کھڑکی۔۔شاہین کمال

میرا فلیٹ ایک بہت ہی معروف و مصروف چوراہے کے بالمقابل ہے۔ ساتویں منزل پر ہونے کی وجہ سے دور دور تک کے نظارے دکھائی دیتے ہیں۔ ویسے دیکھنے کو ایسا کچھ خاص ہے نہیں، وہی بے ہنگم ٹریفک اور لوگوں کا رواں سیلِ بے کراں۔۔

دو بیڈروم کا یہ آرام دہ فلیٹ میری ضرورت سے کہیں زیادہ ہے۔ اس میں ایک کشادہ گیلری تھی مگر میں نے لیونگ روم کی دیوار تڑوا کر گیلری کو کمرے کا حصہ بنا لیا ہے اور بڑی سی سلائیڈنگ ونڈو لگوا لی ہے ، شیشے گہرے رنگ کے لگوائے  ہیں تاکہ اندر سے سب کچھ دِکھتا ہو پر باہر سے اندر کا نظارہ نہ ہو اور رنگین شیشوں کی وجہ سے دھوپ کی تمازت بھی قدرے کم ہو جاتی ہے۔ فلیٹ چونکہ ویسٹ اوپن ہے سو بہت ہوا دار اور روشن ہے۔ میرے دن اور رات کا بیشتر حصہ لیونگ روم میں ہی گزرتا ہے۔ کبھی کبھی تو میں اسی کمرے میں سو بھی جاتا ہوں مگر ایسا شاز و نادر ہی ہوتا ہے۔
اس مصروف شاہراہ پر اب بہت کم اپارٹمنٹ بلڈنگز رہ گئی ہیں زیادہ تر ٹوٹ کر شاپنگ مال بن چکی ہیں۔ یہ بھی عجب گھن چکر ہے کہ جو حکومت بھی آتی ہے خزانہ خالی ہونے کی دہائی دیتی ہے مگر دیکھو تو غیر ضروری اشیاء کی امپورٹ بھی جاری ہے اوردھڑادھڑ شاپنگ مال بن رہے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ جب مال نہیں تو( شوپنگ) مول کیوں؟

tripako tours pakistan

یہ علاقہ سمندر کی قربت کی وجہ سے مجھے بہت پسند ہے۔ کھڑکیوں سے اب سمندر تو نہیں دِکھتا مگر سمندر کی مخصوص نمکین ہوا شام کے وقت دل کے رخسار پر ہاتھ رکھ کر دلداری کر ہی دیتی ہے۔
میں نے جذباتی طور پر ایک بہت مشکل زندگی گزاری ہے۔ جب مرتضی، میرا تیسرا بیٹا فقط دس سال کا تھا تو فرحانہ میری شریک حیات (کیا واہیات لفظ ہے) میری زندگی سے نکل گئی تھی کہ اس کی پرانی محبت اس کی زندگی میں لوٹ آئی تھی اور میں بےوقوف! مجھے علم نہیں تھا کہ میں اسٹپنی ہوں۔ میں ہمیشہ اسی مغالطے میں رہا کہ میں ہی اس کا محور و محبوب ہوں۔

خدایا خدایا! محبت اور اس کی خوش گمانیاں۔ شادی کے شروع کے دنوں میں میں نےکچھ سرگوشیاں فرحانہ کے افئیر کے متعلق سنی تو تھیں مگر میں نے انہیں محض جوانی کی شوخی اور وقتی ابال ہی سمجھا
ہم لوگ اچھی زندگی گزار رہے تھے اور ہمارے تین بیٹے تھے۔ بظاہر ہم لوگ خوش باش اور مطمئن کپل تھے پر عورت کے من کے بھید کو کب پا سکا ہے کوئی ؟

عورت شاید دو انتہاؤں کی مخلوق ہے۔
نہ اس کے چلتر پن کی تھاں ہے اور نہ لگاوٹ اور معصومیت کی انتہا ۔ وفا پہ آئے تو ا  گنی پریکشا میں سپھل اور بےوفائی پہ اترے تو بانہیں آپ کے گلے میں ہار اور خیالوں کے رتھ میں صنم سوار۔

سو اس ایشو پر بدمزگی بےکار تھی۔ جب اس نے جانے کی اجازت چاہی تو درحقیقت وہ جا ہی چکی تھی سو اس کی منت کرنا یا روکنا فضول تھا۔ میں بھی بٹی ہوئی عورت رکھ کر کیا کرتا۔ بس ایک سوال پوچھا کہ تینوں لڑکے میرے ہیں نا؟
اس نے حلفیہ جواب دیا کہ ہاں۔
میں نے اسی لمحے تین لفظوں سے اس اقرار کو ختم کر دیا جو شاید اس نے دل سے کیا ہی نہیں تھا۔

میں نے لڑکوں کو اپنے پاس رکھ لیا اور جو سامان وہ چھوڑ گئی تھی اس کو ساحل کی گیلی ریت پر بون فائر میں جھونک کر خاکستر کر دیا پر کمبخت یادیں اتنی آسانی سے کب چھوڑتی  ہیں، جلتی ہیں نہ بسرتی ہیں بس کلیجہ چیرتی ہیں۔

لوگ!
لوگوں کا کیا کہنا ان کا تو دل پسند مشغلہ ہی دوسروں کے زخم کو کریدنا ہے۔ میرے منہ پر میرا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ مجھے کمزور مرد ثابت کیا جاتا کہ میں اپنی بیوی کو سنبھالنے پر قادر نہ تھا۔ میں ان دنوں کولیگ کا پسندیدہ لطیفہ تھا اور اپنی زندگی سے شدت سے بےزار۔
میں نے بہت کہہ سن کر اور منت ترلے کر کے دوسری برانچ میں ٹرانسفر کروا لیا۔ زندگی کیا ایک جبر مسلسل تھی۔
آج ایک تلخ حقیقت کا اعتراف بھی کر ہی لوں کہ فرحانہ کے جانے کے بعد جانے کیوں میں اپنے تینوں بیٹیوں کے لیے اپنے دل میں وہ پہلی سی شفقت پدری محسوس نہیں کرتا تھا۔ میں اعتبار و بے اعتباری کے بیچ گویا خلا میں معلق تھا مگر زندگی کب رکتی ہے، میری بھی کڑھتے کرلاتے کٹ ہی گئی۔
کٹ ہی گئی  جدائی بھی، کب یہ ہوا کہ مر گئے
تیرے بھی دن گزر گئے میرے بھی دن گزر گئے

پانچ چھ سال بعد دوسری شادی کا ارادہ تو کیا مگر کوئی پسند ہی نہیں آئی، شاید میری پسند کا سانچہ اللہ میاں نے مدت ہوئی متروک کر دیا تھا۔ عجیب ڈب کھڑبی عورتیں ہی نظر آئیں۔ دل تو دور کی بات ہے کوئی آنکھ تک میں نہ سمائی سو پھر میں نے بھی شادی کے خیال کو ترک ہی کر دیا۔
ویسے بھی میرا ایمان محبت پر سے اٹھ چکا ہے۔
محبت اب مجھے نرا ڈھکوسلہ لگتی ہے۔ لڑکوں کا ماں سے رابطہ تھا۔ سنا کہ اچھی گزر رہی تھی اس کی۔ Good for her
تینوں لڑکے یکے بعد دیگرے پردیسی ہوئے اور میں اپنی تخلیق کردہ جنت میں آدم کی طرح اکیلا۔

ریٹائرڈ لائف آپ سے بہت کچھ چھین لیتی ہے جیسے وقت تو وافر ہوتا ہے مگر مصروفیت نہیں۔ زندگی تو ہے مگر امنگ نہیں، رسد ہے مگر طلب نہیں۔ بالکل کاغذی پھول جیسی دیکھنے میں بھرپور مگر بےکار گویا چلا ہوا کارتوس ۔

دوست کچھ بچوں کے پاس باہر چلے گئے ، کچھ نے اللہ کا در پکڑ لیا کچھ کو بیماریوں نے جکڑ لیا۔ تینوں لڑکوں نے اپنی اپنی شادیوں کی رسمی سی اطلاع دی اور میں نے بھی تحفے کے ساتھ مبارک باد اور دعا بھیج دی۔
ریٹائرمنٹ کی رقم سے میری گزر اوقات آسانی سے ہو جاتی ہے۔ میں نے اپنے لکھنے کے شوق کو اب اپنا زریعہ معاش بھی بنا لیا ہے۔ فری لانسر ہوں۔ بلاگ بھی لکھتا ہوں اور زندگی کی کہانیاں اور افسانے بھی۔ کہانیاں لکھنے کی تحریک مجھے میری کھڑکی دیتی ہے۔ جی وہی گیلری والی سلائیڈنگ ونڈو۔

چار سال پہلے میرا منجھلا بیٹا اپنی بیوی کو شمالی علاقہ جات دکھانے کے لیے پاکستان لایا تھا۔ اس نے بہت اصرار سے پوچھا کہ “اباآپ کے لیے کیا لاؤں؟”
میں نے اس سے بہترین قسم کی دوربین منگوائی۔ اس وقت تک مجھے گمان بھی نہیں تھا کہ یہ دوربین میری زندگی کا ٹرنگ پوائنٹTurning point
ثابت ہو گی۔ دوربین میری زندگی میں کیا آئی کہ میرے روز و شب کے معمولات ہی بدل گئے۔ میں صبح سویرے اپنی گیلری والی کھڑکی کے پاس دوربین سیٹ کر کے بیٹھ جاتا اور بس اسٹاپ پر کھڑے لوگوں کو دیکھتا رہتا۔ کچھ ہی دنوں میں میں کافی لوگوں سے مانوس ہو گیا ان کے اوقات کار جان گیا اور کچھ لوگوں کو میں بطور خاص دیکھنے لگا تھا۔ سب لوگ مجھے اتنے قریب دکھتے جیسے میں انہیں ہاتھ بڑھا کر چھو لوں گا۔ میری دلچسپی چند مخصوص لوگوں میں دن بدن بڑھتی جا رہی تھی۔

دوربین گویا میرا اٹوٹ انگ بن گئی تھی۔ تقریباً ساڑھے اٹھ نو بجے میں اس شغل (دوربینی) سے فارغ ہوتا اور نثار میرا پارٹ ٹائم نوکر مجھے ناشتہ بنا کر دیتا اس کے بعد وہ گھر کی صفائی ستھرائی کرتا اور ایک سالن اوراس کے ساتھ میرے حسب منشاء چاول یا روٹی بنا دیتا۔ اس بیچ ایک تھرمس کافی کا بنا کر میری راٹینگ ٹیبل پر رکھ دیتا۔ دس سے بارہ تک میرے لکھنے کا وقت تھا۔ نثار کے جانے کے بعد میرے فلیٹ کی اکلوتی چہل پہل ختم ہو جاتی۔ گویا
گھر میں ہیں بس چھ ہی لوگ
چار دیواریں چھت اور میں

پھر میں اور دوربین ایک دوسرے کو کمپنی دیتے۔ اس وقت میرے دیکھنے کا سبجیکٹ مقرر نہیں تھا۔ کہیں بھی کچھ بھی دیکھ لیا کرتا۔ کھانے کے بعد قیلولہ اور کچھ پڑھنا یا پھر غزلیں سننا۔ ساڑھے چار بجے سے میں دوبارہ پوری دل جمعئ سے بس اسٹاپ پر اپنے منتخب کردہ کرداروں کا انتظار اور ان کا مشاہدہ شروع کر دیتا۔ میں ان کرداروں کا اس قدر عادی ہو گیا تھا کہ ان کی زندگی کے بارے میں پہروں سوچتا۔

میں تقریباً پونے تین سال سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ اصل میں لڑکی کی ملاحت نے مجھے اس کی جانب متوجہ کیا تھا۔ بلا کی نمکین اور پرکشش تھی۔ یہ تین لڑکیوں کا ایک گروپ تھا ان تینوں میں جو سب سے زیادہ ملیح تھی اس کا نام ملیحہ تصور کر لیجیے۔ یہ تینوں گویا بس اسٹاپ کی رونق اور بہار تھیں۔ تینوں صبح سات بج کر پنتیس منٹ کے   قریب اسٹاپ پر آجاتیں اور ان کی فیکٹری کی بس پونے آٹھ یا سات پچاس پر آتی۔ اس سے  ذرا پہلے ایک خوش جمال بھی آجاتا۔ اس کا نام جمیل فرض کر لیتے ہیں۔ خوش رو ہونے کے ساتھ ساتھ وہ خوش لباس بھی تھا۔ وہ ان لڑکیوں کے روانہ ہونے کے بیس پچیس منٹ بعد جاتا۔ اس کا اتنا سویرے آنا اور اپنے روٹ کی بس کو قصداً چھوڑنا مجھے چونکا گیا۔ غور کیا تو جمیل اور ملیحہ کے آنکھوں کے اشارے اور دبی دبی مسکراہٹ بہت کچھ عیاں کر گئے ۔ یہ محبت کی کہانی میرے سامنے ہی پھلی پھولی۔ اب اکثر ملیحہ وقت سے پہلے اکیلے ہی اسٹاپ پر آ جاتی اور جمیل بھی آجاتا اور ان کی مختصر گپ شپ چلتی۔ بعد میں وہ دونوں لڑکیاں آتیں اور ہنستی ہوئی ملیحہ سے  ذرا فاصلے پر کھڑی ہو جاتیں۔ واپسی پر بھی جمیل پہلے آجاتا اور بےچینی سے فیکٹری بس کا منتظر رہتا۔ پھر یہ ہونے لگا کہ واپسی میں جمیل کچھ قدم ملیحہ کے ساتھ چلتا۔ اب اشاروں کنائیوں سے بات گفتگو اور لفافے کے تبادلے پر آ چکی تھی، یقیناً ٹیلی فون نمبر بھی لیا دیا جا چکا ہو گا۔ ملیحہ کی ملاحت میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا اور اب وہ اسٹاپ پر موجود بہت سے لوگوں کی توجہ کا مرکز تھی۔ ایک دن ملیحہ کی سج دھج دیکھنے والی تھی باقی دونوں لڑکیاں بھی اس سے بہت ہنسی مذاق کر رہیں تھیں۔ اس دن ملیحہ فیکٹری بس پر نہیں چڑھی بلکہ جمیل کے ساتھ ٹیکسی میں بیٹھ کر چلی گئی۔
پھر یہ اکثر ہونے لگا۔ مہینے دو مہینے پر اس کے ساتھ کہیں چلی جاتی۔

جانے کیوں اب ان کے تعلقات میں پہلے جیسی گرم جوشی اور وارفتگی نہیں رہی؟
خاص کر جمیل کی طرف سے خاصی سرد مہری کا اظہارِ ہوتا۔ وہ اب اسٹاپ پر بھی دیر سے آنے لگا تھا اکثر ملیحہ کی بس کے جانے کے بعد آتا اور ملیحہ کو اسٹاپ پر نہ پاکر اس کے چہرے پر پھیلتا سکون میری دوربین کے لینز  سے مخفی نہیں تھا۔
یہ مختصر لو اسٹوری اپنے منطقی انجام پر پہنچ چکی تھی۔ ایک دن ملیحہ نے جمیل کے انتظار میں اپنی فیکٹری بس چھوڑ دی۔ جمیل آیا اور ملیحہ گویا اس پر جھپٹ پڑی، آنسو بھی پونچھتی جاتی اور اپنا موبائل بھی جمیل کو دکھاتی جاتی۔ جانے کیا راز تحریر تھا موبائل اسکرین پر۔ جمیل اس کو بری طرح دھتکارتا ہوا اپنی روٹ کی بس پر بیٹھ کر روانہ ہو گیا۔ دو دن ملیحہ نظر نہیں آئی میرا کسی کام میں دل نہیں لگا جان سے سو وسوسے چمٹے رہے۔

شام میں بھی صرف وہی دونوں لڑکیاں تھکی تھکی اسٹاپ پر اتریں۔ لگا سارا سماں ہی سونا سونا ہے۔ تیسرے دن ملیحہ تو نہیں پر اس کی غمزدہ پرچھائی خاموشی سے اسٹاپ پر آئی اور کسی سائے کی طرح بس میں بیٹھ کر فیکٹری چلی گئی۔ وہ دونوں لڑکیاں بھی اب چہلیں نہیں کرتیں اور پورا اسٹاپ ہی ویرانے میں بدل گیا تھا۔
پھر ایک دم سے ملیحہ نے آنا بند کر دیا۔ جانے کیا بیتی اس پر؟

جمال اب پہلے سے بھی زیادہ تر و تازہ اور بن ٹھن کر دفتر جانے لگا ہے ۔ وہ دنوں لڑکیاں بہت سنجیدہ اور سہمی ہوئی آتیں اور بس کے انتظار میں نظروں کو زمین پر گاڑے رکھتیں۔
اب میں نے بھی دوربین رکھ دی ہے۔
بس خالی خالی نظروں سے اپنی وہیل چیئر پر بیٹھا آسمان پر اڑتی چیلوں کو دیکھتا رہتا ہوں۔

شاید میں بتانا بھول گیا تھا پچھلے پانچ برسوں سے میں Distal dystrophy میں مبتلا ہوں۔ اب میری نقل حرکت بہت کم ہو گئی ہے بمشکل دیوار پکڑ کر یا واکر کے سہارے باتھ روم جاتا ہوں۔ اب تو ٹائپنگ بھی نہیں کر پاتا۔ ہفتے میں دو شام ایک لڑکا بختیار آتا ہے اور میری وائس ریکارڈنگ کو ٹائپ کر کے جہاں مجھے بھیجنا ہوتا ہے سینڈ کر دیتا ہے۔

Advertisements
merkit.pk

بچوں نے اپنے پاس بلایا تو بہت مگر تجربات نے یہی سکھلایا ہے کہ اللہ کے بعد انسان کا سہارا اس کی اپنی ہی ذات ہے۔ میں نے تینوں کو منع کر دیا ہے ویسے بھی لندن اور نیویارک کی سردی میری بوڑھی ہڈیوں کی برداشت سے زیادہ ہے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply