آپ نے اکثر نوٹ کیا ہوگا کہ اگر کسی سے پوچھا جائے کہ آپ کے پسندیدہ شاعر کون سے ہیں، کس افسانہ نگار کو زیادہ پڑھا یا کون سا ناول آپ کو بہت اعلیٰ فن پارہ لگتا ہے تو سو افراد میں سے اٹھانوے ایک ہی طرز کا جواب دیں گے۔ میر ، غالب، اقبال میرے پسندیدہ یا اُس کے بعد شکیب، ظفر ، منیر نیازی، ناصر ، پروین ، افتخار ، فراز اور آگے آ جائیں تو ثروت حسین کا سب نام لینے لگیں گے۔ اسی طرح منٹو سب کو پسند ہوگا، پھر غلام عباس، ساتھ ہی بیدی، کرشن اور قاسمی آ جائیں گے۔عالمی ادب کا تو مت پوچھیں۔ مارکیز، کافکا اور بورخیز تو سب کو پسند ہوتے ہیں۔ شکسپئیر، ایلیٹ، پاونڈ اور کیٹس بھی فہرست میں نمایاں ہوتے ہیں۔ جو بھی نوبل پرائز لیتا ہے اس کی کتاب پڑھنا، اسے پسند کرنا اور اسے بک شیلف میں رکھنا لازمی ہو جاتا ہے۔
اصل میں ہم بہت سادگی سے سماجی پرسپشن کواپنی پرسپشن بتا رہے ہوتے ہیں۔ یہ جمالیات کی Reception کا معاملہ بھی بہت ٹیڑھا ہے۔ بڑے بڑے سکالرز، ناقدین اس کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ فن اور جمالیات کی ریسپشن ہمیشہ پرسپشن سے جڑی ہوئی ہوتی ہے۔ یہ کبھی آزاد نہیں ہوتی۔ ہم سمھ ہوتے ہیں کہ ہمیں واقعی مارکیز پسند ہے، میر پسند ہے یا شکسپیئر اور ایلیٹ نے ہمیں ہلا کے رکھ دیا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا۔ ہم غیر محسوس طریقے سے جمالیات کی اُس کیفیت کے حصار میں ہوتے ہیں جو سماجی پرسپشن کی شکل میں پہلے سے موجود ہوتی ہے۔
آئیے اسے ذرا تفصیل سے دیکھتے ہیں۔
ہر فن پارہ یا متن جب قرات کیا جا رہا ہوتا ہے تو وہ قاری پر ایک اندرونی پرسپشن سے اثڑ انداز ہوتا ہے جس میں زبان، اسلوب ، تکنیک یا موضوعاتی انحرافی بیان وغیرہ قاری کو متاثر کرتے ہیں۔ سب سے بڑھ کے بیان میں جدت اور معنی آفرینی قاری پر ایک خاص اثر چھوڑتی ہے ۔ کیا قاری اسی سے سب کچھ جانتا ہے؟ یا قاری محض اسی اندرونی پرسپشن سے فن پارے کو دیکھ رہا ہوتا ہے؟ نہیں۔ ایک خارجی پرسپشن بھی ہوتی ہے ۔ اصل یا اہم پرسپشن یہی ہوتی ہے۔ بڑے بڑے استاد لوگ بھی اسی سے دھوکہ کھاتے ہیں۔
یہ خارجی یعنی متن سے باہر موجود پرسپشن بھی ظالم چیز ہے۔ جو ایک کینن بناتی ہے۔ کسی متن کو عظم قرار دلواتا ہے۔ اسے ایک والیو ایڈیشن دیتی ہے۔ اُسے کو ’’مقام‘‘ ادا کرتی ہے۔بلکہ تاریخی تسلسل میں اسے اس طرح دکھاتی ہے کہ جیسے یہ یہیں فطری طور پر رکھی ہوئی ہے۔ آپ ذرا دیکھئے۔ یلدرم ،پریم چند، پھر منٹو، غلام عباس، بیدی، کرشن، عصمت۔۔کہانی ختم۔۔۔ راشد، فیض، میرا جی، اور اب دھکے سے مجید امجد۔۔۔ کہانی ختم، پہلے میر، پھر غالب پھر اقبال ، کہانی ختم۔۔۔ عالمی ادب شکسپئیر سے شروع اور مارکیز پر ختم۔۔ کہانی ختم
یہ Extrinsic یا Social Perception ہے جسے ہر کوئی پہلے ہی سے قبول کر لیتا ہے۔ فن پارہ پڑھتے ہوئے اسے ہر حالت میں اس پرسپشن کے زیر اثر رہنا ہوتا ہے۔ (یاد رہے کہ میں ان فن پاروں کی اندرونی طاقت کا انکاری نہیں ، یہاں اندرونی اور بیرونی پرسپشنز کے باہم بننے کے عمل کی وضاحت کی جا رہی ہے۔)
ہم اندرونی پرسپشن سے ہی ہر چیز کو کیوں نہیں پڑھ پاتے اس لیے کہ اندرونی پرسپشن خالصتاً قاری کا ذاتی معاملہ ہوتا ہے جو ہر قاری کے ہاں مختلف ہو سکتا ہے مگر جب بہت سارے قارئین ایک خاص طرح کی پرسپشن کو تعمیر کر لیتے ہیں تو اسے بیرونی قرات کے طور پر حقیقت تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ اب اگلا قاری نہ چاہتے ہوئے بھی اس سماجی یا بیرونی پرسپشن کو پہلے قبول کرے گا بعد میں اسے اندرونی قرات کی طرف جانا ہوگا۔
بڑا ناقد ہمیشہ سماجی یا بیرونی پرسپشن کے فریم ورک اور ’’توقع‘‘ کو توڑتا ہے اور کچھ نیا سوچتا ہے ۔ وہی کچھ بتانے کی کوشش کرتا ہےجو اسے اندرونی پرسپشن سے ملا ہوتا ہے۔ حالی ،کلیم الدین احمد،وزیر آغا، فاروقی کے سوالات بہت مختلف تھے۔ انھوں نے کئی جگہوں پر ہماری توقعات کے افق کو توڑا ہے۔ ہمیں دھکچا دیا ہے۔ سماجی پرسپشن کو ماننے سے انکار کیا ہے۔ ظاہری بات ہے جب صرف اندرونی پرسپشن پر بات ہوگی تو نتائج کبھی ایک جیسے نہیں آ سکتے۔ ہر ناقد مختلف نتاج سامنے لائے گا۔ ورنہ خارجی قرات سے تو ایک ہی طرح کا نتیجہ برآمد ہوگا جو پہلے سے متعین ہوتا ہے، جسے سب قبول کر رہے ہوتے ہیں۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں