تی تی تی، چرّی چرّی چرّی / پروفیسر فضل تنہا غرشین

عاطف کی زندگی کا کل اثاثہ ایک ہی تھا: تی تی تی، چرّی چرّی چرّی
عاطف کا پورا بچپن گاؤں میں گزرا تھا۔ اس کو گاؤں کی صاف ہوا، شفاف چشمے، سرسبز باغات، پرندوں کی چہچہاہٹ اور دودھ، پنیر، دیسی گھی اور مکھن پر مشتمل خالص غذا بہت پسند تھی۔ وہ ہمیشہ اتوار کے دن کے لیے پرجوش ہوا کرتا تھا، کیوں کہ ہر ویک اینڈ پر وہ اپنی امی کے ساتھ ماموں جان کے گھر جاتا تھا۔ وہاں عاطف کو بہت پیار ملتا تھا اور کوئی ڈانٹ ڈپٹ نہیں پڑتی تھی، جب کہ اس کی ماموں زادی روما کا وجود اس کے لیے ان سب چیزوں کے لیے بڑھ کر تھا۔ روما کے ساتھ عاطف کا ویک اینڈ خوب کٹتا تھا، مگر وہ دونوں محبت کی ابجد سے قطعا ناواقف تھے۔
ان دونوں کا پسندیدہ مشغلہ مرغیوں کو دانہ کھلانا اور بکریوں کو چارا کھلانا تھا۔ مرغیوں اور بکریوں کو بلانے کے لیے وہ دونوں ایک ساتھ ایک خاص سُر اور لے میں صدا لگاتے:
تی تی تی، چرّی چرّی چرّی
میٹرک کے بعد کالج پڑھنے کے لیے عاطف کو شہر جانا پڑا۔ اس کے نازک کندھوں پر میڈیکل سیٹ حاصل کرنے کا جنون سوار ہوگیا، اور یوں عاطف اور گاؤں میں فاصلے بڑھ گئے۔ وہ نہایت قابل اور پراعتماد لڑکا تھا۔ اس نے بڑی آسانی سے میڈیکل سیٹ اپنے نام کرلی اور ایم بی بی ایس کرنے میں جُت گیا۔ وہ خاموش مزاج اور شعر پسند تھا، مگر اس کے والد کو اس کی خاموشی اور شعری میلان قطعا پسند نہ تھا۔ وہ جب چھٹیوں کے دوران میں گاؤں آتا تو اپنی امی کے ساتھ ماموں کے گھر جاتا تھا، لیکن اس کے والد کو یہ آمد و رفت بھی پسند نہیں تھی۔
عاطف اب ایک خوب صورت اور نہایت سنجیدہ جوان بن چکا تھا۔ خوداعتمادی اس میں کوٹ کوٹ کے بھری تھی، مگر وہ روما کا سامنا نہیں کرسکتا تھا۔ روما کا شباب بھی جوبن پر تھا۔ دونوں میں ایک دوسرے کو جی بھر کے دیکھنے کی جرات نہیں تھی۔ رسمی سلام و دعا کے فوراً بعد روما کمرے سے باہر نکلتی اور حسب معمول مرغیوں کو دانہ اور بکریوں کو چارا کھلاتی:
تی تی تی، چرّی چرّی چرّی
عاطف کے کانوں میں گویا رس گھول جاتا تھا، مگر بد قسمتی سے اب روما اکیلی یہ صدا لگاتی تھی۔ تاہم اس کی صدا سے بلا کی جھنکار، شبابیت، بانکپن اور خوداعتمادی چھلکتی تھی۔ ماموں جان کے گھر سے واپسی پر امی نے عاطف کے والد کے سامنے روما کے سگھڑ پن اور بے انتہا حسن کی خوب تعریف کی۔ عاطف کو یہ لمحات بہت خوش گوار محسوس ہوئے، لیکن اس کے والد نے آئندہ ایسی فضول بحث چھیڑنے سے منع کیا۔ عاطف کے والد کی شدید خواہش تھی کہ اس کی شادی حاجی احسان اللہ کی پڑھی لکھی بڑی بیٹی دردانہ سے کی جائے۔ ہونا تو وہی ہے جو مقدر میں لکھا ہے۔
روما واقعی حسین اور سگھڑ لڑکی تھی اور اس کے ہاتھ مانگنے کے لیے مسلسل اور اچھے رشتے آنا شروع ہوگئے تھے۔ امی جان نہایت بے چین تھی کہ کسی طرح سے اپنے بیٹے عاطف کو سمجھائے کہ وہ خود اپنے والد کے روبرو روما کے متعلق بات کریں۔ عاطف نے ایسا ہی کیا۔ مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔
وقت گزرتا گیا۔ روما کی شادی ایک غریب کسان کے بیٹے سے ہوئی، جب کہ عاطف کی شادی دردانہ سے ہوئی۔ عاطف کے لیے ماضی کی یادوں کےبوجھ تلے زندگی گزارنا بہت مشکل ہورہا تھا۔ دردانہ لاکھ خوبیوں اور بے کراں حسن کی ملکہ سہی، مگر ان دونوں کی آپس میں نہیں بنتی تھی۔ دردانہ عاطف کے ماضی سے واقف تھی اور روما کے لیے ہمدردی بھی رکھتی تھی، مگر عاطف اندر سے مکمل ٹوٹ چکا تھا۔ دردانہ نے لاکھ کوشش کی کہ اپنی محبت سے عاطف کی محبت کی تلافی کرسکیں، مگر ناکام رہی۔ صبر و برداشت کا اپنا ایک مخصوص پیمانہ ہوتا ہے، جولبریز ہونے کے بعد چھلک جاتا ہے۔ لیکن عورتیں بڑی سخت جان ہوتی ہیں، ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کے بعد چھلک جانے کے بجائے خشک ہوجاتا ہے۔ یوں دردانہ نے بھی اپنے اکلوتے بیٹے ذیشان کی خاطر عاطف کی متلون مزاجی سے سمجھوتا کرلیا۔ اب دردانہ روما کے لیے دل میں ہمدردی کے بجائے نفرت رکھتی تھی۔
عاطف کو اب یقین ہوگیا تھا کہ اس کی مذید متلون مزاجی اور ماضی پرستی دانش مندی نہیں۔ ذیشان بھی اب جوان ہوگیا تھا۔ عاطف کی خواہش تھی کہ ذیشان کی شادی کسی پڑھی لکھی دیہاتی لڑکی سے کرائیں، مگر وہ یونیورسٹی میں اپنی کلاس فیلو نورین سے شادی کرنے پر بضد تھا۔
ڈاکٹر بننے کے بعد عاطف کئی سالوں سے گاؤں نہیں گیا تھا۔ آج دردانہ نے عاطف کو گاؤں جانے اور سُرغنڈ میں پکنک منانے پر قائل کیا تھا۔ سو، ماں، باپ اور بیٹا تینوں پکنک منانے سُرغنڈ آئے، کھانا تیار ہوا اور دسترخوان بچھ گیا کہ شہنائیوں میں ایک نحیف و نزار نسوانی سریلی آواز سنائی دی:
تی تی تی، چرّی چرّی چرّی
عاطف کے حلق میں نوالہ اٹک گیا۔ عاطف اور دردانہ ایک دوسرے کو تکنے لگے۔ ذیشان نے امی سے اس سریلی آواز کی بابت پوچھا۔ ماں نے جواب دیا: “یہ رنگ میں بھنگ ڈالنے والی منحوس آواز ہے، اپنا کھانا کھائیے۔”
عاطف نے دفعتاً دردانے کو حقارت آمیز نگاہ سے دیکھا۔ ذیشان کو جب یہ پہیلی سمجھ نہیں آئی تو والد سے اس بابت پوچھا۔ والد نے جواب دیا: “یہ مرغیوں اور بکریوں کو بلانے کی زبان ہے اور دیہاتی زبانیں بہت سریلی ہوتی ہیں۔” عاطف کا دل بھرگیا تھا اور آنکھیں بھر آئی تھیں۔ چار سو خاموشی چھاگئی۔ عاطف نے دردانہ اور ذیشان سے مخاطب ہوکر کہا: “چلیے چلتے ہیں۔”
“کہاں؟” دردانہ نے پوچھا۔
“واپس کوئٹہ، نورین کے والد کے گھر، ذیشان کا رشتہ مانگنے۔” عاطف نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ ذیشان خوشی سے اچھلنے لگا۔ اس دوران میں ریوڑ سمیت ایک بارہ سالہ چھوٹا چرواہا آپہنچا۔ عاطف نے بچے سے پوچھا: “اس چھوٹی عمر میں پہاڑوں میں اکیلا بکریاں چرانے سے ڈر نہیں لگتا؟”
بچے نے جواب دیا: “نہیں، ان گھنے درختوں کی اوٹ میں میرا گھر ہے۔ ہم ہر سال گرمیوں میں یہاں بکریاں چرانے اور اُومان (ایفیڈرین) کاٹنے آتے ہیں۔”
دردانہ نے بچے سے پوچھا: “تیری ماں کا کیانام ہے؟” بچے نے ترنت جواب دیا:
“روما، اور یہ سریلی آواز میری ماں کی ہے۔”
تی تی تی، چرّی چرّی چرّی!

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply