیں پڑھنے کی نصیحت کی لیکن میں نے ان کی اس نصیحت پر کان نہیں دھرے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مجھے معلوم تھا کہ آج تک کسی وبا ء کا سامنا عبادت یا دم وغیرہ سے نہیں کیا جا سکا ہے۔

‏میرے لئے مذہب میری ثقافت اور شناخت کا حصہ ہے، وہ کوئی علم نہیں ہے۔ اس موقعے پر ہمیں اس سچائی کو تسلیم کرنا ہو گا کہ جسے اپنا مدافعتی نظام یا میڈیکل سائنس موت سے نہ بچا سکے، اسے کوئی موت سے نہیں بچا سکتا۔

‏دعائیں کرنے سے یہ نقصان بھی ہو سکتا تھا کہ مجھے ہر وقت ان دعاؤں کے قبول نہ ہونے کا دھڑکا لگا رہتا، اور ظاہر سی بات ہے کہ اس بیماری سے لڑنے کے دوران اس قسم کی پریشانی نقصان دہ ثابت ہو سکتی تھی۔ نیز اگر یہ دعائیں قبول نہ ہوتیں تو میرے قریبی افراد کا یقین مذہب سے اٹھ سکتا تھا۔یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ کرونا وائرس کی جلد چکنائی سے بنی ہے، یہ وضو کرنے سے نہیں مرتا، ہاتھوں اور منہ کو صابن سے دھوئے بغیر ان کو اس وائرس سے پاک کرنا ممکن نہیں ہے۔ مسجد کی ٹونٹیاں کرونا وائرس پھیلانے کا سبب بن سکتی ہیں۔ باجماعت نماز پڑھنے والے سانس کی نمی منتقل کر سکتے ہیں۔ اسی لئے دنیا بھر میں نماز باجماعت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

‏جب خانہ کعبہ سمیت دوسرے مذہبی مقامات کو عام لوگوں کے لئے بند کیا گیا تو میں منتظمین کے اس اقدام کو سراہے بغیر نہ رہ سکا۔ اسلام اور امت مسلمہ کو خطرے سے بچانے کے لئے ایسے اقدامات بہت ضروری ہیں، ورنہ یہ وباء  پھیل کر معاشی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ اس وائرس کا اصل خطرہ معاشی بحران ہے۔

‏اسی طرح میں نے کسی قسم کے دیسی حکیموں کے ٹوٹکوں پر بھی اعتبار نہ کیا۔ اس نئے ارتقا یافتہ جراثیم کے مقابلے کے لئے احتیاطی تدابیر اپنانے، اچھی غذا کھانے اور سائنسی تحقیق کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

وطنِ عزیز میں یہ وباء  چین،  یورپ، خلیجی ریاستوں اور ایران سے آ چکی ہے۔ جنوری میں کینجھر جھیل پر جانے والے سیاحوں کو وہاں موجود چینی سیاحوں سے یہ مرض لگنے کی اطلاعات ہیں۔  اس ماہ ایران سے آنےوالے زائرین کو تفتان بارڈر پر ایک ساتھ بند کر کے اس وبا کو ان میں پھیلایا گیا ہے، جو بدانتظامی کی بری مثال ہے۔ یورپ سے آنے والوں کا صرف بخار دیکھا گیا ہے، حالانکہ بخار اس مرض میں مبتلا ہونے کے کئی دن بعد ظاہر ہوتا ہے۔ دوہری قومیت والے پاکستانی اس دھوکے میں واپس آئے ہیں کہ شاید پاکستان میں یہ وبا نہیں پھیلی، حالانکہ پاکستان میں اسکی خبر نہ ہونے کی وجہ ٹیسٹ کٹ کا نہ ہونا تھا۔ یوں یورپ پلٹ لوگ  ایئر پورٹس سے اسکے جراثیم اٹھا لائے اور اب ساری برادری کو دے رہے ہیں۔  چین سے تو جنوری میں ہی یہ بیماری آ چکی تھی، جب پاکستان میں کام کرنے والے چینی بھائی نئے سال کا جشن منا کر  پاکستان واپس آئے اور ایئرپورٹ پر ان کا چیک اپ کرنے کا کوئی بندوبست نہ تھا۔

سائنسدانوں کے مطابق جون کے مہینے میں یہ وبا شدت اختیار کر جائے گی۔ گرمی سے دھوپ پر موجود اشیاء صاف ہو سکتی ہیں، لیکن فرد سے فرد تک منتقلی کا عمل جاری رہے گا کیونکہ انسانی جسم کا درجہ ءحرارت تو مستقل رہتا ہے۔ ہم میں سے کئی لوگ اپنے پیاروں کو کھو دینگے۔ اس موقعے پر ہمارے لئے فرقہ وارانہ اور نسلی و لسانی اختلافات کو پس پشت ڈال کر متحد ہونے اور صبر و تحمل سے اس وبا کا مقابلہ کرنےکی ضرورت ہے۔ یہ وقت چین کو برا بھلا کہنے، یا لوگوں کو احساس گناہ میں مبتلا کر کے توبہ توبہ کی رٹ لگانے کا بھی نہیں ہے، ایسی حرکتیں لوگوں کی توجہ سائنسی حقائق سے ہٹا دیں گی۔ علمائے کرام اور حکیموں کے ٹوٹکوں سے بچ کر سائنس کی بتائی ہوئی ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے۔ہماری کمزور ریاست اور  حکومت اس وبا ء سے نمٹنے کے قابل نہیں ہے۔

چونکہ اس وائرس سے کم از کم دس لاکھ اور زیادہ سے زیادہ دو کروڑ پاکستانی فوت ہو سکتے ہیں، لہذا اس بات کا دھیان رکھنا بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے پیاروں کے آخری لمحات کی ویڈیوز بنا کر انٹرنیٹ پر مدد کی اپیل کیلئے نہ لگائیں، کیونکہ حکومت ہر مریض کو آئی سی یو مہیا نہیں کر سکتی۔یہ پریشانی میں ہاتھ پاؤں چلانے کا موقع نہیں ہے بلکہ ٹھنڈے دل سے سچ کا سامنا کرنے کا وقت ہے۔

نوٹ:تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے کہ یہ وائرس کسی لیبارٹری کی پیداوار نہیں ہے اور مصنوعی ارتقاء (جنیٹک انجینئرنگ) کا نتیجہ نہیں ہے۔  اس وائرس کے قدرتی ارتقاء کو سمجھنے کیلئے سترہ مارچ 2020ء کو ”نیچر میڈیسن“ نامی علمی جریدے میں شائع ہونے والے  اس سائنسی مقالے کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے:-

 The   Proximal  Origin   of   SARS CoV-2

حمزہ ابراہیم
حمزہ ابراہیم
باقی مضامین پڑھنے کیلئے حمزہ ابراہیم کے نام پر کلک کریں-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *